New Age Islam
Thu Sep 16 2021, 11:52 AM

Urdu Section ( 6 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Early Islam saw the rise of Free-thinking women آزاد خیال عورتوں کا عروج ابتدائے اسلام میں دیکھا گیا

 

عارف ایم خان

(انگریزی سے ترجمہ : نیو ایج اسلام)

اسلام نے نہ صرف مساوات اور عورتوں کے لئے وقار کا شعور عطا کیا تھا،  بلکہ یہ کہتے ہوئے بچی  کو ہلاک کرنے کی سخت ملامت کی تھی "جب زندہ دفن کی گئی  بچی سے پوچھا جائیگا کہ اسے کس جرم میں ہلاک کیا  گیا؟" ( 9-8 ۔81)۔ فتوی سازوں سے بھی یہ سوال کیا جا سکتا ہے کس  جرم کی پاداش میں  وہ خواتین کو ان کے  گھروں کی چار دیواری کے اندر محدود کرنا چاہتے ہیں۔

کام کرنے والی  عورتوں کے متعلق حال ہی میں دیوبند کے فتویٰ نے ایک زبر دست  بحث چھیڑ دی ہے ، وہ تبصرے جو نوجوان مسلم مردوں اور عورتوں کے ذریعے کئے گئے  وہ خاص طور پر واضح تھے۔ چونکہ یہ فتوی غالباً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے سالوں  بعد کے قانونی  اصولوں پر مبنی ہے، اس بات کی تحقیق کرنے کے لئے کہ،  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتوں کی حالت کیا تھی، اوائل مسلم معاشرے میں مروی کچھ واقعات  پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں مذکور ہے جسے امام مالک اور مسلم نے روایت کی ہے  ، "فاطمہ بنت قیس مدینہ کی  ایک مہاجر عورت  تھیں جب وہ بیوہ ہو گئیں تو انہیں شادی کےلئے  تین پیغامات  موصول ہوئے  ۔ چونکہ ایک پیغام اسامہ بن زید کا تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک آزاد کردہ غلام تھے اسلئے  انہوں نے یہ معاملہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد  کرنے کا فیصلہ کیا، اور ان کی طرف سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے لئے انہیں کہا۔ مزید برآں انہوں نے اپنے فوت شدہ شوہر کے گھر کو چھوڑ دیا تھا،اسی لئے انہوں نے اس سوال پر تبادلہ خیال کیا کہ  اسے اس کی (عدت )  کی مدت کہاں گزارنی چاہئے ۔ سب سے پہلے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں  ام شارک کے گھر جانے کی صلاح دی جو مدینہ کی ایک امیر عورت تھی جو اور اپنی سخاوت اور مہمان نوازی کے لئے جانی جاتی تھی۔ لیکن اپنی رائے پر نظر ثانی کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے، ان سے کہا کہ، 'ایسا نہ کرو کیونکہ ام شارک سے لوگ  اکثر ملنےآتے ہیں ، اور میں آپ کو کھلے سر اجنبی لوگوں کے سامنے آنے نہیں دینا  چاہتا۔ "دوسرے نسخے میں  ہے کہ،" یہ وہ عورت ہے، جس کے پاس میرے بہت سارے صحابہ جاتے ہیں "(مؤطا 29 ۔67 اور مسلم 1373) ۔ لہذا، حدیث کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ مدینہ میں ایسی خواتین تھیں جن سے لوگ ملنے جاتے تھے اور وہ مہمانوں  کی میزبانی کرتی تھیں، صرف متعلقہ لوگوں کی  ہی نہیں، اور یہ کہ ان خواتین کا  اعلی سماجی وقارتھا۔

