New Age Islam
Sun Jun 20 2021, 03:22 PM

Urdu Section ( 26 Dec 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Ancient Islamic Shariah Laws – Part One اسلام کے قدیم شرعی قانون اللہ کے الفاظ نہیں ہیں(باب۱: قرآن کے پیغامات کو کس طرح تہ بالا کر دیا گیا

 

محمد یونس، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام

مشترکہ مصنف اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے، ۲۰۰۹

انگریزی سے ترجمہ ۔ مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام

اسلامی تہذیب وتمدن کے ایک ہزار سال تک اتحاد و  انصاف کا مظہر رہے شرعی  قوانین ،اب اسلامی تہذیب وتمدن اور امن عالم کے لئے ایک ایسا  خطرہ  بنتے جا رہےہیں ، جو اسلام کےقانونی  نظریہ میں ایک مثالی تبدیلی کا متقاضی ہے۔

 

واقعی،اس مضمون کی سرخی  چونکانے والی ہے، لیکن یہ اہم  بیان اس حیرانی کو ابدی تعریف ، تشویش اور چیلینج میں تبدیل کر سکتا ہے۔اس مضمون میں کلاسیکی  اسلامی قانون ارو اسکی الٰہی شریعت (قرآن) کے درمیان  فرق کو واضح کرنے کی کو  شش کی گئی ہے ، اور قدیم اسلامی قانون کے اس کردار کو اجاگر کرنےکی سعی پیہم ہے جو  اسلامو فوبیا اور اسلاموفاشزم کے  فروغ کا سبب ہے ۔مذکورہ دو نوں آفت ایک دوسرے کواس لئے  تقویت پہنچاتی ہیں کہ  اسلام کو ایک متشدد، عدم روادار مذہب بنایا جائے، اورتہذیبوں میں  تصادم کے لئے اشتعال پیدا کر تی  ہیں اور اسلامی تہذیب و تمدن  اور امن عالم کے لئے خطرہ پیدا کرتی ہیں۔

۱۔ قرآن۔اسلام کی شریعت الٰہی

قرآن شرع لفظ کا استعمال کرتا ہے (اصولی طورپر شرع اور  شریعت) قانونی نظام یا اصول کا مترا دف ہے (۵:۴۸،  ۴۵:۱۸  )۔قرآن مزید اعلان کرتا ہے کہ یہ حکمت کی  کتاب ہے (۱۰:۱،    ۳۱:۲، ۴۳:۴، ۴۴: ۴) جس طرح کی مثالوں کو روشن اور واضح (۱۲:۱، ۱۵:۱، ۱۶:۶۴، ۲۶:۲، ۲۷:۱، ۳۶:۶۹، ۴۳:۲، ۴۴:۲) کردیا ہے (۱۷:۸۹، ۱۸:۵۴، ۳۰:۵۸، ۳۹:۲۷) انسانیت   کی رہنمائی ، اور انہیں  ‘ ظلمت  سےنور ’  کی طرف  لا نے  کیلئے یہ ایک  محاورہ  ہے،جو سماجی، اور اخلاقی کردارکی  اصلاحات کی طرف غماز ہے ،اور ‘ان پر جو بوجھ اور طوق پہلے سے  موجود تھے اتارتا ہے ’ (۷:۱۵۷)

