New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 08:44 PM

Urdu Section ( 25 Dec 2011, NewAgeIslam.Com)

Religion, A source of Conflict or the Means of Peace مذہب تنازعات کا ذریعہ یا امن کا وسیلہ


اصغر علی انجینئر 

 (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

یہ ایک پرانی بحث ہے کہ مذہب تنازعات کا ذریعہ ہے یا امن کا وسیلہ؟ کیا مذہب جنوبی ایشیا میں استحکام اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کو مضبوظ کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے؟ ان سوالات پر غور و فکر کرنے کے لئے ہندوستان اور پاکستان  سے ۲۰ اسکالروں اور کارکنان کاٹھمانڈو،نیپال کے دھولی کھیل نام کی جگہ پر جمع ہوئے۔

یہ مذاکرہ فرانس کی ائرینیز اور پیپلس ٹری آف بنگلور نے ۱۰تا ۱۳ مئی ۲۰۰۹کو مشترکہ طور پر منعقد کیا تھا۔اس مذاکرہ میں ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں سے اسکالر وں اور کارکنان نے شرکت کی۔پاکستان سے معروف مورخ اور امن کے  لئے کام کرنے والے پروفیسر مبارک علی،مشہور شاعرہ فہمیدہ ریاض اورکراچی یونیورسٹی  سے جعفر احمد  نے شرکت کی۔

ڈاکٹر اصغر علی انجینئر ،سنجیوکلکرنی ، شری روی شنکر کے ادارے آرٹ آف لیونگ فائونڈیشن کے پرشانت،امن ویدیکا ،حیدرآبادکی کے انو رادھااور سی او وی اے،حیدرآباد کےمظہر حسین نے ہندوستان کی جانب سے شرکت کی۔آئرینیز فرانس کی جانب سے مسٹر ہینری اورپیپل ٹری،بنگلور کے سدھارتھ نے مذاکرہ میں سرگرم رول ادا کیا۔نیپال کی جانب سے نیپال انسانی حقوق کمیشن کے رکن پروفیسر کپل نے بھی شرکت کی۔

مذاکرے کے کوآرڈی نیٹر۔ پیپل ٹری بنگلور کے سدھارتھ نے شرکا کا استقبال کیا اورمذاکرے کے مقصد پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے ممالک خاص طور سے نیپال، سری لنکا اور پاکستان میں حالت تشویشناک ہیں اور اس میں مذہب کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ہم اسکالروں اور کارکنان کو یہ  سمجھنا ،تجزیہ کرنا ہوگا اور اس خطہ میں امن کے لئے کوشش کرنی ہوگی اور اسی لئے یہ مذاکرہ کافی اہم ہے۔

آئرینیز کے مسٹر ہینری نے تنظیم کے مشن کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ ایشیا،افریقہ اور لاتینی امریکہ سمیت دنیا کے کئی حصوں میں امن کے لئے کام کر رہے ہیں۔جنوبی ایشیامیں امن کافی اہم ہےکیونکہ آج کل  یہ بحث  کا موضوع ہے اور یہ ہمارے مذاکرے کی اہمیت کو بھی بتاتا ہے۔

ڈاکٹر انجینئر نے اپنے افتتاحی کلمات کے ذریعہ مذاکرہ کا  آغاز کیا۔انہوں نے کہا کہ مذہب کے رول کو بغیر اس کے سیاسی و سماجی تناظر کے نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔یہ سمجھنا غلط ہو جائے گا کہ تنازعات مذہب کی پیداوار ہیں جیسا کہ کئی سیکو لر  لوگ کہتے ہیں۔تنازعات اور تشدد باہر ی ذرائع سے آتے ہیں یعنی علاقے کے سماجی و سیاسی حالات سے۔نجی مفادات والے اکثر مذہب کا استعمال صرف ایک اوزار کے طور پر کرتے ہیں۔

