New Age Islam
Sun Sep 19 2021, 08:08 AM

Urdu Section ( 1 March 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Balraj Sahni was a good artist as well as a kind-hearted man بلراج ساہنی بہترین فنکار کے ساتھ نیک دل اور سلجھے ہوئے انسان بھی تھے


 انیس امروہوی

28فروری،2021

ہندوستان کے پنجاب نےجہاں زندگی کے دُوسرے شعبوں میں بڑے بڑے فنکار پیدا کئے ہیں، وہیں فلمی دُنیاکیلئے بھی کئی اہم ستون بخشے ہیں۔پرتھوی راج کپور، دلیپ کمار، ساحرؔ لدھیانوی، راج کپور،  دھرمیندر، راج کھوسلہ، بی آر چوپڑہ، یش چوپڑہ، نور جہاں، پران، دھرمیندر، راجندر سنگھ بیدی اور راجندر کمار وغیرہ کے نام فلمی تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اُسی پنجاب نے، خواہ وہ پاکستان کا پنجاب ہویا ہندوستان کا یا ہم یوں کہیں کہ غیر منقسم پنجاب نے ایک بہت بڑے  فنکار کو جنم دیا جو آگے چل کر فلمی دنیا کا اہم ستون ثابت ہوا۔

بلراج ساہنی کا جنم یکم مئی ۱۹۱۳ء کو راولپنڈی میں ہوا تھا جو تقسیم وطن کے بعد اب پاکستان میں ہے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک میں تحریک آزادی کی وجہ سے لوگوں میں ایک نیا سیاسی شعور بیدار ہونے لگا تھا۔ غیر ملکی کپڑوں کی ہولی جلائی جانے لگی تھی اور نمک کا قانون بھی توڑا جانے لگا تھا۔بلراج ساہنی کی زندگی کی کہانی بھی اپنے آپ میں ایک عجیب وغریب داستان ہے۔ بڑی سادہ سی زندگی مگر کتنی جدوجہد بھری۔ بلراج ساہنی کے والد ہربنس لال ساہنی  اپنی اہلیہ، دو بیٹوں، بلراج اور بھیشم اور دو بیٹیوں، ویراں اور سمترا کے ساتھ رہتے تھے۔ ان سب بچوں میں تیسرے نمبر پر بلراج ساہنی تھے۔ ان کے والد کپڑے کا کاروبار کرتے تھے، جس میں کمیشن کے طور پر اوسط آمدنی ہو جایا کرتی تھی۔

بلراج ساہنی

--------

بلراج ساہنی اور اُن کے چھوٹے بھائی بھیشم ساہنی کو بچپن میں گروکل میں سنسکرت پڑھنے کیلئے بھیجا گیا مگر وہاں دونوں کا دل نہیں لگا۔  ایک دن بلراج ساہنی نے اپنا فیصلہ اپنے والد کو سنا دیا کہ وہ اب گروکل میں نہیں بلکہ اسکول میں پڑھیں گے۔ اُن کے والد اس بات سے حیران رہ گئے مگر حقیقت میں بلراج ساہنی نے جیسے ان ہی کے دل کی بات کہہ دی تھی۔ وہ اپنا سارا کام اُردو یا انگریزی میں کرتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ نئی طرز کی تعلیم اب اُن کے بچوں کیلئے بھی ضروری ہو گئی ہے۔ ان کی والدہ بھی بچوں کو نئی تعلیم دلانے کے حق میں تھیں، اسلئے دونوں بھائیوں کو اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔

بلراج ساہنی کو بچپن  ہی سے ادبی ماحول اپنے خاندان میں مل گیا تھا۔ ان کی دو پھوپی زاد بہنیںکشمیر میں رہتی تھیں، جن میں سے ایک پروشارتھ وتی کے شوہر جانے مانے ادیب اور مدیر چندر گپت وِدیا لنکار تھے۔ بلراج ساہنی نے بچپن میں اپنی والدہ سے بھی سنا تھا کہ ان کی دادی بھی کویتا کہتی تھیں اور ان کے کاروباری والد نے بھی بتایا تھا کہ ایک زمانے میں انہوں نے بھی ایک ناول لکھا تھا مگر وہ شائع نہیں ہو سکا تھا۔

