New Age Islam
Fri May 14 2021, 07:16 PM

Urdu Section ( 23 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Shab-e-Barat: A Night of Blessings, Remorse and Salvation شب برأت توبہ ، مغفرت ، ذکر و استغفار کی رات ہے

 

عارف عزیز

21 جون، 2013

پروردگار ِ عالم کی رحمت  کے موسم بہار کا آغاز ماہ شعبان المعظم  سے ہوتاہے اس کےبعد رمضان المبارک کا و ہ مقدس مہینہ  آتا ہے جس میں نیکیوں  کے گل و لالہ کھلتے ہیں اور رحمت خداوندی  کی ٹوٹ کر بارش ہوتی ہے، عید الفطر  اور آخر  میں عید الا ضحیٰ کے وہ ماہ بابرکت آتےہیں جن میں بادۂ سعادت کے جام چھلکتے ہیں۔

احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کےمطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک  کے بعد اگر کسی مہینہ  کا مرتبہ  و بزرگی ہے تو وہ شعبان المعظم  ہے اور شب قدر  کے بعد کسی  شب کی فضیلت  و اہمیت ہے تو و ہ شب  نصف الشعبان ہے رحمت  دو عالم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے۔

‘‘ شعبان کو دیگر مہینوں پر ایسی فضیلت  ہے جیسی مجھ کو دیگر انبیاء کرام پر اور رمضان المبارک کی فضیلت  دوسرے ماہ پر ایسی  ہے جیسی خدا  ئے تعالیٰ کی  فضیلت بندوں پر ’’ ایک دوسری حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : ‘‘ اے لوگو! تم  جانتے  ہو کہ اس مہینہ کا نام شعبان کیوں رکھا گیا ’’ لوگوں نے کہا خدا اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا ‘‘  اس لیے کہ اس میں نیکیاں  بکثرت ہوتی ہیں۔ خدائے  رحمن کی غیر معمولی نعمتیں  و برکتیں ہر جانب پھیلتی ہیں’’۔ حضرت یحییٰ بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا قول ہے کہ ‘‘ شعبان میں پانچ حروف ہیں اور اس کے ہر حرف کے مقابلے میں مومن کو ایک عطیہ  ملتاہے ۔ ش سے شرف  و عطا اور شفاعت ع سے عزت و کرامت، ب سے بقا، بشارت اور برکت ، الف سے الفت اور ن سے نور کی بخشش  ہوتی ہے۔ اس لئے کہا گیا ہے کہ رجب  پا کئ جسم  ، شعبان پاکئی دل او ر رمضان پاکئی روح  کے لئے ہے ماہ  رجب  میں جسم کو پاک کرنے والا، شعبان میں دل کو پاک کر لیتا  اور شعبان میں  دل کو پاک کرنے والا، رمضان میں روح کو پاک و مطہر کر لیتا ہے اس لئے جس نے رجب میں جسم اور شعبان میں دل کو پاک نہ کیا وہ رمضان میں روح کو پاک نہیں کرسکتا ۔ اسی شعبان کی پندرہویں رات کو شب برأت یا لیلۃ البرأت کہتے ہیں۔ برأت کے لغوی معنی ٰ پاک ہونے یا دور ہونے  کے ہیں اور کیونکہ اس رات میں اللہ تعالیٰ مخلوق کی طرف متوجہ ہوکر فرماتا  ہے ‘‘ کوئی ہے مغفرت چاہنے والا جس کو میں بخش دوں ، کوئی ہے روزی کاطالب جس پر میں روزی کے دروازے کھول دوں، کوئی ہے بیمار جسے صحت و تندرستی سے نوازوں’’۔

نماز عصر کو اگر صلوٰۃ الوسطیٰ کہا جاتاہے تو اس رات کو لیلۃ الوسطیٰ کہہ سکتےہیں کیونکہ  یہ رات شب معراج اور شب قدر کے درمیان  ہے اور رات کی طرف کلام ربانی میں ارشاد ہے ۔‘‘ ہم نے اس کتاب روشن کو لوح محفوظ سے آسمان  دنیا پر ایک برکت والی رات میں نازل کیا کیونکہ  ہم تو ڈرانے اور راستہ دکھانے والے ہیں اسی رات  میں سالانہ معاملات  عمر و رزق ،موت و حیات وغیرہ  ہماری طرف سے تجویز کئے جاتے ہیں ،ہم اس شب  میں اپنی خاص رحمت بھیجتے  ہیں اس شب میں جو کچھ مذکور ہوتا ہے اس کو ہم سنتے ہیں اور جو حالات صادر ہوتے ہیں ان کو ہم جانتے ہیں’’۔ سورہ دخان کی اس آیت سے حضرت عکرمہ رضی للہ عنہ  اور دوسرے مفسرین نے شب برأت ہی مراد لی ہے ۔ حضرت عطا بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

