New Age Islam
Mon Feb 26 2024, 08:37 PM

Urdu Section ( 18 Jan 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Governor Is Gone, But Salman Taseer Is Alive گورنر گیا، مگر سلمان تاثیر زندہ ہے

By Asad Mufty

Translated from Urdu by Arman Neyazi,

A daily in Holland has written about the fatal attack on the Punjab governor Salman Taseer by a religious fanatic:

“The daylight murder of Salman Taseer, Governor of Punjab has fully exposed the truth that Pakistan government has been a total failure in maintaining the stability of the country and the fact has become completely evident that terrorism and religious passion have taken very deep roots in Pakistan”.

Jawed Ghamidi, a well known religious scholar and thinker of Pakistan has called Salman Taseer’s murder “a sign of illiteracy”. He is of the opinion that if this madness is not stopped immediately we will not even be in a position to hold this dialogue as we are doing today. According to him, “if anybody has a different view on the law dealing with dishonor of Prophet Muhammad (SAW), he should also be provided an opportunity to put forward his views and should be given a patient hearing. Laws formulated by human beings are not divine scriptures that cannot be discussed”.  It should be noted that Jawed Ghamidi has also been forced to flee the country due to the threats of religious Ulema.

This incident that is one of the biggest incidents in Pakistan speaks a lot about the gravity of Pakistan’s changing political, social and religious atmosphere and shows that organizations or states are not democratic but the thoughts have to be so. Eight hours before his death Salman Taseer had written this couplet of Shakil Badauni on twitter:

Mera azm itna buland hai ki paraye sholon ka darr nahin

Mujhe khauf aatish e gul se hai kaheen yeh chaman ko jala na de.

(“My intentions are so high that I am not afraid of the unknown blaze

 I am afraid of the fire of the flowers lest it burn the garden”.)

There is no doubt that in comparison to respect, honour and familiarity life has no meaning and he very well knew as to what honour and respect was.  He was not one of those people who die without being “alive” He lived for high ideals and he was so determined that he had got rid of ”duniya w ma fiha” (the world and everything it has) so much so that even he himself did not himself to come between him and his objectives. He had only one objective and that was to fight for Justice. That was the reason that he jumped into the practical world to achieve justice for a poor girl of the country. The girl belonged to the minority community and the person was secular. Once a student of Delhi University had asked Pt. Nehru as what was the definition of Secularism and Pt Nehru’s reply was “Similar security to all the citizens of the country”.

Salman Taseer’s loss of life is a loss of not only politics but of secularism, human friendship, sectarian brotherhood and that of unity. People know that he used to create sectarian brotherhood and unity through his writings and practice. Even in the face of numerous criticisms, foul cries and attacks by the extremists and other such groups never backtracked from his mission and commitment he like Faiz Ahmad Faiz.  Even if this commitment of Salman Taseer remains with us as his legacy it will be of great help to us in this new age.

This is a wrong notion held by certain people that for the safety of religious independence it is necessary to implement the anti blasphemy laws. In my opinion safety of the right of expression is more important than the safety of religion because on certain religious beliefs certain other followers of the religion have different opinions and I will dare say that hate, differences, force and feelings like jealousy are because of the religion itself. Ayyub Masih, a Christian had been sentenced to death for blasphemy against  Prophet Muhammad (SAW) and 67 years old Catholic Bishop John Joseph had committed suicide in the court itself saying that his dead body should not be taken from there unless this law is taken back. Even today many arguments are being given and this law is being argued in the Pakistan courts in various related hearings. In this light I think Pakistan also needs a Sachar Committee to take stock of the situation as far as Ahmadis, Christians, Hindus and Sikhs are concerned.  I have already made it clear that religion and sense, law and rules and regulations are two different things.  Religion cannot be brought under the purview of logic or sense or discussions. Building a nation on the principles of religion is baseless and such a country cannot be united. Country’s power is hidden in its secular characters. Democratic forces get strengthened through secularism which enlightens the way of progress and unity of a country. It should be noted again that the course books being taught in Pakistan schools have such lessons which strengthen the feelings of animosity among different communities and sow the seed of terrorism and extremism.

