New Age Islam
Sat Nov 27 2021, 10:02 AM

Urdu Section ( 8 Nov 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Mukesh Intended To Be an Actor in the Film Industry, but He Became Famous As a Singer مکیش فلم انڈسٹری میں بطور اداکار اپنا کریئر بنانا چاہتے تھے لیکن انہیں بحیثیت گلوکار شہرت ملی

انیس امروہوی

7 نومبر،2021

22 جولائی 1923 ء کو ایک خوبصورت دن تھا جب دہلی کے ایک متمول خاندان میں ایک ایسے شخص کا جنم ہوا، جس نے آواز کی دنیا میں ایک درد بھری او رانتہائی نرم آواز کو جنم دیا۔ یہ درد بھری آواز تھی آنجہانی مکیش کی۔

دہلی کے کائستھ خاندان میں پیدا ہوئے مکیش چند ر ناتھ نے میٹرک تک کی تعلیم دہلی میں ہی حاصل کرنے کے بعد اس وقت کے عام رجحان کے مطابق کلرک بننے کی خواہش کا اظہار کیا مگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکی کیونکہ قدرت کو تو ان کے سے کچھ او رہی کام لینا مقصود تھا ۔ بعد ازاں وہ 18 برس کی عمر میں 1940 ء میں بمبئی کی فلمی دنیا میں اپنی قسمت آزمانے چلے آئے تھے۔ ان کا بمبئی آنا بھی ایک طرح کا عجیب واقعہ تھا ۔ اس وقت تک وہ خود نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا کریں گے او رکس شعبے میں اپنا کریئر بنائیں گے؟

مکیش

-----

ہوایوں تھا کہ دہلی میں ان کی بہن کی شادی تھی اور ا س شادی میں لڑکے والوں کی طرف سے اپنے زمانے کے مقبول ترین فلم اداکار مو تی لال آئے ہوئے تھے ۔ اس شادی میں مکیش نے ایک گیت سنایا تھا جسے سن کر موتی لال بہت متاثر ہوئے ۔ پروگرام کے بعد خاص طور پر مکیش سے انہیں ملاقات کی او رکہا کہ ’’تم یہاں دہلی میں کیا کررہے ہو، اتنی اچھی آواز کو تو بمبئی کی فلمی دنیا میں ہونا چاہئے تھا‘‘۔ا س وقت موتی لال کی اس بات کو مکیش نے صرف اپنی تعریف ہی سمجھا تھا مگر مو تی لال نے یہ بات صرف مکیش کو خو ش کرنے کے لئے نہیں کہی تھی بلکہ وہ خود مکیش کو دہلی سے بمبئی لے گئے تھے، جہاں انہوں نے 18 برس کے مکیش کو اپنے بیٹے کی طرح اپنے ساتھ رکھا ۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ موتی لال کی کوئی اولاد نہیں تھی، اس لئے انہوں نے ایک باپ کی ساری شفقت مکیش پر انڈیل دی۔ یہاں تک کہ 1946 ء میں 24 برس کی عمر میں مکیش کی شادی ایک گجراتی خاندان کی ایک لڑکی بچو بین کے ساتھ موتی لال نے ہی کرائی تھی۔

یہ دن مکیش کے بمبئی میں جد وجہد کے دن تھے اور وہ فلموں میں اداکاری کیلئے کام کی تلاش میں بھٹک رہے تھے۔ حالانکہ مکیش کے سرپر موتی لال جیسی قد آور شخصیت کا سایہ پوری طرح موجو د تھا ، پھر بھی انہوں نے فلم ’ نردوش‘ کا اپنا رول چھوڑ کر مکیش کو دلوایا تھا۔ فلم ’ نردوش‘ کی ہیروئن اپنے زمانے کی مقبول ترین فلم ادکارہ نلنی جیونت تھیں مگر یہ فلم باکس آفس پر بری طرح ناکام ہوگئی اور اس طرح مکیش کا اداکار بننے کاوہ خواب جو انہوں نے بمبئی آکر اپنی آنکھوں میں سجایا تھا، بکھر کر رہ گیا۔

’نردوش‘ ناکام ہوگئی تھی،جس کی وجہ سے مکیش بھی اداکار کی حیثیت سے ناکام قرار دے دیئے گئے تھے مگر اسی ’نردوش‘ کی وجہ سے رنجیت موی ٹون نے مکیش سے تین سال کا معاہدہ کرلیا۔ اس طرح ان تین برسوں میں رنجیت کی کئی فلموں میں مکیش نے اس زمانے کے کئی مشہور فنکاروں کے ساتھ کام کیا مگر نہ جانے کیوں ان میں سے کوئی بھی فلم پوری نہ بن سکی او راگر بنی بھی تو وہ پردہ سیمیں سے ملاقات نہ کرسکی۔ اس طرح اداکار کے طور پر مکیش بری طرح ناکام ہوگئے تھے مگر انہیں دنوں ایک اور فن کے لئے مکیش مقبولیت حاصل کرتے جارہے تھے۔۔ او ریہ فن تھا گلوکاری کا۔ اپنے احباب کی نجی محفلوں میں گاتے گاتے مکیش نے کافی شہرت حاصل کرلی تھی۔

