New Age Islam
Fri Oct 23 2020, 08:17 PM

Urdu Section ( 24 Jan 2012, NewAgeIslam.Com)

Sharia, Fatwa and Women's Rights شریعت ، فتوی اور خواتین کے حقوق


اصغر علی انجینئر    (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن ،   نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

میڈیا میں اکثر ہندوستان، سعودی عرب اور دوسرے ملکوں کے مفتیان کرام کے ذریعہ جاری کئے گئے فتویٰ کی رپورٹ ہوتی ہے۔ سعودی عرب  کے ایک مفتی نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ اگر ایک مسلمان عورت  گھر کے کام کے لئے ایک آدمی کو رکھتی  اور اس کے ساتھ اگرچہ وہ محرم نہیں ہے، بات چیت کرتی ہے تو  اس آدمی کو محرم بنانے کے لئےاسے چاہیے کہ وہ اسے اپنی چھاتی سے دودھ پلا ئے ۔ یہ فتوی حضرت عائشہ سے مروی ایک حدیث کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا۔

حالانکہ دارالعلوم دیوبند نے امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی  کے لئے قابل ستائش خدمات انجام دی ہیں، لیکن یہ بھی خواتین سے متعلق فتویٰ جاری کرتا ہے جس میں خواتین کو مردوں کے مقابلے دویم درجے کا یا ان کے تابع کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں دبئی کے ایک شخص نے مزاق میں اپنے کمپیوٹر پر تین مرتبہ  طلاق  ٹائپ کردیا اس شخص کو بتایا گیا کہ اس کا اپنی بیوی سے طلاق ہو گیا اور وہ اپنی بیوی سے دوبارہ شادی نہیں کر سکتا ہے جب تک کہ وہ کسی اور سے شادی نہ کرے، جو اسے طلاق دے اور تب ہی وہ  عورت اپنے سابق شوہر سے رجوع کر سکتی ہے جس نے مزاق میں اس خطرناک لفظ  کو کمپیوٹر پرٹائپ کیا تھا۔

ایران میں سکینہ نام کی ایک درمیانی عمر کی خاتون کو پتھروں سے مار مار کر موت دینےکی سزا دی گئی  کیونکہ اس خاتون نے مبینہ طور پر   بد کاری  کا ارتکاب  کیا تھا اگرچہ قرآن کہیں بھی اس طرح کی سزا کا ذکر نہیں کرتا ہے اور زنا کے لئے صرف 100 درّے مارنے کی سزا ہے اور عربی میں  زنا باالجبر، عصمت دری اور بدکاری کے لئے ایک ہی لفظ زنا ہے۔ حال ہی میں ، دارالعلوم دیوبند نے  ایک فتویٰ جاری کیا اور جس میں کہا کہ ایک شوہر نے اپنی بیوی کو  موبائل فون پر تین مرتبہ طلاق کہا اور یہاں تک کہ بیونے نے اگر سنا بھی نہیں  تو تین طلاق واقع ہو گئی اور ایک لازمی شرط کے طور پر  اس عورت کو کسی اور سے شادی کرنی ہوگی۔

یہ فتوی  اس لئے جاری کئے گئے ہیں  کہ سیکڑوں سال قبل کچھ فقہہ نے اس وقت کے معاشرے اور حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے  اپنی رائے دی تھی۔ زیادہ تر ان مسائل  پر علماء کے درمیان کوئی اجماع   (اتفا ق رائے) نہیں ہے اور یہاں تک کہ ان میں سے زیادہ تر متنازعہ حدیث پر مبنی ہیں۔سینکڑوں سال قبل  فقہہ کے زریعہ دی گئی رائے  نہ صر ف قرآن اور حدیث بلکہ اس وقت کے سماجی ڈھانچے اور سماجی  نوعیت  پر مبنی تھی ۔

زیادہ تر علماء اور فقہہ سے جب فتویٰ دینے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ صرف قرون وسطیٰ  کے زرائع  سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں  اور اپنی عقل و فہم  کا استعمال کرنے کی زحمت نہیں اٹھاتے ہیں. ۔ان فقہہ کے نزدیک تقلید سب سے محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم ، ان دنوں میں بھی کئی فقہہ تقلید کی سخت مزمت کرتے تھے۔ ابن تیمیہ اور ابن حزم دونوں عظیم فقہہ  تھے اور دونوں نے بغیرغور و فکر کئے اتباع کی مزمت کی ہے۔

ابن حزم  کا تعلق اسپین سے تھا اور وہ خیال کی آزادی اور فقہ سے متعلق  غور و فکر میں آزادانہ تفکر کو کافی اہمیت دیتے تھے ۔ اس معاملے میں وہ اپنے استاد ابوالحسن خیارسے کافی متاثر تھے۔ان کی بھی رائے تھی کہ  کسی شخص کو تب ہی تک عالم کہا جا سکتا ہے جب تک وہ علم حاصل کرنے کے عمل میں مشغول ہے۔ لیکن جس کا خیال یہ ہے کہ وہ بہت کچھ جانتا ہے در حقیقت  وہ جاہل ہے۔ اور علم کی جستجو حق کی تلاش ہے اور جوصرف دانشورانہ عمل کے ذریعے ممکن ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں ہمارے علماء اور فقہہ نے  طویل عرصے سے غور و فکر کرنا بند کر دیا ہے۔

