New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 07:45 PM

Urdu Section ( 12 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

Madrasas Need Reform, Not Committees مدارس کو اصلاح کی ضرورت ہے کمیٹیوں کی نہیں


ارشد عالم، نیو ایج اسلام

10 جولائی، 2012

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

حال ہی میں حکومت نے ایک پینل تشکیل کرنے کی شروعات کی ہے جو مدارس کو قومی منجھدار  سے جوڑنے اور ان کی جدید کاری   کے طریقے کی سفارش کرے گا۔ ارادہ قابل تعریف ہے کیونکہ  ہندوستان میں یقینا مدرسہ تعلیم کو جدید کاری کی فوری طور پر  ضرورت ہے۔ تاہم، گزشتہ تجربوں  پر غور کریں تو حکومت کی اس موجودہ  سرگرمی سے بہت زیادہ کی توقع نہیں کی جانی چاہئے۔ بہرحال، حکومت کی طرف سے  مدارس کے جدید کاری کا پروگرام کئی سالوں سے چلایا جا رہا ہے لیکن  اس کے مطلوبہ نتائج برآمد  نہیں ہوئے ہیں۔ حالات اب بھی یہ ہیں کہ   موجودہ حکومت  کے پاس اب بھی ایک جامع پیمائشی سروے نہیں ہے جو ہمیں مدارس کے جدید کاری پروگرام کے اثرات کو   بتا سکے۔  اپنی دہائیوں  پرانی پالیسی  کومضبوط بنانے کہ بجائے، ایک اور کمیٹی کے قیام پر حکومت کیوں تلی ہوئی ہے؟ یہ مختلف حکومتوں کی پرانی چال کی طرح دکھائی دیتی ہے: کمیٹیوں کا قیام یہ تاثر دیتا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے جبکہ حقیقت کی زمین پر کچھ بھی خاطر خواہ نہیں ہوتا ہے۔

ایک کےبعد ایک  رپورٹ نے دلیل دی ہے کہ مسلمان تعلیمی رسائی کے معاملے میں پیچھے ہیں اور مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی پر قابو پانے کی کنجی  پرائمری تعلیم کو مضبوط  کرنا ہے۔  اس سلسلہ میں یہ سمجھنا اہم ہے کہ  مدارس کی تعلیم، ایک متوازی دھارا ہے جو  حکومتوں کے تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اس طرح خاص طور پر شمالی ہندوستان میں جہاں مدرسوں کی اکثریت ہے، اگر وہاں ایک بچہ مدرسہ میں جا رہا ہے تو یہ سمجھنا چاہئے کہ  اس کے پاس  اسکول جانے کا موقع نہیں ہے۔ اگر ایک بچہ  مدرسہ  میں اپنا اندراج  کرانے کے کچھ  سالوں کے بعد  سرکاری اسکول  تک رسائی حاصل کرتا ہے تو اس کی بنیاد اور افہام و تفہیم اتنی کمزور ہوتی ہے کہ وہ دوسرے بچوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے قابل نہیں  ہوتاہےاس لئے تعلیم کا یہ نظام مسلم طبقے کے مفادات کے لئے نقصان دہ ہے۔ پرائمری تعلیم میں ایک ٹھوس بنیاد کے بغیر، اعلیٰ تعلیم میں اور اس کے نتیجے میں جاب مارکیٹ میں نمائندگی کی  توقع نہیں کی جا سکتی  ہیں۔