بلراج ساہنی کی تعلیم ایم اے انگریزی تک ہونے کے بعد ان کے والد نےانہیں اپنے کپڑے کے کاروبار میں شامل کر لیا لیکناس میں ان کا دل نہیں لگا تو وہ رابندر ناتھ ٹیگور کے شانتی نکیتن چلے گئے۔ کچھ دن رہنے کے بعد وہ مہاتما گاندی کے پاس وَردھا جا پہنچے۔ وہاں پہنچ کر انہوںنے رسالہ ’نئی تعلیم‘ کی ادارت اپنے ذمہ لے لی۔ ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے تھے کہ ۱۹۳۹ء میں بلراج ساہنی کا انتخاب بی بی سی کی ہندی سروس میں انائونسر کی حیثیت سے ہو گیا ہے لہٰذا وہ گاندھی جی سے آشیرواد لے کر انگلینڈ چلے گئے۔وہاں رہتے ہوئے ہندوستان  میں آزادی کی لڑائی میں شامل ہونے سے مجبور تھے،اسلئے  وہ وطن واپس چلے آئے۔ یہاں آکر انہوں نے ’لوک ناٹیہ منچ‘ کی ذمہ داریاں قبول کر لیں۔ ناٹک یا ڈراموں کے ذریعہ ایک عام آدمی سے اداکار یا فنکار کا کتنا گہرا تعلق ہوتا ہے، یہ بات بلراج ساہنی کو بہت اچھی طرح معلوم تھی۔ ڈراموں سے اُن کو اتنا لگائو تھا کہ رات دن سوتے جاگتے بس ڈراموں کی ہی باتیں ان کی گفتگو کا موضوع ہوا کرتی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ تحریک آزادی میں بھی برابر حصہ لیتے رہے۔ اسی دوران ان کا ذہن فلموں کی طرف متوجہ ہوا۔۱۹۴۴ء میں وہ اِپٹا (انڈین پیپلز تھیٹر اسوسی ایشن) سے وابستہ ہو گئے، وہیں انہوں نے فلمساز و ہدایتکار فنی مجمدار کی فلم ’انصاف‘ میں ایک چھوٹا سا کردر ادا کیا۔اس کے فوراً بعد ہی خواجہ احمد عباس کی فلم ’دھرتی کے لال‘ میں ایک بھرپورکردار ادا کرنے سے ان کی پہچان شروع ہوئی۔ اس فلم کا موضوع بنگال کا  قحطتھا۔

بلراج ساہنی نے اپنی فلمی زندگی کا باقاعدہ آغاز ۱۹۴۶ء میں فلم ’دھرتی کے لال‘ سے کیا مگر ان کو شہرت ۱۹۵۳ء میں ریلیز بمل رائے کی فلم ’دو بیگھہ زمین‘ سے ملی۔ اس فلم نے عالمی شہرت حاصل کی اور کانس فلم فیسٹیول میں اعزاز سے نوازی گئی۔ ۱۹۴۷ء میں کم عمری میں ہی اُن کی بیوی دمینتی کا انتقال ہو گیا۔ اس کے دو سال بعد بلراج ساہنی نے اپنی ایک کزن سنتوش چنڈھوک سے شادی کر لی جو ٹیلی ویژن کی ایک مصنفہ کے طور پر مشہور ہوئیں۔’’گرم کوٹ، ہیرا موتی، دو بیگھہ زمین، دھرتی کے لال، گڑیا، راہی، نوکری،بدنام، مجبوری، اولاد، کٹھ پُتلی، دو روٹی، سونے کی چڑیا، مائی باپ، ہم لوگ، کابلی والا، سیما، گرم ہوا، ہنستے زخم، وقت، امانت، ہنستے زخم، ہندوستان کی قسم، گھر گھر کی کہانی، جواں محبت، پرایا دھن، حقیقت، سنگھرش اورنیل کمل‘‘ وغیرہ کچھ ایسی فلمیں ہیں جن میں بلراج ساہنی نے اپنی فنی صلاحیتوں سے ان سب کرداروں کو زندگی بخشی جو اِن فلموں میں انہوںنے پیش کئے۔بلراج ساہنی ایک نیک دل اور سلجھے ہوئے سادگی پسند انسان تھے۔

