New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 11:20 PM

Urdu Section ( 18 Apr 2016, NewAgeIslam.Com)

God is Also in Distress, Like Me. میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے

 

 

 

 

انیس درّانی

17 اپریل، 2016

ماشا اللہ، ماشا اللہ ! خبر پڑھ کر دل باغ باغ ہوگیا ۔ اسلام خوب ترقی کررہا ہے ۔ دین اسلام کی حقانیت سچائی فطری سادگی اور مساوات کا بول بالا اب اڑیسہ تک پھیل گیا ہے۔ بلکہ جس خود ساختہ دینداری اور صحیح مسلک ہونے کے تکبّر کا پرچم ابھی تک اتر پردیش کے مسلمان اٹھائے اٹھائے پھر رہے تھے اڑیسہ کےمسلمانوں نے انہیں بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یوپی کے مسلمان تو ابھی تک چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبات کی چھوٹی چھوٹی مسجدوں میں جھگڑے کر کے فوجداریاں کررہے تھے ۔ اڑیسہ کےمسلمان نے تو جالیشور ضلع کی جامع مسجد کو ہی بند کرا دیا، اذان بند کرادی ، نماز بند کرادی۔ اب پولیس جامع مسجد کے چاروں طرف بیٹھی ہوئی ہے ۔ کوئی مسلمان مسجد کے پاس بھی نہیں پھٹک سکتا ۔ جھگڑے کی شروعات حسب روایت مسلکی اختلاف سے شروع ہوئی ۔ جامع مسجد کے امام گذشتہ پانچ سال سے امامت کررہے تھے ۔ سب ان کی اقتداء کرتے تھے ۔ اب گذشتہ تین ماہ قبل کچھ علماء نے ان پر بد عقیدہ ہونے کا الزام لگایا جس کی وجہ سے مقامی مسلمان دو دھڑوں میں بٹ گئے، بعد میں طے پایا کہ جو الزامات لگائے ہیں تو امام کو باعزت رخصت کر دیا جائے ورنہ جن لوگوں نے الزام لگائے ہیں وہ توبہ کریں گے اور حسب سابق کی طرح امام کی اقتداء کریں گے۔ تماشہ دیکھئے کہ مسلکی الزامات کی تحقیقات کے لئے فریقین کے علماء کا اسٹیج لگا اور ہر علاقے کےاہل علم اور سمجھدار لوگوں کی موجودگی میں گفتگو شروع ہوئی او رکوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔ ایسے اسٹیج لگا کر مسلکی جھگڑے کبھی نپٹے ہیں جو یہ نپٹ جاتا؟ اپنی اپنی مسلکی چودھراہٹ جمانے کےلئے حالات کو مزید اشتعال انگیز بناتے رہے اور گزشتہ جمعہ کو لاوا پھوٹ پڑا۔

 دونوں طرف عظیم اور حق کے پرستار مسلمانوں نے ایک دوسرے پر بے خوف پتھراؤ کیا ۔ اللہ کی رحمت سےمسجد میں تعمیری کام بھی چل رہا تھا ۔ اس لئے اینٹوں اور پتھروں کی کوئی کمی بھی نہیں ۔ دونوں طرف کے نمازیوں نے خوب ہی داد شجاعت وصول کی ۔ پولیس کو تو آنا ہی تھا چنانچہ پولیس نے دفعہ 144 لگا کر مسجد میں اذان اور نماز پر پابندی لگا دی۔ دو تین درجن لوگ زخمی ہوئے تھے ۔ پولیس نے ایک درجن سے زیادہ نمازیوں کو اطمینان کےساتھ مسلکی مباحث کو نمٹانے کےلئے جیل بھیج دیا ۔ اللہ تعالیٰ جالیشور ضلع کے علماء کرام کو اس خدمت اسلام کےلئے ثواب دارین عطا کرے ۔ جنہوں نے اتر پردیش میں پرور دہ اس بیماری کو بھارت کے ایک دور دراز علاقے اڑیسہ تک پہنچا دیا جہاں مسلمان مشکل سے پانچ فیصد ہیں اور بے حد کمزور اور پسماندہ ہیں ۔ مسلکی تنازعات گذشتہ دس سال میں کافی کم ہوگئے تھے ۔ اختلافی مسائل بدستور موجود تھے مگر ان پر متشدد ہونا اور ان کو لیکر آپس میں سر پھٹول کرنا بہت کم ہوگیا تھا ۔ لیکن اب گذشتہ دو سال سےمسلکی اختلافات کی شدت میں پھر اضافہ ہوگیا ہے اور صاف محسوس ہوتا ہے کہ کسی سازش کے تحت جان بوجھ کر دوبارہ ان اختلافات کو ہوا دینے کے لئے بھاڑے کے مفتیوں اور علماء کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ دنوں ایک مسلک کے مفتی صاحب نے فتویٰ دیا کہ ‘‘وہابی ازم کے ماننے والے مسلمان بنیاد پرست ہوتے ہیں اور تشدد پر یقین رکھتے ہیں جب کہ صوفی سنی مسلمان امن پر یقین رکھتے ہیں چنانچہ اگر کوئی وہابی مسلمان مسجد کے اندر داخل ہوتا ہے تو پہلے اسے باہر جانے کےلئے کہنا چاہئے یا پھر پولیس کو بلا کر انہیں باہر نکالنا چاہئے’’۔ کنویں کے مینڈک یہ علماء کس دنیا میں رہتے ہیں ؟ یہ تو پتہ نہیں لیکن کس کے اشارے پر اس قسم کے فتنوں اور حرکتوں کو فروغ دیا جارہا ہے وہ آسانی سے سب کی سمجھ میں آجائے گا۔