قرآن کی مثالیں ابدی ہیں اور نزول کے بعد سے اب تک کسی بھی حذف و اضافہ سے محفوظ ہے،جسے مختلف تحریری مواد کے ساتھ ساتھ حافظے کے ذریعہ بھی  محفوظ کیا گیا ہے(۸۰:۱۱تا ۸۰:۱۶)۔قرآن زندگی کی ثابت قدمی  پر خاص زور دیتا ہے۔کہ ایک انسان کو  کس طرح حلا ت  اور وقت  سےقطع نظر اخلاقی کر دا رپیش کرنا چاہئے ۔لہٰذااسی طرح  قرآن آفا قی مثالوں  کا احاطہ کرتا ہے ،جن میں انصاف، آزادی، مساوات، نیک اعمال ،پڑوسی کے ساتھ اور بین المذاہب اچھے  تعلقات، دولت میں غریبوں کو شریک کرنا ،  غلامی کا خاتمہ،مذہبی سطح پر خواتین کے لئے حرام کردہ بہت سے محرمات سے آزادی،ازدواجی رشتوں میں غیر انسا نی سلوک اورمظالم،بہتر کاروباری اخلاق،اشیا ءاور خدمات کی جائز قیمت ادا کرنا، ضرورت مند کی مالی مدد، عقل کا استعمال اور فوقیت حاصل کرنے کیلئے جہد مسلسل  ، وغیرہ کو ان عظیم مثالوں کے حوالے میں  پیش کیا جا سکتا ہے۔

۲۔  قدیم اسلامی قانون اور ہم عصر ،اسلام کا شرعی قانون

قدیم اسلامی قانون ان قانونی  روایات کا مجموعہ  ہے جو قدیم اسلامی فقہا کے فتاویٰ اور ان کی رائے کا احاطہ کرتا ہے۔لہٰذا اسکی تدوین و ترتیب  ،قیام خلافت (۱۰ تا ۴۰ ہجری ۔۶۳۲تا ۶۶۱ عیسوی سن) سے لے کر قرون وسطیٰ اور عصر حاضر کی روایات،رسومات،سیاسی اور سماجی حالات، فقہی قواعد ، اور اسلامی تہذیب  و تمدن کے مختلف  تاریخی نکات کی معلومات کے مطابق ہوئی ہے ۔اسی لئے  قوانین کا یہ مجموعہ  دوسرےبے شمار احکامات کے ساتھ ہی ساتھ  حرام کاری پر سنگساری کے ذریعہ موت،مرتد ہونے یا توہین رسول کر نے پر  سزا ئے موت ، ہم جنس  کا ارتکاب کرنے پر سزا،  غلامی،  غیر مسلموں کےتعلق سے  امتیاز اور نفرت،مسلم اور غیر مسلم درمیان  پوری دنیا کی تقسیم،علوم کی اسلامی اور غیر اسلامی  تقسیم،  عارضی شادیاں(نکاح متعہ )، فوراً طلاق، والدین کو  بچوں کے استحصال کی رعایت ،  جنسی عدم مساوات وغیرہ کا مخزن ومنبع ہے ،جو کہ قرآنی  پیغامات کے  مخالف ہیں۔ہو سکتا ہے کہ تاریخی نقطۂ نظر سے یہ تصورات دوسری تہذیبوں  سےمختلف نہ ہوں، لیکن ان باتوں  میں مشغول ہونا  موضوع سے  بھٹکنے کے مترادف  ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ دور حاضر میں  قدیم شرعی قانون کے متعدد بنیادی تصور اوراحکامات عصر حاضر کے حقائق اور قرآنی پیغامات  کے بالکل بر عکس ہیں۔

