New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 08:52 PM

Urdu Section ( 23 Jul 2015, NewAgeIslam.Com)

Sectarian Wall in the Way of Muslim's Unity مسلمانوں کے اتحاد کی راہ میں حائل مسلکی دیوار

 

 

عتیق مظفرپوری

24 جولائی، 2015

مسلمانوں کے علاوہ شاید ہی دوسری کوئی قوم ایسی ہوگی جسے نقصان پہچانے والےعناصر اس کثرت کےساتھ اس کے اندر سےہی پیدا ہوئے ہوں۔ مسلمانوں کی تاریخ سے واقف اہل علم حضرات اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد دشمنان اسلام کی طرف سے ایسے بد ترین حالات پیدا کردیئے گئے تھے کہ خلفائے راشدین میں سے تین کا قتل ہوا اور 30۔35 برس کے مختصر عرصے کے دوران آپسی لڑائیوں میں کئی ہزار مسلمان مسلمانوں کے ہی ہاتھوں مارے گئے۔ اس اجمال کی تفصیل میں جانے کی یہاں پر نہ تو کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی ضرورت ۔ مختصراً یوں سمجھ لیں کہ دشمنان اسلام نےاپنی دانست میں مسلمانوں کی اینٹ سےاینٹ بجادی تھی ۔ اس کے باوجود، اسےاسلام کا معجزہ عظیم ہی کہاجائے گا کہ اسلام ختم ہونے کے بجائے رنگ، نسل، علاقہ اور زبان کی سنگلاخ اور چٹیل سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے چہار دانگ عالم میں پھیل گیا ۔ پوری دنیا میں مسلمانوں نے حکومت کی۔ کائنات کےدل پر اسلام کاسکہ بٹھایا ۔ کائنات کا کوئی ایسا خطہ نہیں جہاں مسلمان موجود نہ ہوں، بلکہ یہ کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ اس درجہ گفتہ بہ حالات کےباوجود اس کادائرہ مزید وسیع ہورہاہے ۔ یورپ ،امریکہ اور مغربی ممالک سے قبول اسلام کی آئے دن موصول ہونے والی خبریں اس کا بین ثبوت ہیں۔

اسلام کی اس روز افزوں مقبولیت نے جہاں ایک جانب کچھ مسلمانوں کو مطمئن کر رکھا ہے ، وہیں اسلام کی یہی خوبی دشمنان اسلام کی نیند حرام کیے ہوئے ہے اور وہ مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے اور انہیں آپس میں لڑانے کےلیے نت نئے حربے استعمال کرنےمیں لگے ہیں ۔ مسلمانوں کے موجودہ حالات پر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو شاید کسی ذی شعور اور غیر جانبدار شخص کو اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی تر دو نہیں ہوگا کہ مسلمانوں میں جاری موجودہ مسلکی تنازع بھی دشمنان اسلام کے اسی حربے کی ایک کڑی ہے۔ ان عناصر نے اسلام کی ضد میں پہلے تو ہر اس چیز کو فروغ دیا جسے اسلام ناجائز اور حرام قرار دیتا ہے ۔ اس کی زندہ مثال معاشرے میں شراب نوشی، قما بازی، بے حیائی اور زنا جیسی لعنتوں کا عام کیا جانا ہے۔ لیکن جب مسلم معاشرے پر ان برائیوں کا ان کی گمراہ کن فکر کے حساب سےخاطر خواہ اثر نہیں ہوا تو ان کی جانب سےاسی پرانے اور آزمودہ حربے یعنی مسلمانوں کے مابین آپسی اختلافات کو ہوا دینے کی کوششیں تیز کردی گئیں۔ دشمنان اسلام کی اس سازش پر مسلمانوں کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ غور کرناچاہئے ۔ دیکھا جارہا ہے کہ جب بھی کسی مسجد ، امام بارگاہ یا مذہبی جلوس پرکوئی خود کش حملہ ہوتا ہے اور کثیر تعداد میں مسلمانوں کی ہلاکت ہوتی ہے تو ہمارے علماء اور قائدین ملت عام طور پر اسے دشمنان اسلام کی سازش سے تعبیر کرتے ہوئے مذمتی بیان جاری کرکے خود کو بری الذمہ سمجھ لیتےہیں ۔ یہ کافی نہیں ہے۔ کسی بھی بے گناہ کے انفرادی یا اجتماعی قتل کو کوئی بھی صحیح الد ماغ شخص صحیح قرار نہیں دے سکتے ۔ ایک عام آدمی بھی یہ جانتا ہے۔قائدین اور خواص کو اس مسئلہ کے تدارک کی بھی فکر کرنی چاہئے ۔علما ء کو یہ ضد ہے کہ ان کا ہی مسلک برحق اور سچا ہے۔ اس میں کوئی خرابی بھی نہیں لگتی ہر فرد کو اس کا حق ہوناچاہئے ، مگر اس میں خرابی کا پہلو اس وقت شدت کے ساتھ نمایاں ہوجاتاہے جب وہ دیگر مسالک کو غلط اور ان کے ماننے والوں کو کافر و مشرک اور جہنمی قرار دینے لگتے ہیں ۔ اس میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس فکر کا مآخذ ہمارے دینی مدارس اور اس کے مبلغ خود علماء ہیں۔

