New Age Islam
Thu Dec 02 2021, 08:01 PM

Urdu Section ( 29 Sept 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Education: Sacred or Secular تعلیم: مقدس (دینی) یا دنیوی


عارف محمد خاں

28ستمبر،2020

مجوزہ مدرسہ بورڈ معرض خطر ہے۔ علماء کی مخالفت کو محسوس کرتے ہوئے وزیر برائے ترقیات وسائل انسانی نے 3اکتوبر 2009 کو اعلان کیاکہ حکومت دینی تعلیم میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی اور یہ یقین دلایا کہ اگر مسلم فرقہ اس بورڈ کو نہیں چاہتا تو حکومت مجوزہ بل کو مسترد کردے گی۔تاہم یہ سرکاری یقین دہانی، اردو پریس میں شائع ہونے والی تنقیدوں کی لہر کو روکنے میں ناکام رہی حکومت کے اس اقدام کو اسلامی تعلیم کو سبوتاژ کرکے مسلمانوں کو ان کے دینی تشخص سے محروم کرنے کی ایک جامع سازش کا حصہ قرار دیا گیا۔محالفت میں،حسب توقع، ہندوستان کے دو اہم مدارس، دیوبند اور ندوہ،پیش پیش رہے۔واضح ہومذکورہ بالا مدارس کو متعدد ممتاز مسلمانوں کا تعاون حاصل ہے۔

مجوزہ بل کے مشمولات کے مطابق،اس کا مقصد مدرسہ تعلیم کے غیردینی پہلوؤں کو معیار کے مطابق بنانا اور دینی نصاب میں کسی قسم کی مداخلت کے بغیر غیر دینی مضامین کی تعلیم وتدریس کو فروغ دینا ہے۔ اس بل کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ بورڈ سے مدرسوں کے اندراج یا الحاق کو لازم قرار نہیں دیتا بلکہ یہ الحاق کے بعد بھی مدرسے کو یہ اختیار دیتاہے کہ اگر وہ بورڈ کے دائرے سے باہر نکلنا چاہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔

اس اسکیم کے تحت،دیوبند اور ندوے جیسے مدرسے اپنے موجودہ نظم و نسق کے ساتھ اپنی درس گاہیں چلا سکتے ہیں،لیکن برائے نام بجٹ پرچلنے والے مدرسے مدرسہ بورڈ کے قیام سے استفادہ کرسکتے ہیں۔دینی تعلیم کے نصاب کو اپنے صوابدید کے مطابق طے کرنے کی آزادی کے ساتھ مدارس اپنے طلبا کو دینی اور غیر دینی دونوں ہی قسم کی تعلیم سے آراستہ کرسکتے ہیں۔ مدرسوں سے اسکولی سطح کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد طلبااپنی ترجیحات اور اہلیت و استعداد کے مطابق اعلیٰ تعلیم میں شعبہ تعلیم کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

دیوبند کے چند ممتاز علماء نے امور مدرسہ میں رہنما ہدایات کے طور پر بانی مدرسہ دیوبند مولانا قاسم نانوتوی کے تحریر کردہ ”اصول ہشتگانہ“کا حوالہ دیا۔ان میں سے ایک اصول میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کسی مدرسہ کے لئے یہ بڑی خوبی اور سعادت ہے کہ وہ مکمل طور پر سرکاری امداد یا تعاون کی احتیاج سے آزاد ہو۔

دوسری جانب اگر ہم جمعیۃ علماء کے سالانہ اجلاس کی رواداد کا بنظر غائر جائزہ لیں تو یہ اندازہ ہوگا کہ آخر علماء سرکاری امداد لینے سے کیوں گریزاں تھے۔جمعیۃ علماء دیوبند پر مشتمل ہے۔ 1955 میں سرزمین کلکتہ پر ہونے والے اجلاس میں جمعیۃ نے کہا:

”برطانوی دور حکومت میں، علما ء اپنے اداروں کو چلانے کے لئے کسی قسم کی سرکاری امداد لینے کے مخالف تھے۔ لیکن اب ہندوستان میں خود اس کی قوی حکومت ہے۔ چنانچہ علماء کو حکومت سے تعاون کرنا چاہئے اورا س کے پروگراموں میں حصہ لینا چاہیے۔ اس اصول کو تسلیم کرنے کی صورت میں مدارس کو اپنے نصاب کی اصلاح اور جدید مضامین کو شامل کرنا ضروری ہوگا۔ یہ قدم فارغین مدرسہ کو ایسی استعداد سے مزین کردے گا جو قومی امور میں شریک وسہیم ہونے کے لئے لازمی ہے۔“

شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں تعلیمی اداروں نے نیٹ ورک کی توسیع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متنبہ کیا:

”دینی تعلیم کو عصری تعلیم سے جدارکھنا صحیح نہیں ہے۔ ملی مفادات کا تقاضہ ہے کہ ہم دینی تعلیم میں پرائمری اسکولوں کا نصاب شامل کریں تاکہ ایسے فارغین پیدا ہوں جو دور جدید کے امور میں شرکت کرنے کے پوری طرح اہل ہوں۔ ہماری کوششیں حکومت کے تعلیمی پروگراموں میں ممدومعاون ہوں گی اور حکومت پر یہ فریضہ عائد ہوگا کہ وہ ہمارے اداروں کو مساوی حیثیت اور یکساں سہولتیں دے کر اپنا دست تعاون دراز کرے۔“

یہ نصیحت وفہمائش کرتے ہوئے مولانا نے اپنی تقریر ختم کی کہ ’تعلیم اس قدر وسیع ہونی چاہئے کہ وہ اس امر کی ضامن ہوجائے کہ ایک مسلمان صرف مسجد کی آرائش وزیبائش نہیں ہوتا بلکہ وہ یکساں طور پر سیکولر میدان عمل میں بھی ایک پرخلوص نیک نفس اور صاحب کردار ہوتا ہے۔‘

مدرسہ بورڈ کچھ اہم نہیں لیکن کیا مدارس کے ارباب حل و عقدان کے صلاح ومشوروں پرکان دھریں گے اور ایک ایسا جامع نظام وضع کریں گے جو تمام علم جو آگہی کو یکساں نگاہ قدر و منزلت سے دیکھتا ہو اور اسلامی اور غیر اسلامی زمروں میں دانش و بینش کی تقسیم نہ کرتا ہو؟

28ستمبر،2020، بشکریہ: روزنامہ راسٹریہ سہارا، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/education-sacred-secular-/d/122988


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..