New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 02:14 AM

Urdu Section ( 26 Aug 2016, NewAgeIslam.Com)

Anjem Choudary and His Followers Bring Shame to Islam انجم چودھری اور ان کے پیروکار اسلام کو ذلیل و رسوا کر رہے ہیں


ارشد عالم، نیو ایج اسلام

20 اگست 2016

 

لوگوں کو یاد ہوگا کہ انجم چودھری دنیا کو یہ بتانے میں لگے ہوئے ہیں کہ اسلام دنیا کا سب سے بہترین مذہب ہے۔ ذاکر نائیک کیہی طرح وہ شریعت جیسے مقد س نظام کے ذریعےبرطانوی معاشرے کو اسلام کے فضائل و کمالات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ موقع ہاتھ آتے ہی انہوں نے ایک شخص کو کلمہ بھی پڑھا دیا اور پھر پوری دنیا کے سامنے یہ اعلان کیا کہ ایک اور شخص دامن اسلام میں داخل ہو چکا ہے۔عقلمند لوگ ان کے اکثر خیالات و نظریات سے اختلاف اور انکار کریں گے، لیکن انجم اور ان کے حامیوں کے لئے شریعت سے بہتر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ؛صرف اسی طرح کے قانون کے ذریعے مسلمانوں کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ واقعی ایک اسلامی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں انجم نے پورے برطانیہ پر شریعت کے نفاذ کی بات کہی تھی اس لیے کہ ان کے مطابق برطانوی شہری ذمی کی حیثیت سے اور بھی بہتر ہوں گے۔

انجم برطانوی پارلیمنٹ کے اوپر ایک اسلامی پرچم کی خواہش رکھنے کے لیے مشہور ہیں۔ صرف اسلام کے ذریعے ہی برطانیہ اپنی روح کو بچانے کے قابل ہو سکے گا۔اسی لیےاسلام صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ پورے برطانوی معاشرے اور وسیع پیمانے پر پوری دنیا کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔یقین ااگر کوئی ایسا دو جہتی نظریہ ہے جس کی اسلام وکالت کرتا ہے تو پھر انجم چودھری اس کی بہترین مثال ہیں۔ان کے مطابق مسلمانوں کی دنیا غیر مسلموں کی دنیا سے مختلف ہونی چاہئے۔ اور ہر ایک مسلمان کی خواہش دعوت و تبلیغ کے ذریعے اور ممکن ہو تو جہاد کے ذریعہ بھی ایک غیر مسلم دنیا کو مسلم دنیا میں تبدیل کرنا ہونی چاہئے۔انجم جہاد کے بجائے ذہن سازی اور دعوت و تبلیغ کی راہ منتخب کریں گے لیکن اس کے باوجود وہ فرد جرم سے بچ نہیں سکتے۔

انجم چودھری کو دہشت گردی کے الزام میں قصور وار ٹھہرایا جا سکتا ہے یا نہیں اس کی تنگ قانونی تشریحات سےاوپر اٹھ کرسب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کس چیز کو فروغ دے رہے تھے۔ان کا شریعت کی وکالت کرنا، دہشت گردی کی مذمت کرنے سے مکمل طور پر انکارکرنا اور یہاں تک کہ اس غیر معقول عذر کےتحت ان کا اسامہ بن لادن جیسے لوگوں کو دہشت گرد کہنے سے انکار کرنا کہ میں نے ان سے ملاقات نہیں کی ہے، زیادہ اعتماد پیدا نہیں کرتا۔

 اسی طرح اس عذر کے تحت ان کا واضح طور پر داعش کی مذمت نہ کرنا بھی اتنا ہی شرمناک کہ میں نے ایک مسلمان کی مذمت اس لیے نہیں کی کیونکہ ان کے مذہب نے انہیں ایسا کرنے سے روکا ہے اور اس کا مقصد سچ بولنے کی خواہش کے بجائے قانون کی گرفت سے راہ فرار اختیار کرنا ہے۔ ایک ایسی صورت حال میں جہاں دنیا بھر کے مسلمانوں کو ان کے مذہب کی گمراہ کن تشریحات کی بنیاد پر سوالات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، برطانوی معاشرے میں اس بات کا اعلان کرنا کہ شریعت مقدس اور ناقابل تغیر ہے اس کا برعکس ہے جو انجم چودھری جیسے شخص سے مطلوب ہے۔

