New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 09:19 PM

Urdu Section ( 27 Jul 2015, NewAgeIslam.Com)

Modernity and the Madrasa جدیدیت اور مدارس اسلامیہ

 

 

 

 

 ارشد عالم

25 جولائی 2015

ہندوستانی مدارس پر بحث و مباحثہ انتہائی یکطرفہ انداز میں جاری ہے۔ ایک طرف تو ہندو حقوق انسانی کے کارکنان کا اس بات پر اصرار ہے کہ مدارس اسلامیہ دہشت گردی کے اڈے ہیں؛ دوسی طرف جذباتی مسلمانوں کا ایک طبقہ مدارس کا دفاع کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مدارس اسلامیہ دہشت گردی کے اڈے نہیں ہیں اور میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ کچھ خاص قسم کے مدارس کے طالب علموں کو "غیر اسکولی" شمار کرنے کا حکومت مہاراشٹر کا حالیہ فیصلہ مدارس کے اصلاحات اور ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں بچوں کے مستقبل پر ایک بامعنی اور سنجیدہ بحث و مباحثہ کرنے کاا یک بہترین موقع ہے۔

لیکن سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ خود تمام مدارس ایک جیسے نہیں ہیں۔ مختلف ریاستوں میں کچھ ایسے بھی مدارس موجود ہیں جو مدرسہ بورڈ کے کنٹرول میں ہیں۔ جن کا نصااب ریاست کے سرکاری اسکولوں کے مساوی ہے۔ دوسرے زمرے میں جو مدارس آتے ہیں انہیں "آزاد" مدارس کہا جاتا ہے۔ یہ ریاستی سرپرستی اور اس کی معاونت کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا نصاب زیادہ تر مذہبی ہوتا ہے۔ فقہی مکاتب فکر کی طرح وہ بھی فرقہ وارانہ خطوط پر منقسم ہیں۔ مثلاً دیوبندیوں، بریلویوں اور اہل حدیثوں، ان تمام کا اپنا الگ الگ مدارس کا نیٹ ورک ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ دست بہ گریباں ہونے کے باوجود یہ تمام مکابت فکر مدارس کے اصلاحات کی مخالفت میں متحد ہیں۔ ان مدارس میں جو پڑھایا جاتا ہے، مناسب تعلیم کے طور پر اس کا جواز پیش کرنا ایک مشکل امر ہے۔ ان مدارس کا نصاب تعلیم اس لائق نہیں ہے کہ وہاں کے طالب علم جدیدیت کا سامنا کرنے کی قابلیت سے لیس ہو سکیں۔ یہ فرسودہ نظام تعلیم سینکڑوں برس پہلے کار آمد ضرور تھا، لیکن اب اقلیتوں کے حقوق کے نام پر اس کا دفاع کرنا ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں طالب علموں کے ساتھ ایک بہت بڑی ناانصافی ہے۔

1993 میں ہی مدارس کی جدید کاری کی پالیسی تیار کر دی گئی تھی جس کا بنیادی طور پر آزاد مدارس میں تعلیمی اصلاحات کو متعارف کرانا تھا۔ جس کے پیچھے کتابیں اور اضافی اساتذہ کے ذریعہ ریاستی گرانٹ کے بدلے میں ان مدارس کو جدید مضامین کی تعلیم دینے کے لیے قائل کرنے کا نظریہ کار فرما تھا۔ لیکن پالیسی میں تمام مدارس کو یکساں شمار کیا گیا تھا اسی لیے گرانٹ کو بھی ریاست کی جانب سے مدد یافتہ مدارس تک ہی محدود کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ، آزاد مدارس کے لیے گرانٹ کی ایک بھاری مقدار کو جزوقتی غیر تجربہ کار اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے ان اداروں میں معیاری تعلیم کو متعارف کرانے کا مقصد مفقود ہو کر رہ گیا۔ سب سے پہلے دیوبند اور اہل حدیث مکتبہ فکر سے منسلک مدارس نے اس اقدام میں حصہ لینے سے مکمل طور پر انکار کر دیا تھا۔ اس کی وجہ ان علماء کی سخت مخالفت تھی جس کی وجہ سے پچھلی حکومت نے آل انڈیا مدرسہ بورڈ کے منصوبہ کو ترک کر دیا جس کے ذریعہ ان اصلاحات کو متعارف کرایا جا سکتا تھا۔ سابقہ ​​حکومت نے مدارس کو حق تعلیم کی دفعات سے بھی مستثنی قرار دیا ہے جسے صرف انصاف کا مذاق بنانا ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس ملک میں ہر کسی کو تعلیم کا بنیادی حق حاصل ہے جبکہ مدارس میں زیر تعلیم مسلمان بچے ایک برے سیکولر ازم کا شکار ہو گئے۔

سچر کمیٹی کی رپورٹ کی اشاعت کے بعد سے لوگوں کا ایک عام رجحان یہ قائم ہو گیا ہے کہ مدارس اس ملک کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہیں کیونکہ وہاں صرف 4 فی صد ہی مسلمان بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ لیکن مدارس پر سچر کمیٹی کے اعداد و شمار میں معمول سے بہت کم تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے صرف ریاست کی مدد یافتہ مدارس میں داخلہ لینے والے طالب علموں کو شمار کیا ہے۔ این سی آر ٹی کے ایک اعداد و شمار سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ آزاد مدارس میں زیر تعلیم طالب علموں کی تعداد ریاستی امداد سے چلنے والے مدارس کے طالب علموں سے کہیں زیادہ ہے ۔ 2013 میں نیشنل کمیشن آف مائینارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن کی ایک رپورٹ میں یہ بتایا گیا تھا کہ مدارس میں کل اندراج تقریبا 10 فیصد ہے جو کہ سچر کمیٹی کے تخمینہ سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں 68 اضلاع ایسے ہیں جہاں کے مدارس میں اندراج 25 فیصد تک ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے پیش نظر مسلم معاشرے میں ناخواندگی کی شرح باقی دوسری قوموں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ مدارس کے طلباء اور ناخواندگی کی شرح کے درمیان ایک تعلق معلوم ہوتا ہے، اس لیے کہ مدارس میں ٹریننگ لینے والے طلباءکے اندر اسکول میں تعلیم دینے کا شعور بیدار نہیں ہوتا ہے۔

RTE (رائٹ ٹو ایجوکیشن) کے دفعات میں ایک مخصوص عمر میں واضح طور پر ہر بچے کو تعلیم کا حق ہے دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ تفاوت کے ساتھ، ہر 8 یا 10 سالہ بچے کو کم یا زیادہ یا اتنی ہی تعلیم ملنی چاہیے۔ آزاد مدارس اپنے طالب علموں کو اس طرح کی تعلیم نہیں دیتے۔ لہذا، ایسے بچوں کو "غیر اسکولی" قرار دینے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ سیاسی تناظر میں حکومت مہاراشٹر کی نیت پر شکوک و شبہات کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن سیاسی حالات کو غریب مسلم بچوں کے تعلیمی مستقبل کے بارے میں ایک غور و فکر اور بحث و مباحثے کو شروع کرنے میں مخل نہیں ہونا چاہیے۔

ارشد عالم، جے این یو کے سینٹر فار دی اسٹڈی آف سوشل سسٹم میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں

ماخذ:

http://indianexpress.com/article/opinion/columns/modernity-and-the-madrasa/#sthash.NK7k6F36.dpuf

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-society/arshad-alam/modernity-and-the-madrasa/d/104028

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-tr-new-age-islam/modernity-and-the-madrasa--جدیدیت-اور-مدارس-اسلامیہ/d/104049

 

Loading..

Loading..