New Age Islam
Fri Apr 23 2021, 01:19 AM

Urdu Section ( 15 May 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Fatwas Can Be Changed فتوی کو تبدیل کیا جا سکتا ہے

 

اصغر علی انجینئر  

 9 مئی، 2012

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

حال ہی میں ہندوستان میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ایک کانفرنس میں پورے مہاراشٹر (مغربی ہندوستان کی ایک ریاست)  سے تقریباً 200000  مسلمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور بورڈ کے چیئرمین مولانا رابع حسنی ندوی نے اس موقع پر انتہائی جذباتی تقریر کی اور کہا کہ مسلم پرسنل لاء شریعت خدا وندی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں  کی جا سکتی ہے اور یہاں تک کہ  اگر پوری اسلامی دنیا شریعت کو تبدیل کرتی ہے تب بھی ہندوستانی مسلمان اس میں کوئی تبدیلی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور روایتی شریعت کو اپنے دل کے قریب رکھیں گے۔

یہ موقف  کس طرح مناسب ہے؟ آج بہت سی خواتین طلاق ثلاثہ اوربغیر کسی  نظم و ضبط کے کئی شادی غیرہ کے مسائل میں کچھ ضروری تبدیلیوں کے لئے احتجاج کر رہی ہیں جو  ان کے لئے  مصیبت پیدا کر رہی ہے۔ کچھ فکر مند حضرات بشمول میں نےخود مسلم پرسنل لاء کو دوبارہ  ترتیب دینے کیلۓ  پہل کی ہے تاکہ اس کے غلط استعمال کو  کم سے کم کیا جا سکے اور مسلم خواتین کو  راحت پہنچائی جا سکے۔ شرعی قوانین کا کس حد تک کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے، اس کا فیصلہ اس حقیقت  سے کیا جا سکتا ہے کہ حیدرآباد (دکن) کی ایک معروف اسلامی یونیورسٹی نے اس  مفروضہ پر  کہ اسلام ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت دیتا ہے،  ایک شخص کو  دو نوجوان لڑکیوں کے ساتھ بیک وقت نکاح کرنے کی اجازت دے دی۔

یہ تمام مسائل سینکڑوں سال پہلے لکھی گئی کتابوں اور  جاری کئے گئے فتوی پر مبنی ہیں اور ہمارے علماء کرام ان تحریروں سے انحراف کرنا نہیں چاہتے۔  جب بھی ان سےکوئی سوال پوچھا جاتا ہے تو یہ ان تحریروں سے رجوع کرتے ہیں اور ایک فتویٰ جاری کردیتے  ہیں اور پھر عدالت کے فیصلے کی طرح یہ فتوی بعد کے فتوی کے لئے نظیر بن جاتا ہے اور یہ فتاویٰ عالمی اطلاق والے تصور کئے جانے لگتے ہیں۔ عام مسلمانوں کو پتہ نہیں ہے کہ یہ فتوی مفتی حضرات کی ظاہر کی گئی محض رائے ہے اور  ان کی پابندی  لازمی نہیں ہے۔

کیا نامور علماء کی جانب سے جاری کئے گئے فتویٰ کو ناقابل تبدیل مانا جانا چاہئے؟ یا پھر انہیں وقت اور جگہ کی تبدیلی کے ساتھ بدلا جا سکتا ہے؟ عام طور پر شریعت کو خداداد اور ناقابل تبدیل تصور کیا جاتا ہے اور یہ بھی  مانا جا تا ہیکہ کوئی انسان اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا ہے۔  حقیقت میں شریعت کے قوانین کو حضرت امام ابو حنیفہؒ جیسے نامور اماموں نے اپنے زمانے میں حالات کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تیار کیا تھا۔  اس طرح شریعت کو  الہی نیت میں مخلص انسانی نقطہ نظر کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ یہ مشہور ہے کہ  حضرت امام شافعیؒ جب مصر منتقل ہوئے تو آپ نے بہت سے فقہی مسائل پر اپنی رائے کو تبدیل کر دیا تھا۔

حال ہی میں میں نے عرب دنیا میں انتہائی قابل احترام معروف عالم علامہ یوسف قرضاوی کی ایک کتاب کو دیکھا۔ یہ فتویٰ اور فتوی میں تبدیلی کی ضرورت کے موضوع پر ہے۔ یہ ایک قابل احترام ادارے اسلامی فقہ اکیڈمی کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔ علامہ  یوسف قرضاوی نے فتویٰ میں تبدیلیوں کے لئے جواز کے طور پر  اسلام میں اجتھاد کے اصول کو تازہ کیا ہے۔  علامہ کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ شریعت،  امّت کے لئے تب تک مفید نہیں ہو سکتی ہے جب تک مناسب وقت پر  اجتھاد (وہ اجتھاد کی کئی شکلوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں) نہ کیا جائے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ شریعت کو متحرک اس وقت اور جگہ کے لحاظ سے ہونا چاہئے جہاں اسے نافظ کرنا  ہے ۔ شریعت کے بنیادی اصولوں اور اقدار کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن ان اصولوں اور اقدار پر مبنی قوانین  میں کار آمد اور وقت  کے مطالبے کے مطابق رکھنے کے لئے وقت کے ساتھ تبدیلی ضرور ہونی چاہئے۔  اسی وجہ سے زیادہ تر اسلامی ممالک میں روایتی شرعی قوانین کو تبدیل کر دیا گیا یا ان کو ترتیب دیا گیا ہے تاکہ یہ مفید ہوں جیسا کہ یہ کبھی تھے۔

