New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 11:44 PM

Urdu Section ( 24 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Followers of the Religion Have the Greatest Hand in Harming It مذہب کو نقصان پہنچانے میں سب سے بڑا ہاتھ اس کے ماننے والوں کا ہوتا ہے


اسد مفتی 

24 جون ، 2012

لندن میں مقیم میرے ایک دوست کا حال ہی میں سری لنکا کے دورے سے واپس آئے تو انہوں نے بتا یا کہ مسلمانوں کو سری لنکا میں ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے۔  مسلم باشندے مقامی عام شہریوں کے مقابلے میں زیادہ خوشحال ہیں اور آزاد انہ مذہبی فرائض انجام دیتے ہیں ۔ مسلمانوں کی تو سیاسی پوزیشن بھی دوسری اقلیتوں سے بہتر ہے ، کئی  مسلم اہم وزارتوں او راعلیٰ عہدوں پرفائز ہیں ۔ حتیٰ کہ ایک زمانے میں وزیر خارجہ تک مسلمان تھے جیسا کہ میں نے ابھی بتایا کہ مسلمانوں کو آزاد انہ مذہبی فرائض او راپنی مذہبی سرگرمیاں جاری رکھنے کی آزادی حاصل ہے لیکن یہ دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ وہاں اذان لاؤڈ سپیکر پر نہیں دی جاتی ، میں نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ اگر ہم چاہیں تو اجازت مل جائے گی لیکن ہم نے خود اس کا مطالبہ اس لئے نہیں کیا کہ دوسرے مذاہب والے بھی اس کا مطالبہ کریں گے، ہماری پانچوں اذانیں تو دس منٹوں میں ختم ہوجائیں گی لیکن دوسرے مذاہب کی منا جاتیں ، گیت، بھجن اور کرتن تو گھنٹوں چلیں گے ۔ میں نے سوچا کہ کاش یہ دور اندیشی اور زیادہ نقصان کے پیش نظر تھوڑے نفع سے دستبرداری کی توفیق ہم سب کو ہوجائے ،انہوں نے ٹھنڈی سانس بھر کر بتایا ۔

مذہب میں عموماً عقل و خرد کی باتیں برداشت نہیں کی جاتیں ، مسلمانوں کے خود ساختہ اعتقاد ات ، محدود ذہنیت او رکوتاہ نظری سے آزاد ہونا ہی اسلام کی باز یافت ہے اور باز یافت کے معنی  یہ نہیں ہیں کہ کوئی چیز پیش کی جارہی ہے بلکہ یہ ہے کہ اس میں جو معنی یا معانی چھپے ہوئے ہیں ان کو ظاہر کیا جائے جیسا کہ جہاد اور تعداد ازدواج میں ایسا کون سا پہلو ہے جس پر فخر کیا جاسکے۔  میرے دوست بتارہے تھے کہ اب اذان کے مفہوم کو ہی لیجئے اذان دینے والا دراصل  معاشرے میں ‘‘گر بڑ’’ پھیلارہا ہے ، مؤذن دوسرے لفظوں میں کہہ رہا ہے کہ میں کسی دنیا وی اقتدار اعلیٰ  ، کسی فرماں روا کو نہیں مانتا ، کوئی حکومت میں تسلیم نہیں کرتا، کسی قانون کو میں نہیں مانتا ، کسی عدالت کے حدود اختیار ات مجھ تک نہیں  پہنچتے ، کسی کا حکم میرے لئے حکم نہیں  ہے، میں کسی مقنّنہ کا قائل نہیں ہوں،عوام کی اکثریت میری نظر میں کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہے ۔

