New Age Islam
Thu Sep 23 2021, 11:22 PM

Urdu Section ( 5 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Mahmood Did Not Make Films A Source Of Making Money But He Wanted To Send A Message To The Society محمود نے فلموں کو پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ وہ فلموں سے سماج کو پیغام دینا چاہتے تھے

انیس امروہوی

5ستمبر،2021

فلم بینوں کو بے تحاشہ ہنسانے والے ادارکار محمود کا جنم 29 ستمبر 1932 کو ممبئی میں ہوا۔ ان کے والد ممتاز علی ہندی فلموں کے مشہور ڈانسر اور اداکار تھے۔ وقت گز رنے کے ساتھ ساتھ جب فلموں میں عورتوں کے ناچ گانے کا رواج بڑھنے لگا تو ممتاز علی کو فلموں میں کام ملنا کم ہوتا گیا او رگھر کے مالی حالات خستہ ہونے لگے۔ ممتاز علی کے 8 بچے تھے۔ اتنے بڑے کنبے کو چلانے کی ذمہ داری اکیلے ممتاز علی پر تھی۔ ایسے حالات میں زندگی نے محمود کو بچپن ہی میں روزی روٹی کمانا سکھا دیا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی باقاعدہ تعلیم بھی نہ ہوسکی او روہ بمبئی کی لوکل ٹرین میں ملاڈ سے دادر تک پیپرمنٹ کی گولیاں فروخت کرنے لگے۔

اپنے زمانہ میں ’کامیڈی کنگ‘ کہلانے والے محمود نے بچپن چھوڑ کر جب جوانی میں قدم رکھا تو ایک معمولی ڈرائیور بن کر زندگی کی شروعات کی۔ مشہور ادارکار اشوک کمار، گیان مکھرجی، پی ایل سنتوشی اور پنڈت  بھرت ویاس کے یہاں انہوں نے ڈرائیور کی حیثیت سے ملازمت کی اور اسی دوران وہ اپنے زمانے کے مقبول اداکاروں کی نقل کر کے لوگوں کا دل بہلایا کرتے تھے۔ اسی بیچ وہ فلموں میں چھوٹے موٹے رول بھی کرنے لگے۔ ایک دھارمک فلم ’رام راجیہ‘ میں ایک چھوٹے سے کردار کیلئے انہیں اپنے سر کے بال اور بھنوئیں تک صاف کرانے پڑے۔ اس سے قبل اخبار بیچنے اور مرغیاں پالنے کاکام بھی محمود نے کیا تھا۔

محمود

------

محمود نے بمبئی ٹاکیز کی فلم قسمت، فلمستان کی شکاری اور سونا چاندی جیسی فلموں میں کام کیا مگر انہیں فلموں میں کام کرنے کا کوئی خاص شوق نہیں تھا۔ جس وقت وہ پی ایل سنتوشی کے یہاں ڈرائیور ہوا کرتے تھے،انہیں دنوں دیو آنند اور مدھوبالا کو لے کر ایک فلم ’نادان‘ بن رہی تھی۔ فلم کے ڈائریکٹر ہیرا لال نے ایک آدمی کو محمود کے پاس بھیجا مگر انہوں نے اداکاری سے انکار کردیا۔ اس وقت محمود کی تنخواہ 75 روپے ماہانہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ چار دن کے شوٹنگ ہے او راس میں سو روپے روز ملیں گے۔ محمود نے سنتوشی جی سے اجازت مانگی تو انہوں نے اجازت دے دی۔ محمود نے شاٹ اتنے شاندار طریقے سے دیا کہ فلم کی ہیروئن مدھوبالا بھی نروس ہوگئیں، تو ڈائریکٹر نے محمود کا کام بڑھا دیا۔ اس طرح مہا بیلشور میں چھ دن تک ایک گانے کی فلمبندی ہوئی اور محمود کو 600  روپے ملے۔ وہیں سے محمود نے ادارکاری کا فیصلہ کرلیا۔

