New Age Islam
Fri Apr 23 2021, 12:41 AM

Urdu Section ( 22 Sept 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why the Law of Blasphemy in the Islamic World Must be Scrapped اسلامی دنیا سے توہین رسالت کے قانون کا خاتمہ کیوں ضروری

 

 

 

 

ارشد عالم ، نیو ایج اسلام

15 جون 2017

توہین رسالت کے گھناؤنے اسلامی قانون کا تازہ ترین شکار ایک تیمور رضا نامی پاکستانی شیعہ ہے جس کے اوپر سوشل میڈیا پر نبی ﷺ کی گستاخی کرنے کا الزام تھا۔ تجسس کی بات یہ ہے کہ اس کے کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں کی گئی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان قومی سلامتی کے معاملات اور مذہبی عقائد کے معاملات کے درمیان کوئی فرق نہیں دیکھتا۔ لیکن یقینی طور پر پاکستان ایک واحد ملک نہیں ہے جہاں توہین کے ارتکاب کے نام پر لوگوں کو قتل کرنے جیسا قرون وسطی کا عمل اب بھی جاری ہے۔ پوری اسلامی دنیا میں یہ مسئلہ رائج ہے اور پوری مسلم کمیونٹی کے اندر بہت کم ایسے لوگ ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ ان کے درمیان موجود اس قسم کے تعصب و تنگ نظری پر مبنی جمہوریت مخالف قانون کے بارے میں کچھ کیا جانا چاہئے۔

پیو ریسرچ سینٹر کی ایک 2014 کی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں پچاس ممالک ایسے ہیں جنہوں نے توہین کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ان پچاس ممالک میں سے تیس مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔ حسب توقع سعودی عرب جیسا مذہبی ملک اس فہرست کا حصہ ہیں لیکن زیادہ حیران بات یہ ہے کہ ترکی ، مصر ، ملیشیاء ، پاکستان اور انڈونیشیا جیسے ممالک جو جدیدیت کاحامل سمجھتے جاتے ہیں وہ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز (او آئی سی) اسلام فوبیا سے مسلمانوں کی حفاظت کرنے کے لئے ایک عالمی توہین رسالت کے قانون کے لئے مہم چلا رہی ہے۔

اب ہمیں یہ معلوم ہے کہ ایک تاریخی اور عصری مسئلہ کے طور پر اسلام فوبیا ایک زہریلی شکل میں جگہ جگہ موجود ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ اسلام کی تمام تنقید اسلام فوبیا ہے کچھ زیادہ ہی ہے ، اور او آئی سی OIC کے اراکین مسلمانوں کی حفاظت کے نام پر جو بھی کر سکتے ہیں وہ کچھ اور نہیں بلکہ وہ کسی بھی تنقید کو اسلام فوبیا اور کسی بھی اختلاف رائے کو توہین کے مساوی قرار دیکر اپنے غیر مقبول اور نا پسندیدہ قانون کو بڑھاوا دیں گے۔

تعصب و تنگ نظری پر مبنی اس قانون کے شکار اکثر معاشرے کے پسماندہ افراد ہوتے ہیں۔ اختلاف رائے رکھنے والے وہ افراد جو سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور خواتین اور مذہبی اقلیت اکثر ان الزامات کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر وہ قتل نہیں بھی کئے جاتے تو کم از کم ان کے خلاف قانونی مقدمات چلائے جاتے ہیں جن کا سلسلہ کئی کئی سالوں تک جاری رہتا ہے اور بالآخر ان افراد کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں آسیہ بی بی کے معاملے پر غور کریں۔ یہ پاکستانی شہری صرف ایک عورت ہی نہیں بلکہ ایک عیسائی اقلیت سے بھی تعلق رکھتی تھی۔ توہین کے الزام نے اس کی زندگی کو تباہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کی زندگی بھی لے لی جو اس کی رہائی کی وکالت کر رہے تھے۔

