New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 05:37 AM

Urdu Section ( 24 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why Muslims Should Junk Madrasas مسلمانوں کو مدرسوں سے کیوں دستبرداری حاصل کر لینی چاہیے؟

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

 23 مئی 2022

سوائے مسلمانوں کو تعلیمی طور پر پسماندہ کرنے کے اب ان کا کوئی مقصد نہیں بچا ہے

 اہم نکات:

1.     اتر پردیش اب نئے مدارس کو گرانٹ نہیں دے گا؛ آسام اس اصطلاح کا استعمال بالکل ہی کرنا نہیں چاہتا۔

2.     مسلمانوں نے مدارس کے نظام کو اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت سے جوڑ دیا ہے جو کہ غلط ہے۔

3.     تمام ثقافتیں بدلتی رہتی ہیں اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ مسلم ثقافت میں بھی تبدیلی پیدا نہ ہو۔

4.     اس وقت مدارس ان علماء کے سیاسی اڈے بن چکے ہیں جو اس نظام کو برقرار رکھنے میں اپنا ذاتی مفاد دیکھتے ہیں۔

5.     مسلمانوں کا مقصد صرف جدید سائنسی تعلیم کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے، مذہبی تعلیم کے فرسودہ نظام کے ذریعے نہیں۔

 -----

فائل فوٹو

---------

 مدرسہ کی تعلیم کے حوالے سے فی الحال دو بیانات متعدد میڈیا پلیٹ فارموں پر چلائے جا رہے ہیں۔ پہلا بیان اتر پردیش کے مسلم وزیر کا ہے کہ اب ریاستی حکومت کسی بھی نئے مدرسے کو گرانٹ نہیں دے گی۔ دوسرا آسام کے وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا ہے کہ مدارس کا وجود ختم ہونا چاہیے۔ ان کی دلیل ہے کہ گھروں میں مذہب کی تعلیم دی جا سکتی ہے جبکہ ریاست کو صرف اور صرف جدید سائنسی تعلیم کا بیڑا  اٹھنا چاہیے۔ اگرچہ اتر پردیش کے وزیر آزاد انصاری نے نئے مدارس کو سرکاری گرانٹ فراہم نہ کیے جانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی، لیکن یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ریاست کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ سرکاری فنڈز کو مذہبی تعلیم پر صرف نہیں کیا جانا چاہیے۔

ان بیانات پر مختلف حلقوں بشمول مسلم تنظیموں کے، شدید تنقید کی گئی ہے۔ آسام اور اتر پردیش دونوں میں بی جے پی کی حکومت ہے اور بی جے پی اور مسلمانوں کے درمیان اعتماد ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے تعلق سے حکومت کے کسی بھی اقدام کو منفی انداز میں لیا جائے گا۔ بہت سے معاملات میں مسلمانوں کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتا کیونکہ حکومت نے مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے بہت کم کام کیا ہے۔ مزید برآں یہ کہ کیا مذہبی تعلیم کو ہمارے اسکولوں سے باہر رکھنے کے اس منصوبے کو تمام مذاہب پر یکساں طور پر لاگو کیا جائے گا؟ صرف وقت ہی بتائے گا کہ کیا یہ دونوں ریاستی حکومتیں ہندو گروکلوں اور سنسکرت پاٹھ شالوں کے حوالے سے بھی ایسا ہی رویہ ظاہر کریں گیں۔

 تاہم، ایسا مانا جاتا ہے کہ ہمارے مجموعی تعلیمی منظر نامے میں مدارس کو ایک منفرد مقام حاصل ہے اور مسلمانوں کو اب تک ان مدارس کے وجود کے حوالے سے کچھ بنیادی باتوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ان سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ایسے ادارے دور حاضر میں کسی بھی کام کے ہیں یا وہ محض قوم کے ان محدود وسائل کو ضائع کر رہے ہیں جن کو کسی اور مقصد میں زیادہ فائدہ مند طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلی چیز جس پر ہمیں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے وہ مدرسہ کی تعلیم کی وسعت ہے۔ سچر کمیٹی نے ہمیں بتایا کہ صرف 3 فیصد مسلم بچے ہی ان اداروں تک رسائی حاصل کر پاتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے ہی اشارہ کیا ہے، یہ تعداد مجموعی طور پر اصل سے کم تخمینہ ہے۔ 10 سے 12 فیصد سے کم مسلمان بچے ان مدرسوں میں تعلیم نہیں حاصل کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ حکومت کی مالی اعانت سے بھی چلنے والے مدارس ہیں جو عصری مضامین بھی پڑھاتے ہیں لیکن وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی تعداد ان لوگوں کے مقابلے بہت کم ہے جو صرف مذہبی مضامین پڑھاتے ہیں۔