محمود کو راج کھوسلہ کی ہدایت میں بننے والی فلم سی آئی ڈی میں پہلا بڑا کام ملا۔ اس فلم میں دیو آنند اور وحیدہ رحمان تھے۔ محمود کو اس فلم میں کردار دلوایا تھا اس زمانے کے مقبول مزاحیہ ادارکار جانی واکر نے۔ اس فلم میں محمود کا کردار مزاحیہ نہیں تھا مگر اس کردار سے محمود فلم انڈسٹری میں ایک اداکار کی حیثیت سے پہچانے جانے لگے تھے۔ اس کے بعد راج کپور کی فلم ’پرورش‘ میں محمود نے ایک بڑا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ایک گانا تھا ”ماما۔۔۔۔ماما“ یہ گانا ہٹ ہوا تو محمود کی بھی بڑی تعریف ہوئی۔ اس کے بعد فلمستان کی فلم ’ابھیمان‘ میں محمود نظر آئے۔ اس کے ڈائریکٹر مہیش کول تھے او رفلم سلور جوبلی ثابت ہوئی۔ اس طرح محمود اداکار کے طور پر فلم انڈسٹری میں اپنے قدم جماتے چلے گئے۔ ایل وی پرساد کی فلم ’چھوٹی بہن‘ میں تو محمود کی اداکاری کی اتنی تعریف ہوئی کہ بعد کی کئی فلموں میں ان کو بطور ہیرو لیا گیا۔ فلم شبنم، قیدی نمبر 911،تیرا کیا کہنا، میں او رمیرا بھائی، روڈ نمبر 303،اور فرسٹ لووغیرہ فلموں میں محمود بطور ہیرو فلم بینوں کے سامنے آئے۔

شوبھا کھوٹے او رمحمود کی ایک ساتھ پہلی فلم 1959 ء میں راج شری پروڈکشنز کی ’چھوٹی بہن‘ تھی۔ اس فلم میں بلراج ساہنی، نندہ، شیاما، اور رحمان دیگر ستارے تھے۔ حالانکہ یہ فلم بہت زیادہ کامیاب نہیں ہوئی تھی مگر اس فلم میں محمود اور شوبھا کھوٹے کو مزاحیہ فلمی جوڑی کے طور پر پسند کیا گیا تھا۔ اس فلم میں اس مزاحیہ جوڑی پر ایک بہت ہی خوبصورت گیت فلمایا گیا”میں رنگیلا، پیار کا راہی“ جو بہت پسند کیا گیا۔ اس فلم کی ریلیز سے پہلے ہی شوبھا کھوٹے کئی فلموں میں کام کرچکی تھیں اور اپنی پہچان بنا چکی تھیں جب کہ محمود کا یہ شروعاتی دور تھا۔۔۔ مگر محمود میں ادکارانہ صلاحتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔

اگلے ہی برس 1961 ء میں پرمود چکرورتی کی ہدایت میں بننے والی فلم ’سنجوگ‘ میں محمود اور شوبھا کھوٹے کی یہ مزاحیہ جوڑی ایک بار پھر پردہ سمیں پر نظر آئی۔ یہیں سے فلم بینوں کو یہ لگنے لگا کہ یہ دونوں اداکار جوڑی کے روپ میں اچھے لگتے ہیں لہٰذا دوسرے فلمساز بھی اس طرف توجہ دینے لگے او رمحمود اور شوبھا کھوٹے کو ایک ساتھ کئی فلمیں مل گئیں۔1961 ء میں ہی ان دونوں کی ایک او رفلم ریلیز ہوئی جس کا نام سسرال۔ یہ فلم بڑی حد تک کامیاب رہی اور اس کامیابی کا کریڈٹ محمو د اور شوبھا کھوٹے کو بھی ملا۔ اس فلم میں دونوں پر ایک گیت فلمایا گیا تھا ”ایک سوال تم کرو، اور ایک سوال میں کروں“، جو بہت مقبول ہوا۔ اس زمانے میں حالانکہ جانی واکر مزاحیہ اداکار کے طور پر فلمی دنیا کے آسمان پر چھائے ہوئے تھے۔ بھگوان دادا اور دوسرے مزاحیہ اداکاری بھی فلموں میں خوب آرہے تھے مگر کسی بھی مزاحیہ اداکار کی مزاحیہ اداکارہ کے ساتھ جوڑی مقبول نہیں ہوئی تھی۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی کہ دوسرے مزاحیہ اداکاروں کے مقابلے میں محمود بالکل نوجوان او رخوبصورت دکھائی دیئے تھے اور ان کی مزاحیہ اداکاری میں بھی ہیرو والی بات تھی۔

