New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 06:05 AM

Urdu Section ( 8 Apr 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Golden Islamic Era: Imam Bukhari and His Scholarship by Baroness Saeedah Warsi سنہرا اسلامی دور: امام بخاری اور ان کی علمیت پسندی، بیرونس سعیدہ وارثی کی زبانی

بی بی سی رپورٹ

25 اگست 2020

بخارا

--------

بی بی سی ریڈیو تھری کی خصوصی سیریز ’سنہرا اسلامی دور‘ کی اس قسط میں برطانوی کابینہ کی پہلی مسلمان رکن بیرونس سعیدہ وارثی امام بخاری کی زندگی پر مختصر نظر ڈال رہی ہیں۔ اس سیریز میں سنہ 750 سے سنہ 1258 تک کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس سیریز میں اس دور کے فن تعمیر، طب کے شعبے میں کام، ایجادات اور فلسفے جیسے مضامین میں اہم پیشرفت کا ذکر ہوگا۔ (یہ مضمون پہلے بار اگست 2020 میں شائع کیا گیا تھا)

ہم مسلمان اپنے کمال پر ہوتے ہیں جب علم اور علمیت کو اہمیت دیتے ہیں اور وہ ان کا سب سے برا روپ وہ ہوتا ہے جب ان میں سے اقلیت دین کی غلط تشریح کے نیتجے میں عدم برداشت اور انتہاپسندی کے راستے پر چل نکلتی ہے۔

اسلام میں روشن خیالی اور علمیت کی روایت کی سب سے اچھی مثالیں اس کے اس سنہرے دور سے ہی مل سکتی ہیں جو 8ویں صدی کے وسط سے لے کر سنہ 1258 تک پھیلا ہوا تھا جب بغداد پر منگولوں نے حملہ کیا اور اسے تباہ کر دیا۔

اس دور میں اسلامی تہذیب کی سمت جنگ کی آگ میں نہیں بلکہ علم و حکمت کی لائبریریوں میں طے ہوئی تھی۔ اس کا مقام یونان سے لے کر ایران جیسی قدیم تہذیبوں سے حاصل ہونے والی انسانی سمجھ بوجھ میں اضافہ کرنے میں تھا۔

ان صدیوں میں عرب دنیا کو سائنس، فلسفے، طب اور ایجوکیشن کے میدان میں ’سنٹر فار ایکسیلنس‘ کا درجہ حاصل تھا۔ اس دور میں نہ صرف علمیت کا اعلیٰ معیار قائم ہوا بلکہ مسلمانوں اور مختلف عقائد کے درمیان تعاون کی بھی روایت قائم ہوئی۔

اندلس یا اسلامی ہسپانیہ میں بھی، جہاں مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے لوگ ساتھ ساتھ رہتے تھے، اسلامی روشن خیالی کے اس دورمیں تعلیم کا بول بالا ہوا۔

یہ اسلامی سنہرا دور دین اسلام اور خاص طور پر پیغمبر اسلام حضرت محمد۔ کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ اسلام میں مذہب اور اخلاقیات کے دو اہم ماخذ قرآن اور حدیث ہیں۔ قرآن ایک وسیع اخلاقی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے اور احادیث مسلمانوں کو سکھاتی ہیں کہ قرآن کے اصول و ضوابط پر کس طرح روز مرہ زندگی میں عمل کیا جانا ہے۔ اس بات سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ احادیث اور ان کا صحیح ہونا اسلام میں کتنا اہم ہے۔

اسلامی سنہرے دور کی جس شخصیت کے بارے میں میں آج بات کرنا چاہتی ہوں وہ غالباً اس دور کے سب سے اہم عالم ہیں۔ محمد ابن اسماعیل البخاری یا صرف امام بخاری۔ دنیا بھر کے مسلمانوں میں ان کا مقام احادیث کے سب سے مستند مجموعے کی تیاری کی وجہ سے ہے۔

ان کی کتاب صحیح بخاری میں انتہائی محنت سے جمع کی گئی سات ہزار سے زیادہ احادیث درج ہیں جو مسلمانوں کی روز مرہ زندگی میں رہنمائی کرتی ہیں۔ حیران کن طور پر اپنی زندگی پیغمبر اسلام حضرت محمد کے نام وقف کر دینے والے اس انسان کی کہانی عرب کے صحراؤں میں شروع نہیں ہوتی جہاں پیغمبر اسلام کی زندگی گزری تھی بلکہ اس کی شروعات وسطی ایشیا کے میدانوں میں ہوتی ہے۔