پاکستان ان دنوں بحران کا شکار ہے اور طالبان پورے علاقے پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم اس کے لئے مذہب کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کیونکہ وہ شرعی قانون کی بات کرتے ہیں۔دراصل شرعی قانون کے نام پر جس قانون پر طالبان عمل کرتا ہے وہ ا ن کے قبائلی اور روایتی قوانین ہیں۔ان کا قرآنی اصولوں اور اقدار سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔انجینئر نے یہ بھی کہا کہ اس علاقے میں امن صرف طالبان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دینے سے حاصل نہیں ہو سکتی ہے جیسا کہ امریکہ پاکستان سے توقع کر رہا ہے اور پاکستان امریکی دبائو میں ایسا کر بھی رہا ہے۔

سوات اور پاکستان کے دوسرے حصوں میں قیام امن  کا عمل  مشکل ترین مرحلہ ہوگا۔طالبان کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے اور خطہ میں امن و استحکام کے قیام کے لئے دو طرفہ حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ پہلی، اور سب سے اہم بات کہ افغانی عوام اپنی خود مختاری اور آزادی سے کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔اس علاقے کی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ان کی آزادی کے ساتھ کوئی بھی کھلواڑ علاقے میں بحران کو دعوت دےگا اور یہی امریکی پالیسیوں نے علاقے میں کیا ہے۔

دوسرے یہ خطہ خاطر خواہ ترقی اور اقتصادی خوشحالی سے محروم رہا ہے۔ یہ ملک کا سب سے زیادہ پسمنادہ علاقہ ہے۔ان لوگوں کو  جدیدیت ، جدید خیالات وترقی کے راہ میں لایا جانا چاہیے۔اس میں شک نہیں کہ  ترقی عقل اور انصاف کے ساتھ  ہونی چاہیے۔جب تک  یہ  دو عوامل  ذہن میں پیدا نہیں ہوں گے تب تک اس خطے میں طالبان پر قابو پانا مشکل ہے۔انہیں ختم کرنے میں  کتنا بھی ہتھیار استعمال کیا جائے کامیاب نہیں ہوں گے۔

پاکستان کی جانب سے پروفیسر مبارک علی نے  پاکستان میں نصابی کتابوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اس طرح بتایاکہ تعلیم وہاں کی مسائل کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ہندوستان اور ہندوئوں کو برے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور ہندو کو حقیقت میں قرون وسطیٰ اور جدید دور کی تاریخ کی کئی برائیوں کے لئے ذمہ دار ٹھہرائے جاتے ہیں۔پروفیسر مبارک علی پاکستان کے نامور موئرخ ہیں۔

پروفیسر مبارک علی نے کہا کہ مذہب اور سیاست کا مقصد ایک ہی ہے یعنی اقتدار حاصل کرنا اور اس کا استعمال اپنے مقاصد کے لئے کرنا۔تاہم اسے حاصل کرنے کے لئے انکے طریقہ کار الگ الگ ہیں۔اقتدار حاصل کرنے کے لئے  مذہب،  مذہبی جزبات کو ہوا دیتا ہے جبکہ سیاست سازش، ڈپلومیسی اور عوام الناس کی رائے ہموار کر کرتا ہے،اگر ایسا کرنے کی گنجائش ہوتی ہے اور اگر ایسا ممکن نہیں ہوتا تو فوج کا استعمال کرتے ہیں۔

اقتدار کے لئے جدو جہد بنیادی رہی ہے چاہے وہ پاکستان ہو، ہندوستان ہو یاکوئی دوسرا ملک۔جمہوری ممالک میں بھی  اقتدار حاصل کرنے کے لئے رائے عامہ اور سازش کے لئے جوڑ توڑ اب غیر معمولی نہیں رہا ہے۔جب تک اقتدار مقصد ہے، اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے  مذہب، زبان  ےا نسل کو اوزار کے طور پر  استعمال ہوتا رہے گا تب تک تنازعات جاری رہیں گے۔جب تک اقتدار عوام الناس کی خدمت کا ذریعہ نہیں بن جاتا تب تک  تنازعات اور تشدد سے نجات نہیں مل سکتی ہے۔اور جب تک اقتدار مقصد رہے گا تب تک تنازعہ اور تشدد عام بات رہے گی۔