مشہور مصری شاعرہ فاطمہ نوت کو بقرعید کے موقع پر جانوروں کے ذبح پر تنقید کرنے کے لئے توہین کی سزا کے طور پر تین سال کے لئے جیل کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ ملیشیا کے ایک شخص پر توہین کا الزام صرف اس لئے لگایا گیا تھا کیونکہ اس نے اپنے مذہبی استاد پر سوالات کئے۔ اور ظاہر ہے ہم اس افغان خاتون کے سفاکانہ قتل کو نہیں بھول سکتے جس کا مباحثہ ایک مقامی عالم کے ساتھ ہوا تھا۔ پاکستان میں ایک یونیورسٹی کے احاطے کے اندر مشعل خان کا قتل اس کی ایک تازہ مثال ہے۔ یا جکارتہ کے گورنر کی مثال دیکھ لیں جو آہوک کے نام سے مشہور ہیں وہ فی الحال توہین کے الزام میں دو سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ در حقیقت انڈونیشیا میں توہین کے الزامات میں گزشتہ دہائی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور اس میں سزا کی شرح تقریبا ایک سو فیصد ہے۔ یہی حال مصر کا ہے جہاں حسنی مبارک کی معزولی کے بعد سے توہین کے الزامات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ بنگلہ دیش اور پاکستان میں توہین کے لئے سخت سے سخت قانون کے حق میں مہلک تحریکیں چلائی گئی ہیں۔ تاہم، یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ توہین کے اکثر شکار اپنے مسلم معاشرے کے پسماندہ افراد ہیں۔

اگرچہ یہ دلیل کچھ اہم ہے کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے مسلم دنیا کو بری طرح سے متاثر کیا ہے اور اسلامی روایت کے اندر سے ہی توہین کے اس قانون پر تنقید کرنے کی ضرورت ہے ، یہ بھی سچ ہے کہ اس قانون کی اشاعت میں وہابیت کے پھیلاؤ کا زیادہ عمل دخل ہے۔ سعودی عرب اسے فروغ دے رہا ہے اور اسلام کا یہ نظریہ مصر سے انڈونیشیا تک افکار و نظریات کا ایک اہم طریقہ کار بنتا جا رہا ہے۔ بنیادی طور پر وہابیت کا پورا دار و مدار توہین پر ہی ہے۔ صرف یہی تشویش وہابیت کی بنیاد ہے کہ کون حقیقی اسلام ہے اور کون نہیں۔ جو مسلمان وہابیت کے علاوہ اسلام کی کسی اور تعبیر و تشریح پر عمل کرتے ہیں انہیں کسی نہ صورت میں توہین کا مرتکب ہی تصور کیا جاتا ہے۔ جب سے ایرانی انقلاب اور مصر کے جمال عبد ناصر جیسی سیکولر تشکیل نے سعودی عرب میں شہنشاہیت کی بنیادوں کے لئے ایک نظریاتی خطرہ پیدا کیا ہے اس ملک نے مساجد اور دینی مدارس کی تعمیر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے ، وہ ان کے نظریے سے ہمدردی رکھنے والے مبلغین کی فنڈنگ کرتے ہیں اور وہابی نظریہ منتقل کرنے والے ذرائع ابلاغ کے مراکز کو فروغ دیتے ہیں۔

نیز ، اس میں مسلمانوں کے درمیان وسیع پیمانے پر مقبول یہ نظریہ بھی کار فرما ہے کہ سعودی عرب مسلم دنیا کا مرکز ہے کیونکہ وہاں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ اور مدینہ موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے تعلق سے سعودی عرب کی تعبیر و تشریح مسلمانوں کی نظر میں اسلام کی صحیح تعبیر و تشریح بن جاتی ہے۔ مسلم دنیا کے اندر، 1970 کی دہائی تک توہین کو بمشکل ہی کوئی مسئلہ مانا جاتا تھا۔ لیکن مسلم دنیا کے تخیلات پر سعودی عرب کے بڑھتے ہوے اثر و رسوخ اور ان کے پیٹرول ڈالر کے فنڈ نے سعودی عرب کے اسلامی قوانین کی مکمل طور پر پیروی کی کوشش میں (پاکستان، انڈونیشیا) جیسے اسلامی ممالک سے فائدہ اٹھایا ہے۔

