New Age Islam
Sat Jun 25 2022, 02:53 PM

Urdu Section ( 20 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Muslims' Fear Dissipated Once the Prophet (Peace Be Upon Him) Exhorted Them to Go To Badr at Any Costs Part- 84 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اعلان سنتے ہی کہ ہمیں ہر حال میں بدر کے لئے نکلنا ہے،مسلمانوں کا خوف ختم ہوگیا

مولانا ندیم الواجدی

20 مئی،2022

دوسرا غزوہ بدر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرامؓ کا جذبہ دیکھ کر مسرت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں یہ بات تھی کہ کسی آنے والے نے ابوسفیان کے لشکر کے بارے میں کچھ منفی اطلاعات دی ہیں۔ اور ان کی وجہ سے بعض مسلمانوں میں مایوسی دیکھی جارہی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا یقین تھاکہ جو خبریں پھیلائی جارہی ہیں وہ سراسر جھوٹ ہیں، قریش نے محض مسلمانوں کی ہمت توڑ نے کے لئے یہ چال چلی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ ہمیں ہر حالت میں بدر کے لئے نکلنا ہے، یہ اعلان سنتے ہی مسلمانوں کے جذبہ و جوش میں اضافہ ہوگیا، جو کچھ ضعف اور خوف دل میں آگیا تھا وہ بھی ختم ہوگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً پندرہ سو صحابہ کے ساتھ حسبنا اللہ ونعم الوکیل پڑھتے ہوئے بدر روانہ ہوگئے ، اسلامی فوج کا جھنڈا حضرت علیؓ بن ابی طالب کے ہاتھوں میں تھا۔ آپ کے ساتھ دس گھوڑے تھے۔ مدینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ کو اپنا قائم مقام فرمایا۔ ابوسفیان کی یہ ساری سعی بیکار گئی، وہ نہیں چاہتا تھا کہ جنگ ہو او رمسلمان بدر آئیں ، مگر وہ اپنے دل کی یہ بات زبان پرنہیں لا سکتا تھا، اس کی کوشش یہ تھی کہ مسلمان خود ہی رک جائیں ، او رہمیں یہ کہنے کاموقع مل جائے ، کہہم تو جنگ کے لئے تیار تھے، مسلمان ہی وعدہ خلافی کر گئے۔

اس تدبیر کی ناکامی کے بعد ابوسفیان کو بھی لشکر لے کر نکلنا ہی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ابوسفیان او راس کے ساتھیوں کے انتظار میں پورے آٹھ دن قیام فرمایا۔ ان دنوں بدر کے قریب ایک تجارتی میلہ بھی لگا ہوا تھا ، مسلمانوں نے اس بازار میں خوب خریدو فروخت کی او ربڑ انفع اٹھایا۔ ابو سفیان مکہ سے نکل تو آیا، لیکن ظہر ان میں ( اور بعض مورخ لکھتے ہیں کہعسفان میں ) رک گیا۔ یہاں پہنچ کر اس نے واپسی کا پروگرام بنایا۔ ہوسکتا ہے اس نے پہلے ہی سے یہ ذہن بنا لیا ہوکہ ظہران یا عسفان پہنچ کر واپس آجاؤںگا ۔ واپسی سے پہلے اس نے اپنے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ برادران قریش! میری رائے میں یہ سال جنگ کے لئے موزوں نہیں ہے، یہ سال قحط کا ہے، جنگ کے لئے تو موزوں سال ہر یالی اور شادابی کا سال ہے، اس میں تم اونٹوں کو درختوں کے پتے بھی کھلا سکتے ہو، او ران کا دودھ بھی پی سکتے ہو، فی الحال ہمارا واپس ہوجانا ہی بہتر ہے۔‘‘ سب نے اس بات پر اتفاق کیا او راپنے گھروں کی واپس ہوگئے۔ واپس ہوکر انہوں نے یہ بات مشہور کی کہ ہم جنگ کے لئے تھوڑی نکلے تھے ، ہم تو ستوپینے کے لئے گئے تھے ۔ انہوں نے اس مہم کا نام بھی رکھ چھوڑا تھا جیش السویق، ’’ستووالوں کا لشکر۔‘‘( طبقات ابن سعد :2؍59: ، تاریخ الطبری :2؍87،عیون الاثر:2؍82)

ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدر ہی میں تھے کہ وہاں مخشی بن عمروضمری آگیا ۔ وہ یہ شخص ہے جس نے غزوہ ذان میں بنو ضمرہ کی طرف سے مصالحت کی تھی، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی او ریہ پوچھا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ یہاں قریش سے لڑنے کیلئے آئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اور اگر تم چاہو تو ہم وہ معاہدہ ختم کئے دیتے ہیں جو ہمارے او رتمہارے درمیان تھا، او رتم سے جنگ کرلیتے ہیں، اس نے عرض کیا: نہیں، خدا کی قسم، مجھے آپ سے جنگ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔( البدایہ و النہایہ: 4؍88)

غرض یہ کہ مسلمانوں کا لشکر قبائل عرب پر اپنی بہادری کی چھاپ چھوڑ کر مدینے واپس آگیا، قرآن کی سورۂ آل عمران میں اس واقعے کا ذکر اس اسلوب میں کیا گیا ہے:’’( یہ) وہ لوگ (ہیں) جن سے لوگوں نے کہا کہ مخالف لوگ تمہارے مقابلے کیلئے (بڑی کثرت سے) جمع ہوچکے ہیں سو ان سے ڈرو، تو (اس بات نے) ان کے ایمان کو اور بڑھادیا او روہ کہنے لگے : ہمیں اللہ کافی ہے او روہ کیا اچھا کارساز ہے۔پھر وہ (مسلمان) اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ واپس پلٹے انہیں کوئی گزندنہ پہنچی او رانہوں نے رضائے الہٰی کی پیروی کی او راللہ بڑے فضل والا ہے، بیشک یہ (مخبر) شیطان ہی ہے جو (تمہیں) اپنے دوستوں سے دھمکا تا ہے، پس ان سے مت ڈرا کرو او رمجھ ہی سے ڈرا کرو اگر تم مومن ہو‘‘۔( آل عمران :173؍175)

امام فخرالدین رازیؒ نے لکھا ہے کہ یہ آیات دوسرے غزوہ بدر کے متعلق نازل ہوئیںانہوں نے اس شخص کا نام بھی لکھا ہے جس نے مدینے کے مسلمانوں میں ابوسفیان کی قوت و شوکت کی افواہ پھیلائی تھی، اس شخص کا نام نعیم بن مسعود تھا اور وہ عمر ہ کیلئے مدینے سے مکہ مکرمہ گیا تھا۔( تفسیر کبیر: 5؍331)

حضرت حسینؓ کی ولادت:

اسی سال کے ماہ شعبان کی 5 تاریخ کو خانوادۂ نبوت میں جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہؓ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہلو سے ایسے گوہر آبدار نے جنم لیا جو مستقبل میں عزیمت و شجاعت ، صبر و استقلال او رفہم و فراست کی تاریخ کا ایک روشن عنوان بن گیا، دنیا اس لعل شب تاب کو حسینؓ بن علیؓ کے نام سے جانتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آپ کے برادراکبر حضرت حسنؓ دنیا میں تشریف لا چکے تھے ، دونوں بھائیو کے درمیان تقریباً ایک سال کا فرق ہے۔ ولادت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، فرط مسرت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک گلنار ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور چبا کر نواسے کی تخسنیک فرمائی اور خیر و برکت کے لئے اپنا لعاب دہن ان کے منہ میں ڈالا۔اذان و اقامت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے کہی، اور نام مبارک ، حسین بھی آپ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے تجویز فرمایا۔ ساتویں دن سر کے بال بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے اتروائے ، بالوں کے وزن کے مطابق چاندی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے خیرات کی، عقیقہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے کیا۔( الاصابہ فی تمییزالصحابہ:2؍547، الاستیعاب ، 1؍296)

حضرت زینب ؓ بنت خزیمہ ام المؤمنین بنیں:

