New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 07:19 PM

Urdu Section ( 1 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Bomb Blasts in Mosques: These are Also Muslims مسجدوں میں بم دھماکے، زائرین اور نمازیوں کا بے دردی سے قتل، یہ بھی مسلمان ہی ہے ؟


اصغر انصاری

2 جون،  2012
ہماری معلومات اور مطالعہ کے مطابق ،قرآنی آیات، احادیث نبوی اور آئمہ کرام کے استدلال کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ بے گناہ و معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اور ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف بلکہ روح اسلام کے خلاف گناہ عظیم ہے، کسی بھی عذر، بہانے یا وجہ سے ایسے عمل کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا
یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔
یہی بات ان تمام مزاہب کے بارے میں سچ ہے جسے انسان اپنے لئے راہ نجات تصور کرتا ہے۔ ہمارے علم کے مطابق دنیا کا کوئی دین (دھرم) بیگناہوں کے قتل کو جائز نہیں ٹہراتا۔  اس حقیقت کا ادراک ہم ہندوستانی مسلمانوں کو آسانی سے ہونا چاہئے۔ ہم ہندوستانی مسلمانوں کے ارد گرد ، ہمارے ہمسائے، ہمارے ساتھی،نہ جانے کن کن مکاتب فکر، کن کن ادیان کے ماننے والے ہیں لیکن ہم سب اس معاشرہ میں شیر و شکر نم کر رہتے ہیں، ایک دوسرے کے سکھ دکھ کے ساتھی ہیں۔ ہمارے کاروبار مشترکہ ہیں، ہم ایک زبان استعمال کرتے ہیں۔ ہم میں سے کوئی کسی سے ملنے جلنے کو منع نہیں کرتا، کسی کے قتل کو جائز نہیں قرار دیتا۔
سعودی عرب افغانستان ، پاکستان،وغیرہم کے تکفیری مسلمانوں کے لئے یہ بات سمجھنا بہت مشکل ہے، وہ مسلم ممالک ہیں اور وہ غیر اسلامی مذاہب کے ، ان کے فلسفہ، ان کے ماننے والوں کے بارے کوئی علم رکھتے ،اور اپنے عقیدہ/مزہب/مسلک کے علاوہ سب کو جہنمی گردانتے ہیں اور ان ممالک کا مسلم معاشرہ یورپ کے پانچویں سے ااٹھویں دھائی کی طرح Dark Ages کی طرف بڑھتا جا رہا ہے، جس طرح اس دور میں چرچ معاشرہ اور نظام کے ہر جز پر ہاوی ہوگیا تھا باکل اسی طرے مسلم معاشرہ میں ’’نائیبن انبیا‘‘ یعنی مولوی حاوی ہوتے جا رہے ہیں، ہندوستان میں بھی اس کا اثر دکھائی دینے لگا ہے ، بحر حال یہ اپنے آپ میں ایک الگ اور سنگین موضوع ہے اور طویل بحث چاہتاہے۔
طالبان ، تحریک طالبان، سپاہ صحابہ ، لشکر جھنگوی ، جیش محمد ، الشباب ، بوکو حرام ،نصار الاسلام، انصار الاسنہ،اثبات الانصار،جمیعت الانصار، جنداللہ،تکفیر ولاحجرہ،حزب الاتحریر، حرکتہ الجہاد اسلامی، جماعت لفقرا، (GSPC) (GIA)Al-Gama'a al-Islamiyya اور اس جیسی کئی اور تنظیمیں جو پاکستان سے لیکر پورے عربی ممالک، افریقہ، یوروپی ممالک میں انسان کا خون بیدردی سے بہانے میں مصروف ہیں، ان نام تنظیمون سے مساجد تک محفوظ نہیں ہیں، یہ وہ تنظیمیں ہیں جو اسلام کے نام پر خونی کھیل میں مصروف ہیں،ان تنظیموں کے نزدیک ان کے افکار کے سوا سارے مسلمان کافر، مشرک ، مرتد ہیں۔ یہ تمام تنظیمیں اپنے آپ کو اسلام کا پیروکار مانتی ہیں اور اسلامی نظام اور معاشرہ کے قیام کی دعویدار ہیں، یہ دیگر ادیان کے لوگوں کو اپنی فکر والے ’’اسلام‘‘ میں داخل کرنا بہت عظیم کار ثواب مانتی ہیں،اور اس کار ؑ ظیم کے لئے یہ دل کھول کے خون بہانے کو جائز مانتی ہیں، ہماری اس بات کے ثبوت ہر روز اور ہر طرف نظر آتے ہیں۔