در اصل یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ انجم چودھری کے معاملے پر خاص طور پر ہندوستان کےتناظر میں مسلم سوسائٹی گہرائی کے ساتھ غور و خوص کرے۔یہ بات لوگوں کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ انجم چودھری اور ذاکر نائیک جیسے لوگوں کی پیروی ہندوستانی مسلمان ایک بڑی تعداد میں کرتے ہیں۔ان دونوں افراد نے اسلام کے سوالات پر حقارت کا اظہار کیا ہے اور وہ ایک ایسے نظریہ کو فروغ دے رہے ہیں جس کے مطابق اسلام دیگر تمام مذہبی اور سیاسی نظریات کے مقابلے میں برتر و بالا ہے۔

سب سے بڑا مسئلہ اگرچہ یہ ہے کہ دونوں ایک معقول حد تک تعلیم یافتہ ہیں۔یہ اسلامی دہشت گردی کے اندر ایسے دوسرے رجحانات کی ہی طرح ہے جن میں غیر معقول تشدد کے پیچھےانہیں تعلیم یافتہ مسلمانوں کے دماغ کار فرما رہے ہیں۔خواہ وہ11/9کا واقعہ ہو، بالی بم دھماکوں کا واقعہ ہو یا ڈھاکہ حملوں کا حالیہ واقعہ ہو، ان حملوں میں ملوث مسلم افراد کا تعلق تعلیم یافتہ پس منظرسے ہے۔اس حقیقت کے پیش نظر کہ ہندوستانی مسلمان تعلیم کے معاملے میں یہاں کی اکثر کمیونٹیز کے مقابلے میں کافی پسماندہ ہیں، یہ واقعی ایک افسوس ناک ماجرا ہے۔اس لیےکہ اس طرح کے لوگوں سے یہ امر متوقع ہے کہ یہ لوگ مسلم کمیونٹی کے آئیڈیل اوررول ماڈل بننے کے لئے اپنی تعلیمی صلاحیت کا استعمال کریں گے۔وہ رول ماڈل تو بن رہے ہیں لیکن ایک بالکل مختلف قسم کے۔اس لیے کہ انہوں نے اپنے لیے جو راستہ منتخب کیا ہے وہ دوسروں سے اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ امت مسلمہ کو صرف نفرت انگیز تنقید کا ہدف بننے کے سنگین خطرے سے دوچار کریں۔

لیکن شاید اس طرح کے خیالات و نظریات انجم چودھری کی طرح ہمارےمبلغوں کے لیے پریشان کن نہیں ہیں۔اگر مسلم کمیونٹی سے نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے یا ان کی تضحیک و تذلیل کی جاتی ہے تو شایدانہیں اس سے خوشی ہوگی اس لیے کہ اس سے انہیں مسلمانوں کو یہ بتانے کی ان کی سیاست میں مدد ملے گی کہ یہ دنیا ان سے نفرت کرتی ہے۔ایک بنیادی سوال جو اب تک نہ تو چودھری سے نہ نائک سے اور نہ ہی دوسرے لاکھوں مسلمانوں کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں تذلیل و تضحیک کا نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے۔جب وہ 21ویں صدی میں قرون وسطی کے قانون پر عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں تو اس سے وہ اور کیا امید رکھتے ہیں؟کیا انہیں یہ لگتا ہے کہ جب وہ معمولی چوری کے لئے ہاتھ کاٹنے کی وکالت کریں گے اور زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کو خود مختاری سے محروم کر کے غلامی کا جواز پیش کریں گے تو پوری دنیا میں ان کی تعریف کی جائے گی جبکہ جنسی تشدد سے نمٹنے کے لیے ان کے پاس کوئی قانون نہیں ہے؟ یاانہیں اس بات کا یقین ہے کہ ان کے نامعقول خیالات و نظریات سےقطع نظر پوری دنیا میں انہیں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے؟کیا یہ کچھ بھی کیے بغیربہت بڑی اجرت کی توقع رکھنا نہیں ہے؟

 

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-society/arshad-alam,-new-age-islam/anjem-choudary-and-his-followers-bring-shame-to-islam/d/108316

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/anjem-choudary-and-his-followers-bring-shame-to-islam---انجم-چودھری-اور-ان-کے-پیروکار-اسلام-کو-ذلیل-و-رسوا-کر-رہے-ہیں/d/108378



Loading..

Loading..