New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 08:46 PM

Urdu Section ( 24 Aug 2015, NewAgeIslam.Com)

The Holy Prophet as a Revolutionary Social Reformer ایک انقلابی سماجی مصلح کی حیثیت سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت

 

 

 

 آصف مرچینٹ ، نیو ایج اسلام

16 اگست، 2015

اس تحریر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسا مثالی انسان سمجھتے ہوئے جو کہ  اس معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتا ہے جس کا وہ حصہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو سمجھنے کی ایک کوشش کی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  خود بارہا اس بات کی تصریح کی ہے کہ، آپ پر اللہ کی جانب سے مسلسل نزول وحی کے علاوہ آپ ایک عام انسان ہی تھے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عرب خوشحالی کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے قبل جب معاملات اتنے اچھے نہیں تھے تو عربوں کا ایک دوسرے کی مدد کرنا فطری بات تھی اس لیے کہ تقریباً تمام عرب ایک ہی کشتی میں سوار تھے۔ لیکن بعد کے زمانوں میں کچھ لوگ ضرورت سے زیادہ خوش حال تھے جس کا مطلب یہ تھا دوسرے  لوگ ضرورت سے زیادہ غربت کا شکار ہو چکے تھے۔ طبقات کی تقسیم شروع ہو گئی تھی۔ مالدار لوگ  اب غریب اور پسماندہ لوگوں کی مدد کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ شاید یہ خیالات ان لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوئے جو 'اب بھی نبی بننے کا دعویٰ کرنے والے' تھے، اور انہوں نے اپنے ان خیالات کا رخ سماجی اصلاح کی طرف  کر دیا۔

اگر گوتم بدھ، یسوع مسیح، اور مہاتما گاندھی جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور آپ کے بعد کے دیگر سماجی مصلحین کا موازنہ کیا جائے تو ان تمام کے درمیان ایک بات مشترک ہے۔ ان تمام مصلحین نے اپنے زمانے کے مروجہ معمولات کی مخالفت کی ہے۔ یہ 'قیام' کی مخالفت کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔ یسوع مسیح اور گاندھی دونوں نے اپنے اصول و معمولات کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ جہاں تک 'قیام' کا تعلق ہے، تو یہ عام طور پر انقلابی لہر کے زوال سے پہلے صرف وقت کی بات ہے، اصلاح پسندوں کے نظریات کی تعریف و توصیف تو کی جاتی ہے لیکن ، لیکن عملی طور پر انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور یہ ‘قیام’ مروج ہو جاتا ہے۔

یہ یسوع مسیح کے پیروکاروں کے ساتھ ہوا ہے جنہیں جلد ہی رومی سلطنت میں شامل کر لیا گیا تھا جس نے خود کو 'مقدس رومن سلطنت' کہنا شروع کر کر دیا تھا۔ بشپ، آرچ بشپ، اور پوپ نے خود کو مسیح کے نمائندوں کے طور پر پیش کیا لیکن قیام کے ایک حصے کے طور پر انہوں نے ایک پرتعیش زندگی گزاری ، اور ان لوگوں سے بہت دور ہو گئے تھے جن کی سرگرمیاں یسوع مسیح کا مشن تھیں۔

جہاں تک مہاتما گاندھی کے پیروکاروں کا تعلق ہے، تو بہت سے نام نہاد 'گاندھی وادیوں' کے باوجود مہاتما گاندھی کی برسیوں پر ان کا راگ الآپنے کے سوا اب کچھ نہیں بچا ہے۔ یہاں تک کہ جن لوگوں نے ان کے قتل پر  جشن منایا تھا وہ بھی اب اپنے ایجنڈے کا جواز پیش کرنے کے لیے ان کا نام لیتے ہیں۔

گوتم بدھ نے انصاف کے لئے وقف ایک زندگی کی قدر و اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدا کا وجود یا عدم وجود قابل تشویش امر نہیں ہے، بلکہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انسان ایک منصفانہ زندگی بسر کرے۔ ان کے پیروکاروں نے انہیں خدا کا درجہ دے دیا، اور انہیں ‘بھگوان بدھ’ کا نام دیا۔ رسومات و معمولات ان کے فلسفے سے زیادہ اہم ہو گئے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی ایسا ہونا فطری بات تھی۔ آپ کی تحریک کا آغاز تین پیروکاروں کے ساتھ ہوا، جن میں آپ کی زوجہ اور سب سے پہلی مسلم خاتون ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ؛ سب سے پہلے مسلم مرد آپ کے نوجوان چچا زاد بھائی حضرت علی المرتضیٰ؛ اور آپ کے دوست اور سب سے پہلے عاقل و بالغ مسلمان ابو بکر رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ اور جیسے جیسے  آپ کی تحریک مقبولیت حاصل کرتی گئی ویسے ویسے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس طرح کے معاملات میں ایسے موقع پرستوں کا ہونا  ایک عام بات ہے  جنہوں نے  ذاتی فوائد اور زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے اسلام قبول کیا ہو گا۔ شروع میں جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ترین مخالفین تھے وہ بعد میں آپ سے وفاداری کی قسمیں کھانے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو 'منافق' کہا ہے۔ وہ عام طور پر دوسروں کو متاثر کرنے کے لئے تقوی کے بڑے بڑے ڈھونگ رچتے تھے۔ یہی وجہ ہے کچھ جدید فرقوں میں تقوی کا دکھاوا کرنا مستحب ہے اور اسے ایک اچھا مسلمان بننے کے لئے ضروری بھی سمجھا جاتا ہے۔

