New Age Islam
Mon Jan 17 2022, 03:41 AM

Urdu Section ( 9 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why a ‘National’ OBC Conclave Excludes Muslim Backwards کیوں ایک 'قومی' او بی سی کانفرنس سے پسماندہ مسلمانوں کو خارج کیا گیا

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

30 دسمبر 2021

 اس قومی او بی سی کنکلیو کا صحیح نام ہندو او بی سی کنکلیو ہونا چاہیے تھا۔

اہم نکات:

1.      ایک قومی او بی سی کانفرنس میں مسلمان او بی سی کا ایک بھی نمائندہ نہیں تھا۔

2.      اس کنکلیو کو بنیادی طور پر کانگریس پارٹی کی سمردھ بھارت فاؤنڈیشن نے منعقد کیا تھا۔

3.      مسلم او بی سی جماعتوں میں اس بات پر کافی تشویش پائی جا رہی ہے کہ انہیں اس کنکلیو سے کیوں باہر رکھا گیا۔

4.      وہاں موجود دانشوروں کو مسلمانوں کے اس دانستہ اخراج کی وضاحت کرنی چاہیے۔

 ----

 ایک قومی او بی سی کانفرنس کا ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل سے کیا تعلق ہے؟ شاید بہت کچھ، اگر ہم ان وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ او بی سی کے ایک بھی مسلم نمائندے کے بغیر کنکلیو کا انعقاد کیوں کیا گیا۔

مذکورہ کانفرنس 21 دسمبر کو دہلی کے تال کٹورا انڈور اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کا انعقاد سمردھ بھارت فاؤنڈیشن نے کیا تھا، جو عام شہریوں اور تعلیم یافتہ افراد کا ایک متحدہ پلیٹ فارم ہے جسے کانگریس پارٹی نے کچھ سال قبل شروع کیا تھا۔ دعوت نامہ دو لوگوں کے نام ہے: پشپراج دیشپانڈے اور گردیپ سپل۔ اول الذکر سمردھ بھارت فاؤنڈیشن کے سابق عہدیدار ہیں، سپل کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان ہیں۔ اس کانفرنس کے داعیان میں لالو اور شرد یادو جیسے نامور بہوجن سیاست دان ہی نہیں بلکہ کانچا الیہ شیپرڈ اور دلیپ منڈل جیسے دانشور بھی تھے۔

مسلم او بی سی مسلم آبادی کا سب سے بڑا طبقہ ہے۔ کئی مسلم او بی سی تنظیمیں ایسی بھی ہیں جو مشترکہ مسائل میں ہندو او بی سی کے ساتھ کئی سالوں سے مل کر کام کر رہی ہیں۔ اعلی طبقے کے اشرافیہ مسلمان ان جماعتوں پر اکثر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ ذات پات کی سیاست کر کے قوم کو تقسیم کر رہے ہیں۔ کئی دہائیوں سے مذہبی اور سیاسی دونوں قسم کے مسلم رہنما اپنی قوم کے اندر ذات پات کی موجودگی سے سختی سے انکار کرتے رہے ہیں۔ جبکہ مسلم او بی سی جماعتیں یہ کہتی رہی ہیں کہ تبدیلی کے باوجود ذات پات ان کی پسماندگی کی ایک واضح وجہ بنی ہوئی ہے۔ سچر کمیٹی رپورٹ جیسی دستاویزات کے ذریعے انہوں نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ وہ قوم مسلم میں سب سے زیادہ پسماندہ سماجی طبقہ ہیں۔

لہٰذا، یہ دلچسپ بات ہے کہ مذکورہ کنکلیو میں مسلم او بی سی تنظیموں کی نمائندگی کیوں نہیں تھی۔ ممکن ہے کہ منتظمین کو ان مسلم او بی سی جماعتوں یا افراد میں سے کچھ کی سیاست پسند نہ ہو، لیکن یقینی طور پر یہ ممکن نہیں کہ انہیں برائے نام ہی نمائندگی کے لیے ایک بھی مسلمان نہ ملے۔ یہ یقیناً ایک دیدہ و دانستہ کوتاہی ہے جو مسلمانوں کو اچھی نہیں لگی۔