فہمیدہ ریاض نے اپنے مکالے میں کہا کہ ، مذہب  شایدانسان کے وجود کے بارے میں سب سے قدیم  ترین اسرار اور  ساتھ ہی  ساتھ حکم اور اجتماعی زندگی کے لئے جدو جہد کا نام ہے۔مذہب نے انسان کو جینے کا سلیقہ سکھایا  اور اپنی ذات اور کائنات کی غور و فکر کے نتیجے میں  ان کی سمجھ کو بہتر کیا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ  مذہب کافی زمانے سے اجتماعی اور نجی تشخص کا اہم حصہ رہا ہے۔انہوں نے بنیاد پرستی کے رجحان پر روشنی ڈالی۔ مذہبی پہلو  کو سامنے لاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  اگر جو جماعت اقتدار میں ہے وہ مذہبیت کی حمایت کرتی ہے تو اعلیٰ اور متوسط طبقے کے لوگ  ماتھے پر زعفرانی تلک اور مسجدوں میں باقاعدہ حاضری کو اپنا لیتا ہے۔وہ اس عمل کو چھوڑ دیتے ہیں جب دوسری جماعت اقتدار میں آتی ہے۔اس طرح مذہب اقتدار کا صرف ایک اوزار  بنا رہا۔

 سید جعفر احمد نےپاکستان کے قیام کے بعد سے ہوئے متعدد سیاسی پیش رفت پر مختصر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ مذہب فن حکمرانی ہے اور متعدد درجے میں اسے تین آئین ۱۹۵۶، ۱۹۶۲ اور ۱۹۷۳ میں تسلیم کیا گیا۔جعفر احمد کے مطابق مذہب پاکستانی فن حکمرانی کا حصہ آج بھی ہے۔اگرچہ علما چاہتے ہیں کہ پاکستان اسلامی ملک بنے لیکن خود کو سےاسی بحران کی ذمہ داری لینے سے دور رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ  وہ راست طور پر پاکستان میں اسلامی نظام  متعارف کرنے کے لئے ذمہ دار نہیں ہیں۔

آرٹ آف لیونگ  فائنڈیشن کے مسٹر پرشانت نے سری سری روی شنکر کی مذہب کی سمجھ پر روشنی ڈالی۔ان کے مطابق اگر مذہب کو صحیح ڈھنگ سے سمجھا جائے تو یہ تبدیلی کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ان کی مذہبی رسومات  نےبھی تبدیلیوں کے بعد ہی ترتیب حاصل کی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ روی شنکر امن اور ہم آہنگی کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں اور آرٹ آف لیونگ کیمپوں کے انعقا د کے ذریعہ انہوں نے تنازعات سے دو چار رہے مقامات جیسے گجرات اور یہاں تک کہ عراق میں کام کیا ہے۔تاہم ایک اہم  سوال پیدا ہوا کہ کیا تشدد کے شکار لوگوں  یا تشدد کرنے والوں کو امن کی تعلیم دینا کافی تھا۔

ہندوستان  کےدھارواڑ کے سنجیو کلکرنی نے سنگھ پریوار اور  ہندو مسلم تنازعہ کی اس کی سےاست کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔انیوں نے کہا کہ یہ سنگھ پریوار ہی ہے جس نے اپنے سیاسی مفاد کے لئے  رام کی شبیح کو‘ مریادہ  پوروش’ سے ایک ‘یودھا رام’  بنا دیا۔سیاسی مقصد کے حصول کے لئے ہندو مذہب کا غلط استعمال کر یہ اقتدار میں آگئے۔ سنگھ پریوار کے ذریعہ ہندو مذہب اپنیشد میں درج ایک اعلیٰ طرز زندگی سے اقتدار حاصل کرنے کے لئے جذباتی ہتھیار بنا دیا گیا۔