سنگھ پریوار کے پرانے فتنہ گر بھاجپا کے سینئر لیڈر سبرامنیم سوامی نے لگ بھگ ڈیڑھ دو سال قبل ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ ‘‘انہیں مسلمانوں کے درمیان مسلکی اختلافات کا پورا علم ہے اور وہ ان اختلافات کی مدد سے مسلمانوں کی یکجہتی کو تار تار کردیں گے’’۔ بڑبولے سبرامنیم سوامی کے علاوہ اس مشن میں سنگھ پریوار کے ایک اور گرو گھنٹال اندریش کمار جی بھی بہت معروف ہیں ۔ اگر ہر مسلک کے دوسرے اور تیسرے درجے کے مولویوں اور نام نہاد علماء کی پس منظر کی تحقیقات کروگے تو کسی نہ کسی سلسلہ سے وہ بالآخر اندریش جی سے منسلک نظر آئیں گے ۔ تو اب آپ بھی سمجھ گئے ہوں گے کہ ڈوریاں کہاں سے ہلائی جارہی ہیں اور کیوں ہلائی جارہی ہیں ؟ سنگھ پریوار کے پاس وہابیت اور صوفیانہ طرز فکر کا منتر امریکہ اور اسرائیل سے آیا ہے ۔ میں بھی محسوس کرتا ہوں کہ وہابی اپنے مسلک توحید اور معاملات شرک کے تعلق سے بہت سخت بلکہ بے لوچ ہیں ۔ مگر یہ کہنا کہ آج دنیا میں دہشت گردی کو جو فروغ ہوا ہے اس کے لئے وہابی ازم یا وہابیت ذمہ دار ہے۔ سراسر غلط اور لغو ہے۔