اب مسلم او بی سی جماعتوں کے اندر یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ ان کا اب نام نہاد سیکولر جمہوری پارٹیوں اور یہاں تک کہ مرکزی دھارے کے ہندو لبرل حلقوں میں بھی کوئی معنی اور مقام نہیں رہا۔ قومی او بی سی کنکلیو اس ایک اور تکلیف دہ یاد دہانی تھی۔ کانگریس میں مسلمانوں کی نمائندگی زیادہ تر اشرافیہ یا اعلیٰ ذات کے مسلمانوں پر مشتمل ہے اور اس طبقے نے تاریخی طور پر کبھی بھی مسلمانوں کے ذات پاس کے مسائل میں کبھی دلچسپی نہیں لی ہے۔ یہ مسئلہ کسی اور نے نہیں بلکہ عبدالقیوم انصاری نے اٹھایا تھا لیکن جواہر لعل نہرو ان کی اکثر تردید کرتے رہے۔ انصاری نے آل انڈیا-مومن کانفرنس کی قیادت کی اور محمد علی جناح اور دیگر کے پیش کردہ دو قومی نظریہ کی سختی سے مخالفت کی۔ لیکن بعد میں وہ نہرو کے لیے کسی کام کے نہیں رہے جو تمام مسلمانوں کو ایک ہی پلے میں رکھتے تھے۔ اس معاملے پر کانگریس کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔ جس کی تازہ ترین مثال قومی او بی سی کانفرنس میں مسلمانوں کی عدم شرکت ہے۔

آر جے ڈی اور ایس پی جیسی 'سماجی انصاف' کی جماعتوں نے منڈل لہر سے فائدہ اٹھایا اور ہندوستان کی دو سب سے زیادہ آبادی والی ریاستوں میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئیں۔ لیکن مسلمانوں کے مسائل کے بارے میں ان کی سوچ کانگریس سے شاید ہی مختلف ہے۔ لالو اور ملائم دونوں نے مسلمانوں میں ذات پات کے سوال پر کوئی توجہ نہیں دی۔ دونوں پارٹیاں ہندو سماج کے اندر تقسیم وسائل کی حامی اور اس پر عمل کرنے والی تھیں لیکن جب قوم مسلم کے اندر تقسیم وسائل کی کا معاملہ آیا تو انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ اسی مایوسی کے سبب علی انور کی قیادت میں او بی سی مسلمانوں کے کچھ حصے نتیش کمار کے ساتھ اتحاد کرنے پر مجبور ہوئے۔ یہ شاید وہی مایوسی ہے جو کچھ مسلمانوں کو اسد الدین اویسی کی طرف لے جا رہی ہے۔

بہار میں آر جے ڈی اتحاد کی شکست کے لیے اویسی کو مورد الزام ٹھہرانا بہت آسان ہے لیکن اس کی بنیادی وجوہات کے بارے میں بات کرنا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اور خاص طور پر مسلم او بی سی کو جو کہ مسلمانوں کی اکثریت ہیں، ان نام نہاد سیکولر جمہوری پارٹیوں نے دھوکہ دیا ہے اور ان کے ساتھ صرف ووٹ بینک جیسا سلوک کیا گیا ہے اور کچھ نہیں۔ مسلم او بی سی کا کام صرف ہندو او بی سی کو ووٹ دینا اور حکومت اور حصول مراعات کی تلاش میں ان کی مدد کرنا ہے۔ اس کے بدلے میں مسلم او بی سی کو ان جان بخشنے کے لیے ان جماعتوں کا ہمیشہ کے لیے شکر گزار رہنا چاہیے۔

کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے اپنے تحفظات اور معاملات ہوتے ہیں لیکن کنکلیو میں موجود کانچا الیہ اور دلیپ منڈل جیسے چند بہوجن دانشوروں کا کیا؟ انہوں نے اس واضح کوتاہی کی نشاندہی کرنا کیوں ضروری نہیں سمجھا؟ ان دونوں نے مذہب کی بندشوں سے باہر نکل کر ذات کے مشترکہ مفادات کی ضرورت پر لکھا ہے۔ کیا ہم یہ مان لیں کہ یہ دانشور بھی مسلمانوں کی موجودگی میں نظر نہیں آنا چاہتے؟ کیا ہم یہ مان لیں کہ ان کے لیے بھی مسلمانوں کا سوال بنیادی طور پر وقار اور انصاف کے بجائے شناخت کا ہے؟

اس بات پر شاید کسی کا دھیان نہیں گیا کہ نظریاتی طور پر متحرک انتہا پسند ہندو ہجوم جو مسلمانوں کو ان کی عبادت گاہوں سے بے دخل کر رہے ہیں ان کا تعلق زیادہ تر ہندو او بی سی جماعتوں سے ہے۔ حالانکہ جس چیز کسی کا دھیان نہیں گیا وہ اس گھٹیا پن اور اپنی سماجی بنیاد کے خلاف مسلم دشمنی کی مذمت او بی سی دانشوروں کی سرد مہری ہے۔ ملک کی تمام برائیوں کے لیے ہندو بنیاد پرستی کو مورد الزام ٹھہرانا آسان ہے۔ لیکن یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کئی دہائیوں کی منڈلائزیشن کے بعد بھی ہندو او بی سی ذاتیں اس نظریے کی طرف بڑے پیمانے پر کیوں راغب ہو رہی ہیں۔ مسلم مخالف تشدد کے محرکات کا نام نہ لے کر، ان دانشوروں نے تمام مذاہب کے درمیان وسیع تر تفہیم پیدا کرنے کے اپنے مقصد کا بہت بڑا نقصان کیا ہے۔ اور اب مسلمانوں کو کنکلیو سے باہر کر کے انہوں نے ایسے کسی اتحاد کے امکان کو مزید مدھم کر دیا ہے۔ ایسی فاسد سوچ تبھی پیدا ہو سکتی ہے جب فکری کام سیاسی پروگراموں کے حکم کے تابع ہوجائے۔

 پہلے سے ہی ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلم او بی سی کا ایک طبقہ ہندو انتہا پسندوں کے ایجنڈے کا شکار ہو رہے ہیں۔ اپنی جگہ کی تلاش میں جس سے اب تک نام نہاد سیکولر اور لبرل طاقتوں نے محروم رکھا ہے، وہ کچھ ساورکرائٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی اپنے غصے کا اظہار کرنے سے باز نہیں آتے۔ جب کہ عبدالقیوم انصاری جیسے پہلے کے مسلم مخلص او بی سی ہندو اور مسلم فرقہ پرستی دونوں سے ہمیشہ دور رہے، اب اس قسم کی سیاست پر اندر سے سوال اٹھ رہے ہیں۔ شودر مسلمانوں کی موجودہ قیادت اس حالت کے لیے ذمہ دار ہو سکتی ہے لیکن جو بات سمجھنا اتنا ہی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ان کا اسلام طرح حاشیہ پر آنا بھی قومی او بی سی کانفرنس جیسے ’سیکولر‘ پلیٹ فارم سے مختلف مسلم آوازوں کو شامل کرنے سے انکار کا نتیجہ ہے۔

 Related Articles:

Backward Muslims Have the Right to Reservation मुस्लिम समाज में पिछड़ा वर्ग आरक्षण का असली वारिस और हकदार

Backward Muslims Have the Right to Reservation مسلم سماج میں پسماندہ طبقہ ریزرویشن کا اصل وارث و حقدار

 English Article: Why A ‘National’ OBC Conclave Excludes Muslim Backwards

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/obc-conclave-muslim-backwards/d/126123

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..