۳۔   کلاسیکی  اسلامی شریعت کا تعاون اور اس کی تاریخی بنیادیں

اسلام  کی آمد ایسے وقت میں  ہوئی  جب پوری دنیا جہالت، ناانصافی، جبر و تشدد اور استحصال کا شکار تھی۔آفاقی انصاف کے تصور کا معرض وجود میں آنا  ابھی باقی تھا۔معمولی سی چوری  کے شبہ میں لوگوں کو  ہاتھ  باندھ کر تالاب میں پھینک دیا جاتا تھا اگر وہ ڈوب جاتا تھا تو اس کا جرم ثابت ہو جاتا تھا  اور اس کو سزا مل جاتی تھی۔لیکن اگر کسی طرح وہ تیرتا رہتا تھاتو اسے آسیب زدہ مان کر  چھڑی سے داگ دیا جاتا تھا۔غلام زنجیروں میں باندھے جاتے تھے،انہیں طوق پہنایا جاتا تھا ،انہیں داغ دیا جا تا تھا اور ان کے ساتھ حیوانیت کا سلوک کیا جاتا تھا اور وہ جب تک زندہ رہتے غلام ہی رہتے ۔اگر وہ شادی کرتے اور ان کے بچے بھی  پیدا ہوتے ،تو پورے خاندان کو غلام کہا جاتا تھا۔خواتین کوسامانوں کی طرح  فروخت کیا جاتا تھا ۔اگر  ان کے شو ہرکسی اجنبی کے ساتھ انہیں بستر پرپکڑ لیتے  تو انہیں قتل بھی کیا جا سکتا تھا ، سماجی رسم و رواج کے مطابق خواتین کو اپنے مردہ  شوہر کی چتا کے ساتھ   زندہ جلنا پڑتا تھا ،معاشرے کے  اچھوت اور کمزور مثلاً،نابینہ،معذور، کوڑھی اور نا قابل علاج لوگ خدا کی ملعون مخلوق  سمجھے  جاتے تھے۔لوگ ان کی مذمت کرتے تھے اور وہ  جلا وطن کر دیئے جا تے اور ان کے نزدیکی رشتہ دار بھی  انہیں الگ تھلگ رہنے کے لئے مجبور کرتے تھے۔مجرموں اور جنگی قیدیوں کو  قتل کیا جاتا تھا اور دوسرے مظالم ڈھائے جاتے تھے ،نہ ہی ان کی کوئی قانونی سنوائی ہو تی اور نہ ہی ہی انہیں  اپنی دفاع کا موقع ملتا تھا۔اعلیٰ منصب پر بیٹھے لوگ  جانوروں کے ذریعہ انسانوں کے جسم کوٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھنے کا مزا لیتے تھے اور  اپنے وجود کی بقاءکے لئےحریفوں کا بے تحاشہ قتل کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کے اوپر انسان کی حیوانی فطرت حاوی تھی۔

قدیم زمانے سے ہی دنیا کے مختلف حصوں میں اس طرح کے جذبات سے لبریز ڈرامے  روزانہ کھیلے جاتے رہے ہیں۔ پوری دنیا کو اس وحشت زدہ وراثت سے نجات دلانے کے لئے قرآن نازل ہوا۔لھٰذا تمام انقلابی اصلاحات  سمیت اس نےخاص (۷:۲۹، ۱۶:۹۰، ۴:۵۸) توجہ انصاف پر  دی، اور تمام لوگوں  کو انصاف کا پابند (۶:۱۵۲) ہونے کی ذمہ داری کا اعلان کیا اور پوری انسانیت کو سچی گواہی  دینے کی ترغیب دی خوا ہ اس کا تعلق خود اس کی ذات سے ہو یا اپنے والدین، یا رشتہ داروں ، غریبوں یا اپنے سابقہ  دشمنوں  (۴:۱۳۵، ۵:۸)سے ہو ،انصاف کے غلبہ کی خاطرکچھ لو گوں کو مقرر کیا تا کہ وہ  منصفوں کی تربیت (۷:۱۵۹، ۷:۱۸۱) کر سکیں۔ اس نفاذکا  نتیجہ یہ ہو اکہ اسلامی ریاستوں میں انصاف  پر مبنی انتظامیہ کی بنیاد پڑ گئی۔ اس کی وضاحت  خلیفہ حضرت عمر ؓ کےذریعہ  اپنے گورنروں کو دئے گئے مندرجہ ذیل احکام  سے ہو جا تی ہے۔

