New Age Islam
Thu Jul 29 2021, 02:47 PM

Urdu Section ( 15 Jul 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Can the Saudi Regime Become Modern by Executing Minors کیا سعودی حکومت نابالغوں کو سزائے موت دے کر جدت پسند ہوسکتی ہے؟

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

16 جون 2021

سعودی حکومت نہ صرف خاشوگجی جیسے صحافیوں کا قتل کرتی ہے بلکہ مصطفیٰ ہاشم جیسے نابالغوں کو بھی تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔

اہم نکات:

·         سعودی حکومت نے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک نابالغ کو موت کی سزا دی ہے۔

·         اس نے اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل سے جھوٹ بولا کہ وہ اب نابالغوں کو سزائے موت نہیں دے گا۔

·         عالم مغرب اور امریکہ اختلاف رائے پر اس قدغن پر خاموش ہیں۔

·         جو لوگ ایم بی ایس (محمد بن سلمان) کو اسلامی اصلاحات کا نقیب سمجھتے ہیں انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ اپنے شہریوں کو ایک خاص حد تک آزادی دئے بغیر حقیقی اصلاح نہیں ہوسکتی ہے۔

---------

Mustafa Hashem al-Darwish, 26, was beheaded yesterday amid worldwide appeals for a reprieve. (Photo courtesy: The Times)

----

سعودی حکومت نہ صرف خاشوگجی جیسے صحافیوں کا قتل کرتی ہے بلکہ یہ نابالغوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنانے اور ان کو قتل کرنے کا شوق رکھتی ہے۔ مصطفیٰ ہاشم کو حال ہی میں دہشت گردی سے متعلق الزامات میں سزائے موت دی گئی ہے۔ اس پر بالخصوص سعودی حکومت کے خلاف مظاہروں میں حصہ لینے، ایک پولیس افسر کو ہلاک کرنے اور بم دھماکے کی سازش کرنے کا الزام تھا۔ جس طرح سے سعودی نظام عدل کام کرتا ہے ان میں سے ہر الزام کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا ایک انتہائی مشکل ترین امر ہے۔ لیکن کسی بھی حکومت مخالف سرگرمی کو دہشت گردی اور بغاوت قرار دینے کے حکومتی میلان کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ اسے محض احتجاج میں شریک ہونے کی وجہ سے مار دیا گیا۔

اس کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ مصطفی ہاشم کو سن 2015 میں حراست میں لیا گیا تھا پھر رہا کر دیا گیا لیکن بعد میں اسے گرفتار کر لیا گیا کیونکہ اس کے فون پر ایک ’ قابل اعتراض‘ تصویر ملی تھی۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قتل کی مذمت کی ہے اور اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ جب ہاشم کو گرفتار کیا گیا تو وہ نابالغ تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی حکومت نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ نابالغوں کو سزائے موت نہیں دیں گے بلکہ اس طرح کی تمام سزاؤں کو سزائے قید میں بدل دیں گے۔ 2021 تک سعودی حکومت کا اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل کے سامنے یہی بیان تھا کہ ’جو بھی نابالغ کسی ایسے جرم کا ارتکاب کرتا ہے جس کی سزا موت ہے تو اسے نابالغ حراست میں دس سال کی سزائے قید دی جائے گی‘۔ واضح تھا کہ سعودی حکومت جھوٹ بول رہی تھی کیونکہ اس نے اپنے ہی وعدے پر عمل نہیں کیا۔ یا یہ ہوسکتا ہے کہ ایک نابالغ کی ان کی تعریف اقوام متحدہ سے مختلف ہو۔ بہرحال، اسلامی قانون کے مطابق جوانی کی علامت بلوغت ہے۔ کون بھول سکتا ہے کہ پاکستانی دہشت گردوں نے 2014 میں مختلف احادیث سے اس بات کا حوالہ پیش کر کے اسکولی بچوں کے قتل کا جواز پیش کیا تھا کہ بلوغت کے آغاز کے ساتھ جوانی شروع ہو جاتی ہے؟

سعودی حکومت کا دفاعی جواب یہ ہے کہ ہاشم نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا جرم قبول کر لیا تھا۔ ایک مطلق العنان حکومت کی اس دلیل کو کوئی بھی سچ نہیں مان سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہاشم کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا اور اسے اس بے رحمی سے مارا پیٹا گیا کہ وہ متعدد مرتبہ ہوش کھو چکا تھا۔ اپنے اوپر ہو رہے اس تشدد کو ختم کرنے کے لئے ہی اس نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا اقرار کیا تھا۔ اس حقیقت کی عکاسی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ عدالت میں اپنے اعتراف جرم سے پھر گیا تھا اور جج کے سامنے یہ بیان دیا تھا کہ اس نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ لیکن کیا کیا جائے اذیت پسند سعودی حکومت اسے مارنے کا ذہن بنا چکی تھی اور رحم کی اس کی ساری التجائیں ان سنی کر دی گئیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ جس ملک میں محض کسی مظاہرے میں حصہ لینے پر کسی نوجوان کو سزائے موت دی جا سکتی ہے تو کیا اس ملک میں انصاف کا کوئی بھی تصور باقی رہ گیا ہوگا؟ حکو مت کے پاس ہاشم کے اہل خانہ کو اس کی موت کی خبر دینے کی بھی شرافت نہیں بچی کیوں کہ انہیں اس کی خبر ایک آن لائن نیوز پورٹل کے ذریعہ ملی۔

