New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 08:31 PM

Urdu Section ( 4 Oct 2017, NewAgeIslam.Com)

Why Patriot Tests are Designed to Fail Muslims حب الوطنی کے معیار پر مسلمان نا کام کیوں

 

 

 

 

ارشد عالم ، نیو ایج اسلام

16 اگست 2017

ایک کمیونٹی کے طور پر ہندوستان میں مسلمانوں پر ہمیشہ اس ملک کے حق میں ان کی وفاداری ثابت کرنے کا بوجھ ڈالا گیا ہے۔ ان سے بار بار ملک کے لئے اپنی محبت کو ثابت کرنے کے لئے قوم پرستی اور حب الوطنی کی آزمائش سے گزرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ خواہ پاکستان کے خلاف کرکٹ میچ ہو یا قومی ترانہ گانے کا معاملہ ہمیشہ مسلمانوں کو الزامات کا نشانہ بنایا گیا ہے، انہیں یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک کمیونٹی کے طور پر انہیں ہمیشہ وفاداری کی اس آزمائش سے گزرنا ہو گا۔

عام مسلمانوں کی بات تو الگ ہے جب اس ملک کے نائب صدر حامد انصاری نے یہ بیان دیا کہ ہندوستان میں مسلمان اس نئی حکومت کے ساتھ شدید کشیدگی محسوس کر رہے ہیں تو حکومت نے ان کے اس بیان کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہیں وہاں جانے کے لئےکہا گیا جہاں وہ آرام محسوس کرتےہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ایک مسلم ملک میں ہجرت کرنے کے لئے کہا گیا۔ قومی تحریک کا حصہ رہنے والے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھنے اور خود اتنی طویل مدت تک ملک کی خدمت کرنے کے باوجود اس طرح کا الوداعی خطبہ سابق نائب صدر کو آنے والے برسوں میں ہمیشہ چبھتا رہے گا۔ اور اس کے علاوہ دردناک بات یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ایسا سلوک نہ تو پہلی مرتبہ ہو رہا ہے اور نہ ہی یہ واقعہ آخری ہے۔

یہ ایک ایسی کمیونٹی ہے جسے ہمیشہ وفاداری کی آزمائش سے گزرنا پڑا ہے۔ مسلمانوں کے اس ملک کو اپنا ملک منتخب کرنے کے ستر سالوں کے بعد اب بھی انہیں وقتی طور پر وفاداری کے اس امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہندوستان میں اس کے علاوہ کسی بھی دوسری برادری کو عوامی سطح پر اپنی حب الوطنی ظاہر کرنے جیسے اس مطالبے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔ کوئی بھی کمیونٹی یہ نہیں سمجھ سکتی کہ آج ہندوستان میں مسلم ہونے کا مطلب کیا ہے۔ مسلمانوں کے تعلق سے اس رویہ کو موجودہ حکومت تک محدود کرنا ایک آسان کام ہوگا۔ لیکن مسلمانوں کو صرف اپنی شناخت کی وجہ سے ہمیشہ محتاط رہنا پڑا ہے اور یہاں تک کہ اپنے دل کی بات رکھنے کے لئے انہیں کبھی کبھی سزا بھی دی گئی ہے۔ اس ملک کے اندر مسلمانوں کو دیکھنے کا ایک خاص نظریہ ہے اور یہ خاص نظریہ کئی سالوں کے دوران تیار ہوا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ آج اس طرح کے حالات کے لئے محض کسی ایک سیاسی جماعت کو ذمہ دار ٹھہرانا آسان پسندی اور گہرے محاسبہ سے دامن چھڑانے کی ایک کوشش ہوگی۔ آج مسلمانوں کے اس موجودہ حالت زار کے لئے نہ صرف کچھ جماعتیں بلکہ خود مسلم رہنما بھی ذمہ دار ہیں ۔

مدارس کو آج ہندوستانی معاشرے میں ایک سیاہ دائرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مسئلے کا تعلق مدرسہ کے حکام سے ہے جنہوں نے اپنی مالی ضروریات کی حفاظت کے لئے دیدہ و دانستہ طور پر مدارس کو کسی بھی جانچ پڑتال سے باہر رکھا ہے۔ لیکن بڑا مسئلہ ان حکومتوں کا بھی ہے جنہوں نے مدارس کی جدید کاری سے صرف نظر کر لیا ہے اور ایک قیدی ووٹ بینک کے طور پر اہل مدارس کے ساتھ اپنا رویہ رکھا ہے۔ مدارس کے نصاب اور ان کے نظام عمل میں مداخلت نہ کرنے کی خواہش میں انہوں نے مسلمانوں میں سماجی ، اقتصادی اور فکری پسماندگی کو برقرار رکھا ہے۔ اسی لئے اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کہ صدیوں سے برصغیر ہندوستان میں اپنی موجودگی کے باوجود ان کے بارے میں لوگوں کو بہت کم معلوم ہے ، خاص طور پر ان لوگوں کے ذریعہ جو آج اقتدار میں ہیں اور جو مسلمان نہیں ہیں۔ بی جے پی مسلمانوں کے بارے میں ایک غلط اور گمراہ کن تفہیم کی پیداوار ہے۔ ان کے لئے مسلمان ان کے جانی دشمن ہیں: جو کہ ایک ایسی اقلیت ہے جس کے لئے حالات اس کے مذہب کی وجہ سے ہمیشہ ابتر رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے نظریہ ساز ساورکر نے ہمیشہ ملک کے تئیں مسلمانوں کی وفاداری کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا ہے کیونکہ مسلمانوں کی پنہ بھومی (مقدس سرزمین) اور ماتر بھومی (مادر وطن) ایک نہیں ہے۔ صدیوں سے موجود ہونے کے باوجود ہندوستان میں اسلام کو ہمیشہ ہی ایک غیر ملکی مذہب مانا گیا ہے۔

