New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 04:16 AM

Urdu Section ( 6 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Islamic Solution To Eco-Problems ماحول کے مسائل کا اسلامی حل

 

عرفات العش

3، نومبر 2009

(انگریزی سے ترجمہ  :  ،  نیو ایج اسلام)

کاربن کے اخراج میں اضافہ: کوئلہ  جلانے والے پاور اسٹیشن سے دھواں خارج ہوتا ہے  ۔

اسلام ماحول کے تعلق سے بڑی تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اس مسئلے کے تعلق سے قرآن کی بہت ساری آیتیں اور حضرت محمد (لی اللہ علیہ وسلم) کے اقوال موجود ہیں ۔ ماحولیاتی مسائل کا اسلامی حل انسانوں کے ذریعہ  کے اس کی ہدایت کو اختیار کرنے میں ہے۔ اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ اس نے تمام مادی اشیاء کو انسان کے استعمال کے لئے پیدا کیا ہے ،اس کے بے جا استعمال کے لیے نہیں ۔

 اللہ تعالی نے ایک پرتعیش معیار زندگی سے لطف اندوز ہونے  سے بنی نوع انسان کو نہیں روکا ہے، لیکن قدرتی وسائل کو نقصان پہنچا کر اور اس کا بے جا استعمال کر کے اسے جائز نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ یہ واضح طور پر قرآن کی بہت ساری آیات  میں بیان کیا گیا  ہے۔ اللہ فرماتا ہے  (جس کا مطلب یہ ہے:) "اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ "[قرآن 28:77]

 قرآن اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سنت ماحول کے تحفظ کے لئے مسلمانوں کو دی گئی ہدایات پر مشتمل ہے، جس میں بیکار میں درختوں کو نہ کاٹنا بھی شامل ہے ۔ اس سلسلے میں، نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نےپودے لگانے کے فوائد کی نشاندہی کی ہے ،جو قیامت کے دن تک باقی رہیں گے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں یہ واضح ہے کہ " اگر قیامت واقع ہونے والی ہو  اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں ایک کھجور کی کونپل ہو  (بونے  کے لئے) اور قیامت برپا ہونے سے پہلے وہ اسے بونے کے قابل ہے، تو اسے بو دینا چاہئے ، اور اسے اس عمل کے لئے اجروثواب حاصل ہو گا۔ "

 اللہ نے قدرتی وسائل کو نقصان پہنچا نے اور اس کا غلط استعمال کرنے والوں کے لئے سخت سزا کا حکم دیا ہے۔ وہ قرآن میں فرماتا ہے،  "خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا۔"[قرآن 2:60]

"خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا اُن کو اُن کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں "[قرآن 30:41]

 ابن مسعود روایت کرتے ہیں کہ ،جب  ہم رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ ایک سفر پر تھے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس جگہ سے مختصر فاصلے پر چلے گئے جہاں ہمارا پڑاؤ تھا ۔ ہم نے وہاں ایک چھوٹی سی چڑیا کو اس کے دو چوزوں کے  ساتھ دیکھا اور انہیں پکڑ لیا۔ چڑیا پھڑ پھڑا رہی تھی ،جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے، تو انہوں نےپوچھا، اس کے چوزوں کو پکر کر کس نے اسے پریشان کیا ہے؟' پھر انہوں نے ہمیں چوزے  واپس کرنے کا حکم دیا ۔ ہم نے وہاں ایک گھونسلہ  بھی دیکھا اور اسے جلا دیا۔ جب نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو پوچھا کہ اسے کس نےجلا دیا ؟ جب ہم نے انہیں بتایا کہ یہ ہم نے کیا  تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘صرف آگ کے رب کو آگ سے سزا دینے کا حق ہے’۔

 اللہ قرآن میں فرماتا ہے : "اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے ان کی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ " [قرآن38 :6]

 ہم نبی صلی اللہ علیہ کی احادیث اور ان قرانی آیت سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ، تمام زندہ چیزیں وجود میں انسانوں کے  ساتھ شریک ہیں  اور وہ ہمارے احترام کے مستحق ہیں ۔ ہمیں  جانوروں  کے تئیں  رحم دل  ہونا ،اور مختلف مخلوقات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔

 اسلام پانی کو برباد کرنے اور بغیر کسی  فائدے کے اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ بنی نوع انسان کے لئے ، جانوروں کی زندگی، پرندوں کی زندگی اور پودوں کے تغذیہ کے لئے پانی کا تحفظ، اللہ کی خوشی حاصل کرنے کا ایک عمل ہے ۔

اپنے مضمون 'اسلام اور ماحولیات'، میں  عرفات العش ، کینیڈا میں مسلم ورلڈ لیگ کے ڈائریکٹر ،[www.al-muslim.org]  لکھتے ہیں، "انسانی زندگی اسلام کی نظر میں مقدس ہے۔ زندگی کے بدلے زندگی کے علاوہ کسی کو  بھی، کسی دوسرے شخص کی زندگی لینے کی اجازت نہیں ہے ۔ "

العش  مزید  لکھتے ہیں کہ ،اسلام میں  " ہریالی کو بہتر بنانے میں شراکت داری ہر مسلمان پر فرض [ہے]۔ مسلمانوں کو تمام لوگوں کے فائدے کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت اگانےمیں سرگرم ہونا چاہئے۔ "حتی کہ جنگ کے دوران بھی ، مسلمان کے لئے ان درختوں کو کاٹنے سے بچنا ضروری ہے جو لوگوں کے لئے مفید ہیں۔

 بنی نوع انسان کے ذریعہ  زمین کی کی قیادت ایک بڑی  ذمہ داری کو مستلزم ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا ہے دیگر زندہ مخلوقات، کو بھی اللہ کی طرف سے "کمیونٹیز" تصور کیا جاتا ہے۔ بذات خود تخلیق کو ، اس کی لا محدود تنوع اور پیچیدگی میں، اللہ کی طاقت، حکمت، احسان اور عظمت کی "نشانیوں" کے وسیع کائنات کے طور پر سوچا جا سکتا ہے۔ بنی نوع انسان کی ذمہ داری اللہ کی تخلیق کو محفوظ رکھنا  ہے۔ ماحول بنی نوع انسان کے لئے اللہ کی طرف سے پیش کردہ ایک امانت ہے اور اس کا بے تصرف اللہ کے اعتماد کا غلط استعمال ہے۔

بشکریہ:

www.islamweb.net

http://www.newageislam.com/islam-and-environment/islamic-solution-to-eco-problems/d/2051

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/arafat-al-ash-عرفات-العش/islamic-solution-to-eco-problems-ماحول-کے-مسائل-کا-اسلامی-حل/d/12939

 

Loading..

Loading..