کسی کو یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ہاشم کے فون میں ایسی کون سی تصویر تھی جس نے سعودی حکومت کو اتنا سخت پریشان کر دیا تھا۔ لیکن سب سے اہم سوال جو کوئی بھی نہیں پوچھتا وہ یہ ہے کہ سعودی پولیس نے اس تصویر کو بازیافت کرنے کے لئے اس کے فون کو کس طرح ہیک کیا؟ انہوں نے کون سی ٹکنالوجی استعمال کی؟ ہم جانتے ہیں کہ صرف ایک واحد ملک اسرائیل میں ہی یہ صلاحیت ہے اور وہ اپنے ’دوستوں‘ کے ساتھ اس کا اشتراک کرنے پر آمادہ بھی ہے۔ اسرائیل اور سعودی عرب کے مابین نئی دوستی اب بالکل صحیح تصور پیش کرتی ہے کیونکہ اس سے سعودی حکومت کو وہ ٹکنالوجی حاصل ہو جائے گی جس کے ذریعے وہ اپنے ہی شہریوں کی نگرانی کرسکتی ہے۔ سعودی-اسرائیل دوستی سعودی عوام پر جبر و تشدد کے لئے نئے آلات حاصل کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے کیونکہ حکومت کو خدشہ ہے کہ آج نہ کل ضرورعرب بہاریہ پھر سر اٹھائے گا۔

سعودی شہزادہ جسے ایم بی ایس (محمد بن سلمان) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے دنیا کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اپنی مملکت میں لبرل تبدیلیوں کا آغاز کر رہا ہے۔ حال ہی میں اس نے مسلم خواتین کو بغیر کسی سرپرست کے حج کرنے کی اجازت دی ہے۔ جسے ایک انقلابی قدم کہا گیا وہ سعودیوں کو ایک جدت پسند ملک بنانے کے بجائے 10 ویں صدی میں پہونچا دے گا۔ کوئی بھی جدت پسند معاشرہ اختلاف رائے کے لئے راستے نکالتا ہے لیکن سعودی بادشاہ اپنے لوگوں کی جانب سے آواز اٹھائے جانے سے خوفزدہ ہے۔ اسی خوف کی وجہ سے سعودی حکومت بغیر کسی ندامت کے لوگوں کا قتل کر رہی ہے۔ سن 2019 میں سعودی حکومت نے دہشت گردی سے متعلقہ جرائم کے الزام میں بڑے پیمانے پر 37 شہریوں کو قتل کی سزا دی تھی جس میں 34 شیعہ اور 6 مصدقہ طور پر نابالغ بچے تھے۔ سن 2016 میں پھر سے دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت سعودی حکومت نے ایک ہی دن میں 47 افراد کو قتل کی سزا دی تھی۔ حقوق انسانی کے علمبرداروں اور لبرل مغرب نے اپنے ہی عوام پر سعودی حکومت کے مظالم پر مسلسل خاموشی برقرار رکھی۔ یہ شرمناک بات ہے کہ ہر قسم کے اختلاف رائے پر سعودی حکومت کے اس جبر و تشدد کی ان میں سے کسی بھی ملک نے کوئی سرزنش نہیں کی۔

جو لوگ ایم بی ایس (محمد بن سلمان) میں امید کی کرن دیکھتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ مملکت میں حقیقی اصلاح اپنے ہی شہریوں پر اعتماد کیے بغیر نہیں آسکتی۔ کسی بھی اہم تبدیلی سے پہلے کہ جن کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، اپنے شہریوں کے ساتھ حکومت کو بات چیت کرنے اور انہیں اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایم بی ایس (محمد بن سلمان) اپنی حکومت پر کسی بھی طرح کی تنقید کا سر کچلتے چلے جائیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ دعویٰ بھی کریں کہ وہ اپنی اسلامی امارت میں ایک نئی صبح طلوع کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ یہ سراسر منافقت ہے حکومت کے پروپیگنڈا گزار جتنی جلد اس کا احساس کر لیں اس ملک کے مستقبل کے لئے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

------------

Related Article:

Can The Saudi Regime Become Modern by Executing Minors?

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/saudi-executing-modern/d/125088


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..