ام المومنین حضرت زینبؓ بنت خزیمہ بن حارث خاندان قریش سے تعلق رکھتی تھیں۔ مُضَر (سلسلہ نسب) پر جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور حضرت زینبؓ کا سلسلہ نسب ایک ہوجاتا ہے، نہایت رحم دل، غریب پرور، سخی او رمہمان نواز خاتون تھیں، مساکین کے ساتھ ہم دردی اور شفقت کامعاملہ کرنے کی بنا پر عہد جاہلیت ہی میں ان کالقب ام المساکین (مسکینوں کی ماں) پڑگیا تھا، ان کا پہلا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت عبداللہبن حجشؓ سے ہوا تھا۔ یہ اس وقت مشرف بہ اسلام ہوگئے تھے جب مسلمان دارارقم میں چھپ کر نمازیں ادا کرتے تھے ، غزوہ بدر او راحد میں بھی شریک ہوئے ، اور احد ہی میں جام شہادت نوش فرمایا، شوہر کی شہادت کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نکاح کا پیغام دیا ، انہوں نے اپنامعاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے سپرد کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ساڑھے بارہ اوقیہ مہر پر نکاح فرمایا، یہ واقعہ رمضان المبارک 4ھ کا ہے، اس وقت تین ازواج مطہرات موجود تھیں، حضرت عائشہ، حضرت حفصہ، اور حضرت سودہؓ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آنے کے بعد حضرت زینب بنت خزیمہؓ صرف آٹھ مہینے زندہ رہیں، انتقال کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تیس سال تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور تدفین میں شرکت فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں دو بیویوں نے وفات پائی ، ایک حصرت خدیجۃ الکبریؓ جو ہجرت سے قبل ہی مکہ مکرمہ میں وفات پا چکی تھیں اور وہیں مدفون بھی ہیں، دوسری زوجہ حضرت زینب بنت خزیمہؓ ،باقی ازواج مطہرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی حیات رہیں ۔( المواہب اللدنیہ: 1؍411، اسدالغابہ:3؍195، الاصابہ: 7 ؍376)

حضرت ام سلمہؓ سے نکاح:

حضرت زینب بن خزیمہؓ کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہؓ سے نکاح کرلیا، اور اسی گھر میں ان کو ٹھہرایا جس میں حضرت زینب ؓ رہا کرتی تھیں، ان کا اصل نام ہند تھا، والد کا نام ابوامیہ اور والدہ کا نام عاتکہ تھا، حضرت ام سلمہؓ کا پہلا نکاح ان کے چچازاد بھائی عبداللہ بن عبدالاسد سے ہوا تھا ، جو رشتے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی تھے۔ یہ دونوں میاں بیوی اسلام کے ابتدائی دنوں میںہی مسلمان ہوگئے تھے، مشرکین مکہ کی سختیوں سے عاجز آکر جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے حبشہ ہجرت کی تھی ان میں یہ دونوں بھی تھے، وہاں جاکر ان کے ایک بیٹا پیدا ہوا ، جس کا نام سلمہؓ اور ابوسلمہؓ کہا جاتاہے ، ہجرت سے پہلے ہی یہ لوگ حبشہ سے مکہ واپس آگئے تھے ۔( الطبات الکبری:3؍181)

مدینے کی طرف ہجرت کاسلسلہ شروع ہوا تو حضرت ابو سلمہؓ اور حضرت ام سلمہؓ بھی اپنے بیٹے کو لے کر عازم سفر ہوئے ، ابھی آبادی سے باہر ہی نکلے تھے کہ حضرت ام سلمہؓ کے خاندان والے آگئے او روہ لوگ یہ کہہ کر ام اسلمہؓ کو واپس لے گئے کہ ابو سلمہؓ کو ہجرت کرنی ہے تو کرے، ہم اپنی بیٹی کو اس کے ساتھ نہیں جانے دیں گے ، ام سلمہؓ خاندان والوں کے پاس پہنچیں تو ابو سلمہؓ کے گھر والے آگئے اور سلمہؓ کو یہ کہہ کر اپنے ساتھ لے گئے کہ یہ بچہ ہمارے خاندان کا ہے،ہم اسے اپنے پاس رکھیں گے ، اس طرح یہ تینو ایک دوسرے سے جدا ہوگئے، اوبو سلمہؓ مدینے پہنچ گئے ، حصرت ام سلمہؓ اپنے مائکے میں قید یوں کی سی زندگی گزارنے لگیں، بچہ ددھیال والوں نے چھین لیا ، یہ بڑی مصیبت کے دن تھے ، تقریباً ایک سال تک یہی حالت رہی، حضرت ام سلمہؓ ہر روز گھر سے باہر نکل کر بیٹھ جاتیں اور شام تک روتی رہتیں ۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، جس کا یہاں موقع نہیں ، خلاصہ یہ ہے کہ تقریباً ایک سال بعد حضرت ام سلمہؓ اپنے بیٹے کو لے کر مدینہ پہنچیں او راپنے شوہر سے ملیں۔( سیراعلام النبلاء: 4؍367)(جاری)