Indira Gandhi had only thrown two-nation theory  into the Arabian Sea but  we have thrown democracy, politics, law, sense, justice, logic, beauty of life, confidence, dreams, freedom, self respect , self belief, culture and manners , constitution and law during these 63 years into the Arabian Sea. Who is a bigger criminal? Indira Gandhi or us?

Source: Sahafat, New Delhi


اسد مفتی

ہالینڈ کے ایک روز نامے نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر پر ایک مذہبی جنونی کے جان لیوا حملے کے بارے میں لکھا ہے۔ ‘‘گورنر سلمان تاثیر کے دن دہاڑے قتل سے ایک بات پور ی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ حکومت پاکستان ملکی استحکام کو برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے اور یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ پاکستان میں دہشت ہوگئی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور مذہبی جنونیت کی جڑیں گہرائی تک اتر چکی ہیں’’۔

پاکستان کے معروف دانشور او رمذہبی اسکالر جاوید غامدی نے ایک ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے سلمان تاثیر کے قتل کو جہالت سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس قتل وغارت گری کے سلسلے کو یہیں پر ختم ہوجانا چاہئے ، اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو جتنا مکالمہ آج ہورہا ہے آنے والے دنوں میں ہم اتنے مکالمے کاتصور بھی نہیں کرسکتے۔ جاوید غامدی کا کہنا ہے کہ توہین رسالتؐ کے قانون کے بارے میں اگر کسی ایک سے دوسرے کو اختلاف ہے، تو اس کی بات بھی تحمل وبردباری سے سنی جائے۔ انسانی قوانین کوئی آسمانی محیفے نہیں ہوتے کہ ان پر بات ہی نہ کی جاسکے۔یہاں یہ ناخوشگوار بات بھی بتانا ضروری ہے کہ جاوید غامدی کو مذہبی علما کی دھمکیوں نے پاکستان چھوڑ نے پر مجبور کردیا ہے۔

پاکستان کے بڑے حادثات میں یہ حادثہ بدلتے سیاسی، سماجی اور مذہبی حالات کی سنجیدگی کو سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ تنظیمیں یاریاستیں اپنے میں جمہوری نہیں ہوتیں بلکہ خیالات جمہوری ہوتے ہیں۔سلمان تاثیر نے اپنی بے وجہ موت سے آٹھ گھنٹے قبل اپنے Twitterپر تشکیل بدایونی کا یہ شعر لکھا تھا:

مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں

مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلانہ دے

عزت ، ناموس، آن، آبرو، دھج اور شان کے سامن ے جان بڑی حقیر شے ہے اور یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ ناموس کسے کہتے ہیں؟ آبرو کا کیا مطلب ہے؟ اور شان کیا ہوتی ہے؟ وہ ایسا شخص نہیں تھا جو بغیر ‘‘زندہ’’ رہے موت کی آغوش میں چلا گیا ہو۔ وہ اعلیٰ مقاصد کے لئے زندہ رہا اور اس کاہدف ایسا تھا کہ اس نے دنیا ومافیہا کو حتیٰ کہ اپنی ذات کو بھی درمیان سے نکال دیا تھا۔ بس صرف ایک ہی مقصد رہ گیا تھا یعنی انصاف کا حصول۔ یہی وجہ تھی کہ قوم کی ایک غریب بیٹی کو انصاف دلانے کے لئے میدان میں عمل میں اتر آیا تھا ۔ وہ بیٹی ،جو اقلیت سے تعلق رکھتی تھی اور وہ انسان ،جو سیکولر تھا۔ایک بار دہلی یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے پنڈت جواہر لال نہرو سے پوچھا تھا کہ آپ کے نزدیک سیکولرزم کی کیا تعریف ہے؟ نہرو نے جواب دیا تھا کہ ‘‘تمام مذاہب کے ماننے والوں کو حکومت کی جانب سے یکساں تحفظ’’۔