مکیش کو فلموں میں باقاعدہ گانے کاموقع 1943ء میں فلم ’ مورتی‘ میں ملا۔ اسی برس مکیش سے رنجیت والوں کامعاہدہ بھی اپنی میعاد پوری کرچکا تھا او رمکیش جدوجہد کے ایک سخت دور سے گزرہے تھے۔ 1947 ء میں ان کی تقدیر نے ایک نیاموڑ لیا اور مشہور موسیقار انل بسو اس نے اپنی ہدایت میں مکیش سے فلم ’ پہلی نظر‘ کیلئے ایک گیت ’’دل جلتا ہے تو جلنے دے‘‘ ریکارڈ کرایا۔ یہ گیت بے حد مقبول ہوا او راس کے ساتھ ہی مکیش کی پہچان بن گیا۔ یہاں تک کہ بہت سے لوگ تو ادکار کے طور پر مکیش کی پہلی فلم ’ پہلی نظر‘ ہی بتاتے ہیں، جو غلط ہے۔ اس گیت سے مکیش کی پہچان تو بن گئی مگر ان کا کرئیر بڑی دھیمی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا لہٰذای انہوں نے 1953 ء میں بلبل ہند ثریا کے ساتھ ایک فلم ’ معشوقہ‘ بنانے کا فیصلہ کرلیا ۔ یہ فلم نمائش کے ساتھ ہی فلاپ بھی ہوگئی، جس کی وجہ سے مکیش کا دل ٹوٹ گیا، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری، اور ایک نئی فلم ’ انوراگ‘ بنانی شروع کردی ۔ اس فلم کی موسیقی بھی خود مکیش ہی نے ترتیب دی تھی مگر یہ فلم کسی وجہ سے نمائش کے لئے پیش نہیں کی جاسکی۔ اس درمیان مکیش نے ایک او رفلم ’ملہار‘ بھی بنائی جو ناکام ہوچکی تھی۔ ا س طرح فلم ساز اور اداکار کی حیثیت سے مکیش بُری طرح ناکام ہوچکے تھے۔

مکیش کا دوسرا مقبول ترین گیت آیا ’’ زندہ ہوں ا س طرح کی غم زندگی نہیں ‘‘۔ اسے نغمے کے مشہور ہوتے ہی راج کپور سے مکیش کی دوستی گہری ہوتی چلی گئی ۔مکیش نے اس دوستی کو مرتے دم تک نبھایا بھی۔ اس کے ساتھ ہی آواز کی دنیا میں مکیش نے اپنا ایک الگ مقام پیدا کرلیا ۔فلم ’ملن‘ کا گیت ’’ ساون کا مہینہ پون کرے شور‘‘ گاکر مکیش گلوکاروں کی پہلی فہرست میں آگئے تھے او ران کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پیچھے مڑکر دیکھنے کی فرصت ان کے پاس نہیں رہی تھی۔

26 برس فلمی دنیا میں رہتے ہوئے مکیش نے لگ بھگ دس ہزار گیتوں کو اپنی آواز میں ڈھالا تھا اور اس میدان میں کئی بڑے انعام بھی حاصل کئے تھے۔ 1957 ء میں فلم ’اناڑی‘ کا گیت ’’ سب کچھ سیکھا میں نے نہ سیکھی ہوشیاری‘‘،1970 ء میں فلم ’’ پہچان کا گیت‘‘ یہ گنگا رام کی سمجھ نہ آئے‘‘، 1972 ء میں ’’ بے ایمان ‘‘ کا گیت ’’جے بولو بے ایمان کی‘‘ کیلئے انہوں نے فلم فیئر ایوارڈ بھی حاصل کئے ۔1975 ء میں فلم ’رجنی گندھا ‘ کے گیت ’ کئی بار یوں بھی ہوتاہے، یہ جو من کی سیماریکھا ہے‘ کے لئے انہیں نیشنل ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔

اپنے آخری دنوں میں مکیش نے تلسی داس کی تخلیق ’رام چرت مانس‘ کو اپنی آواز میں ریکار ڈ کرانا شروع کیا تھا اور انتقال سے کچھ ہی دنوں قبل ان کا آٹھواں اور آخری ایل پی ریکارڈ کرا دیا تھا۔

مکیش ایک بہترین گلوکار کے ساتھ ساتھ ایک نرم دل انسان بھی تھے۔ وہ سب کے ساتھ نرمی سے پیش آتے تھے ۔ وہ صرف دولت حاصل کرنے کے لئے نہیں گاتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی زندگی فن کی خدمت کے لئے وقف کردی تھی۔ وہ اکثر اوقات میں غریبوں کی مالی امداد بھی کیا کرتے تھے۔ سردی کے دنوں میں مکیش اپنی گاڑی میں 200 کمبل رکھ کر نکل پڑتے تھے اور فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے غریبوں میں تقسیم کرتے چلے جاتے تھے۔