‘‘ جب شب برأت ہوتی ہے تو ایک صحیفہ  ملک الموت کے حوالہ کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ  کا حکم ہوتا ہے کہ اس صحیفے میں جو نام درج ہیں ان کی روح اس سال قبض  کرلیں پھر بندہ درخت  لگاتا ہے اور پودے  اگاتا ہے عورتوں  سے نکاح کرتا ہے، مکانات تعمیر  کرتا ہے حالانکہ اس کا نام مرنے والوں کو فہرست میں درج ہوتاہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتےہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس  آئے اور کہا کہ ‘‘ اس شب میں آسمان اور رحمت  کے دروازے کھلتے ہیں آپ اٹھ کر نماز پڑھئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا یہ کیسی رات ہے ؟ حضرت جبرئیل  علیہ السلام نے جواب دیا ‘‘ اس رات میں  رحمت کے تین سو دروازے کھلتے ہیں اور مشرک کےسواسب  کی مغفرت ہوجاتی ہے البتہ  جادو گر، کاہن، کینہ، پرور، دائم الخمر ،زنا کار، سود خور اور والدین کا نافرمان چغل خور اور رشتے  منقطع کرنے والوں کی اس وقت تک  بخشش نہیں ہوتی جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلیں’’

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

‘‘ شعبان میرا مہینہ ’’ جب ماہ شعبان شروع ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  عبادت و سخاوت کی خصوصی تاکید فرماتے ہوئے متنبہ کرتے کہ اس ماہ  کی فضیلت و بزرگی  سے  لوگ غافل نہ رہیں یہ مہینہ  رجب  و رمضان کے درمیان  ہے اور اس میں مخلوق  کے اعمال  خالق  کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں  لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال  روزہ  دار کی حالت میں اٹھائے جائیں’’۔ایک اور حدیث میں وارد ہے کہ ‘‘ خدائے  تبارک و تعالیٰ  شعبان کی پندرہویں  شب میں آسمان دنیا پر جلوہ افروز ہوتا ہے او رمشرک و بدعتی کے علاوہ  سب کی مغفرت فرما دیتا ہے ’’۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ  سے روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ ‘‘ جب شعبان کی پندرہویں شب آجائے تو رات  میں بیدار  ہو، دن میں روزہ  رکھو،  خدائے تعالیٰ اس رات غروب  آفتاب  سے ہی آسمان دنیا پر نازل ہوکر بخشش و عطا کا دروازہ کھول دیتا ہے جو طلوع  آفتاب تک کھلا رہتا ہے ۔ ’’ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ‘‘ قیامت کے دن سب لوگ بھوکے ہوں گے مگر انبیائے علیہم السلام اور ان کے تابعین نیز رجب شعبان  اور رمضان کے روزے رکھنےوالوں کو بھوک و پیاس نہ ہوگی  اس شب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان تشریف لے جاکر مردوں کے لئے دعا مغفرت بھی فرمائی ہے۔ الغرض ماہ شعبان المکرم  عبادت ، تلاوت اور صدقہ  و خیرات  کامہینہ  ہے بالخصوص اس کی پندرہویں  شب۔ شب  برأت ،توبہ، مغفرت ، ذکر وصلوٰۃ  اور صدقہ و خیرات کی رات ہے اس میں ملائکہ رحمن  کا کثرت سے نزول ہوتا ہے بخشش ورزق تقسیم کئے جاتے ہیں لہٰذا اس رات میں مختلف قسم کی عبادات،  نماز، تلاوت اور ذکر و دعا میں مشغول رہنا افضل ہے۔ 14 شعبان کو بعد نماز عصر 40 بار استغفار پڑھنے سے گناہ کبیرہ  معاف ہوجاتے ہیں اس شب بعد مغرب غسل  کرنا، سرمہ لگانا داہنی  آنکھ  میں تین مرتبہ  بائیں آنکھ میں دو مرتبہ، شب بیدار ی ، تلاوت قرآن مجید  ، دعا ،استغفار ،درود شریف وغیرہ  میں وقت صرف کرنا باعث ثواب ہے، اسی طرح رات میں سات بار سورہ حم  اور سورہ خان پڑھنے سے ستر حاجتیں  پوری ہوتی ہیں۔ تین مرتبہ سورہ یٰسین  اول بار درازی عمر کی نیت سے ، دوسری بار کشادگی رزق  کے واسطے اور تیسری بار مغفرت و بخشش کے لئے پڑھنا چاہئے ۔ رات کے پچھلے پہر تہجد  کی بارہ رکعت  چھ  دوگانوں  سے ادا کرنا اور صلوٰۃ التسبیح  پڑھنا اور رات بھر درج  ذیل دعا کا ورد کرنا بھی باعث خیر و برکت ہے۔ اللھم انک عفور تحب العفور فاعف عنی یا کریم