1962ء میں پدما پکچرز کی فلم تیرا دیوانہ اور 1963 ء میں واسو فلمز کی ’بھروسہ‘ نمائش کے لئے پیشہوئیں۔ اس میں اس جوڑی پر فلمایا گیا اور ایک نغمہ ”آج کی ملاقات بس اتنی سی“ بہت مقبول ہوا۔ فلم دل ایک مندر، گودان، ہمراہی، بیٹی بیٹے، ضدی، زندگی، بے داغ اور آکاش دیپ فلموں میں بھی محمود اور شوبھا کھوٹے کی مزاحیہ جوڑی کوبہت پسند کیا گیا۔ اس طرح محمود لگاتار کامیابی حاصل کرتے چلے گئے۔ یہ وہ دور تھا جب فنانسر اور ڈسٹری بیوٹر فلمساز سے اس بات کا ڈیمانڈ کیا کرتے تھے کہ اس فلم میں محمود کو لیا جائے۔ 1966 ء میں پرمود چکرورتی کی فلم’لو ان ٹوکیو‘ نے تو محمود کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا تھا۔ اس فلم کا محمود پر فلمایا گیا ایک گانا”میں تیرے پیار کا بیمار ہوں، کیا عرض کروں“ بہت مقبول ہوا تھا۔

1960ء سے 1970 ء کی دہائی میں محمود بطور مزاحیہ اداکار چھائے رہے۔ ان برسوں میں محمود نے اپنی اداکاری سے فلم بینوں کو اس قدر ہنسایا او ررلایا کہ انہیں انڈین چارلی چیپلن کہا جانے لگا اور پہلی بار کسی مزاحیہ اداکار کو کامیڈی کنگ کا خطاب ملا۔ 1968 ء میں محمود پرواکشن کی فلم ’پڑوسن‘ ریلیز ہوئی اور سال کی بہترین کامیڈی فلم ثابت ہوئی۔ محمود نے چونکہ شروع ہی میں معاون ہدایتکار او رمعاون کیمرہ مین کی حیثیت سے بھی کام کیا تھا لہٰذا وہ فلم کے تقریباً ہر شعبے سے واقف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے خود فلمیں بنانی شروع کیں تو کئی بامقصد اور ہنسی سے بھرپور فلمیں بنائیں۔ فلم ’چھوٹے نواب‘ میں انہوں نے مو سیقار کے طور پر راہل دیو برمن کو متعارف کرایا۔ اس کے بعد محمود نے فلم ’پتی پتنی بنائی‘ جس میں سنجیو کمار کو پیش کیا۔ حالانکہ اس سے پہلے سنجیوکمار فلم ’نشان‘ میں آچکے تھے لیکن ان کی کوئی پہچان نہیں بنی تھی۔