اور یہ ایک حدیث کے مطابق بہتر میں سے ایک جنتی فرقہ کے نمائیندے ہیں، اس کے نذدیک اہلبیت رسول ؐ، اولیاء اکرام سے تمسک رکھنے والے سب کافر ہیں، ان کے یہاں کفر کا معیار عجیب و غریب ہے، یہ شیعوں کو تو واجب القتل مانتے ہی ہیں ، اہلسنت کے مسالک بھی ان کے خونی ہاتھوں سے محفوظ نہیں ہیں ، ان کے نذدیک داڑھی منڈوانے والا اور مونڈنے والا واجب القتل ہے اس لیے افغانستان پاکستان کے صوبہ پختون خواہ، پارہ چنار ، پشاور، سوات میں سیکڑوں حجاموں کو قتل کردیا گیا اور ان کی دکانوں کو آگ لگادی گئی، ان کے نذدیک مومنیت کا معیار داڑھی ہے، جتنی لمبی داڑ ھی اتنا ہی بڑا مومن، گویا ان کے نزدیک داڑھی نہ رکھنے والا مسلمان نہیں ہے، ابھی حال ہی میں دلی کی شاہجہانی مسجد کے پیش امام احمد بخاری کی اقتدا میں نماز باظل کا فتوا بھی آیا تھا ، کیوں احمد بخاری کی داڑھی ’’ داڑھیٹ کے اسٹنڈرڈ پر پوری نہیں اترتی ‘‘۔
ان تنظمیوں کے سیاہ نامے میں ہر روز مسلمانوں کے خون کا اضافہ ہو رہا ہے، ہم مانتے ہیں کہ ان کے اعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں اور یہ وہ گروہ ہیں جو دائرہ اسلام سے اپنی غیر اسلامی حرکات کی وجہ سے خارج قرار دئے جانے چاہیءں،لیکن افسوس شیعوں ، اوت اہلسنت و الجماعت کے متعدد مکاتب کو کافر قرار دینے والے اس معاملہ میں بالکل خاموش ہیں، یہاں تک کہ دہشد گردی کے خلاف بڑی بڑی کانفرنس کرنے والے مولویان بھی ان خونی تنظیموں کا کبھی نام لیکر مذمت نہیں کی۔  ’’خاموشی اقرار کے برابر ہوتی ہے‘‘ کیا ہم مان لیں کہ ہندوستان میں اب ان خونی تنظیموں کے ’’ سمرتھک ‘‘ بڑی تعداد میں پیدا ہو گئے ہیں۔  دہشت گردی کے خلاف مدلل فتوا جاری کرنے والے عالم دین طاہر القادری حال ہی میں ہندوستان آئے تھے۔ ہمارے اردو میڈیا اور مسلماں تنظیموں نے ان کے دورے کو نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ ان کے دورے کو سبوتاژ کر نے کوشش کی گئی۔ دوسری طرف حرم شریف کے پیش نمازوں کے دورں کی تشہیر پر کروڑ ہا روپیہ بہایا گیا اور ان کی آمد کو اتنا بڑھا پر پیش کیا گیا، گویا اسلام میں ان سے با عزت کوئی اور شخصیت ہی نہیں۔
بحر حال دہشت گردی کے نام پر اسلام کو بدنام کرنے کے لئے اگر امریکہ اور اسرائیل ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ نام نہاد خونی تنظیمیں ، ان کے اراکین، ان سے فکری ہمدردی رکھنے والے مسلمان امریکہ اور اسرائیل سے بڑے گنہ گار ہیں۔ ۔ ان تنظموں کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزاں ہو گیا ہے اور یہ پوری دینا میں دائیں بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔ عالم اسلام میں ہم ایک دوسرے کو کافر دیں،  واجب القتل قرار د یں،  یہ ایک چلن سا ہوگیا ہے۔ مرتد اور شان رسالت پر انگشت نمائی کرنے والے تو واجب القتل ہیں ہی، اب تو صحابہ کی عظمت تسلیم نہ کرنے والے بھی واجب القتل ہیں۔ تکفیر پر ایمان رکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اسی کے ساتھ کشت خون بھی۔ اس سلسلہ کے خلاف ہمارے موقر وارثین انبیا ء خاموش ہیں، اور صرف اپنی فکر اور مسلک کی اجارہ داری قائم کرنے، اور اپنے افکار یا مسلک کی اجارہ داری کے لئے دہشت گردی کے ہتھیار ’’ جہاد‘‘ کے نام پر استعمال کر رہی ہیں ۔

