New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 02:01 AM

Urdu Section ( 4 March 2018, NewAgeIslam.Com)

The Preacher’s Pulpit Needs to Be Cleansed from Profanity منبرِ رسول کو دشنام طرازی سے پاک کرنا ہوگا

 

 

 

باسل حجازی، نیوایج اسلام

گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں مصر کے دار الحکومت قاہرہ میں قتل کی ایک مخصوص واردات ہوئی جو نا ہی اپنی نوعیت کی پہلی واردات تھی اور شاید نا ہی آخری، یہ واردات وہابی نظریات کے حامل ایک شخص نے انجام دی، اس نے سمعات شحاتہ نامی ایک قبطی پادری کو چاقو کے پے در پے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا، قاتل پکڑا گیا اور حوالہء زنداں کر دیا گیا، تحقیقات سے معلوم ہوا کہ قاتل اپنے متشدد وہابی نظریات کے لیے مشہور تھا، اس نے مقتول کے ماتھے پر اپنے چاقو سے صلیب کا نشان بنا دیا تھا جو مسیحیوں کے تئیں اس کی نفرت کا اظہار تھا۔

یہ واقعہ کوئی خاص نہیں، اسلامی دنیا کے طول وعرض میں ایسے واقعات روزانہ کی بنیادوں پر وقوع پذیر ہوتے ہیں بس چند ایک ہی رپورٹ ہوپاتے ہیں، بہرحال ہم بات کر رہے تھے مصر کے ایک کیس کی، تو ہوا یوں کہ اس کیس نے (ایک بار پھر) مذہبی بیانیے کی تبدیلی کی بحث چھیڑ دی، یہ ایک مشکل بحث اس لیے بھی ہے کہ مصر کے طول وعرض میں پھیلی مسجدوں میں خطبے یہود ونصاری کو لعن طعن کیے بغیر ختم ہی نہیں ہوتے، ستر کی دہائی میں جب وہابیت مصر ودیگر اسلامی دنیا میں داخل ہوئی ایسے واقعات اور خطبے عام ہونا شروع ہوئے، سعودی عرب نے ازہر کے شیوخ کی سرکاری خرچ پر میزبانی کی، انہیں انعام واکرام سے نوازا، واپس جاکر ان شیوخ نے ازہر کے در ودیوار کو وہابیت کے زہر سے آلودہ کیا اور یوں وہابیت پھلنے پھولنے لگی۔

آج ازہر اور مصر کی وزارتِ اوقاف اس وہابی اسلامی بیانیے کو روکنے اور منبر کے خطبوں کی تجدید کے لیے کوشاں ہیں تاہم تین چوتھائی صدی گزرنے کے بعد تکفیری فکر کا پھیلاؤ اس قدر عام ہوگیا ہے کہ اس کا  خاتمہ کسی روایتی طریقے سے ممکن نظر نہیں آتا، مصر سمیت بیشتر عرب واسلامی ممالک میں لوگ غیر مسلموں کے لیے کی گئی بد دعاء نہ صرف سننے کے عادی ہوچکے ہیں بلکہ اس کے پیچھے آمین کہنا اب فرض سمجھنے لگے ہیں، تقریباً تمام مساجد کے منبروں سے یہ غلیظ اور نفرت انگیز بد دعائیں ہر روز براہ راست براڈکاسٹ کی جاتی ہیں، ایسا کرتے ہوئے ان مساجد کے خطباء ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچتے کہ ودنیا کے ساڑھے پانچ ارب لوگوں کے مذہب کی توہین کر رہے ہیں اور اسلام کی ایک کریہہ شبیہ دنیا کو دکھا رہے ہیں، صرف یہی نہیں بلکہ اسلام کے دیگر مکاتب فکر کے خلاف بد دعائیں بھی اب ان بد دعاؤوں میں شامل ہوگئیں ہیں۔

یہ (بد) دعائیں سیرت کی کتابوں میں وارد ہوئی ہیں، یہ وہی کتابیں ہیں جنہوں نے یہ بھی روایت کیا اور گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے کبھی کسی یہودی یا مسیحی کے لیے بد دعاء نہیں نکلی، یہ ایمان کا ایک کھلا تضاد ہے مگر مسلمان ایسے تضادات میں جینے کے عادی ہوگئے ہیں یا بنا دیے گئے ہیں، ان تضادات کا خاتمہ تب تک ممکن نہیں جب تک ان کتابوں سے اس لنگڑی فکر کو نکال باہر نہیں کیا جاتا، یہ فکر پہلے درجے میں ہی قرآن اور عملی سنت کے لیے نقصان دہ ہے، اس کے خاتمے کے بغیر اسلام کے نام پر پھیلتی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔

بہر حال وہابی طبقے کا اصرار ہے کہ یہ دعائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سلفِ صالح نے نقل کی ہیں جنہیں ہر جمعہ کے خطبے کے آخر میں دہرانا فرض سمجھا جاتا ہے، ایسی ہی ایک (بد) دعاء کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے اے اللہ مشرکین ویہود ونصاری کی آنکھوں کو اندھا کر دے، اے اللہ انہیں بہرا کر دے، ان کے امیر کو فقیر بنا دے، ان کی عورتوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کر دے...۔