قرآن  اسلامی فقہہ کا انتہائی  بنیادی ذریعہ ہے لیکن ابن حزم نے بجا طور پر قرآنی آیات کو  تین زمرے میں رکھا ہے: (1) وہ آیتیں جنہیں سمجھنے کے لئے کسی ذرائع کی ضرورت نہیں ہے،   (2) ایسی آیتیں جنہیں دوسری قرآنی آیات کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے اور  (3) وہ آیتیں جنہیں مستند حدیث کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔اور مستند حدیث وہ ہے  جو زیادہ قابل اعتماد ہو اورجس کی زیادہ تر راویوں سے روایت ہو۔اگر یہ طریقہ  خاص طور سے  خاندانی قوانین کے معاملے میں عمل  لایا جائے تو  اسلامی فقہہ انقلاب  برپا کر سکتا ہے۔

بد قسمتی  سےخاندانی قوانین کے معاملے  میں زیادہ تر فقہہ قرآن کے بجائے کمزور احادیث پر انحصار کرتے ہیں۔ ابن حزم ، جو بظاہر ظاہری مکتب فکر  (صرف تقلید کے ذریعہ نہیں) کو مانتے تھے۔آپ نے ان لوگوں کی سخت  مزمت کی ہے جو خو غور و فکر نہیں کرتے تھے صرف تقلید پر عمل کرتے تھے۔  ابن حزم نے 14ویں صدی کے ا سپین میں یہ باتیں کہیں۔ ہمارے  مذہبی قوانین کے ماہرین 21ویں صدی میں رہتے ہیں اور اس کے باوجود  مشین کی طرح اپنے مکتب فکر کی تقلید کرتے ہیں۔

اصل میں ایک اور ہسپانوی فقیہ الشاطب  کی بھی شرعی قوانین کے بارے میں سوچ بہت تخلیقی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ایک شخص کو مقصد اور مسئلہ یعنی  بنیادی مقاصد اور لوگوں کی کا فلاح جس کے لئے شرعی قوانین کووضع کیا گیا ہے، کو سمجھنا  ضروری ہے۔ ہمارے مفتیان کرام اور فقہہ ان مقاصد  اور لوگوں کی فلاح کو ذہن میں نہیں رکھتے ہیں اور صرف ان  سے متعلقہ  مکتب فکر  (فقہ)  کی معیاری کتابوں سے رہنمائی لیتے ہیں اور فتویٰ جاری کر دیتے ہیں۔

ان ہی فتویٰ کی وجہ سے اسلام کی میڈیا میں منفی شبیح  پیش کی جاتی ہے اور پھر ہم  میڈیا کی اسلام دشمنی کی شکایت کرتے ہیں۔حقیقی طور پر ایک مذہبی شخص کو  دوسروں پر الزام لگانے سے قبل اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر غور کرنا چاہیے۔جیسا کہ کسی نے کہا ہے کہ ہم  اپنے چہرے سے دھول ہٹانے کی بجائے آئینے سے دھول ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔اور کسی بھی صورت میں جب تک ہمارے چہرے پر خاک ہے آئینہ اسکی  ضرور عکاسی کرے گا۔

آج ہمارے لئے نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے چہرے سے خاک کو ہٹائیں اور پرسنل لاء سے متعلق کئی مسئلوں پر غور و فکر اور قرآن کے ذریعہ خواتین کو عطا کئے گئے اور اپنے حالت کے مطابق فقہہ کی ذاتی رائے کے ذریعہ لے  لئے گئےخواتین کے حقوق  کی بحالی کر اسلامی شریعت  کے وقار کو بحال کریں۔ صرف نقل  سے پرہیز کرنا چاہیے اور اور پوری اسلامی دنیا اور اس کے تمام نامور فقہہ کو شادی ،  طلاق ،  وراثت وغیرہ کے معاملات میں خواتین کو مساوی حقوق دینے کے لئے قوانین کو مرتب کرنے کے لئے متحد ہونا چاہیے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے اگر ہم مقصد شریعت اورمسائل شریعت  کوزہن میں رکھیں گے اورآزادنہ غور و فکر اور خیالات کی آزادی پر عمل کریں گے تو اسلامی قوانین نہ صرف  منصفانہ بن جائیں گےبلکہ دوسروں کے عمل کے لئے بھی ایک ماڈل بن جائے گا۔مثال کے طور پر ابن حزم  کا خیال  تھا کہ  اگر اقتصادی طور پر کمزور شوہر جس عورت کو طلاق دینا چاہتا ہے وہ اگر مال دار ہے تو یہ مطلقہ عورت کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے سابق شوہر کا خیال رکھے،  جو جدید قوانین  بھی کہتے ہیں۔ ہمیں براہ راست قرآن کو رجوع کرنا چاہیے اور صرف مستند احادیث کو ہی قبول کرنا چاہیے اس سے مسلم خواتین دیگر قوانین کے مقابلے میں زیادہ برابری حاصل کر لیں گی۔

مصنف اسلامی اسکالر اور سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکو لرزم ،ممبئی کے سربراہ ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/sharia,-fatwas-and-women’s-rights/d/3760

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/sharia,-fatwa-and-women-s-rights--شریعت-،-فتوی-اور-خواتین-کے-حقوق/d/6476


 

Loading..

Loading..