   عالمی سطح پر سرگرم ان خونی تنظیمیں سے کہیں زیادہ وہ اسلامی تنظیمیں گناہ گار ہیں جو اسلام کے فروغ، قرآن اور اسلامی تعلیم اور ایک آئیڈیل اسلامی معاشرہ کے قیام کے نام پر بڑے بڑے مدارس اور ادارے چلا رہے ہیں اور مسلمانوں بالخصوص مسلم نوجوانوں کے کئے ایسا ماحول اور ذہنیت فراہم کر کے ہیں جس سے مسلم نو جوانوں میں صبر و تحمل کے بجائے غصہ اور شدت پسندی بڑھتی جا رہی ہے، ذہنی طور پر مسلم نوجوان ایک خاص ذہنی حصار میں قید ہوتا جا رہا ہے اور مسلم نوجوانوں کا یہ ذہنی رحجان انھیں معاشرتی طور پر اپنے ارد گرد کے انسانی معاشرہ سے دور کر کے ایک خاص حصار میں قید کرتا جارہاہے اور یہ رحجان شدت اور دہشت پسندوں کا  Recruiting Ground  ثابت ہو رہا ہے۔
دنیا میں وہ مسلم معاشرے جو صلح کل، آپسی بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے لئے جانے جاتے تھے، یہ شدت پسند رحجان ان معاشروں میں بھی تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔ ایسا ہی عمل ہندوستان کے مسلم معاشرے میں تیزی سے جاری ہے ، جو یہ ایک خطرناک رحجان ہے اور اگر تیزی سے پھیلتی اس وبا پر باندھ نہ لگا تو یقین جانئے ہندوستان میں بھی وہ سب کچھ ہونے والا ہے جو شدت سندی سے متاثر معاشرے میں ہو رہا ہے، صحابہ اکرام کے مقدس اور معزز اسماء کو مسلکی منافر ت کے لئے اسی طرح استعمال کیا جارہا ہے جیسا کہ حجاج میں کیا گیا تھا،اور عراق اور پاکستان میں کیا جا رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ صحابہ کے نام کانفرس کرنے والے بہت جلد ہندوستان میں بھی سپاح صحابہ، انصار الاسلام، انصار الاسنۃ،اثبات الانصار،جمیعت الانصار جیسی دہشت گرد تنظمیں قائم کر کے ان کے افکار کو تسلیم نہ کرنے والے مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دینگے؟ بالکل سوات پارہ چنار افغانستان کی طرح ۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/bomb-blasts-in-mosques---these-are-also-muslims--مسجدوں-میں-بم-دھماکے،-زائرین-اور-نمازیوں-کا-بے-دردی-سے-قتل،-یہ-بھی-مسلمان-ہی-ہے-؟/d/7515

 

Loading..

Loading..