New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 01:35 AM

Urdu Section ( 22 Sept 2013, NewAgeIslam.Com)

Maududi, the Islamic State and Jamaat-e-Islami: Part-II مودودی ، اسلامی ریاست اور جماعت اسلامی : حصہ دوم

 

عائشہ

17 اپریل ، 2006

اس حصے میں اس سیاسی نظریہ پر بحث کی جائے گی جس کا جنم   مودودی کی سوچ سے ہوا ہے ۔

مودودی کے مطابق اسلام کا سیاسی نظریہ

ایک مرتبہ اگر ہم نے ایک سیاسی وجود کے طور پر ریاست کی ضرورت کو عملی جامہ پہنا دیا  تو  اسلام کے سیاسی نظریہ کی وضاحت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ واضح ہے کہ وہ نظریہ ان بنیادی اصولوں پر قائم ہوگا  جن پر  پہلے سے ہی گفتگو کی جا چکی  ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم مزید آگے بڑھیں اسلامی ریاست کے تعلق سے مندرجہ ذیل وضاحت کر دی جانی چائے (مودودی، 127):

1۔ کسی  بھی فرد،  جماعت  یا طبقے کو  سیاسی طاقت اور حکومت کرنے کا حق نہیں تفویض کیا  جائے گا۔ بادشاہی صرف  خدا کے لئے ہے  اور انسان محض خدا کی  رعیت  ہیں ۔

2۔ قانون سازی کا حق صرف خدا کا ہے اور مسلمانوں کو بھی خود سے قانون بنانے کا   کوئی حق حاصل  نہیں ہے اور نہ ہی خدا  کے ذریعہ بیان کئے گئے  قوانین پر نظر ثانی کرنے کی اجازت ہے ۔

3۔ اسلامی ریاست رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو خدا کے ذریعہ عطاء کردہ قوانین پر ہی قائم کی جائے گی ۔ اسلامی ریاست جب تک خدا کے قوانین کو نافظ کرتی رہے گی  اسے حکومت کرنے کا حق حاصل ہو گا اور عوام سے اس کی اطاعت کی توقع کی  جائے گی ۔ خدا کی طرف سے فراہم کردہ نظام کی ذرا سی بھی خلاف ورزی سے  اس کا یہ حق خود بخود مرتفع ہو جائے گا کہ وہ عوام کو   اپنی بات  کی اطاعت کا حکم دے ۔

اگلا منطقی قدم اسلامی ریاست کی نوعیت کا تعین کرنا ہے ۔ مندرجہ بالا سیاسی نظریہ واضح طور پر ایک سیکولر جمہوریت کی اجازت نہیں دیتا ۔ ایک ہی وقت میں اسلامی ریاست حکومت  الٰہیہ نہیں ہو سکتی اس لئے کہ وہ ایسی کوئی ریاست نہیں ہے جس پر مذہبی نمائندے کی حکومت ہے ۔ مودودی اسلامی ریاست کو " مذہبی و جمہوری" کا  نام دیتے ہیں  جہاں قرآن و سنت میں خدا  کی طرف سے دیئے گئے قوانین کے تحت سیاسی عمل میں عوام کا عمل دخل ہوگا ۔ عوام کو " محدود مقبول خودمختاری " فراہم کی جائے گی (مودودی، 130) ۔

انتظامیہ  اور مقننہ کی تشکیل کی  جائے گی ایک معاشرے کے  طور پر  مسلمانوں کو  ان تمام معاملات پر قانون سازی کا حق حاصل ہو گا جس کے متعلق قرآن نے براہ راست کوئی حکم فراہم نہیں کیا ہے۔ قانون سازی کا یہ عمل باہمی مشاورت کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔ یہ خصوصیات ایک جمہوری ملک کو اسلامی ریاست میں تبدیل  کر دیں گے  ۔ اس جمہوریت کی امتیازی خصوصیت یہ ہوگی کہ  رعایت پر خدا کےقانون کی حکمرانی  ہوگی  انسانوں کے ذریعہ بنائے گئے قوانین کی نہیں اور  اس طرح ایک اسلامی ریاست ایک مذہبی و جمہوری ریاست بن جائے  گی ۔