 کوئی رسم ورواج وقانون مجھے تسلیم نہیں ہے۔ کسی کے حقوق ، کسی کاتقدس، کسی کے اختیارات میں نہیں مانتا، ایک اللہ کے سوا سب سے  باغی، سب سے منحرف اور سب کا انکاری ہوں، اگر مغرب  کی اذان کا مفہوم پالے تو خواہ آپ کسی سے لڑنے اور جنگ کرنے جائیں یا جزیہ کا تقاضہ کریں یانہ کریں یا اسلام کے قبول کرنے کی دعوت دیں یا نہ دیں دنیا خود آپ سے لڑنے کیلئے آجائے گی۔ یہ تو سراسر آبیل مجھے مار والی بات ہے ۔ ‘‘ یہی بیل کے مارنے کا خوف لاحق تھا کہ پاکستان کے عالم وجود میں آنے سے پہلے مسلمان خطرے میں تھا پھر تقسیم ملک کے بعد اسلام خطرے میں گھر گیا ، پھر دوقومی نظریہ خطرے  میں آپڑا ،پھر  جوہری اثاثوں کو خطرہ لاحق ہوگیا، پھر پاکستان خطرے کی زد میں آگیا اور یادش بخیر ان دنوں بلوچستان خطرے میں ہے۔ادھر اٹلی میں مسلمانوں کی ایک نمائندہ تنظیم نےاعلان کیا ہےکہ یورپ اسلام خطرے میں ہے کیوں کہ اٹلی کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ ایک امام صاحب کو فوری طور پر ملک بدر کردیا جائے۔  برطانیہ میں ایک امام کو جنوری سے حراست میں رکھاگیا ہے اور آئندہ ہفتے اسے عدالت میں مختلف الزامات کے تحت پیش کیا جانے والا ہے۔  فرانس میں کئی اماموں کی ملک بدر کردیا گیا ہے وہاں کی حکومت قانون میں تبدیلی لاچکی ہے کہ تمام امام فرانسیسی زبان روانی سے بولنا سیکھیں اور فرانسیسی قانون، ثقافت اور تاریخ کا مطالعہ کر کے واقفیت حاصل کریں ادھر میرے ملک ہالینڈ نے ایسے قوانین نافذ کردیئے ہیں او رمسلم اماموں پرڈچ زبان سیکھنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور ان کیلئے یہ ضروری ہے کہ ڈچ تہذیب وتمدن اور ثقافت سے روشناس ہونے کیلئے نصاب پڑھیں ۔

 مسلمان ان تمام متذزکرہ اقدامات کو اسلام پر حملہ سمجھتے ہیں اور یورپ میں اسلام کیلئے اسے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہیں او روہ سمجھتے ہیں کہ مغرب میں اسلام پر حملے کئے جارہے ہیں ۔ اسی طرح کی رائے کا اظہار غلطی پرمبنی ہے، مساجد اور دینی مدارس پرحملے کرنا بلاشبہ اسلام سے خوف کا نتیجہ ہے لیکن یہ چند بھٹکے ہوئے افراد کی حرکتیں ہیں نہ کہ حکومتوں کی پالیسی ،میرے حساب سے فرانس ،بیلجیم ، اٹلی او رہالینڈ میں جو حکومتیں اقدامات کر رہی ہیں ساری دنیا کے مسلمانوں کو ان اقدامات کا خیر مقدم کرنا چاہئے سارے یورپ و اسلام کو وہاں کے حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، مغرب میں مقیم مسلمان امام حضرات مقامی زبان نہیں بولتے او رمقامی تہذیب وثقافت کو سمجھ نہیں سکتے۔ امام حضرات مقامی لوگوں سےمیل جول نہ بڑھائیں  ان سے روابطہ نہیں پیدا کریں تو مقامی آبادی پرُ امن اسلام کے بارے میں کیسے واقفیت حاصل کرسکے گی۔ ہم  لوگ (مسلمان)اب یہا ں کی اکثریت کا حصہ ہیں۔ اسلام کیلئے ضروری ہے کے وہ اپنا پرامن چہرہ اکثریت کو دکھائے ، اپنا بھائی چارے اور رواداری کا پیغام اکثریت تک پہنچا ئے اس لیے فرانسیسی اور ڈچ اقدامات مثبت نوعیت کے اقدامات ہیں ۔  انہیں منفی  نہیں کہا جاسکتا ا س لئے ہالینڈ کے مسلمانوں کی اکثریت نے قانون میں لائی گئی  تبدیلی کا خیرمقدم کیا ہے، جہاں تک بعض اماموں کی گرفتاری اور انہیں  ملک بدر کرنے کا تعلق ہے ان کے تعلق سے حقیقت یہ ہے کہ نفرت ، تشدد اور اسلام کے برعکس نظریات کا پرچار کرنے والے ایسے اماموں کو مسلم ملکوں میں بھی یقیناً گرفتار کر  لیا جائے گا کہ یہ مذہبی اور نسلی بنیادوں پر نفرت اور  تشدد کی مسلسل حوصلہ افزائی کرتے رہے تھے ۔ یہ لوگ اپنے مفادات کیلئے مذہب کو تو مانتے ہیں لیکن مذہب کی بات کو نہیں مانتے ۔

اسد مفتی ، ایمسٹرڈیم میں مقیم اردو کے آزاد صحافی ہیں۔

24 جون،  2012   بشکریہ : جنگ ، پاکستان

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/followers-of-the-religion-have-the-greatest-hand-in-harming-it--مذہب-کو-نقصان-پہنچانے-میں-سب-سے-بڑا-ہاتھ-اس-کے-ماننے-والوں-کا-ہوتا-ہے/d/7731 

 

Loading..

Loading..