اس سلسلے کا ایک واقعہ بلراج ساہنی نے اپنی کتاب ’یادیں‘ میں تحریر کیا ہے، بلراج ساہنی کسی فلم کی شوٹنگ کیلئے چنڈی گڑھ میں تھے۔ آئوٹ ڈور کا کام تھا اور فلم کا سارا یونٹ ایک رات کسی امیر دوست کے گھر پارٹی میں مصروف تھا۔محفل پورے  شباب پر تھی۔ دن بھر تمام یونٹ نے شوالک کی پہاڑیوں کے آنچل میں شوٹنگ کی تھی اور بڑے حسین شاٹ لئے تھے۔ شراب کے ساتھ  ڈرائنگ روم میں دوشیزائوں  کی موجودگی نے محفل میں جان ڈال تھی۔ ایسے ماحول میں بلراج ساہنی کے ایک دوست نے آکر کان میں کہا کہ ’’بَلّی! باہر ایک آدمی کھڑا ہے تم سے ملنے کیلئے۔ ذرا ایک منٹ باہر جاکر اُسے درشن دے آئو۔‘‘

’’یہ نہیں ہوگا۔‘‘ بلراج نے کہا۔ ’’آج کے دن میں ساری ڈیوٹی ادا کر  چکا ہوں۔ اب اپنے نجی وقت پر مجھے مکمل اختیار ہے اور اس کا پورا پورا مزہ لینا چاہتا ہوں۔ اس سے کہہ دو کہ کل صبح ہوٹل میں آکر ملے۔‘‘

’’میری درخواست ہے بلی۔ وہ شام پانچ بجے کے پہلے سے ہی میری کوٹھی پر تھا اور ابیہاں باہر کھڑا ہے۔‘‘ دوستوں میں سب ان کو بلی کہتے تھے۔دوست کی اس درخواست پر بلراج  بے دلی کے ساتھ باہر آئے۔  باہرلوگوں کی ٹولی کے پاس بگھی پر ایک  پُتلے کی طرح اوم پرکاش نامی ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ بلراج کو دیکھ کر اس نے فوجی ڈھنگ سے سلام کیا، جس کا مطلب بلراج سمجھ نہ پائے۔ ان کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس بھیڑ میں انہیں کس سے ملنا ہے۔ قریب جاکر وہ سب لوگوں سے ہاتھ ملانے لگے۔ اوم پرکاش بگھی پر بیٹھے ہوئے ہی بولا۔ ’’کیا ہم بھی میجر رَن وِیرسنگھ سے ہاتھ ملا سکتے ہیں؟‘‘ اتنا کہہ کر وہ کھلکھلاکر ہنس پڑا۔بلراج ساہنی کو حیرت ہوئی اور اس کو بغیر ٹانگوں کے دیکھ کر ہمدردی بھی۔ ایک خیال ان کے دماغ میں یہ بھی آیا کہ یہ لوگ کہیں ان کے ساتھ مذاق تو نہیں کر رہے۔

’’کون میجر رن ویر سنگھ؟‘‘ بلراج ساہنی نے حیرت سے پوچھا۔

’’فلم ’حقیقت‘ کے رن ویر سنگھ، اور کون؟‘‘ وہ پھر اسی طرح ہنسا۔

اب بلراج جی کو یاد آیا کہ فلم’حقیقت‘ میں انہوںنے ایک فوجی میجر رن ویر سنگھ کا کردار ادا کیا تھا۔ حالانکہ بات کافی پُرانی ہو گئی تھی مگر اس وقت اوم پرکاش کے ان الفاظ سے بلراج جی کو خوشی ضرور ہوئی تھی۔

’’میں نے تین بار دیکھی تھی صاحب وہ پکچر۔ چوتھی بار اپنی ماں کو ساتھ لے کر دیکھنا چاہتا تھا مگر میرے پاس پیسے نہیں تھے۔‘‘ اوم پرکاش نے پھر کہا۔

’’اتنی زیادہ پسند آئی تمہیں۔‘‘ بلراج جی نے رسمی طور پر پوچھا۔

’’کیسے نہ آتی صاحب، ہم بھی تو لڑے ہیں چینیوں کے ساتھ۔ آپ میجر ٹھہرے، ہم ایک معمولی سپاہی سہی۔‘‘اس کی طنزیہ ہنسی اور لکڑی کی ٹانگوں کی اصلیت جان کر بلراج جی حیرت زدہ رہ گئے۔ ایک فوجی جوان جس نے جنگ میں دونوں ٹانگیں کھوئی تھیں، اُن سے ملنے کیلئے چار گھنٹے سے انتظار کر رہا تھا۔ ان کو بڑی شرمندگی محسوس ہوئی۔

’’تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی کہ تم فوجی جوان ہو؟‘‘ بلراج ساہنی نے پوچھا۔