لیکن دیگر نام نہاد ترقی پسند سیاسی جماعتیں اس سے بہتر نہیں ہیں۔ بنگال میں اپنے عروج کے دور میں اس وقت کے وزیر اعلی بدھا دیب بھٹاچارجی نے بنگال میں مدارس کو دہشت گردی کا مرکز قرار دیا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اور ان کے مدارس جو بھی ہوں مگر ملک مخالف نہیں ہیں۔ آزادی کی جدوجہد کے دوران مدارس برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد میں سب سے آگے تھے۔ کانگریس پارٹی کے ساتھ اتحاد قائم کرنے میں دیوبند کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس عمل میں انہوں نے مدارس کے اندر سے ہزاروں مسلمانوں کو آزادی کی تحریک میں شامل کیا تھا۔ ہاں، دیوبند کی تنقید ان مسائل کے لئے ضرور کی جانی چاہئے جن میں اس نے پورے مسلم معاشرے کو گھیر رکھا ہے ؛ سب سے اہم اس کی مذہبی قدامت پسند تشریح ہے، لیکن اُس دور میں ہندوؤں کے درمیان بھی بہت ساری قدامت پسند قوتیں موجود تھیں۔ تو الزام صرف دیوبند پر ہی کیوں؟

معاملہ یہ نہیں ہے کہ آج جو لوگ اقتدار میں ہیں انہیں دیوبند کی تاریخ معلوم نہیں ہے۔ وہ اس سے بہت اچھی طرح واقف ہیں اور تاریخ میں ان کے کارنامے درج بھی ہیں۔ لہٰذا ، ایسا کیوں ہے کہ وہ مدارس سے اپنی حب الوطنی کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ اگر یو پی حکومت نے تمام سرکاری معاونت حاصل کرنے والے اداروں کے لئے ایک عام سرکلر جاری کیا ہوتا تو یہ ایک دیگر بات تھی۔ لیکن یہ معاملہ تو ایک خاص کمیونٹی کو اس کی حب الوطنی ثابت کرنے پر مجبور کرنے کا ہے۔ اس طرح کا اقدام صرف کمیونٹی کے تعلق سے زبردست شکوک و شبہات اور نفرت کی ہی پیداوار ہوسکتا ہے۔ یہ سوال کرنا ایک منطقی اقدام ہے کہ کیا اتر پردیش حکومت اپنی ایک بڑی اقلیتی آبادی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے باوجود اپنے روزانہ کے معمولات میں مشغول ہو سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے نفرت اور شک و شبہ کی ایسی سیاست کے ذریعہ کافی فائدہ اٹھایا ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد فوراًاپنی ایسی سیاست کو چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ان کی مسلم مخالف سیاست نے ہی انہیں اتر پردیش میں اقتدار دلوایا ہے۔ مسلمانوں کو ان کی مناسب جگہ دکھانا صرف شک کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ ہندوؤں کے لئے ایک پیغام بھی ہے جنہوں نے انہیں اقتدار میں لانے کے لئے ووٹ دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو ذلت و رسوا کر کے ان کی اصل حیثیت دکھا رہے ہیں۔

صورت حال مکمل طور پر ہندوؤں کے حق میں ہے۔ اگر مسلمان قومی ترانہ کو ایک اطاعت کے طور پر گانے سے انکار کرتے ہیں تو انہیں غدار قرار دیا جائے گا۔ اور اگر وہ قومی ترانہ گاتے ہیں تو ہندو یہ دعوی کریں گے کہ انہوں نے مسلمانوں کو سبق سکھایا اور انہیں ان کی اصل حیثیت دکھائی۔ ان دونوں حالات میں جیت ہندوؤں کی ہی ہے۔ مسلمانوں کو ایک ایسی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے کہ وہ ایسے کسی بھی جال میں نہ پھنس سکیں۔ لیکن بعض مسلم علما کے ردعمل سے صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ خود اس جال میں پھنس چکے ہیں ۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-politics/arshad-alam,-new-age-islam/why-patriot-tests-are-designed-to-fail-muslims/d/112216

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/why-patriot-tests-are-designed-to-fail-muslims--حب-الوطنی-کے-معیار-پر-مسلمان-نا-کام-کیوں/d/112767

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..