ہندوستان کے اندر مسلمانوں کے علاوہ کسی اور کمیونٹی میں اتنی بڑی تعداد میں طلباء نہیں ہیں جو خصوصی طور پر صرف مذہبی مضامین ہی پڑھتے ہوں۔ مزید یہ کہ یہ مضامین اتنے پرانے ہیں کہ عصر حاضر میں ان کی افادیت ختم ہو چکی ہے۔ مسلمان اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ہر حکومت نے انہیں تعلیمی میدان میں پیچھے کیا ہے۔ لیکن انہیں یہ احساس کیوں نہیں ہوتا کہ اگر وہ مدرسہ کی تعلیم کو جاری رکھنے پر اصرار کرتے رہیں گے تو کوئی بھی حکومت ان کی مدد نہیں کر سکتی۔ آخر کار، حکومت صرف یہی کہہ سکتی ہے کہ ہم ان صرف ان مدارس کی تجدید کاری کر سکتے ہیں جو ہمارے کنٹرول میں ہیں لیکن ان کا دائرہ اختیار کمیونٹی فنڈ سے چلنے والے مدارس تک نہیں ہے جو اپنی پسند کے مطابق نصاب پڑھانے کے لیے آزاد ہیں۔

 ایک وقت تھا جب مدارس کی ایک بڑی خاص اہمیت تھی۔ بنیادی طور پر انہیں اداروں کی بدولت قرون وسطیٰ کی بیوروکریسی میں لوگ شامل ہوئے۔ مسلمانوں کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ ادارے آج کس کام کے ہیں؟ انہیں اسلامی ثقافت سے جوڑنا بھی بالکل غلط ہے۔ اگر کوئی ثقافت وقت کے ساتھ ساتھ نہیں بدلتی تو وہ فرسودہ ہو جاتی ہے اور کسی بھی کمیونٹی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے لگتی ہے۔ آج مدارس ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں بچوں کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ یہی کر رہی ہے۔ ان اداروں سے کوئی نئی سوچ نہیں نکل رہی ہے۔ طلباء بغیر کسی سوجھ بوجھ کے بس پڑھے جا رہے ہیں۔ جو لوگ اپنے بچوں کو ایسی جگہوں پر بھیج رہے ہیں وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہاں کوئی قابل قدر تعلیم دی جا رہی ہے یا نہیں۔ اور ان مدارس کے تعاون میں اور انہیں جاری رکھنے قوم مسلم کے داخلی وسائل ایک بڑی مقدار میں ضائع کیے جا رہے ہیں۔ اگر 10 یا 20 مدارس کی جگہ ایک اچھا جدید اسکول قائم کر لیا جائے تو اس سے ایک دہائی کے اندر اندر مسلم قوم کی تعلیمی محرومی دور ہو جائے گی۔ لیکن بات یہ ہے کہ کیا ہم ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں؟ یا ہم ایسا کرنے کی سوچ بھی رہے ہیں؟

مدارس سے صرف وہی طبقہ مستفید ہوتا ہے جو علماء ہیں۔ طویل عرصے سے، وہ روایت اور ثقافت کے نام پر مدرسہ کے نصاب میں کسی بھی تبدیلی کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی طلباء کو سینکڑوں برس پہلے لکھی گئی کتابوں کو پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جاتا۔ لیکن بات یہ ہے کہ یہ علماء اسی نظام کی پیداوار ہیں اور اسی نظام کو برقرار رکھنے میں اپنا ذاتی مفاد پیدا کر چکے ہیں لہٰذا وہ اس جمود کو برقرار رکھتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مدرسے کے طلباء ہمیشہ سے تیار شدہ پیروکاروں کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں کسی بھی سیاسی مقصد کے لیے مختصر سے اعلان پر جمع کیا جا سکتا ہے۔ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ان مولویوں کی طرف سے چلائی جانے والی تمام تحریکوں میں مدرسے اور ان کے طلباء نے پیدل سپاہیوں کام کیا ہے۔ دیوبند اور بریلی جیسے مختلف دھڑوں کے زیر کنٹرول، اس وقت تک مدارس کے طلباء کی بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی جب تک ان علماء کی بالادستی قائم رہتی ہے۔ یہ وہی طاقتیں ہیں جنہوں نے حکومت کو مجبور کیا کہ مدارس کو حق تعلیم ایکٹ 2009 سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، جس کے مطابق عمر کے مطابق تعلیم کو ہندوستان میں تمام بچوں کا بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اگر آپ ایک مسلمان کے بچے ہیں، تو آپ کی مذہبی قیادت نے اس بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ آپ اس بنیادی حق سے محروم رہیں۔

 حکومت کو ہر اس چیز کے لیے مورد الزام ٹھہرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے جو مسلم قوم کے لیے پریشان کن ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہیئے اس پر کوئی غور و خوض نہیں کرتا۔ ہو سکتا ہے کہ یوپی اور آسام کی حکومتوں کے پاس اپنے مسلمان شہریوں کو جواب دینے کے لیے بہت کچھ ہو، لیکن آسمان نہیں گر جائے گا اگر کسی نئے مدرسے کو گرانٹ نہ دی جائے یا مدارس کا نام بدل کر سرکاری اسکول رکھ دیا جائے۔ حکومت کے یہ اقدامات طویل مدت میں قوم کو تعلیمی لحاظ سے فایدہ ہی پہنچائیں گے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ مدد ان کی اس بات سے ہوگی کہ وہ قوم کی مالی اعانت سے چلنے والے پرائیویٹ مدارس کے نظام کو ختم کریں جو مسلمانوں کو قرون وسطیٰ کے بھنور میں کھینچ رہے ہیں۔

 -----

 English Article: Why Muslims Should Junk Madrasas

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/muslims-junk-madrasas/d/127083

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..