یہ شاید اسلام اور پیغمبر اسلام کی سرحدوں اور نسلوں کی قید سے آزاد عالم گیریت کی شان ہے کہ عرب میں اسلام کے مقدس مقامات سے ہزاروں میل دور پیدا ہونے والے عالموں نے اسلام کی تعریف اور وضاحت کی۔

امام بخاری 9ویں صدی کے آغاز میں بخارا شہر میں پیدا ہوئے جو آجکل ازبکستان کا حصہ ہے۔ بخارا اور سمرقند کے جڑواں شہر اس وقت عالمی تجارت کی مرکز شاہراہ ریشم کے اہم مراکز اور علم اور تہذیب کے پھلتے پھولتے گہوارے تھے۔

بخارا صرف امام بخاری کی جائے پیدائش نہیں تھا بلکہ اس شہر نے اسلامی دنیا کو ابن سینا جیسی شخصیت بھی دی جن کا طب کے شعبے میں کام انقلابی حیثیت رکھتا ہے۔

امام بخاری کا خاندان ان سے دو نسلیں پہلے ہی مسلمان ہوا تھا اور پیغمبر اسلام کی طرح ان کو بھی اپنے والد کے انتقال کے بعد ابتدائی زندگی میں آزمائشیں پیش آئیں۔ اس زمانے کے پدرشاہی معاشرے کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ان کے اور ان کے خاندان کے لیے زندگی آسان نہیں رہی ہوگی۔ اس چیز کا بظاہر کمسن امام بخاری کی شخصیت پر دیر پا اثر ہوا اور وہ اپنی تعلیم کے ہر شعبے میں بہترین مقام حاصل کرنے کی جسجتو میں لگ گئے۔

ان کے بچپن کا ان کی بعد کے کام پر بھی اثر نمایاں اثر نظر آتا جس میں انھوں نے سماجی انصاف اور کمیونٹی کے تصور پر بہت زور دیا جیسا کہ پیغمبر اسلام کی تعلیمات میں بھی واضح ہے۔

لیکن ان کی زندگی تبدیل کرنے کرنے والا باب وہ تھا جب وہ 16 برس کی عمر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ حج کے لیے مکہ اور مدینہ گئے۔ نوجوان امام بخاری کے لیے غالباً برسوں پر محیط ہزاروں میل کا یہ سفر انتہائی یادگار اور متاثر کن رہا ہو گا۔ اس سفر نے ان کے اندر تجسس کا ایسا دیا جلایا جو انہیں ایسی مسافتوں پر لے گیا جو 16 برس سے زیادہ عرصے تک جاری رہیں۔

یہ سفر اس نوجوان عالم کو قاہرہ کے بازاروں اور دمشق اور بغداد کے قدیم شہروں تک لے گئے۔ یہ سفر اور ان مقامات پر جانا جہاں تقریباً 150 برس پہلے پیغمبر اسلام نے تبلیغ کی تھی، دنیا میں مقام کے متلاشی ایک نوجوان کے لیے، دریافتوں کے سفر رہے ہوں گے۔

امام بخاری پر پیغمبر اسلام کی شخصیت کا گہرا اثر تھا۔ ان کی باقی زندگی اس بات کو یقنی بنانے میں گزری کہ اسلام کی ہمدردی، بقائے باہمی، مساوات اور سماجی انصاف جیسی حقیقی اقدار پیغمبر اسلام کے الفاظ اور اعمال کے ذریعے دنیا تک پہنچیں۔

امام بخاری نے اپنے لیے مشن طے کیا وہ پہاڑ جیسا تھا۔ انھوں نے احادیث کی تصدیق کے لیے اسلامی دنیا کے دور دراز علاقوں کا سفر کیا اور کونے کو نے تک گئے۔ کہا جاتا ہے کہ امام بخاری ایک ہزار سے زیادہ علما اور ہزاروں ایسے دیگر افراد سے ملے جن کا دعویٰ تھا کہ ان کے پاس پیغمبر اسلام کی مستند احادیث ہیں۔

اس دوران انھیں 6 لاکھ سے زیادہ احادیث کے بارے میں معلوم ہوا جو کہ اپنے آپ میں حیرت زدہ کر دینے والی بات ہے لیکن ان کی دانشوارانہ محنت اور سخت معیار کی دلیل ہے کہ ان کی کتاب صحیح بخاری میں ان میں سے صرف 7275 احادیث شامل کی گئیں جن کے بارے میں انھیں یقین تھا کہ یہ پیغمبرِ اسلام کے ہی الفاظ ہیں۔

میرے نزدیک امام بخاری کے کام میں، ان کتب میں، جنھیں ہم گھر میں دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے، جو حکمت اور سوچ سامنے آتی ہے وہ میرے اپنے ایمان کے لیے طاقت کا سرچشمہ ہے۔ برداشت اور اخلاقی جرات کا یہ پیغام میری روز مرہ زندگی میں ٹھہراؤ کا باعث ہے۔

یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے ثمرقند میں امام بخاری کی آخری آرامگاہ پر جا کر ان کی میراث پر غور کرنے کا موقع ملا جس میں وہ اقدار شامل ہیں جو آج ہماری ماڈرن سوسائٹی کے لیے بھی خاص طور پر اہم ہیں۔

میرے لیے ان کی میراث میں پہلا سبق اس باریک بینی کا ہے جس سے انھوں نے صحیح اور غلط معلومات کا فرق کیا۔ علم ان کے نزدیک اندھے اعتقاد کا نام نہیں تھا۔ وہ احادیث کے طور پر پیش کی گئی روایات کو غیرجانبداری سے علمی پیمانے پر پرکھنے سے بالکل خوفزدہ نہیں تھے۔

امام بخاری کو پوری طرح تسلی کرنی تھی کہ یہ پیغمبر اسلام کے ہی الفاظ ہیں یا نہیں اور پیغمبر اسلام نے واقعی وہ عمل کیا تھا جسے ان کی سنت کے طور بیان کیا جا رہا تھا۔

امام بخاری سے دوسرا سبق جو میں نے حاصل کیا وہ یہ تھا کہ وہ جو کہتے تھے اس پر عمل کرتے تھے اور کمیونٹی کو ان کی موجودگی کا احساس ہوتا تھا۔ سوسائٹی کو صرف 18 برس کی عمر میں اپنی پہلی کتاب مکمل کرنے والے امام بخاری کی اچھی یاداشت یا ان کا زبردست ادبی ٹیلنٹ نہیں چاہیے تھا۔ سوسائٹی کو وہ معاشرے کی بہتری کے لیے عملی طور پر کام کرتے بھی دکھائی دیتے تھے۔

ثمرقند

--------

امام بخاری صرف علم و حکمت کی لائبریریوں میں نظر نہیں آئے ہوں گے بلکہ وہ مسافرخانوں کی تعمیر کے لیے اینٹیں اٹھاتے بھی دیکھے جا سکتے تھے۔ ایمان کے جذبے سے سماجی بہتری کا کام ان کا ماڈل تھا۔

انھوں نے اپنے ایک کتاب میں لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام نے کہا تھا کہ جو معاشرے اور انسانوں سے تعلق رکھتا ہے اور اس میں مشکلات کا سامنا کرتا ہے اس شخص سے بہتر ہے جو معاشرے سے کٹ جاتا ہے اور کوئی مشکل نہیں اٹھاتا۔

امام بخاری باوقار اور حساس انسان تھے۔ وہ اپنا مستقبل خود بنانے کے لیے پرعزم تھے۔ انھوں نے جو احادیث جمع کیں ان کے ساتھ ساتھ سماجی اور معاشرتی اتفاق اور لوگوں میں اختلافات ختم کروانا بھی ان کی میراث میں شامل ہیں۔

امام بخاری اپنی ایک اور اہم کتاب الادب المفرد میں لکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد نے اپنے صحابہ سے کہا کہ کیا میں تمھیں ایسے مقام کے بارے میں بتاؤں جو نماز پڑھنے، روزہ رکھنے اور خیرات دینے سے اونچا ہے اور وہ ہے دو لوگوں میں دوستی کروانا۔

میں اس رمضان میں مجھے اس افطار پروگرام کا حصہ بننے میں بہت خوشی ہوئی تھی جس کے تحت بہت سی مساجد، کمیونٹی گروپوں اور خاندانوں نے عشایے کے لیے اپنے گھروں کے دروازے غیر مسلم ہمسائیوں کے لیے کھول دیے تھے۔

امام بخاری سے ایک اور سبق جو مجھے حاصل ہوا وہ حدیث ہے جس میں پڑوسیوں، بزرگوں اور بچوں سے ہمدردی کا پیغام پے۔ انھوں نے احادیث بیان کیں مثلاً ایک حدیث جس میں بتایا گیا کہ اس شخص کا ایمان نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھاتا ہے جبکہ اس کا پڑوسی بھوکا ہو اور وہ مزید بتاتے ہیں کہ جو اپبے بزرگوں کا احترام نہیں کرتا اور بچوں سے ہمدردی نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔

میں اکثر مشورے اور رہنمائی کے لیے اپنے والد سے بات کرتی ہوں۔ اس میں ہمارے لیے پیغام کہ اس معاشرے میں بزرگوں سے کیسا سلوک کیا جانا چاہیے جو افسوسناک طور پر تنہائی کا شکار ہیں۔