’’بتاکر ملنے میں نہیں بلکہ مل کر بتانے میں مزہ ہے میجر صاحب۔‘‘ اس نے کہا۔’’مجھے بار بار میجر کہہ کر شرمندہ نہ کرو۔‘‘ بلراج ساہنی نے عاجزی سے کہا۔’’آپ اپنی قیمت ہمارے دل سے پوچھئے۔‘‘ اوم پرکاش نے کہا۔ اس کی باتوں میں کتنی حقیقت تھی، کتنی ایکٹنگ تھی، بلراج ساہنی کو اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔

ایکٹنگ میں بھی مجبوری کا جزو ہوتا ہے۔  بلراج بھی اگر اس وقت مجبور نہ ہوتے تو بغیر ہچکچاہٹ اس بہادر نوجوان کو پوری عزت کے ساتھ پارٹی میں اندر لے جاتے اور اس سے ہاتھ ملانا ہر کسی کیلئے فخر کی بات ہوتی۔ اس کی بدولت پارٹی کو چار چاند لگ جاتے مگر وہ صرف ایسا سوچ سکتے تھے کیونکہ اس سوچ کو وہ عملی جامہ نہیں پہنا سکتے تھے۔ اپنے جذبات کو قابو میں کرتے ہوئے انہوںنے جوان سے اتنا ہی کہا۔ ’’میرے  لائق کوئی خدمت ہو تو ضرور بتانا۔‘‘

’’وہ تو ابھی بتائے دیتا ہوں۔ آپ منظور کریںگے؟ میرا گھر یہاں  سے صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر ہے۔ ذرا چل کر میری ماں سے مل لیجئے، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔‘‘ اوم پرکاش نے بلا تکلف کہہ دیا۔

بلراج جی اسی وقت اپنی رنگین اور پُرشباب پارٹی چھوڑکر دوستوں کے منع کرنے کے باوجود اس جوان کے ساتھ اس کی خوشی کیلئے اس کے گھر روانہ ہو گئے۔بلراج جی کی زندگی میں ایسے ہزاروں واقعات  ہیں۔ وہ ہر لحاظ سے ایک نیک دل اور سادہ لوح انسان تھے۔

فلموں سے وابستہ ہوکر بھی بلراج ساہنی کی دیش بھگتی اور قوم پرستی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوںنے اپنے ہم خیال لوگوں کے ساتھ مل کر عوام کے درمیان خدمت خلق کا کام جاری رکھا۔ ان کے ساتھیوں میں راجندر سنگھ بیدی، خواجہ احمد عباس، کیفی اعظمی اور رشی کیش مکرجی کے نام خاص طور پر لئے جا سکتے ہیں۔

بلراج ساہنی اپنی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ ہمیشہ غریبوں اور ضرورتمندوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔ بلراج جی کے فلمی کرداروں میں بھی ویرایٹی ملتی ہے۔ ’دو بیگھہ زمین‘ میں رکشا چلانے والے کا کردار، ’تلاش‘ میں ایک کروڑپتی تجارتی آدمی کا کردار اور’سنگھرش‘ میں گنپتی پرساد کا کردار، جس کی آنکھوں میں ہر وقت نفرت اور بدلے کی آگ بھڑکتی رہتی ہے، ’کابلی والا‘ کا بھولا بھالا پٹھان جس کی نگاہیں محبت اور خلوص وہمدردی سے ہمیشہ بوجھل رہتی ہیں۔’گرم ہوا‘ میں جوتے بنانے والے ایک مسلم کاریگر کا کردار کون بھلا سکتا ہے۔’حقیقت‘ میں میجر کا کردار اور اسی طرح کے بہت سے مختلف کردار جن کو  انہوں نے زندگی بخشی۔ وہ اپنے آپ کو کردار میں اتنا  جذب کر لیا کرتے تھے کہ پردے پر بلراج کا کہیں نام ونشان نہیں ملتا تھا، وہاں صرف کردار ہی رہ جاتا تھا۔

۱۳؍اپریل ۱۹۷۳ء کو صرف ساٹھ برس کی عمر میں بلراج ساہنی کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔

qissey@rediffmail.com

28 فروری ، 2021،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/anees-amrohvi/balraj-sahni-was-a-good-artist-as-well-as-a-kind-hearted-man-بلراج-ساہنی-بہترین-فنکار-کے-ساتھ-نیک-دل-اور-سلجھے-ہوئے-انسان-بھی-تھے/d/124427


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..