مزید اہم سوال شاید یہ ہے کہ  اس زمانے اور وقت میں مدرسہ کی تعلیم کی  افادیت کیا ہے۔ مدارس آج جو پڑھاتے ہیں وہ مکمل طور پر غیر متعلق اور وقت کے ساتھ غیر مربوط ہے۔  اس کا  نصاب قدیم  ہے اور  عصر حاضر میں  جسے تعلیم کہا جاتا ہے  س کے نصاب میں شامل نہیں ہے۔ اصل میں نصاب میں مذہب کا غلبہ ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے ایک مسلمان کے لئے اپنے دین سے الگ کچھ بھی  تحقیقی کرنے کے لئے نہیں ہے۔   اسلامی اصولوں کے ساتھ اس جنون کا مطلب ہے کہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے مسلم بچوں کو اپنے ملک ، معاشرہ  اور سیاست کے بارے میں ، اور نہ ہی اس شاندار رفتار سے جس سے دنیا ترقی کر رہی ہے، بھی تقریبا کوئی علم نہیں ہوتا ہے ۔ کوئی بھی وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہے  مدرسے اسلام کی خدمت کرنے کے بجائے آج  مذہب کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

جب کبھی مدارس  کی جدید کاری کا مطالبہ  اٹھتا ہے تو مذہبی رہنما اس کے بارے میں ہائے توبہ مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ اسلام خطرے میں ہے، کا نعرہ  منبروں  سےاور بڑے  مدارس سے اٹھنا شروع ہو جاتا ہے اور ان کےنمائندے کوشش کرنے لگتے ہیں کہ اصلاحات کی کسی بھی کوشش کو کسی طرح روکا جائے۔  مدارس کو مسلم تشخص کا ایک موضوع بنانا مسلم طبقے کو  صرف تعلیمی نقصان پہنچا سکتا ہے۔  اسی احساس کے تحت مسلمانوں کے ایک طبقےنے  خود ہی  مدارس کے نصاب میں تبدیلی کا مطالبہ شروع کر دیا ہے تاکہ اسے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق بنایا جا سکے۔   افسوس کی بات ہے کہ ان لوگوں کی کوششوں کا کوئی نتیجہ  سامنے نہیں آیا ہے کیونکہ  حکومتوں کے نزدیک  اصلاحات پسند یہ مسلمان   مناسب ووٹ بینک نہیں  تصور کئے جاتےہیں، اورحکومتیں قدامت پرست علماء کے  رجعتی مطالبات  کے سامنے جھکتی رہی ہیں۔ اب مسلمانوں کے درمیان تعلیمی تشنگی ہےاور اگر انتخاب کرنے کا موقع دیا جائے تو مسلمان والدین اپنے بچوں کو مدرسے کی بجائے اسکول میں بھیجیں گے۔  یہ مسلمان طبقے کی  مذہبی قیادت ہے جو  اس کی کسی بھی ترقی کو روک رہا ہے۔  ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومتیں  غلط طور پر  مانتی ہیں کہ  علماء مسلمان طبقے کے نمائندے ہیں اور انہیں حکومتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔  

دی نیشنل کونسل آف مائناریٹی ایجو کیشنل انسٹی ٹیوشن (NCMEI)، نے حکومت کو پیش ایک رپورٹ میں  دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں مدرسہ تعلیم میں  اصلاح کی فوری ضرورت ہے۔  اس نے مرحلہ وار طریقے سے اصلاحات کو  لاگو کرنے کا مشورہ دیا ہے اور پہلے قدم کے طور پر آل انڈیا مدرسہ بورڈ کے قیام کی تجویز پیش کی جو  اصلاحات کو لاگو کر سکے۔  ہندوستانی حکومت کے کسی دفتر میں اس  رپورٹ پر دھول جم رہی ہوگی۔  مدارس کی جدیدکاری کا جائزہ لینے کے لئے  ایک نئی کمیٹی کی تشکیل کرنے کے بجائے موجودہ حکومت  اپنے محکموں (NCMEI) میں سے ایک کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ پر نظر ڈال کر  حالت بہتر کر سکتی ہے۔

ارشد عالم ایک مصنف اور مضمون نگار ہیں، فی الحال جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے منسلک  ہیں۔  وہ نیو ایج اسلام کے لئے کبھی کبھی کالم لکھتے ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-society/madrasas-need-reform,-not-committees/d/7878

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/madrasas-need-reform,-not-committees--مدارس-کو-اصلاح-کی-ضرورت-ہے-کمیٹیوں-کی-نہیں/d/7901

 

Loading..

Loading..