 آج دنیا جس دہشت گردی کی شکار ہے بالخصوص عالم اسلام وہ مسلکی دہشت گردی نہیں بلکہ سیاسی دہشت گردی ہے ۔ اسرائیل او رامریکہ نے تمام عالم اسلام میں جس طرح اپنی عیارانہ چالوں او رجھوٹے پروپیگنڈوں سے ایک افراتفری کا ماحول پیداکردیا عراق اور لیبیا جیسی مستحکم حکومتوں کو برباد کردیا ۔ دہشت گردی اس کار د عمل ہے۔ چونکہ رد عمل کی دہشت گردی کا خمیازہ امریکہ نےبھی بھگتا ہے اور اب یورپ بھگت رہا ہے اس لئے انہوں نے خود کو اس کاذمہ دار ٹھہرائے جانے کے الزمام سے بچنے کے لئے سارا زور وہابیت کو دہشت گردی کا مخرج بنانے پر لگا دیا ہے تاکہ کوئی امریکہ یااسرائیل کی طرف انگلی نہ اٹھا سکے ۔ ان کے پروپیگنڈے کی طاقت اتنی زبردست ہے کہ آج ہمارے بھارتی علماء بھی طوطے کی طرح یہ رٹ لگا رہے ہیں کہ ‘‘وہابی ازم ہی دہشت گردی کا ذمہ دار ہے’’ مجھے لگتا ہے کہ کچھ دنوں کے بعد مودی سرکار آدھا ر کارڈ کی طرح مسلمانوں کو بھی خصوصی کارڈ جاری کرے گی جس پر اس کا مسلک لکھا ہوگا ۔ کہ یہ صوفی ہے ، یہ بریلوی ہے، یقیناً بے ضر ر ہے ! اے اللہ میاں کے نام نہاد ٹھیکداروں اے رحمت اللعالمین کی اقتداء کرنے والوں ، اے اللہ کے دین کی صحیح تشریح کرنے کے دعویداروں دنیا کے ہر پل بدلتے ہوئے حالات سے سبق لینا کب سیکھو گے؟ کب عام مسلمانوں کے تحفظ ان کی ترقی اور ان کی فلاح و بہبود کے تعلق سے اپنی اناؤں کی قربانی دینا سیکھو گے؟ حضرت عیسٰی مسیح  کے ماننے والے مسیحی علماء میں بھی زبردست مسلکی اختلافات تھے ۔

عیسائی مذہب بھی کئی فرقوں میں بٹ چکا ہے۔ آپس میں زبردست قتل عام بھی ہوئے ۔روس کا چرچ الگ ہوگیا۔ انگلینڈ میں الگ چرچ بن گیا اگرچہ دنیا کے بیشتر عیسائیوں پر کیتھو لک پوپ کی ہی بادشاہت قائم رہی۔ گذشتہ ماہ ایک ہزار سال کی علیحدگی کے بعد پہلی مرتبہ موجودہ پوپ فرانسس نے روسی چرچ کے سب سے بڑے عالم اسقف اعظم کرل سے ‘‘ہوانا ایئر پورٹ ’’ پر ملاقات کی۔ پوپ نے فرمایا ‘‘ہم بھائی بھائی ہیں’’ انہوں نے کرل کو گلے لگا دیا دونوں نے ایک دوسرے کے رخساروں کا بوسے لیا اور کہا ‘‘ یہ خدا کی مرضی سے ہوا ہے’’ اس سے پہلے موجودہ پوپ فرانس انگلینڈ کے چرچ کے ساتھ بھی صدیوں کے بعد گرم جوشی کے تعلقات قائم کرچکے ہیں ۔ ایسا کیوں ہورہا ہے ہزاروں سال کے جھگڑے کیوں دفن کئے جارہے ہیں اس کی سب سے اہم وجہ مسیحی دنیا کا سکڑنا ہے۔ آج امریکہ اور یورپ مسیحی عقائد سے دو رہوتا جارہا ہے ۔ ہزاروں کی تعداد میں چرچ بند ہوچکے ہیں ۔ خصوصاًؑ یورپ اور امریکہ میں نوجوان عیسائی مذہب سے دو رہوتے جارہے ہیں اس لئے یہ ایک خوف ہے جو لاشعوری طور پر نہیں ایک دوسرے کے نزدیک لا رہا ہے ۔ مگر تم کیا کررہے ہو ہمارے ایمانوں کے ٹھیکدارو؟ مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑا رہے ہو۔ آج مسلمانوں کی وہ نئی نسل جو انگریزی اسکولوں کی تعلیم یافتہ ہے جسے اب 21ویں صدی میں مسلمانوں کی قیادت کرنی ہے تمہاری ان حرکتوں سے تم سے بدظن ہوتی جار ہی ہے اور اگر وہ اس بدظنی کے سبب اسلام سے ہی دور ہوگئے تو اس کے لئے تم اللہ کے سامنے جوابدہ ہوگے بشرطیکہ تم آخرت پر ایمان رکھتے ہو !

بلند بانگ ہیں دعوے یہ پارسائی کے

فرشتے سارے ہیں کوئی تو یاں بشر ٹھہرے

17 اپریل، 2016 بشکریہ : روز نامہ اخبار مشرق، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/anees-durrani/god-is-also-in-distress,-like-me--میری-طرح-خدا-کا-بھی-خانہ-خراب-ہے/d/107037

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..