New Age Islam
Sat Oct 31 2020, 06:58 PM

Urdu Section ( 24 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Reflections on Interfaith Dialogue بین المذاہب مکالمے: چند تجربات و مشاہدات

 

 

آرن لانگچار، نیو ایج اسلام

22 ستمبر، 2014

میں حیدرآباد میں واقع ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ (HMI) پہنچنے اور اس فیملی کا ممبر بننے پر تہ دل سے خدا کی شکر گزار ہوں۔ HMI بین المذاہب مکالمے کا ایک مرکز ہے۔ اگر چہ یہ ایک عیسائی ادارہ ہے لیکن یہاں مختلف ادیان و مذاہب کے مانے والے لوگ مثلاً الگ الگ کاسٹ سے تعلق رکھنے والے ہندو، سنی اور شیعہ مسلمان، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائی اور یہاں تک کہ ایسے لوگ بھی ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتےاور کام کرتے ہیں جن کا کوئی خاص مذہبی تشخص نہیں ہے۔ گویا یہ مختلف ادیان و مذہب کے لوگ پر مشتمل ایک بڑی فیملی ہے۔

میرا HMI میں ہونا خدا کی رحمت سے مستفیض ہونے کا ایک عظیم موقع ہے۔ میں جولائی کے مہینے میں HMI میں آئی۔ میں HMI میں جب اپنے گزشتہ چند مہینوں پر غور کرتی ہوں تویہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ میرے اندر بہتر تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ میرے ذہن میں وسعت پیدا ہورہی ہے اور میں اب دیگر مذاہب کے بارے میں زیادہ بہتر طریقے سے غور و فکر کر سکتی ہوں۔ گزشتہ چار سالوں کے دوران جب میں کسی اور کالج میں عیسائی مذہبی تعلیم حاصل کر رہی تھی دیگر مذاہب کے بارے میں بھی تعلیم حاصل کی لیکن مجھے دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا عملی تجربہ کبھی حاصل نہیں ہوااس لیے کہ میرے ارد گرد تمام لوگ عیسائی ہی تھے۔ HMI میں مجھے کثیر مذہبی ماحول میں رہنے کا شرف حاصل ہے جہاں میں اپنے علم کا عملی تجربہ کر سکتی ہوں۔ مجھے اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ میری پرانی سوچ تنگ نظری اور خود غرضی کا شکار تھی۔ ایک "عیسائی" ہونے کی حیثیت سے میں صرف اپنے ہی تشخص پر اس قدر توجہ دیتی تھی کہ میں نے دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے وجود کو نظر انداز کر دیا تھا۔ میری دنیا بہت چھوٹی تھی اور میں خود اپنے ہی معتقدات کے دائرے میں اس قدر سمٹی ہوئی تھی کہ دوسرو سے غافل ہو چکی تھی۔ HMI میں آنے کے بعد آہستہ آہستہ میرے رویہ میں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ امید ہے کہ میرا "میں" "ہم"میں تبدیل ہو جائے گا!

HMI میں آنے کے بعد جو سب سے اہم چیز میں نے سیکھی وہ یہ ہے کہ کس طرح تنوعات اور گوناگوئیت کے عالم میں بھی اتحاد کی ایک مضبوط کڑی قائم کی جائے۔ HMI میں مجھ سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ میں کس مذہب کی پیروی کا دعوی کرتی ہوں۔ یہاں میرے عیسائی ہونے اور دوسروں کے مسلمان یا ہندو ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ہم سب ایک ہی عبادت گاہ میں جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ خالق کائنات کی عبادت کرتے ہیں۔ ہم اپنی اجتماعی عبادت میں خدا کا علم اور اس کی معرفت زیادہ حاصل کرتے ہیں۔ اگر چہ ہم اپنے ثقافتی اور مذہبی پس منظر کے لحاظ سے مختلف ہیں لیکن ہم سب کامقصد ایک ہی ہے اور وہ تقرب الی اللہ حاصل کرنا ہے۔ اس سے مختلف ادیان و ذاہب کے درمیان خدا کی عظمت اور اس کا تقدس بیان کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہاں مجھے دوسرے مذاہب کی بصیرت سے بھی فیض حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے جس کی وجہ سے میں صرف عیسائیت پر ہی آسودہ خاطر نہیں ہوتی۔ اس سے اپنے مذہب کے بارے میں نئے نئے افکار و نظریات حاصل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے خدا پر میرے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ صبح و شام میں HMI کیمپس کے ارد گرد مندروں اور مسجدوں سے عبادت کی صدائیں سن سکتی ہوں۔ اس سے عبادت گاہوں میں ہر روز ریاضتوں کے ذریعہ منظم و منضبط عبادت کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ مسجدوں اور مندروں سے ان آوازوں کو سن کر خود مجھے اپنی عبادتوں میں خلوص پیدا کرنے کی تحریک ملتی ہے۔

HMI میں وہاں کے ہر رکن کو اپنی اپنی ذمہ داریوں میں مشغول دیکھ کر مجھے پوری زندگی کے ایک دوسرے پر باہمی انحصار کا مزید علم ہوا۔ خاص طور پر مطبخ اور باغات میں لوگوں کو پوری محنت اور لگن کے ساتھ اپنے اپنے کاموں میں مشغول دیکھنا میرے لیے ایک بہت بڑا سبق آموز تجربہ رہا۔ انہوں نے مجھے محنت کشی کے وقار سے مجھے واقف کرایا۔ میں نے انہیں الفاظ کے بغیر صرف عمل کے ذریعہ اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہوا دیکھا۔ اس سے مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ ہر انسا ن کو اس کے کام میں اس کے ایمان کی گواہی دینے والا کہا گیا ہے خواہ اس کا پیشہ کچھ بھی ہو۔ کسی کے مذہب کی شہادت پیش کرنے کے لیےصرف لفظوں تک ہی محدود رہنا کافی نہیں ہے۔ عمل ہمیشہ الفاظ سے زیادہ موثر ہوتا ہے۔