سلمان تاثیر کی موت محض سیاست کا نقصان نہیں ہے بلکہ سیکولرزم کا نقصان بھی ہے ، انسان دوستی کا نقصان ہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکجہتی کا نقصان ہے، لوگ جانتے ہیں کہ اپنے عمل اور مکالموں کے ذریعے عوامی تال میل ،بھائی چارہ ،بردباری او رہم آہنگی کا پیغام دینے والی اس افسانوی شخصیت کے کارناموں پر انتہا پسندوں اور مذہبی جنونیوں نے کتنی تنقیدیں کیں ،کس قدر شورمچایا اور کس قدر باقاعدہ حملے کیے ،اس کے باوجود سیکولرزم کی کمنٹ منٹ سلمان تاثیر کو فیض احمد فیض کی طرح کبھی اپنے قدم پیچھے لینے پر مجبور نہ کرسکی۔ میرے حساب سے سیکولرزم کی کمٹ منٹ کی یہ پاسداری اگر سلمان تاثیر کی روایت کے بطور ہی ہمارے درمیان باقی رہے ، تو اس نئے عہد میں یہ ایک بڑا کام ہوگا۔

بعض لوگوں کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ مذہبی آزادی کی حفاظت کے لئے مخالفت اہانت مذہب پالیسیوں پر عمل آوری ناگزیر ہے۔ میرے نزدیک مذہب کے تعلق سے اظہار خیال کا تحفظ ضروری ہے کہ کسی مذہبی مسئلے پر مختلف عقائد کے پیروکار مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں اور میں یہ کہنے کی بھی جسارت کروں گا کہ نفرت ، تعصب ،امتیاز ،جبر، استبداد جیسے رجحانات مذہبی امتیازی قوانین کے بطن ہی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اس وقت بھی بعض ذرائع ابلاغ میں پاکستانی عدالت کے اس فیصلے کو بنیادبنا کر بیانات دیئے جارہے ہیں جس میں ایوب مسیح ایک عیسائی کو پیغمبراسلامؐ کی اہانت کے جرم میں پھانسی کی سزا تجویز کی گئی تھی اس پر 67سالہ کیتھولک بشپ جان جوزف نے عدالت میں احتجاجاً خود کشی کرلی اور وصیت کی کہ جب تک یہ قانون منسوخ نہ ہو اس کی لاش نہ اٹھائی جائے۔ اس لیے میرے نزدیک پاکستان کے عیسائی ،ہندو، سکھ، احمدی اور دوسری اقلیتوں کے لیے بھی معاشی وسماجی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے ایک سچر کمیٹی کی ضرورت ہے۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ مذہب کا معاملہ کچھ اور ہوتا ہے اور اس کا عقل ،قاعدہ یا قانون سے کوئی مطلب نہیں ہوتا ۔ مذہب کو منطق ،دلیل یا لاجک کے پیمانوں میں نہیں ناپا جاسکتا ۔ مذہب کی بنیاد پر ملک کی تعمیر کی سوچ بے بنیاد ہے اور ایسا ملک متحد نہیں رہ سکتا ۔ ملک کی تمام طاقت اس کے سیکولر کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔سیکولرزم کے وسیلے ہی سےجمہوری طاقتیں مضبوط ہوتی ہیں جو کسی بھی ملک کی ترقی وکامرانی ومضبوطی کی سمت میں مشعل راہ ہوتی ہیں ۔ یہاں یہ بات پھر سے بتانا ضروری ہے کہ پاکستانی نصاب میں پڑھائی جانے والی کتابوں میں ایسے ابواب ہیں جو مختلف فرقوں ومسلکوں کے درمیان تفریق اور علاحدگی کے جذبوں کو فروغ دیتے ہیں۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بیج بوتے ہیں۔ جو انسانیت ،اخلاق ، تہذیب ، آئین، عدل و انصاف کا جنازہ نکالتے ہیں ۔ اندرا گاندھی نے توصرت دوقومی نظریہ اٹھاکر بحیرۂ عرب میں پھینک دیا تھا، مگر ہم نے گزشتہ 63برسوں میں آئین، قانون ، اصول، اخلاق، عدل، انصاف، جواز منطق، دلیل ، تہذیب، سیاست، جمہوریت، حسن، زندگی، اعتماد ،خواب ،احساس ،آزادی ، خود مختاری،یقین، عزم ، اقدار اور امید کو بوری میں بھر کر بحیرۂ عرب میں ڈبودیا ہے۔ بڑا مجرم کون ہے؟ اندرا گاندھی یا ہم؟