New Age Islam
Mon May 23 2022, 10:00 PM

Urdu Section ( 10 Dec 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

How Not to Talk About Blasphemy توہین رسالت کے بارے میں کیسے بات نہ کی جائے

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

1 دسمبر 2021

1. توہین رسالت جیسے نظریات کی جدید دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

2. اہم نکات:

3. توہین رسالت مخالف قانون کا مطالبہ کرنے کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مذمت کی جانی چاہئے

4. دو حکمت عملی کے ذریعے اصلاح پسند مسلمان توہین رسالت کی مخالفت کر رہے ہیں

5. پہلا مذہبی تعبیر نو کا سہارا لیتا ہے؛ دوسرا موجودہ قومی قوانین سے مطمئن نظر آتا ہے

6. دونوں توہین رسالت کے قوانین کے خلاف جنگ میں ناکافی ہیں

 -----

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا حکومت سے توہین رسالت کے خلاف قانون کا مطالبہ کرنے کی حالیہ کوشش پر مسلم کمیونٹی کے اندر بڑے پیمانے پر بحث و مباحثہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ اسلام اور مسلم دشمنی میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن یہ سوچنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ کیا واقعی ایسے قانون کی ضرورت ہے یا یہ قانون ایسی سرگرمیوں کو ختم کرنے میں کارآمد ثابت ہو گا۔ اس کے علاوہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اس طرح کا قانون کن مقاصد کے لیے بنایا جائے گا اور اس کا مسلم معاشرے کے اندر موجود اختلاف پر کیا اثر مرتب ہوگا۔ مسلم معاشرے میں پہلے سے ہی ایسی آوازیں بہت کم ہیں۔ ایسے قانون کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ بچی کچی آوازیں بھی خاموش ہو جائیں گی۔

اور یہ کہ اے آئی ایم پی ایل بی کے ذریعہ اس طرح کے قانون کا مطالبہ کیا جارہا ہے اس کی بھی مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بورڈ آج مسلم معاشرے میں اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ این آر سی مخالف مظاہروں کے تناظر میں بورڈ کے سرکردہ ارکان نے احتجاج کرنے والے طلباء کا ساتھ نہیں دیا۔ متعدد مواقع پر جب انہوں نے بولنے کی کوشش کی تو احتجاج کرنے والے نوجوانوں نے ان کا بائیکاٹ کیا اور انہیں زدوکوب کیا۔ یہ رجعت پسند بورڈ جو کہ مسلم معاشرے کے اندر ہر طرح کے زن بیزار رویہ کو جائز قرار دیتا ہے، ہو سکتا ہے کہ اس طرح کے جذباتی مسائل کو اٹھا کر اپنی کھوئی ہوئی زمین کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ مزید برآں بورڈ کا مظلومیت کا رونا رونا غیر معقول ہے جب کہ ماضی میں اسی بورڈ نے دوسرے فرقے کے مسلمانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا ہے۔ مثال کے طور پر اسی بورڈ کے لئے یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہوگا اگر ان سے کہا جائے کہ وہ احمدیوں کے ساتھ بھی مسلمانوں جیسا سلوک کریں۔ درحقیقت، اس بورڈ کے ارکان احمدیہ برادری کی دوکانوں میں توڑ پھوڑ کرنے اور ختم نبوت کانفرنسوں کے انعقاد میں سب سے آگے رہے ہیں جن میں ان کا واحد ایجنڈا اس مذہبی فرقے کو بدنام کرنا ہوتا ہے۔

توہین رسالت یا توہین مذہب کا معاملہ صرف ہمارے ہی ملک تک محدود نہیں ہے۔ پوری مسلم دنیا میں ہم ایسے قانونی ڈھانچے کے نفاذ کا مشاہدہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے کسی کا بھی اسلام پر منصفانہ تنقید کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ 2020 تک پوری دنیا کے 84 ممالک میں توہین مذہب ایک مجرمانہ فعل تھا جبکہ 21 ممالک نے ارتداد کو جرم قرار دے رکھا تھا۔ اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ توہین آمیز سمجھے جانے والے اعمال کا متبادل فوجداری قوانین (جیسے ہندوستان میں) سے احاطہ کیا جاسکتا ہے، ان ممالک کی اصل تعداد جو آزادی اظہار رائے کو محدود کرتے ہیں، زیادہ ہونی چاہیے۔ ایسے جرائم کی قانونی سزا اکثر جرمانے سے لے کر قید اور جسمانی سزا تک ہوتی ہے۔ 12 ممالک میں، اس طرح کے جرائم موت کی سزا کا باعث بن سکتے ہیں۔

ایسے ممالک 12 ہیں: افغانستان، برونائی، ایران، پاکستان، مالدیپ، موریطانیہ، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، نائجیریا، صومالیہ اور یمن۔ اس میں حیرت کی بات نہیں کہ ان 12 میں سے 11 ممالک کا ریاستی مذہب اسلام ہے، سوائے نائجیریا کے جو کہ سرکاری طور پر سیکولر ہے، حالانکہ یہاں کی 12 ریاستیں متوازی طور پر شریعت کے تحت چلتی ہیں۔ سعودی عرب اور ایران میں توہین مذہب سے متعلق جرائم سزائے موت دی جاتی ہے۔ ان دونوں ممالک میں متاثرین زیادہ تر مذہبی اقلیتیں ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ توہین مذہب کے قوانین کو سیاسی اختلاف کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں توہین مذہب کے جرم میں آج تک کسی کو پھانسی نہیں دی گئی حالانکہ عدالتوں میں اس طرح کے مقدمات کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ یہاں جرمانہ اسلام کے نگہبان وصول کرتے ہیں، جو ریاست کے اشاروں پر گھناؤنے کام کرتے ہیں۔