اگر چہ ہو سکتا ہےکہ میں اپنی پوری زندگی ایک مسیحی ہی رہوں، لیکن اب مجھے اس بات کااحساس ہےکہ پوری زندگی صرف کسی ایک ہی مذہب پر عمل پیرا نہیں رہا جا سکتا۔ میں نے HMI میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے بہت سی قابل قدر چیزیں سیکھی ہیں۔ یہ سیکھنے کےلیے HMI ایک شاندار جگہ ہے کہ کس طرح دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ نفرت کی دیواریں گرائی جائیں اور ان کے درمیان کا خلاء پر کیاجائے۔ یہاں آنے سے پہلے خود میری فکر میرے اپنے مذہب میں جمود و تعطل کا شکار تھی۔ ایک عیسائی ہونے کی حیثیت سے میری انانیت میں بہت شگوفے نکلے لیکن دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے بالمقابل اس سے زیادہ پھل برآمد نہیں ہوئے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہےکہ بندھے ہوئے ہاتھوں سے آپ کسی کو گلے نہیں لگاسکتے! لیکن اب مجھے لگتا ہےکہ مجھے سب کے ساتھ تعلق بنانے کے لیے کہا گیاہے اور مختلف مذہبی پس منظر رکھنے والے لوگوں کے درمیان کسی سے بھی کوئی امتیاز برتنے سے روکا گیا ہے۔ جیساکہ ایک کہاوت ہے، "تمام مذاہب خدا تک ہی پہنچاتے ہیں"۔ مجھے صرف اپنے لیے فوائد حاصل کرنے کی کوشش کیے بغیر دوسروں کی خدمت کرنے کے لئے تیار ہونے کی نصیحت کی گئی ہے۔

HMI میں آنے کے بعد مجھے یہ محسوس ہوا کہ بین المذاہب مکالمہ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ یہ پرامن انسانی بقائے باہمی کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آج کی دنیا میں صرف کسی ایک مذہب کے پیروکاروں کا سب سے الگ ہوکر اور دوسروں کے وجود کو نظر انداز کر کے رہنا ناممکن ہے۔ آج جبکہ دنیا پوری تیزی کہ ساتھ ایک دوسرے پر باہم منحصر ہو رہی ہے ہمیں دیگر مذاہب اور نظریات کے ماننے والوں کے ساتھ بات چیت کرنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ زمین پر اپنا وجود بر قرار رکھنے کے لئے یہ امر انتہائی ناگزیر ہے۔ بین المذاہب مکالمے سے مختلف مذاہب سے اچھی چیزیں سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ سماجی اصلاح اور ہم آہنگی کے لئے ایک لازمی امر ہے۔

مجھے یہ لگتا ہےکہ بین المذاہب مکالمے کا انحصار تحریری یا تقریر طور پر صرف باتوں پر ہی نہیں ہونا چاہیے۔ انسانوں کے درمیان گہرا تبادلہ خیال اور تعلقات بین المذاہب مکالمے کی کوششوں میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس طرح یہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے لیے ایک تعمیری ماحول کی تعمیر میں معاون ہو سکتا ہے تاکہ عام مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کیا جا سکے اور ان سے سیکھنے اور ان سے مستفیض ہونے کا موقع میسر ہو سکے۔ یہ مختلف مسائل کے تعلق سے بیداری پیدا کر سکتا ہے اور عدم رواداری اور نفرت کو جنم دینے والی دیواروں کو منہدم کر سکتا ہے۔ اس سے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان کشیدگی کی وجوہات کا تعین ہو سکتا ہے اورانہیں حل کرنے میں معاون بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے مکالمے دنیا میں سماجی انصاف اور اخلاقی اقدار کے دفاع اور آزادی کے لئے تمام لوگوں کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینے کے لئے بھی ضروری ہیں۔ مختلف اصول و معتقدات کے حامل لوگ صرف سیمینار ہال میں گفتگو کے درمیان ہی اپنے خیالات و نظریات نہیں پیش کر سکتے بلکہ جنگ، گلوبل وارمنگ،ماحولیت یا چائلڈ لیبر جیسے مسائل کا سامنا کرنے میں اپنا ہاتھ بٹا کر عملی طور پر بھی کر سکتے ہیں۔

چونکہ مذہب بہت سے لوگوں کی زندگی کا اتنا مضبوط حصہ ہے اسی لیے ہمیں ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جاننے کی خاطربین المذاہب مکالمے کو فروغ دینے کیلئے مخلصانہ کوششیں کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سے ہمیں کسی کے بارے میں کوئی بھی فیصلے لینے یا شک و شبہ کے بغیر اور ان کا مذہب تبدیل کیے بغیر ایک دوسرے کے تئیں اپنے دلوں کو کشادہ کرنے میں مددملے گی۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس قسم کے مکالمے اپنے مذاہب کی شہادت دینےکا بھی ایک ذریعہ ہیں۔

ناگالیڈ کی Aoren Longchar فی الحال بین المذاہب افہام و تفہیم کے مرکز ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ (HMI) حیدرآباد میں ہیں۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/interfaith-dialogue/aoren-longchar,-new-age-islam/reflections-on-interfaith-dialogue/d/99207

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/aoren-longchar,-new-age-islam/reflections-on-interfaith-dialogue--بین-المذاہب-مکالمے--چند-تجربات-و-مشاہدات/d/100170

 

Loading..

Loading..