خدا کی عبادت کے بعد انصاف کا قیام ایک لازمی زمہ داری ہے۔تمام لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کرو، چاہے تمہاری موجودگی میں ہو یا تمہاری عدالت میں ہو’ تاکہ کوئی کمزور انصاف سے مایوس نہ ہو اور کسی   مجرم تم سے رعایت کی امید نہ ہو ۔ اگر  کوئی بھی کسی چیز کا دعویٰ کرے تو اسے ثابت بھی کرے۔ اور انکار کرنے والے کیلئے  حلف لینا ضروری ہے ۔ سمجھوتے کی اجازت اس شرط پر ہوگی  کہ حلال کو حرام میں تبدیل نہ کیا جائے  اور اس کے بر عکس۔اگر کل  کسی مسئلے پر فیصلہ دینا ہے تو اس پر آج احتیاط سےغور و فکر کر لو۔ اگر تمہیں کسی چیز پر  شبہ ہے جس کا ذکر قرآن یا سنت نبوی ﷺ میں نہیں ہے تو  اس پر گہرائی سے غور کر لو اور اسی طرح کے واقعات اور دوسروں کی آرا ء کو بھی اہمیت دو اور ان پر منطقی اعتبار سے غور و فکرکرو۔’(۱)

اس طرح گواہوں کے سا تھ مناسب انصاف کے نظم و نسق   کی وجہ سے اسلامی ممالک  کے شہری  انتظامیہ میں تربیت یافتہ فقہا نے ایک اہم مقام حاصل کر لیا۔جس کی وجہ سے انصاف  کے میدان میں دانشمندانہ سرگرمیوں  کو تقویت ملی ۔اس سے متعلق تفصیل  میں جاناہماری اس کوشش میں زیادہ منطقی ہوگا، تاہم یہ کہنا کافی ہوگا کہ  اسلام کی ابتدائی تین صدیوں میں جید فقہا پیدا ہوئے ۔اس زمانے کے سب سے  ماہر مکتب  میں   حنفی،حنبلی، شافعی، مالکی اور جعفری کا شمار ہوتاہے (۲)۔تاہم تاریخ کے  ایک ہزار سال کے بعد آج یہ آفاقی  اور غیر جانب دارانہ روح،انصاف کی گرم جوشی ،‘جا ویدانی’ نظم و ضبط ، گہرائی، حکمت ’ معقولیت اور قرآن کےان  پیغا مات سے مطابقت نہیں رکھتے جو ابتدائی صدیوں میں  تھے ۔دراصل  تشددپسنداور انتہاپسندعناصر ، پاکستانیوں اور طالبانیوں  کے دائرۂ اختیار سے باہر جا رہا ہے  اور یہ  مرض وقت کے ساتھ مزید  بڑھتا جا رہا ہے۔

۴۔  قرآن  سے متضاد پیغام کو فروغ دینے کیلئے کس طرح قرآن کے پیغام کی تخریب کاری  کی گئی ؟

جب اسلام نئی ثقافتوں اور تہذیبوں کے دور  میں داخل ہوا، اس کا سامنا اسلامی پیغام سے متضاد رسوم و روایات اور فقہی قوانین سے ہوا ۔ان کو اسلام  میں شامل کرنے کے لئے ماہرین فقہہ نے اعلان کیا کہ:  ‘قرآن کی جو بھی آیت ہمارے آقاؤں  کی رائے سے متضاد  ہوگی  انہیں منسوخ مانا جائے گا یا  ترجیح دینے کا قاعدہ اس پر نافذ کیا جائے گا۔ اس آیت کی تشریح اس طرح  کرنا بہتر ہے کہ  تاکہ یہ ان کی رائے کے  مطابقت ہو جائے۔’(۳)