اس کے علاوہ فلم سادھو اور شیطان، کنوارہ باپ، سب سے بڑا روپیہ، بامبے ٹو گوا، یا پھر ایک باپ چھ بیٹے،اور محمود کی آخری فلم دشمن دنیا کا۔ ان کی ہر فلم میں بھرپور مزاح کے ساتھ ساتھ کوئی انتہائی سنجیدہ مسئلہ ضرور ہوتاتھا اور وہ اس میڈیا کے ذریعہ عوام کو کوئی پیغام ضرور پیش کرتے تھے۔ انہوں نے فلمساز ی کو صرف پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اپنے بچوں کواو رہندوستان کی آنے والی نسلوں کو ایک نیک پیغام دینے کا ایک ذریعہ بھی بتایا۔ محمود نے خود زندگی میں بڑی جد وجہد کی تھی۔ اسی لئے وہ ہر اس نوجوان کو سراہتے تھے جو دل سے جدوجہد کررہا ہوتا تھا۔ سپر اسٹار امیتابھ بچن لمبے عرصے تک ان کے پاس رہے۔ بعد میں فلم ’بامبے ٹو گوا‘ انہوں نے اپنے بھائی انور علی او رامیتابھ بچن کے لئے ہی بنائی تھی۔ انہوں نے فلم ’کنوارہ باپ‘ میں راجیش روشن کو بریک دیا تھا۔ اس فلم کے ایک گانے کی ریکارڈنگ میں ساتھ آٹھ ہجڑوں کے درمیان محمد رفیع صاحب نے ایک گانا ”سج رہی گلی موری ماں سنہرے گوٹے میں“ گایا تھا۔ بعد میں محمود نے اس گیت کو اپنے والد ممتاز علی پر فلمبند کرکے یہ ثابت کردیا کہ بڑھاپے میں بھی ممتاز علی عمدہ ڈانسر کی طرح بہت خوب ناچ سکتے ہیں۔ محمود میں ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ وہ ہر مزاحیہ اداکار کابہت خیال رکھتے تھے۔اپنی فلموں میں تو وہ ہر چھوٹے بڑے مزاحیہ اداکار کو کام دیتے ہی تھے۔ اس کے علاوہ باہر کی فلموں میں بھی لوگوں سے کہہ کر ان کو کام دلاتے تھے۔ مشہور مزاحیہ اداکار جونیئر محمود نے تو باقاعدہ محمود کے نام کو ہی اپنا لیا تھا۔ فلم سادھو اورشیطان میں ٹریجڈی کنگ دلیپ کمار نے بھی بطور مہمان اداکار ایک چھوٹا سا کردار پیش کیا تھا۔ فلم ’گمنام‘ میں محمود نے ایک الگ قسم کا کردار ادا کیا۔ لنگی اور بنیان میں پوری فلم میں وہ ایک خاص قسم کے حیدر آبادی باورچی کا کردار ادا کرتے ہیں اور اسی انداز میں مکالمہ بولتے ہیں۔ اس فلم کا ایک گانا ”ہم کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں“ اتنا مقبول ہوا کہ بعد میں فلم برہمچاری میں یہ گانا محمود کے ہی انداز میں جونیئر محمود پر فلمایا گیا۔ اسی طرح فلم دیش پریمی میں امیتابھ بچن نے محمود کے انداز میں ایک گانا ”خاتون کے خدمت میں سلام اپن گا“ پیش کیا گیا۔ اسی طرح فلم ’آرزو‘ میں ممدو شکارا والاکا کردار محمود نے جس خوبی سے ادا کیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

محمود نے فلمی دنیا کے کئی نشیب وفراز دیکھے تھے اور انہوں نے ہر دور کی فلموں میں کام بھی کیا تھا۔ بلیک اینڈ وہائٹ سے رنگین فلموں کے سنہری دور کی مقبولیت تک میں ان کا کافی بڑاحصہ تھا مگر وہ فلمی دنیا کے بدلتے ہوئے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ نہیں کرپارہے تھے۔ وہ تشدد اور عریانی کے خلاف تھے اور بامقصد تفریحی سنیما کے حامی تھے۔

15 جون 1993 ء کو ساون کمار کی فلم ’کھلنائیکا‘ کی ڈبنگ کے وقت انہیں ہارٹ اٹیک آیا۔ اس موقع پر کے سی بوکاڈیا اور ساون کمار وغیرہ نے ان کی مدد کی۔ محمود فلمی دنیا چھوڑ کر مستقل بنگلور میں رہنے لگے تھے۔ تقریباً 13 برس فلمی دنیا سے دور رہنے کے بعد جب محمود دوبارہ فلمی دنیا کی طرف رجوع ہوئے تو زمانہ بدل چکا تھا۔ انہوں نے صرف چند ہی فلموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ادا کئے۔بعد میں محمود کافی بیمار رہنے لگے او رعلاج کے لئے اپنے بچوں کے پاس امریکہ چلے گئے۔ محمود نے اپنی زندگی میں تقریباً تین سو سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ 72 برس کی عمر میں 23 جولائی، 2004 کو ہندوستانی سنیما کا یہ ہر دلعزیز ادکار طویل عرصہ کی علالت کے بعد اس جہاں فانی سے کوچ کرگیا

5 ستمبر،2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/mahmood-films-making-society/d/125315


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..