مسٹر سدھارتھ کا خیال تھا کہ  اس رجحان کے خلاف  ماضی میں ہندو  مذہب میں چوکھا میلہ، کبیر اور ایکناتھ جیسے لوگوں نے ثقافتی تحریکیں چلائیں اور آج ان کو پھر سے جلا بخشنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بہت سے ہندو بھکتی سنتوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر ہم ان کی روایتوں پر عمل کریں تو سماج سے ذات پات بھی ختم ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان تحریکوں نے ہندو مذہب کی کشادگی اور دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے پر زور دیتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ‘ادویت’  کا تصور عالم گیرخیالات کی جانب لے جاسکتا ہے۔ڈاکٹر انجینئر نے صوفی روایتوں میں وحدت الوجود کے فلسفے کی جانب اشارہ کیا جو اہنی نوعیت میں عالمگیر ہے۔

سی او وی اے کے مظہر حسین نے کہا کہ  ہمیں سنگھ پریوار  کے تئیں اپنے نظریے کو تبدیل کرنا ہوگا اور ایک فعال بنیاد یعنی شناخت سے اصولوں کی سیاست کو اپنا نا ہوگا۔عصر حاضر کی ہندوستانی سیاست تنازعاتی اور شناخت کی سیاست ہے اور پرانے زمانے کی اصولوں پر مبنی سیاست جو آزادی کے بعد کچھ برسوں تک کانگریس نے اپنائے رکھا تھا وہ ختم ہو چکی ہے۔مذہب اور ذات پات کی سیاست کوسیکولر اور سماجوادی سیاست سے تبدیل ہونا چاہیے۔اور یہی اس خطے میں امن اور استحکام کو تقویت پہنچائیگی۔

مس انورادھا نے دلتوں کے درمیان کام کرنے کے اپنے تجربے کی بنیاد پر ایک دلت کی کہانی  بتائی جس نے اپنی بیوی کے اسرسر پر ایک ہندو دیوتا کی مورتی  اپنے گھر میں لائی اس کے بعد اسے زندگی میں  بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اسے بڑے جانور کا گوشت کھانا بند کرنا پڑا اور وہ مشکل سے ہی بکرے اور مرغ کےگوشت کا انتظام کر  سکتا تھا۔ اس نے قحط کے دنوں میں سکھائے گئے گوشت پر بڑی مشکل سے گزارا کیا اور ایک دن ایک خاص ہندو تیوہار کے موقع پر اس کے گھر ایک مورتی لائی گئی اور اسے اپنی ذاتی ضرورتوں کی رقم میں سے اس تیوہار کے لئے چندہ دینا پڑا اور اس طرح اس کے گھر میں  مذہب امن کے بجائے  تنازعہ کا سبب بن گیا۔انہوں نے کہا کہ غریب لوگوں کے لئے اس طرح کے رسمی مذہب کے پہلو پر بھی غور ہونا چاہیے۔انہوں نے سیکولرزم کے فروغ میں خواتین کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ  اس مقصد کے لئے انہوں نے خواتین کو منظم کیا ہے۔

ہر ایک مکالے کے بعد ہوئے مباحثے میں  ایسا بہت کچھ تھا جسے جگہ کی کمی کے سبب یہاں شامل نہیں کیا جا سکتا ہے۔یہ کہنا کافی ہوگا کہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لئے مذہب کے کردار پر  ہوا یہ مذاکرہ کافی مفید تھا ۔

مصنف اسلامی اسکالر اور سینٹر فار  اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکو لرزم، ممبئی کے سربراہ ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/debating-islam/religion-a-source-of-conflict-or-resource-for-peace?--/d/1410

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/religion,-a-source-of-conflict-or-the-means-of-peace--مذہب-تنازعات-کا-ذریعہ-یا-امن-کا-وسیلہ/d/6228

 

Loading..

Loading..