بہت سے مسلمان توہین مذہب کی مخالفت کرتے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ جدید دنیا میں ایسے نظریات کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے پاس عام طور پر دو حکمت عملی ہے: توہین مذہب کے خلاف ایک اسلامی جوابی دلیل یا موجودہ سیکولر ریاستی قوانین کی حمایت۔ اگرچہ دونوں حکمت عملی قابل تعریف ہیں کیونکہ وہ جان بچانے کے لیے تیار کی گئی ہیں، لیکن ان کی اپنی حدود ہیں۔

اسلامی جوابی استدلال کی بنیاد مندرجہ ذیل قرآنی آیات پر ہے: "دین میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے" (2:256)؛ تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین‘‘ (9:106)۔ ’’جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کیے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلا لیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا‘ (5:32)۔ خود اسلامی روایت مسلمانوں کو یہ بتاتی ہے کہ قرآن سزائے موت کی بات نہیں کرتا بلکہ سزا کو خدا پر چھوڑتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو اپنے ہاتھ وہ کام نہیں لینا چاہئے جو حقیقی طور پر خدا کا استحقاق ہے۔ کچھ لوگوں کی دلیل ہے کہ توہین مذہب یا ارتداد کی سزا 15 صدیاں پہلے ہی متعین کر دی گئی تھی، اور اس کی کوئی مذہبی وجہ نہیں بلکہ غداری تھی۔ بالفاظ دیگر اسلام کو ترک کرنا مذہبی نہیں بلکہ ایک سیاسی جرم قرار دیا گیا تھا۔

اس قسم کی تاویلات کے پیچھے نیک نیتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اس طرح کی جوابی تشریح کا نہ تو مسلم راسخ العقیدہ پر اور نہ ہی ریاست پر کوئی خاص اثر ہوتا ہے جو اپنی اپنی تشریحات پر چلتے ہیں۔ اور چونکہ وہ اقتدار کے منصب پر فائز ہیں اسی لیے بالادستی انہیں کی تشریح کو حاصل ہوگی۔ آج بہت سے مسلمان ایسے موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے مذہب میں کون کون سی باتیں غلط ہیں۔ ایسی کوششوں کی درجہ بندی کیسے کی جائے؟ مذہب اور سیاست آپس میں اتنے گہرے ہیں کہ اکثر ان کو جدا کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ مذہب کی خلاف ورزی کا کوئی بھی عمل ایک سیاسی عمل بھی ہے، خاص طور پر یہ ایک ایسے مسلم معاشرے کے تناظر میں کیا جائے جہاں اسلام سے ایک عام سوال پوچھنا بھی مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ اس لیے اس کا جواب اسلامی نصوص کی از سر نو تشریح میں نہیں ہو سکتا بلکہ انسانی حقوق کے لیے حساسیت کو مضبوط کرنے میں ہے، نہ کہ صرف مسلمانوں کے حقوق کے لئے۔

دوسری حکمت عملی جس پر غور کرنا ضروری ہے وہ انڈین مسلمز فار سیکولر ڈیموکریسی جیسی جماعتوں کا ہے (انکشاف: یہ راقم الحروف اس کا ایک رکن ہے) جو زیادہ تر سیکولر اور مذہبی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ہندوستان کے مخصوص تناظر میں جہاں مسلم مخالف تعصب عروج پر ہے، ان کی دلیل ہے کہ موجودہ قوانین ہی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ لہذا، وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک علیحدہ انسداد توہین رسالت قانون کے مطالبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن کیا 'موجودہ قانون' کا استعمال ہندوستان میں شیطانی آیات کی اشاعت پر پابندی لگانے کے لیے نہیں کیا گیا تھا؟ اور کیا تسلیمہ نسرین اور ایم ایف حسین جیسے لوگوں کو سزا دینے کے لیے موجودہ قانون کو دوبارہ استعمال نہیں کیا گیا تھا؟ موجودہ ہندوستانی قانون کا دائرہ اتنا سخت ہے کہ توہین مذہب کو اس کے دائرہ کار میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ توہین رسالت کے قانون کے علمائے کرام کے مطالبے کی مخالفت کرنا معنی خیز ہے، لیکن ایسے موجودہ ریاستی قانون کو برقرار رکھنے کا کوئی مطلب نہیں جو اختلاف رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ 295(A) کی ضرورت کی طرف اشارہ کرنے کے بجائے، ہمیں یہ مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اسے آزادی اظہار اور اختلاف رائے سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کمزور کیا جائے۔

ایک ایسے وقت میں جب توہین مذہب کا تصور ہندومت جیسے دوسرے مذاہب میں درآمد کیا جا رہا ہے، اس بات پر زور دینا زیادہ اہم ہو چکا ہے کہ توہین کے حق کے بغیر اظہار رائے کا کوئی حق نہیں ہے۔

 English Article: How Not to Talk About Blasphemy

Malayalam Article: How Not to Talk About Blasphemy ദൈവദൂഷണത്തെക്കുറിച്ച് എങ്ങനെ സംസാരിക്കരുത്

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/blasphemy-aimplb-indian-muslims/d/125938

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..