اسلام کے بارے میں ایک اور غلط فہمی صنفی مساوات کے معاملے میں ہے۔ امام بخاری کے نزدیک یہ قرآن اور پیغمبر اسلام حضرت محمد کے پیغام کا سب سے انقلابی پہلو تھا۔ الادب المفرد میں اس شخص کے بارے میں لکھتے ہیں جو صحت مند بچے کی پیدائش پر خدا کی تعریف کرتا ہے اور اسے اس کے لڑکا یا لڑکی ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب لڑکی کی پیدائش کو برا سمجھا جاتا تھا۔ لیکن ہم آج بھی صنفی مساوات کی ان تعلیمات سے سیکھ سکتے ہیں جب غلط تشریحات اور جاہلانہ رویے اور سلوک بہت سی مسلمان عورتوں کی پسماندگی کی وجہ بن رہے ہیں۔

اور عبادتگاہوں میں بھی بہت کام ہونے والا ہے۔ عبادت انفرادی روحانیت کے اور خدا کے ساتھ شخصی تعلق کے اظہار کا ذریعہ ہے لیکن مسلم کمیونٹی میں اور خاص طور پر مسجد میں اسے عورتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے مردوں کے مذہبی فریضے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

مساجد میں عورتوں کی حاضری صرف مساوی سہولیات کے نہ ہونے کی وجہ سے محدود نہیں ہے بلکہ ان رویوں کی وجہ سے بھی ایسا ہے جو مذہبی امتیاز اور ایک کو دوسرے پر فوقیت دینے کی بنیاد بنتے ہیں۔ اور یہ پیغمبر اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے جو امام بخاری نے اپنی بہت سی تصانیف میں ریکارڈ کی ہیں۔

اپنی کتاب الادب المفرد کے آخری ابواب میں سے ایک میں وہ لکھتے ہیں کہ اپنی دشمنی کی وجہ سے کسی کو تباہ مت کر دینا۔ اس میں وہ اسلامی تعلیمات بیان کرتے جن میں کہا گیا کہ ہمیں اپنی بدنیتی، دشمنی اور غصے کی وجہ سے کسی کے خامتے کی خواہش نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے حق میں وہ اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر کی ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ اپنی دوستی کو پگل پن کی اور دشمنی کو نفرت کی حد تک مت جانے دو۔ اس پیغام کی شاید آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

لندن کی گلیوں میں ڈرمر رگبی کے افسوسناک قتل کا بدلے کے جذبے ہوا نہ دینا تمام لوگوں کی سمجھداری کا ثبوت ہے جو چند لوگوں کی حرکت سے پڑوسیوں کے درمیان تعلقات کی خرابی نہیں چاہتے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ برطانیہ میں لوگوں کی اکثریت ایک دوسرے کے ساتھ ان کے پس منظر اور مذہب سے قطہ نظر برابری کا سلوک روا رکھتی ہے۔

اور انھی لوگوں کی برداشت اور رواداری میں امام بخاری کے پیغام کی جھلک نظر آتی ہے نہ کہ ان چند بھٹکے ہوئے افراد میں جو مختلف پس منظر کے لوگوں میں بد اعتمادی اور نفرت پھیلانا چاہتے ہیں۔

سکھ گروؤں سے لے کر مسیحی مذہبی عالم سینٹ آگسٹین تک جنھوں نے چوتھی اور پانچویں صدیوں میں اچھی مسیسحی زندگی کے قواعد وضح کیے تھے، امام بخاری کی طرح کے لوگ دوسرے مذاہب میں بھی نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ حق کا وہ وہ ذریعہ ہیں جن کے ذریعے مختلف مذاہب کی بنیاد رکھنے والی ہستیوں کا پیغام جدید دنیا تک پہنچتا ہے جس کی آج بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی اس وقت تھی۔

٭بی بی سی اردو نے ریڈیو پر نشر ہونے والی اس سیریز کا ترجمہ کیا ہے۔ بی بی سی تھری کی اس سیریز کی پروڈیوسر تھیں سارہ ٹیلر۔

25 اگست 2020، بشکریہ:بی بی سی اردو

Source: https://www.bbc.com/urdu/world-53839121

Related Article:

The Golden Islamic Age: Mathematician Muhammad Ibn Musa Al-Khwarizmi, Who’s Work Was Considered ‘Dangerous’ And ‘Magical’ سنہرا اسلامی دور: ریاضی دان محمد ابن موسیٰ الخوارزمی، جن کے کام کو‘خطرناک’ اور‘جادو’ گردانا گیا

URL:https://www.newageislam.com/urdu-section/islamic-imam-bukhari-baroness-saeedah-warsi/d/126758

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..