علامہ قرضاوی نے 10بنیادیں دیں ہیں جس پر فتوی تبدیل کیا جا سکتا ہے اور  یہ تمام وجوہات انتہائی متعلقہ ہیں۔  سب سے پہلے انہوں نے چار بنیادیں جس پر فتوی تبدیل ہونا چاہئے یعنی وقت میں تبدیلی، جگہ میں تبدیلی، حالات میں تبدیلی اور سماجی طریقوں یا روایات میں تبدیلی۔  قرآن بھی اس معنی میں معروف کی اصطلاح کا استعمال کرتا ہے۔ پھر وہ تبدیلی پسندی کے بارے میں چھہ اور بنیادیں پیش کرتے ہیں، جو مندرجہ ذیل ہی: (1) علم میں تبدیلی، (2)           لوگوں کی ضروریات میں تبدیلی،  (3) لوگوں کی صلاحیتوں میں تبدیلی،  (4) کسی قہر کے پھیلنے پر (جب کچھ شدید مسئلہ عام ہو جاتا ہے)،  (5) اجتماعی سیاسی یا اقتصادی حالت میں تبدیلی اور  (6)  رائے میں یا فکر میں تبدیلی۔

یہ دس بنیادیں اصل میں کسی معاشرے کی  تمام ممکنہ تبدیلیوں کا احاطہ کرتی ہیں۔  اس سے یہ بڑی حد تک واضح ہوتا ہے کہ اسلامی فقہ، جیسا کہ عام لوگ سوچتے ہیں، کسی بھی طرح سے جامد اور ناقابل تبدیل نہیں ہے بلکہ اس میں تبدیلی کے لئے کافی گنجائش  ہے۔  یہ یکسر دوسری بات ہے اگر ہمارے علماء بے لوث یا نا اہل ہیں اور خود کو  شریعت کی  الٰہیت کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اصل میں کو ئی بھی قانون اگر جامد رہتا ہے تو وہ معاشرے کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا ہے۔

قرون وسطیٰ کے زمانے میں بنے عائلی قانون میں  آج کئی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ لوگ  یہ جانتے ہیں کہ اس زمانے کی شریعت میں  عرب کے بہت  سارے  رسوم و رواج  بھی شامل کیۓگۓ تھے۔جیسا کی معروف اور طلاق ثلاثیہ انہیں میں سے ایک ہے۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مذمت کی ہے کیونکہ  قرآن کا مقصد  خواتین کو بااختیار بنانا اور ان کو برابر کا درجہ دینا ہے اور  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اس پر کسی نے عمل نہیں کیا لیکن بعد میں کچھ وجوہات کی بناء پر  اسے پھر سے متعارف کرایا گیا۔

آج خواتین اپنے  حقوق کے بارے میں بہت بیدار ہیں اور اس طرح کے اعمال مساوات کے اصول کے خلاف ہیں جو کسی بھی عرب روایات کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ بنیادی ہیں۔ اب بھی ان پر  ہندوستان جیسے ملک میں عمل ہوتا ہے اور یہاں تک کہ اسے خدادا د تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک سے زائد نکاح کابھی  بہت غلط استعمال کیا جاتا ہے اور اسے مرد کا حق  سمجھا جاتا ہے۔ اسکے لیۓ ایک ضابطہ تیار  کرنا ہوگا اور کسی کو  بھی خبط کے طور پر اسکا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ آج اسے کوئی عورت قبول نہیں کرے گی جیسا کہ وہ ماضی میں کیا کرتی تھیں۔ قرون وسطیٰ   کے عائلی قوانین کی فارمولہ سازی پدرانہ اقدار  سے متاثر تھی اور آج  پدرانہ اقدار  کو خاص طور سے خواتین کی جانب سے  چیلنج  پیش کیا جا رہا ہے۔

 ایک سے زائد نکاح تیزی سے اپنے عرف یعنی سماجی مطابقت اور مقبولیت حاصل  کر رہا ہے۔ اس کی صرف ان صورتوں میں اجازت دی جانی چاہئے جہاں یہ بہت ضروری ہے۔ اسی طرح دیگر عائلی قوانین کو بھی اگر ضرورت ہو تو ان کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اگر ہمارے علماء  شرعی قوانین کے معاملات میں  اپنی رائے دیتے وقت،  اپنے ذہن میں ان 10 بنیادوں کو  رکھتے ہیں، تو اس سے بہت فائدہ ہو گا۔

اصغر علی انجینئر اسلامی اسکالر اور سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکو لرزم، ممبئی کے سربراہ ہیں۔

 

URL for English article:

http://newageislam.com/islamic-ideology/asghar-ali-engineer/fatwas-can-be-changed/d/7268

URL for Hindi article:

http://www.newageislam.com/hindi-section/fatwas-can-be-changed--फतवा-को-बदला-जा-सकता-है/d/7338

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/fatwas-can-be-changed--فتوی-کو-تبدیل-کیا-جا-سکتا-ہے/d/7349

 

Loading..

Loading..