اسلامی ریاست کے قیام کے مقصد کی صراحت اس  قرآنی آیت کے ذریعہ کی گئی ہے:

‘‘ ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ اور اُن پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہٴ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے۔ اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرے۔ بےشک خدا قوی (اور) غالب ہے ’’ (57:25 ، قرآن)۔

مودودی اس بات کی وضاحت  کرتے ہیں کہ  اس آیت میں " عظیم طاقت " کا  مطلب وہ استبدادانہ سیاسی طاقت ہے جسے سماجی انصاف کی مثالی قائم کرنے کے مقصد سے ایک متوازن معاشرے کی تخلیق کرنے کے لئے استعمال کرنا   ہے  ۔

آخر میں ہمیں ایک بڑے پیمانے پر خلافت کی مثال کے تعلق سے ایک اسلامی ریاست کے تصور کی وضاحت کرنی ضروری ہے۔ ہم پہلے ہی یہ  ثابت کر چکے ہیں کہ قرآن براہ راست حکومت کے نظام کے برعکس قائم مقام بادشاہت کا  ایک نظام فراہم کرتا ہے۔ خدا نے نبیوں کی شکل میں نائبین کو مقرر کیا جنہیں کچھ مخصوص طاقتیں دی گئیں تھیں  ۔ لیکن یہ خدا کے منتخب کردہ بندوں کا  معاملہ تھا اور اسے دوہرایا نہیں جا سکتا ۔

لہذا، براہ راست ایک فرد کی تفویض کی  غیر موجودگی میں قرآن " مقبول قائم  مقام  بادشاہت " کا تصور فراہم کرتا ہے – جہاں نائب حاکم  کو  کسی مخصوص جماعت کے لئے  خدا کے  ذریعہ مقرر نہیں کیا جاتا ہے  بلکہ مجموعی طور پر مسلمانوں کی ایک جماعت کے لئے مقرر کیا جاتا ہے  ۔ یہ اسلامی مذہبی و  جمہوری ریاست کے تصور کو تقویت فراہم کرتا ہے ۔ لہٰذا مذہبی وجمہوری ریاست  کی نمایاں خصوصیات کا  تعین اس طرح کیاجاتیاہے  (موددی 14-144):

1۔ تمام مسلمان نائب حاکم کے عہدے  کے لئے اہل ہوں گے اورتقویٰ کے علاوہ  ان کے  درمیان اور کوئی امتیازی نہیں برتا جائے  گا۔

2۔ اس نظام کے تحت تشکیل دی گئی  معاشرے میں کسی کے بھی شہری کے ساتھ  سماجی حیثیت یا کسی بھی معذوری کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں برتا جائے  گا۔ ہر فرد کو ترقی اور خوشحالی کا برابر کا موقع فراہم کیا جائے گا ۔

3۔ کسی بھی  فرقے کو  عوام پر آمریت قائم کرنے یا ایسی جمعیت سازی کی اجازت نہیں دی جائے گی جس سے انفرادی آزادی کے ختم ہو نے  کا  امکان ہو ۔

4۔ ہر سمجھدار اور عقلمند فرد کو  ووٹ دینے کا حق عطا کیا جائے گا  اور اس طرح وہ خلافت کی نوعیت کا فیصلہ کرنے کے بھی قابل ہو گا ۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ،نیو ایج اسلام)

ماخذ: http://ayesha.wordpress.com/2006/04/17/maududi-the-islamic-state-and-jamaat-i-islami-part-ii/

URL of Part 1:

http://www.newageislam.com/islam-and-politics/ayesha/maududi,-the-islamic-state-and-jamaat-e-islami--part-1/d/13254

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-politics/ayesha/maududi,-the-islamic-state-and-jamaat-e-islami--part-ii/d/13275

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/ayesha,-tr-new-age-islam/maududi,-the-islamic-state-and-jamaat-e-islami--part-ii-مودودی-،-اسلامی-ریاست-اور-جماعت-اسلامی---حصہ-دوم/d/13643

 

Loading..

Loading..