حسرت جئے پوری کا لکھا ہوا پہلا گیت ’ چھوڑ گئے بالم‘ کو مکیش ہی نے گایا تھا ۔حسرت کے ساتھ فلم ’ تیسری قسم‘ کے گیت ’’ دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی‘‘ کی مشق مکیش فرش پر بیٹھے کررہے تھے جب کہ حسرت صوفے پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے زور دے کر ان سے کہاکہ’’ مکیش جی ، آپ بھی صوفے پر بیٹھ جائیے‘‘۔مکیش کہنے لگے ۔’’ہم سب کو ایک دن زمین میں ہی جانا ہے ۔کوئی بھی کرسی اپنے ساتھ لے کر نہیں جائے گا‘‘۔ یہ تھی مکیش کی سادگی کی ایک مثال ۔

1947 ء میں فلم ’’آگ‘‘ میں مکیش نے ’’زندہ ہوں اس کے غم زندگی نہیں‘‘ گیت گایا تھا ۔ تب راج کپور کے خاندان کے ایک فرد کی حیثیت مکیش کو حاصل تھی اور آر کے فلمز سے ماہانہ تنخواہ مکیش کو ملتی تھی۔ راج کپور کو بہت عزت دیتے تھے۔ فلم ’ ستیم شیوم سندرم‘‘ کی تکمیل کے دوران مکیش جب خود راج کپور کے پاس گئے او رکہنے لگے ۔’’ راج صاحب! کیا اس فلم میں میرے لئے کوئی گیت نہیں ہوگا ؟‘‘ تو راج کپور نے مکیش کادل رکھنے کے لئے چنچل شیتل گیت ریکارڈ کروا دیا  تھا۔

یش چوپڑہ سے بھی مکیش کی گہری دوستی تھی۔ فلم ’ کبھی کبھی‘ میں مکیش نے ایک گیت گایا تھا ۔’’ کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتاہے ‘‘۔ یش چوپڑہ نے کافی زور دیا مگرمکیش نے اس گیت کا کوئی معاوضہ نہیں لیا۔ یش چوپڑہ کی شادی میں بھی مکیش خود گیت گانے گئے تھے۔

مکیش جسمانی طور پر بھلے ہی آج ہمارے ساتھ نہیں ہیں مگر یہ نہیں سوچا جاسکتا کہ وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ موت انسان کا جسم تو ہم سے چھین سکتا ہے مگر ا س کی یادوں کو اس کی باتوں کو اور اس کے فن کو کبھی نہیں مٹا سکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایک آواز، درد و غم میں ڈوبی ہوئی اور اداسی کی انتہا کو اپنے آپ میں سمیٹے ہوئے گہری کشش کے ساتھ ابھرتی ہوئی سنائی دیتی ہے تو لگتا ہے کہ مکیش کا فن آج بھی زندہ ہے۔

مقبول ترین گلوکار کندن لال سہگل کی طرح مکیش کی آواز وبھی گلے سے نکلی آواز نہیں لگتی بلکہ وہ آواز دل کی گہرائیوں سے نکلتی محسوس ہوتی ہے۔ دل کے انتہا ئی جذباتی تاثرات جیسے ان کی آواز میں تیرنے لگتے ہیں او رایک میٹھا سا نشیلا درد انگڑائیاں لیتا ہوا محسوس ہوتاہے۔

مکیش کا گلوکاری میں کہیں کوئی گھماؤ دار موڑ نہیں ہے۔ تانوں، مُرکیوں اور آردہ کی لمبی کھینچاتانی بھی نہیں ہے ۔اگر کچھ ہے تو وہ صرف ایک سریلا سا سپاٹ پن جو سننے والوں کو صرف ایسا محسوس ہوتاہے کہ وہ کانوں سے ان کی آواز نہیں سن رہے بلکہ دل کی عمیق گہرائیوں سے اس میٹھی آواز کا نشہ اپنے اندر اتاررہے ہیں ۔ ایک بندھے بندھائے میٹر کے اندر جذبات کی گہری سے گہری ادائیگی مکیش کی ایسی خوبی رہی جوان کے ساتھ ہی چلی گئی۔

او رپھر یوںہوا کہ 27 اگست ،1976 ء کو وہ میٹھی ،نرم او ردل چھونے والی آواز ہم سے روٹھ گئی ۔ وہ امریکہ میں تھے کہ موت نے آکر درِدل پر دستک دی اور مکیش اپنے پرستاروں سے یہ کہتے ہوئے رخصت ہوگئے کہ :

اک دن بک جائے گا ماٹی کے مول

جگ میں رہ جائیں گے پیارے تیرے بول

7 نو مبر،2021 ، بشکریہ: انقلاب، ممبئی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/mukesh-actor-film-industry/d/125735

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..