اس خوفناک وغیر اخلاقی کلام کا بار بار دہراؤ لوگوں کے ذہن میں غیر مسلموں کے لیے نفرت کو اس قدر راسخ کر دیتا ہے کہ انہیں اعتدال اور میانہ روی کی طرف لانا جوئے شیر بن جاتا ہے، وہابیت کے خطیب ایسی بد دعاؤوں میں دیگر اسلامی مکاتب فکر کو بھی شامل کر دیتے ہیں جیسے شیعہ، سیکولر، قوم پرست، صوفی ودیگر۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ خطباء غیر مسلم کے لیے ہدایت وفلاح کی دعاء کرتے جیسا کہ سورہ ممتحنہ کی آیت نمبر 8 میں فرمایا گیا ہے کہ "لَا یَنۡہٰىکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ لَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ" (جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تمکو تمہارے گھروں سے نکالا انکے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے اللہ تمکو منع نہیں کرتا۔ اللہ تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔) آیت سے واضح ہے کہ جو کوئی بھی غیر مسلم مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں ملوث نہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک وبرتاؤ گویا کہ حکم کا درجہ رکھتا ہے ورنہ اس کا ذکر ہی کیوں کیا جاتا، اب کہاں یہ آفاقی پیغام اور کہاں یہ بد اخلاقی کہ منبرِ رسول پر بیٹھ کر بد ترین وغیر اخلاقی بد دعائیں اگل کر اپنی فکری زبوں حالی تو دکھائی ہی جائے ساتھ ہی اسلام کی بدنامی کا موجب بھی بنا جائے۔

اس قسم کی بد دعائیں قطعی طور پر اسلام کے آفاقی پیغام سے میل نہیں کھاتیں، اسلام کا جوہر محبت امن اور بھائی چارہ ہے، اس میں طاقت کے دور میں تکبر کے لیے کوئی جگہ نہیں، نبی کریم صلی  اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ مخالفین کے لیے ہدایت کی دعاء کی، سیرت کی کتابوں میں ہی مذکور ہے کہ نبی کریم نے اہلِ طائف سے پتھر کھانے کے بعد بھی یہی کہا کہ اللہم اہد ثقیفاً (اے اللہ ثقیف کو ہدایت دے) اور قبیلہ دوس کے لیے بھی یہی کہا کہ اللہم اہد دوساً (اے اللہ دوس کو ہدایت دے)،خطبہ حجہ الوداع میں بھی یہ کہہ کر کہ یا ایہا الناس ان ربکم واحد (اے لوگو تمہارا خدا ایک ہے) مسلم وغیر مسلم کی تفریق ہی ختم کر دی ورنہ وہ یا ایہا الناس (اے لوگو) کے بجائے یا ایہا المؤمنین (اے مؤمنو) کہہ سکتے تھے، مگر انہیں ان باریکیوں کا خیال تھا، قرآن میں بھی اللہ تعالی نے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے اچھے کاموں کا ذکر کر کے انہیں کریڈٹ دیا ہے: "لَيْسُواْ سَوَاء مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ آنَاء اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ . يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُولَئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ. وَمَا يَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ" (یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان اہل کتاب میں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں۔ جو رات کے وقت اللہ کی آیتیں پڑھتے اور اس کے آگے سجدے کرتے ہیں۔ وہ اللہ پر اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور اچھے کام کرنے کو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتے اور نیکیوں پر لپکتے ہیں اور یہی لوگ نیکوکار ہیں۔ اور یہ جس طرح کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔) آل عمران 113، 114، 115۔

الغرض کہ اس حوالے سے طویل استدلال پیش کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی کبھی مسلمانوں سے یہ نہیں چاہے گا کہ وہ غیر مسلموں کے خلاف یہ دشنام طرازی کریں، اگر اس بات کو تھوڑی دیر کے لیے مان لیں تو کیا ہوگا، استطاعت ہونے پر مسلمان غیر مسلموں کا قتل عام شروع کر دیں گے اور تاریخ میں ایک اور مرگِ انبوہ رقم کر ڈالیں گے، غیر مسلموں کے حقوق محفوظ نہیں رہیں گے چاہے ظالم مسلمان ہی کیوں نہ ہو، داعش بھی تو یہی کر رہی ہے، اگر یہی اسلام ہے تو پھر کیا ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ مسلمانوں کی اکثریت صرف ظاہری طور پر داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کی مذمت کرتی ہے جبکہ باطن میں وہ اسے سپورٹ کرتے ہیں، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس قسم کی انسانیت سوز سوچ لے کر وہ اللہ اور اس کے رسول کا قرب حاصل کر لے گا تو یہ امرِ محال ہے، اسلام دنیا کو برباد کرنے نہیں اسے آباد کرنے آیا ہے، اپنے اندر کے داعشی کو تلاش کریں اور اسے نکال باہر کریں، یاد رکھیں کہ کسی کو مُشرف بہ اسلام کرنے کا اجر حاصل کرنے کے لیے آپ کو ایک کافر کی ضرورت پڑے گی۔

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..