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا تو ان لوگوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے آپ کی سخت مخالفت کی جنہیں اس بات کا احساس تھا کہ اگر وہ کامیاب ہو گئے تو ان کے اختیارات کم ہو جائیں گے۔ ان کی مخالفت اتنی سخت تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ چھوڑ کر مدینہ میں قیام پذیر ہونا پڑاجو کہ اتنا زیادہ خوشحال نہیں تھا اور جہاں کے اشرافیہ اور امراء اتنے زیادہ طاقتور نہیں تھے۔ سچے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور وہ وقت بھی آیا کہ جب مکہ والوں کو مدینے والوں کے ساتھ معاہدہ کرنا بڑا۔

نبی صلی اللہ علی وسلم کے وصال کے وقت نبی صلی اللہ علی وسلم کے روحانی پیروکاروں کی تعداد میں کافی اضافہ ہو چکا تھا، او ر اس کے علاوہ آپ کی سیاسی طاقت بھی کافی ہو چکی تھی۔ اکثر عربی برصغیر آپ کے زیر اقتدار تھے۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان کے قریبی صحابہ میں سے کوئی بھی ان کی روحانی قد کے قریب بھی نہیں تھا۔ تین دنوں تک وہ اس بات کا انکار ہی کرتے رہے کہ  نبی صلی اللہ علی وسلم کا وصال ہوا ہے۔ اس دوران اقتدار کی جنگ جاری رہی۔ اس کا خاتمہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علی وسلم کے پہلے خلیفہ کے طور پر حضرت  ابوبکر کے نام کے اعلان کے ساتھ ہوا۔

جب ایک حکمران کا وصال ہوتا ہے تو اس طرح کی باتیں ہوتی ہیں۔ جب بھی سابق سوویت یونین کے سپریم لیڈر کا انتقال ہوا ہے  تو ایسے واقعات دیکھنے کو ملے ہیں۔

چونکہ ابوبکر کے حق میں یہ فیصلہ ایک بہت بڑے طبقے کے لیے  قابل قبول نہیں تھا۔ لہٰذا، شیعہ سنی اختلاف کا تاریخی پس منظر بھی یہی ہے۔ بعد ازاں، ان میں سے ہر ایک سے الگ الگ شاخیں بنتی گئی جن کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی، اور ان میں سے ہر ایک نے حق ہونے کا دعویٰ کیا۔

ذرا سا غور کرنے پر ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم کی تعلیمات کو بہت پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے اور ہمارے مسلمان بھائی در اصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر حکمرانی کرنے والے دوسرے رہنماؤں کے پیروکار ہیں۔

الجھن میں مزید اضافہ کرنے کے لیے تیسرے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کے  جمع و ترتیب کا حکم دے دیا۔ اس کے نتیجے میں اتنی خرابیاں پیدا ہوئیں کہ اسے سمجھنا مشکل ہے۔ امکان قوی ہے کہ اسی زمانے میں ہر تین سال میں اضافی مہینوں کو خارج کر کے کیلنڈر کو بھی تبدیل کر دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں سال کے موسموں کی ایک صحیح پیش بندی کی گئی۔ اب، مسلم کیلنڈر ایک پیمائشی آلے کے طور پر بیکار ہو چکا ہے۔

خواتین کے تعلق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دور کے افکار و نظریات سے بہت آگے تھے۔ ان کی راہنمائی میں خواتین بہت سے شعبوں میں مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کے قابل تھیں۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے عربوں کے روایتی رویوں کے بالکل برعکس تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد خواتین کو اپنی گزشتہ کمتر حیثیت پر دوبارہ لوٹنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔

تمام مذاہب میں اسلام ہی صرف ایک ایسا مذہب تھا جس میں مذہبی لیڈروں کے لئے کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ایک انصاف پسند زندگی بسر کرنے کے لیے خود سے راستے تلاش کرنے کے لیے آزاد تھے۔ اس پہلے حکم "اپنے اس رب کے نام سے پڑھو جس نے تمہیں قلم کے ذریعے تعلیم دی" کی منشاء یہ تھی کہ تمام مسلمان کسی دوسرے کی مدد کے بغیر ہی اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے  قابل ہوں گے۔ لیکن ایسا ہونے والا نہیں تھا۔ بااثر لوگ اپنے نمائندوں کو نماز  کی امامت کے لئے منتخب کرنے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ، در اصل تمام لوگوں کو  اس کی اجازت دی گئی  تھی۔ اور ایک زمانہ ایسا آیا کہ انہیں لوگوں کو مذہبی قائد تصور کیا جانے لگا  اگرچہ، وہ 'اسلام کی روح' یکسر ناواقف تھے۔ وہ لوگ مذہبی پیشہ ور افراد تھے۔ ان کے لیے دین کے ساتھ منسلک رسومات و معمولات سب سے زیادہ اہم تھے۔ ان کی اتھارٹی برقرار رکھنے کے لئے نئے نئے رسومات ایجاد کیے گئے۔ ان لوگوں نے خود کو حافظ، قاری اور عالم وغیرہ کہا۔ یہ تمام لوگ ریاست کی ملازمت یا کسی امیر طبقے کی سرپرستی میں ہیں۔ ان میں سے کچھ تو اپنے ملک کے حکمران بھی ہیں۔ لوگوں کا اصلاح پذیر رہنا ان کے مفاد میں ہے۔ یہ لوگ انصاف کے لئے اپنی آواز کیسے اٹھا سکتے ہیں جبکہ خود ریاست ہی لوگوں کا استحصال کر رہی ہے؟ بیشک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء کبھی یہ نہیں تھی۔

چونکہ انصاف، خواتین کے حقوق، تعلیم وغیرہ جیسی تہذیبی اقدار ان کی تعلیمات میں شامل نہ ہو سکیں، لہٰذا، علماء نے رسومات، ڈریس کوڈ، اور ان جیسے دیگر غیر سنجیدہ معاملات پر توجہ مرکوز کی  اور اسے مذہب کا نام دے دیا۔ دوسرے الفاظ میں اگر کہا جائے تو ایک مسلمان وہ ہے جو ان معمولات اور رسومات کی پیروی کرے جس کا حکم وہ رہنما دیتے ہیں جو خود کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

یہ دعویٰ کیا جاتا ہےکہ  پہلے کے انبیاء اصل میں مسلمان تھے۔ ان کی کتابوں میں اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، اور اس بات کے امکانات کم ہیں کہ انہوں نے کلمہ پڑھا ہو گا۔ اگر انہیں مسلمان مان لیا جائے ، اور ہم سب کو انہیں مسلمان ماننا ضروری ہے تو پھر اس کےمضمرات کیا ہیں؟ اول تو یہ کہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ مسلمان بننے کے لیے کلمہ پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، مسلمان ہونے کا دعوی کرنا بھی ضروری نہیں ہے۔ اس سے ایک بات ظاہر ہے کہ ایک مسلمان ہونے کے لئے ایک ایسی زندگی جینا ضروری ہے جو عدل و انصاف اور تقویٰ کے لئے وقف ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے تمام لوگوں کو ان کے  مذہب، رسومات اور معمولات سے قطع نظر مسلمان قبول کیا جانا چاہیے۔

اس استدلال کی رو سے  مہاتما گاندھی کو ایک مسلمان تسلیم کیا جانا چاہیے جو ہندو رسومات پر عمل پیرا تھے۔ بھیم راؤ امبیڈکر کو ایک مسلمان تسلیم کیا جانا چاہیے  جنہوں نے  پہلے ہندو رسومات کی اور بعد میں بدھ مت کے رسومات کی پیروی کی، مدر ٹریسا کو ایک مسلمان تسلیم کیا جانا چاہیے  جنہوں نے مسیحی رسومات کی پیروی کی، اور نیلسن منڈیلا کو بھی ایک مسلمان تسلیم کیا جانا چاہیے جنہوں نے مسیحی رسومات کی پیروی۔

کسی شخص کے بارے میں فیصلہ کرنے میں رسومات و معمولات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہم لوگوں کے رسومات و معمولات سے قطع نظر بہت سے لوگوں کو مسلمان پا سکتے ہیں۔ ان کے پاس جانا اور انہیں مسلمان بنانے کی کوشش کرنا بیوقوفی ہو گی اس لیے کہ وہ حقیقت میں مسلمان ہیں۔

URL for English article:  http://www.newageislam.com/islamic-personalities/asif-merchant,-new-age-islam/the-holy-prophet-as-a-revolutionary-social-reformer/d/104283

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/asif-merchant,-new-age-islam/the-holy-prophet-as-a-revolutionary-social-reformer--ایک-انقلابی-سماجی-مصلح-کی-حیثیت-سے--پیغمبر-اسلام-صلی-اللہ-علیہ-وسلم--کی-شخصیت/d/104363

 

Loading..

Loading..