اس مقدس رات میں آتشبازی  ،بے جا روشنی اور دیگر فضول رسوم سے بچنا چاہئے اور رات کا ایک ایک لمحہ  جو انتہائی قیمتی  ہے عبادت و دعا میں صرف کرنا چاہیئے ۔ اس رات اپنے روز مرہ  کے مشاغل  میں وقت گزاری کرنا،  قبرستانوں کے باہر مجمع  لگانا، ہوٹلوں میں بیٹھ کر وقت ضائع کرنابھی درست نہیں کیونکہ  یہ وہ شب ہےجب رحمت الہٰی جوش میں آجاتی ہے اور ذاتِ باری تعالیٰ  آمادۂ مغفرت  ہوتی ہے، بندوں کی موت  و حیات اوران کے مقسوم نیز  رزق  کے فیصلے ہوتےہیں لہٰذا  رات بھر خدا ئے تعالیٰ  کی جناب میں پوری توجہ  سے حاضر رہنا اور قبولیت دعا کے مکمل یقین کے ساتھ بار گاہ الہٰی  میں عرض  نیاز کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ کااپنے بندوں پر یہ بڑا فضل و کرم ہے کہ اس نے  سال کے بعض  دنوں اور راتوں کی فضیلت  و برکت میں اضافہ کردیا  ہے تاکہ اس کےبندے اطاعت  و استغفار میں سبقت کریں   چنانچہ پورے سال میں پانچ راتیں ایسی  متبرک ہیں جن میں دعائیں  قبول کی جاتی ہیں، رجب کی پہلی رات ، شب برأت ،شب قدر ، عید الفطر کی رات اور عید الا ضحیٰ  کی رات ان میں شامل ہیں۔ ان ہی راتوں  میں سے یہ مبارک  رات بھی ہے جس میں اللہ جل شانہ اپنی رحمت ومغفرت کےدروازے ہر خاص وعام کےلئے کھول دیتا ہے ۔ رات  کے پچھلے پہر کی کوئی تخصیص نہیں سر شام ہی اللہ تبارک و تعالیٰ  کامنادی رحمت عام کی صدائیں  لگانے لگتا ہے ۔ اس لئے آج کی مبارک  رات ہم گنہگاران  امت کے لئے ایک نعمت سےکم نہیں ۔ہمیں بار گاہ الہٰی میں سر بسجود ، اور دست دعا دراز کرکے پورے حضور قلب  کے ساتھ اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہیے  اور وہ سب طلب کرنا چاہیے جس کے ہم حقیقتاً  محتا ج ہیں کیونکہ یہ کوئی نہیں  جانتا  کہ آئندہ سال اس کو یہ شب میسر  آئے گی یا نہیں۔نبی پاک علیہ السلام کا امت پر یہ احسان ہے کہ انہوں نے مذکورہ  احوال و اخبار  سے امت  کو آگاہ کیا اور اس طرح  ایک بابرکت رات سے فیض یاب ہونے کا امت  کو موقع بہم پہونچا  یا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس شب مبارک  کے فضائل  و حقائق  سے آگاہ فرماتے ہوئے  اس رات نماز پڑھنے ،عبادت کرنے اور مرحومین کے لئے دعائے مغفرت  کرنے کے لئے قبرستان جانے کی تاکید فرمائی ہے اور دوسرے دن روزہ رکھنے  کی فضیلت  بھی بیان کی ہے چنانچہ  ہم امتیوں  کے لئے  یہی اسوۂ حسنہ واجب الاتباع  ہے اللہ ہم سب کو اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

21 جون، 2013  بشکریہ : روز نامہ اردو ٹائمس ، ممبئی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/arif-aziz-عارف-عزیز/shab-e-barat--a-night-of-blessings,-remorse-and-salvation--شب-برأت-توبہ-،-مغفرت-،-ذکر-و-استغفار-کی-رات-ہے/d/12239

 

Loading..

Loading..