20 مئی،2022،بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

Part: 53 - History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

Part: 54- Respect For The Martyrs Part-54 شہداء کی تکریم اور ان کے اہل و عیال کی دلجوئی کا پہلا نمونہ نبی کریمؐ نے پیش فرمایا

Part: 55- O People of Makkah! The Messenger of God Gave us the glad tidings of the Roman Domination Part-55 اے اہل مکہ! اللہ کے رسولؐ نے ہمیں رومیوں کے غلبے کی خوشخبری دی ہے

Part: 56- O Nation of Jews! Fear Allah, Lest the Chastisement Overtake You Part-56 اے قوم یہود! اللہ سے ڈرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی عذاب نازل ہوجائے

Part: 57- Abdullah Ibn Ubay: His Sympathy With the Jews Until the Last Moment of Their Expulsion From Madina Part-57 عبد اللہ بن أبی، یہود کے مدینہ سے اخراج کے آخری لمحے تک ان کا ہمدرد بنا رہا

Part: 58- When The Prjophet Said, 'Who can teach Ka'b bin Ashraf a lesson'? Part-58 جب آپؐ نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف کو اس کی اوقات یاد دِلائے

Part: 59- When the Plan to Avenge the Defeat of the Battle of Badr Failed Part- 59 جب جنگ بدر کی شکست کا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا

Part: 60- The Polytheists Were No Longer Peaceful and Quiet After the Defeat of Badr Part-60 بدر کی شکست نے مشرکین کے دن کا سکون اور رات کاچین چھین لیا تھا

Part: 61- Then He Said, ‘It Was Not For a Prophet to Take Up Arms and Put Them Down’ Part-61 تب آپ نے ارشاد فرمایا: کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہتھیار لگا کر اُتاردے

Part- 62: Mount Uhud loves us, and we Love it, says the Holy Prophet PBUH Part-62 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبل اُحد ہم سے محبت کرتاہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں

Part: 63- The Archers Were Instructed Their Sole Mission Was To Protect by Remaining Behind the Mountain of Uhud Part-63 تیر اندازوں کو تاکید کی گئی کہ ان کا کام صرف جبلِ اُحد کے پیچھے ٹھہر کر حفاظت کرنا ہے

Part: 64- Only Those Who Have Been Guided By Allah Can Stand Firm against the Enemy Part-64 دشمن کے مقابلے میں وہی لوگ ڈٹے رہتے ہیں جنہیں اللہ نے رُشد و ہدایت سے نوازاہے

Part: 65- The Martyrdom Of Hazrat Hamza, The Holy Prophet's Uncle, Is The Most Terrible Episode Of The Battle Of Uhud Part-65 جنگ اُحد کا سب سے المناک واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہؓ کی شہادت ہے

Part: 66- At The Funeral of Hazrat Hamza, the Prophet's (PBUH) Eyes Were Filled With Grief Part-66 حضرت حمزہؓ کی تجہیز تکفین کے وقت شدت غم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم مبارک چھلک اٹھی تھی

Part: 67- Rumours of the Prophet's Martyrdom Struck the Muslims Like A Bolt of Lightning, and They Lost the War They Had Won Part-67 آپؐ کی شہادت کی افواہ مسلمانوں پر بجلی بن کر گری اور وہ جیتی ہوئی جنگ ہار گئے

Part: 68- Muslims Were Told A Year Ago That Seventy of Their Men Would Be Martyred Part-68 مسلمانوں کو ایک سال پہلے ہی بتلا دیا گیا تھا کہ تمہارے ستّر آدمی شہید ہوں گے

Part: 69- No Excuse Would Be Acceptable To Allah If the Holy Prophet (PBUH) Was Harmed Part - 69 اگر نبیؐ کی ذاتِ اقدس کو کوئی گزند پہنچی تو اللہ کے نزدیک تمہارا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا

Part: 70- One Jew Who Fought On Behalf Of the Muslims Became Entitled To Heaven, And The Other To Hell Part-70 مسلمانوں کی طرف سےلڑنے والا ایک یہودی جنت کا حقدار بنا تو دوسرا دوزخ کا

Part: 71- The Prophet Decreed That the Individual Who Memorised the Qur'an Be Buried First, Above All Other Martyrs Part-71 شہداء کی تدفین کیلئے آپؐ نے فرمایا: اس شخص کو پہلے قبر میں لٹاؤ جو حافظ قرآن تھا

Part: 72 - In The Words of Hadith, the Prophet's Companions Who Were Martyred In the Battle of Uhud Part 72 جب بھی آپ ﷺ شہدائے احد کا ذکر کرتے تو یہ فرماتے: میں نے چاہا تھا کہ اللہ مجھے بھی میرے ان صحابہؓ کے ساتھ شہید کردیتا جو پہاڑ کے دامن میں قتل کردیئے گئے

Part: 73 - The Muslims Were Defeated In Uhud Due to Disobedience to the Prophet's Instructions and Rumours of His Martyrdom Part 73 آپ ؐ کی حکم عدولی اور آپؐ کی شہادت کی افواہ اُحد میں مسلمانوں کی شکست کا سبب بنی

Part: 74 - The Attitude in Madinah Had Shifted, As the Holy Prophet (Pbuh) Had Noted With His Far-Sighted Eyes Part-74 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوربیں نگاہوں نے محسوس کرلیا تھا کہ مدینہ کی فضا بدل گئی ہے

Part: 75 - The Prophet (Peace Be Upon Him) Said, 'A Believer Is Not Bitten From the Same Hole Twice' Part-75 آپﷺ نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا

Part: 76 - Wine Flowed Like Water in the Streets of Madinah, Soon After its Prohibition Was Revealed Part-76 شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوتے ہی مدینہ کی گلیوں میں شراب پانی کی طرح بہنے لگی

Part: 77 - The Holy Prophet Kept an Eye on the Movements of All the Tribes from Madinah to Makkah Part-77 مدینہ سے مکہ تک تمام قبائل کی نقل وحرکت پرآپ ﷺ نظر رکھے ہوئے تھے

Part: 78 - The Companions and Their Unparalleled Love for the Prophet Part-78 آپؐ سے صحابہؓ کی محبت یہ تھی کہ تختۂ دار پر بھی فکر ہوتی کہ آپؐ کو کانٹا بھی نہ چبھے

Part: 79 - The Shocking Incident of Bir Mauna but the Holy Prophet Continued To Recite the Qunoot-E-Naazla for a Month Part-79 بئر معونہ کے واقعے سے آپ ؐ کو شدید صدمہ پہنچا اور آپؐ ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھتے رہے

Part: 80 - Through Revelation, the Holy Prophet Learnt Of the Conspiracy of Banu Nadir and Returned To Madinah Part-80 نبی کریم ؐکو بذریعہ وحی بنونضیر کی سازش سے مطلع فرما دیا گیا اور آپؐ مدینہ واپس آگئے

Part: 81 - Sacrifice of the Ansaar (Supporters) and The Prophet’s Prayer for them and Their descendants Part-81 ‘انصار کے ایثار پر آپؐ نے دُعا دی:’ یا اللہ! انصار اور ان کی اولاد پر اپنی خاص مہربانی فرما

Part: 82 - The First Salat Al-Khawf Was Offered In the Ghazwa of Dhat Al-Riqa Which Took Place after the Battle of Banū Naīr Par-82 پہلی’ صلوٰۃِ خوف ‘ غزوۂ ذات ِ الرقاع میں پڑھی گئی تھی جو غزوۂ بنی نضیر کے بعد پیش آیا تھا

Part: 83- The Narrative of Hazrat Jabir Bin Abdullah's Camel: After the Prophet Pbuh Poked the Camel with His Stick, It Became Extremely Fast Part-83 نبی کریم ﷺنے لکڑی کو ہلکا سا اونٹ پر چبھویا اور اس کی رفتار بڑھ گئی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/muslims-dissipated-prophet-badr-part-84/d/127051

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..