بلکہ اب تو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ یہاں کے زیادہ تر دینی مدارس میں مذہبی کے بجائے مسلک کی تعلیم پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے ۔ اس میں کسی خاص مسلک کےمدارس یا علماء کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ تاہم یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ سارے علماء کرام پر یہ الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے راقم الحر وف نے اعتدال کی راہ اختیار کرنے کی تلقین کرنے والے علمائے کرام کو بھی ان کے اپنے ہی مسلک کے مخصوص طرز فکر کے مبلغین کے عتاب کا شکار ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ اپنے مسلک کے یہ شدت پسند مبلغین اپنی فکر کے جواز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پیش کرتے ہیں ،جس کا مفہوم یہ بتایا جاتا ہے کہ ‘‘ امت محمدیہ میں تہتر (73فرقے ہوں گے، جس میں سے صرف ایک برحق ہوگا)’’ ۔ ظاہر ہے کہ کوئی مسلمان کسی حدیث کی تکذیب نہیں کرسکتا ۔ وہ بھی ایسی صورت میں کہ حدیث کے صحت پرعام اتفاق پایا جاتا ہو۔ لیکن اصل سوال کہ فرقہ کسےکہتے ہیں ، اس لفظ کا اطلاق کس پر ہوگا؟ اس کی کوئی جامع او رمدلل تشریح نہیں ملتی ۔ کیا اعمۂ اربع امام اعظم ابو حنیفہ ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم کی تقلید کرنے والے الگ الگ فرقے شمار کیے جائیں گے؟ اگر ہاں تو مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں چاروں برحق کیسے ہوسکتے ہیں؟ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ چاروں مسلک کے ماننے والے بجا طور پر بر حق قرار دیے جاتے ہیں۔ کبھی کسی نے ان کی تکفیر نہیں کی۔ اس کا تو یہی مطلب نکلتا ہے کہ فرقہ سےمراد کچھ اور ہے محض فروعی اور اجتہادی اختلاف نہیں ۔ اگر فروعی اور اجتہادی اختلاف کو فرقہ تسلیم کرلیا جائے تو اس زاویے سے گزشتہ 1400 برسوں میں تو کئی ہزار فرقے وجود میں آچکے ہیں۔

کچھ دنوں قبل راقم الحروف کی نظر سے ایک ایسی کتاب بھی گزری جس میں ایک ہی مسلک کے بعض علماء سے اختلاف کی بنیاد پر اسی مسلک کے ایک جید عالم کو دجال قرار دیا گیا تھا۔ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ آخر کیا ہورہا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ میں نےاپنے گاؤں میں قیام کے دوران ایک نوجوان کو ایک مجلس میں یہ گفتگو کرتےہوئے سنا کہ دیگر فرقے کے لوگوں کی مساجد کو مسجد کہنے والا بھی کافر ہوجائے گا، جب کہ معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والے انسان کو بھی یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ مسجد صرف مسجد ہوتی ہے، اس میں نماز پڑھنے والے لوگ الگ الگ فرقے کے ہوسکتے ہیں۔ آخر وہ کون لوگ ہیں جو ہمارے نوجوانوں کو اس درجہ گمراہ کرنے پرتلے ہیں کہ وہ اپنے سے مختلف فرقے کے لوگوں کی مسجد کو بھی مسجد تسلیم کرنےکو تیار نہیں ہیں۔ اگر اس صورت حال کو تبدیل کرنے کی سنجیدہ اور کامیاب کوششیں نہیں کی گئیں تو پاکستان کی طرح ہندوستانی مسلمانوں کو بھی مساجد میں دھماکوں ، مذہبی جلوسوں پر حملوں کی مذمت کےلیے مضمون تیار رکھنا چاہئے۔ مسلکی منافرت کی آنچ ہندوستان کی بھی مسجدوں ، مسلمانوں کے قبرستانوں اور دیگر مذہبی مقامات کو اپنی زد میں لینے کےلیے لپکنے لگی ہیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ آنچ ہمارے گھروں تک پہنچ جائے اس لیے مسلک کی اس دیوار کو اب گرایا جانا چاہئے ۔

24 جولائی ،2015 بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/atique-muzaffarpuri/sectarian-wall-in-the-way-of-muslim-s-unity--مسلمانوں-کے-اتحاد-کی-راہ-میں-حائل-مسلکی-دیوار/d/104005

 

Loading..

Loading..