New Age Islam
Mon Sep 27 2021, 08:32 PM

Urdu Section ( 6 Dec 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

From Extremism to Terrorism لندن حملے: انتہا پسندی سے دہشت گردی تک

ارشد عالم ، نیو ایج اسلام

07 جون 2017

انتہا پسندی اور دہشت گردی کے درمیان کس طرح خط امتیاز کھینچا جا سکتا ہے؟ شاید ان دونوں کے درمیان فرق عمل پر مضمر ہے۔ بہت سے لوگ انتہاپسند خیالات کے حامل ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں لیکن ان میں سے تمام لوگ اپنی اس ذہنی فکر کو حقیقت کا روپ نہیں دیتے۔ اگرچہ انتہا پسندی کاانفرادی شخصیت کے اعتبار سے اپنا ایک دائرہ اثر ہوتا ہے مثلاً خاندان کے افراد یا اس کے پڑوسی۔ لہٰذا، اگر کسی کے خاندان کے اندر ایک انتہا پسندانہ نظریہ موجود ہے، تو اس بات کی امید ہے کہ خاندان کے دیگر ارکان پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

اگر کسی کے والد کا نظریہ یہ ہو کہ صرف اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے اور اس کے علاوہ دیگر تمام مذاہب کو محو کر دیا جانا چاہیے ، تو یہ عین ممکن ہے کہ اس کا بیٹا بھی اس طرح کے نقطہ نظر کی تائید کرے۔ اگر اس فرد کو مقامی علاقے میں کوئی اہمیت اور مرتبہ حاصل ہو جس میں وہ رہتا ہے یا جس مسجد میں وہ تبلیغ کرتا ہے تو اس بات کے امکانات ہیں کہ وہ کم سے کم لوگوں کے ایک چھوٹے سےطبقے کو ضرور متاثر کرے گا۔ اور یہ بھی معقول ہے کہ انتہا پسندانہ نظریات کا حامل یہ شخص جو اپنے نظریات کی عوامی طور پر تبلیغ کرتا ہے ، اسے خود عملی شکل میں پیش کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ تشدد سے دست بردار ہو جائے اور اسے ذاتی طور پر نفرت انگیز جاننے لگے۔ لیکن یہاں قابل توجہ امر یہ ہے کہ اس کے نظریات سے متاثر لوگوں کا بھی ان نظریات کو محض بحث و مباحثہ تک ہی محدود رکھنا لازمی نہیں۔ بلکہ ان میں سے کچھ لوگ اس سے ایک قدم اور آگے بڑھ کر ان نظریات کو عملی شکل میں پیش کرنے کا بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

لندن میں حالیہ دہشت گردانہ حملے جن میں سات افراد جاں بحق ہوئے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے درمیان ان پیچیدہ تعلقات پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں۔ اگر چہ تیسرے حملہ آور کی شناخت ابھی دریافت نہیں ہوئی ہے، لیکن دیگر دو دہشت گردوں کی شناخت پاکستانی اور افریقی نسل کے برطانوی مسلمانوں کے طور پر ہوئی ہے۔ دہشت گردانہ حملوں کے مقاصد ہمیشہ پیچیدہ ہوتے ہیں؛ جن کا دائرہ موہوم سے لیکر حقیقی اور بامقصد وجوہات تک ہوتا ہے اور یہاں تک کہ کبھی کبھی یہ کسی گہرے مذہبی عقیدے کا رد عمل بھی ہوسکتا ہے۔

ان دہشت گردوں کا حقیقی محرک کیا ہو سکتا ہے یہ کہنا ابھی جلد بازی ہوگی، لیکن یہ حقیقت اس کے محرکات کی طرف غماز ہے کہ برطانیہ کی پولس نے ان میں سے ایک دہشت گرد کی شناخت ایک ایسے شخص کے طور پر کی ہے جس کا تعلق ایک مقامی مسلم گروہ سے ہے جو برطانیہ میں شرعی نظام قائم کرنے کی مہم چلاتا ہے۔ ایسے مسلمانوں پر مشتمل جو یہ مانتے ہیں کہ اسلام ہی آخری راستہ ہے یہ گروہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے لندن کی سڑکوں پر کھوم رہا ہے۔ اس گروپ کے کچھ ارکان جیل میں بھی وقت گزار چکے ہیں لیکن ان میں سے اکثر نے قانون کا ایک محفوظ راستہ اختیار کرنے اور ساتھ ہی ساتھ برطانیہ کو اسلام کی طرف مدعو کرنے کے اپنے مشن پر قائم رہنے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔

بی بی سی نے گزشتہ سال اس گروہ پر ایک پروگرام کیا تھا۔ جس کا عنوان ‘‘The Jihadist Next Door’’ تھا، اور اس پروگرام میں اس گروپ کی سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا تھا، جس سے ہمیں ان کے اس مضبوط ارادے کا علم ہوا جو وہ برطانیہ اور بالآخر پوری دنیا میں شریعت قائم کرنے کے تعلق سے وہ رکھتے ہیں۔ اس گروپ کے کا رکنان سڑکوں اور شاہراہوں پر عام لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں اور انہیں یہ بتاتے ہوئے اسلام کی دعوت دیتے ہیں کہ جمہوریت ایک گناہ ہے اور اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ انسان کے بنائے ہوئے قوانین کو خدا کے بنائے ہوئے قوانین کے حق میں منسوخ کیا جانا ضروری ہے جو قرآن اور سنت میں موجود ہیں۔ اس گروہ کے ارکان نے بار بار یہ کہا ہے کہ انتہا پسند مبلغ عمر بکری ان کا ائیڈیل رہا ہے۔ اس گروہ کا ایک رکن کہ جس کا تبدیل شدہ نام ابو رومیسا ہے ہجرت کر کے شام گیا اور داعش میں شامل ہوا۔ بعد میں جب وہ داعش کے ایک ویڈیو میں ظاہر ہوا جس میں اسے نارنگی لباس کے اندر کسی کا گلا کاٹتے ہوئے دکھایا گیا تھا ، اسے جہادی جان کے نام سے پکارا جانے لگا۔

بی بی سی کے دستاویزی فلم میں ابو رمیسا کو 'مغربی نظام' پر زبردست تنقید کرتا ہوا اور حکام سے یہ عہد کرتا ہوا دکھایا گیا تھا کہ اسے شام جانے اور جہاد میں شامل ہونے دیا جائے۔ بی بی سی کے دستاویزی فلم میں اس گروپ کے ایک اور رکن خرم شازاد بٹ کو بھی دکھایا گیا تھاجو دوسرے ارکان کے مقابلے میں ذرا نرم مزاج تھا۔ دعا سے قبل داعش کا پرچم لہراتے ہوئے دکھائے گئے خرم شازاد کو اپنے انتہاپسندانہ نظریات کو عملی شکل میں پیش کرنے میں صرف ایک سال کا عرصہ لگا۔ اس خنجر بردار مسلمان کی نظر میں پوری دنیا کافر تھی اسی لئے جو بھی اس کے ہاتھ آتا اسے قتل کرنے سے قبل وہ دو مرتبہ سوچنے کی بھی زحمت گوارہ نہیں کرتا۔ برطانیہ میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والے اس نوجون کی ضرور زبردست انداز میں منفی ذہن سازی کی گئی ہو گی اس لئے کہ اندھی تقلید کے بغیر یہ امر ناقابل فہم ہے کہ وہ ایسا کام کیوں اور کیسے کرے گا۔ ابو رومیسا کے آئیڈیل کی فہرست میں عمر بکری کا نام شامل تھا۔ خرم شازاد کے بارے میں تحقیقات میں اگر انجم چودھری یا انور الالہ جیسے نام سامنے آئیں تو کسی کو حیران ہونے کی ضروت نہیں ہے۔

ان تمام باتوں کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ ان قاتلوں کے پیچھے کوئی نظریاتی تحریک ضرور موجود ہے اور ضروری ہے کہ عسکریت پسند جہادیت کے ان نام نہاد نظریہ سازوں کی شناخت کی جائے اور انہیں نمایاں کیا جائے۔ ڈھاکہ کے حملوں میں ملوث نوجوانوں نے ذاکر نائک کو اپنا آئیڈیل بتایا تھا۔ لیکن یہاں بجا طور پر یہ بات کی جا سکتی ہے کہ ہر عسکریت پسند کے لئے دیگر لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو ذاکر نائک یا عمر بیکری جیسے مبلغین کی باتوں سے یہی پیغام نہیں نکالتے ہیں۔ لیکن اس دلیل میں اس باریک نقطہ نظر کی کمی ہے کہ دہشت گردانہ حملے انجام دینے کے لئے کسی کو فوج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک یا دو قائل افراد تباہی مچانے کے لئے کافی ہیں۔ لہذا ایسے اماموں پر نگرانی رکھنا ایک بہت بڑی ضرورت ہے جو اسلام یا کسی بھی دوسرے مذہب کے نام پر نفرت پھیلاتے ہیں۔ ان کی تقریروں کی گہری جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے اور اگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تقریریں تکثیریت پسندی کے خلاف ہیں تو انہیں اپنی دکانوں کو بند کرنے کے لئے کہا جانا چاہئے۔ لیکن بالآخر، یہ خود مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے درمیان موجود اس طرح کے نظریہ سازوں کی تعلیمات سے خود کو الگ کریں اور انہیں مسترد کریں۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/arshad-alam,-new-age-islam/london-attacks--from-extremism-to-terrorism/d/111447

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/from-extremism-terrorism-/d/113477


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..