یہ تمام معاملات سامنے آ رہے ہیں جبکہ قرآن توہین کے الزام کے بارے میں کچھ نہیں کہتا۔ قرآن میں صرف ایک ہی آیت ایسی ہے جس میں یہ حکم ہے کہ اگر مسلمان اللہ کے کلام کی بالادستی کے خلاف بات کرتے ہوئے کسی کو سنیں تو انہیں ایسے لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہئے۔ بس اتنا ہی۔ قرآن تو انہیں خاموش کرنے کے لئے بھی نہیں کہتا تو توہین کے ملزم کو مارنے اور اسے زخمی کرنے کی تو بات ہی بہت دور ہے۔ لیکن اللہ کے سپاہیوں کے لئے حدیث جن میں سے کئی جھوٹی اور من گھڑت ثابت ہو چکی ہیں ، خود کلام اللہ سے زیادہ اہم درجہ رکھتی ہیں۔ اس حقیقت سے کوئی اور کیا سمجھ سکتا ہے کہ قرآن توہین کرنے والوں کی معیت سے دور رہنے کا حکم دیتا ہے جبکہ مسلمان اس پر عمل نہیں کرتے۔ لیکن وہ جعلی حدیث پر عمل کریں گے جوتوہین کرنے والے کو قتل کرنے کا حکم دیتی ہے۔

توہین پر مسلم غم و غصہ کو سمجھنے کے مختلف طریقے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اسلام میں سیاست اور مذہب تقریبا ایک ہی جیسے ہیں۔ ایک مختلف مذہبی موقف سے خود بخود ایک مختلف سیاسی موقف کا ثبوت ہوتا ہے اور اسی وجہ سے حکومت کا مذہبی رائے پر اور خاص طور پر ان لوگوں کی رائے پر ایک آزادانہ طور پر نظر رکھنا آسان ہوتا ہے جو ایک مختلف سیاسی رائے رکھتے ہیں۔ لہٰذا، اس میں تعجب نہیں ہے کہ سعودی عرب مذہب اسلام کے تمام پہلوؤں پر اپنی گرفت بنائے رکھتا ہے اور بنائے رکھے گا۔ مصر جیسی ریاستیں مسجد میں بھی اسلام کی تقسیم کو کنٹرول کرنے کے لئے جمعہ کی امامت واعظوں کے ہاتھوں میں دینے کے لئے جانی جاتی ہیں۔

لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ توہین کے خلاف غم و غصہ کا اظہار سیاسی رہنما اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے کرتے ہیں۔ جمہوری ممالک میں سیاسی جماعتوں نے حمایت حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کے درمیان نفرت کے احساس کا استعمال کیا۔ مثال کے طور پر اس لئے اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ آسیہ بی بی کے خلاف اٹھنے والی شدت پسندوں کی مذمت کے بارے ایک بھی مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعت کے اندر خیال نہیں پیدا ہوا۔ سیاسی مخالفین کو ہٹانا اصولوں، قدروں اور یہاں تک کہ قرآن کریم کی تعلیمات سے بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ ایسا خاص طور پر ان مسلم ممالک میں ہے جہاں لوگ سلطنت بادشاہی اور اس کی سخت حکمرانی پر غم و غصہ آ رکا اظہار کر رہے ہیں ، یہ ایک ہتھیار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس کی ایک مثال سعودی عرب میں رائف بدوی کا معاملہ ہے۔ اس بلاگر نے سوشل میڈیا پر ایک ایسا مواد شائع کیا جس میں سعودی حکمران خاندان کی تنقید تھی۔ کسے عام جمہوریت سمجھا جائے گا، سعودی عرب میں رائف کو توہین رسالت کا مجرم قرار دیا گیا اور یہ اب بھی عوام میں کوڑوں کی سزا کھانے کے بعد جیل سے رہائی کا انتظار کر رہا ہے۔

توہین کا قانون مسلم دنیا کے لئے صرف ذلت و رسوائی کا باعث ہے۔ اس امر کے پیش نظر کہ قرآن کریم میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، مسلمانوں کو خود اپنے درمیان اس طرح کے تعصب و تنگ نظری پر مبنی قانون کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے۔ اور آخری بات ، کہ اگر وہ یہ مانتے ہیں کہ انہیں اظہار رائے کی آزادی کا حق ملنا چاہئے ، تو یہ ایک منطقی بات ہے کہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں اور اسلام کی ایک مختلف تشریح پر عمل کرنے والوں کو بھی وہی حقوق دیئے جانے چاہئے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/arshad-alam,-new-age-islam/why-the-law-of-blasphemy-in-the-islamic-world-must-be-scrapped/d/111552

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/why-the-law-of-blasphemy-in-the-islamic-world-must-be-scrapped--اسلامی-دنیا-سے-توہین-رسالت-کے-قانون-کا-خاتمہ-کیوں-ضروری/d/112625

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..