ایک اور دلچسپ حکایت  سے یہ پتہ چلتا ہے کہ، خواتین نے،کتنی تیزی سے  اپنی آزادی اور آزاد سوچ کی حفاظت کی۔ ایک غلام عورت، جنہیں بریرہ کہتے ہیں، انہوں نے اپنی آزادی کا معاملہ کیا  اور رقم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی کیے ذریعہ ادا کی گئی ۔ اس آزادی کے بعد، بریرہ نے  مغیث سے ،شادی منسوخ کرنے کے اپنے قانونی حق کا استعمال کیا، وہ شخص جس سے اس نے غلامی کی حالت میں  شادی کی تھی۔ مغیث  بریرہ  سے بہت محبت کرتے تھے اور اس سے الگ رہنا  برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ وہ شکشتہ دلی کے ساتھ  روتے اور اس کا نام الاپتے ہوئے ،مدینہ کی گلیوں میں گھومتے۔ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں  دیکھا اور ان کی حالت سے واقف ہوئے اور پوچھا، "تم اسے کیوں نہیں لوٹا لیتے ؟" بریرہ نے پوچھا، "کیا آپ  مجھے ایسا کرنے کا حکم دے رہے ہیں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا،" نہیں۔ میں صرف اس کے لئے سفارش کر  رہا  ہوں ، بریرہ نے یہ کہتے ہوئے ان کے مشورہ کو رد کر دیا  کہ‘‘مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے’’(7۔206 بخاری) ۔

خواتین کے ذریعہ، انتخاب کی آزادی کی توثیق ،کی تصویر کشی مضبوطی کے ساتھ،تہبت بن قیس  (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابہ) کی بیوی سے متعلق ، ایک دوسرے واقعہ میں کی گئی ہے ۔ وہ عورت اپنی شادی سے خوش نہیں تھی، اور اس کے شوہر سے قانونی علیحدگی کی تلاش میں اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رابطہ کیا ۔ پوچھے جانے پر انہوں نے تسلیم کیا کہ تہبت  ایک اچھے کردار کا آدمی ہے، اور ایک شوہر کے طور پراس نے  اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا۔ "لیکن جسمانی طور پر وہ بہت بدصورت ہے، اور جب وہ میرے پاس آتا ہے تو مجھے نفرت محسوس ہوتی ہے  ۔ انہوں نے کہاکہ  مجھے ڈر ہے کہ اس کی وجہ سے مجھ سے کوئی گناہ نہ ہو جائے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا، ‘‘کیا تم اس  باغ کو لوٹا  دوگی ، جو اس نے تمہیں جہیز کے طور پردیا ہے ؟’’انہوں نے مثبت جواب دیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوہر کو طلب کیا اور اس کو ان  کا باغ واپس لینے اور اسے طلاق دینے  کا حکم دیا ۔

خلیفہ عمر کی مندرجہ ذیل گواہی ،آج اسلامی قانون کے چیمپئن کو  چونکانے والی لگ سکتی ہے، لیکن اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ خواتین نے  اپنے  حقوق، کس سختی کے ساتھ  جتائیں ہیں ۔ وہ کہتے ہیں، "ایک دن  میں اپنی بیوی پر چلّایا اور اس نے اس کا جواب اسی طرح دیا  ۔ اس کے بعد انہوں نے کہا: تم اتنے پریشان کیوں ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں انکو پلٹ کرجواب دیتی تھیں، اور ان میں سے کچھ نے ان سے  پورے دن بات نہیں کی۔ انہوں نے جو کہا اس نے مجھے ہیبت زدہ کر دیا  ۔۔۔ پھر میں تیار ہوا ور حفصہ کے پاس گیا (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی) اور ان سے پوچھا: کیا تم میں سے کوئی  بھی، رسول اللہ( صلی اللہ  علیہ وسلم)کو پورے دن  ناراض بھی رکھ  سکتی ہے؟ انہوں نے  اثبات میں جواب دیا "(648 .3 بخاری) ۔

اسلام نے نہ صرف مساوات اور عورتوں کے لئے وقار کا شعور عطا کیا تھا،  بلکہ یہ کہتے ہوئے بچی طفل کشی کی سخت ملامت کیا تھا ، "جب عورت، زندہ مدفون ہوئی ، تو سوال یہ ہے  کہ ، کس جرم کے لئے اسے ہلاک کیا  گیا تھا؟" ( 9-8 ۔81)۔ فتوی سازوں سے بھی یہ سوال کیا جا سکتا ہے جس  جرم کی پاداش میں  وہ خواتین کو ان کے  گھروں کی چار دیواری کے اندر محدود کرنا چاہتے ہیں۔

ماخذ: دی سنڈے گارجین

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/islamic-ideology/early-islam-saw-the-rise-of-free-thinking-women/d/2933

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/arif-m-khan--عارف-ایم-خان/early-islam-saw-the-rise-of-free-thinking-women--آزاد-خیال-عورتوں-کا-عروج-ابتدائے--اسلام-میں-دیکھا-گیا/d/11447

 

Loading..

Loading..