ماہرفقہاء نے  بہت سی  آیات پر قرآن مخالف احکام کو قیاس کیا  ہے ۔قرآن کی اس ابتدائی آیت ‘جتنی امتیں پیدا کی گئیں تم ان میں سے سب سے بہتر ہو’ (۳:۱۱۰ )کے تاریخی حقائق سے قطع نظر ،یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ‘بہترین امت’ کے قائد اور رہنماں ہونے کے سبب وہ کبھی  بھی غلط نہیں ہو  سکتے ، اگر چہ ان کے افکارو نظریت  قرآن سے  متصادم ہوں ۔قرآن کی اس آیت  کے ابتدائی حصہ‘اور اس طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا ہے’( ۲:۱۴۳ ) کاحوالہ  دیکر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ خدا کا  خاص  کرم ہمیشہ کے لئے ہے۔اور ‘اے مومنو، خدا کا حکم مانو اور رسول اللہ کی اتباع کرو اور ان کی جو تم میں امیر ہو اس کی اطاعت کرو۔۔۔۔۔۔’ (۴:۱۵۹ )آیت سے یہ مفہوم اخذ کرتے ہیں  کہ قرآن میں جس قائد  کا ذکر ہے اس سے انصاف کرنے میں خطانہیں ہو سکتی ،اورقرآن  میں جس کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے ہے وہ غلطیوں سے مبراو منزہ   ہونا چاہیے۔اور اس کے بعد علما ءنے اس منطقی طریقۂ   کا ر کا اجرأاجماع کے  غلطیوں  سے محفوظ ہونے میں کیا ۔اور اس کی حمایت میں فقہاءاحادیث لے آئے(۴)۔اور پھر فقہاء نے اپنے انصاف  کے نظریات  اور اصول کے جوازا کے لئے ا س حدیث کو بالواسطہ وحی قرار دیا ۔ اوراسی کے مطابق حدیث کوقرآن کے بعد اسلامی احکا م وقوانین  دوسرا مصدر و سر چشمہ قرار دیا۔یہ انصاف کا ایک ذہنی نظریہ  تھا، جو بعد کے زمانہ میں اسلامی  فقہ  کا بنیادی اصول بن گیا۔یہ اسلام کی دوسری اور تیسری صدی میں ہواجب فقہی اور قانونی سرگرمیاں  اپنے عروج پر تھیں ۔

اور فقہا ءانہیں قانونی احکامات اور اصولوں کی بنیا د پر کوئی بھی فتوٰی جاری کرنے کے لئے آزاد تھے اور اگرچہ  ان میں سے کچھ ہی اس پر متفق تھے اور اسے جواز فراہم کرنے کیلئے احادیث پیش کرتے تھے۔اور اس طرح قرآنی پیغام کی تخریب کا ری کر کے  اس دور کے اعلیٰ طبقے کے نجی مفادات کے مدنظر اس دور  کی سماجی، سیاسی اور تاریخی ضروریا ت کے مطابق فتوٰی دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور یہ لامتناہی سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے آج تک جاری ہے۔

۵۔  تاریخ کے  اس موڑ پر اسلامی شرعی قوانین کے اثرات

اس میں کوئی شک نہیں  ہو سکتا کہ  دوسری باتوں کے علاوہ (۱)کلاسیکی  اسلامی قوانین  نہ صرف قرآنی پیغامات بلکہ سیکولر نظریات  اور عالم گیر  اقدار کے بھی خلاف ہیں۔(۲)مثلاًکچھ اسلامی ممالک جیسے پاکستان، افغانستان اور ایران میں ان قوانین پر عمل درآمد سے خواتین کے خلاف مظالم اور زیادتی،انسانی حقوق کی پامالی،ترقیاتی عمل میں جمود، تانا شاہی، جمہوری  امیدوں  اور اپنے شہریوں کی سول حقوق کی حوصلہ شکنی اور ان کے مستقبل  کی تاریکی میں اضافہ ہوا ہے  (۳) اس قانون کے خواتین کے تئین متعصب ہونے کے سبب زیادہ تر مسلم ملکوں میں خواتین کی خود مختاری اور ترقی کو نقصان پہنچایا ہے(۴)اقلیتوں کے تئیں امتیازی سلوک  اور اہانت رسول اور ارتداد سے متعلق  حیوانی قوانین  اورشرعی قوانین پر عمل پیرا  مسلم اکثریتی آبادی والے  ممالک میں  اقلیت مشق ستم بنے ہوئے ہیں  (۵)مجرموں کے لئے اس کا وحشیانہ انصاف،زیادتیاں اور پوری دنیا کو اسلام کاتابع بنانے کی  کوششیں اسلام وفوبیا میں اضافہ کر رہی ہے۔(۶)دہشت گردی پسند ان کے پیش رو کی سر گرمیاں جنہوں نے خار جیت کی بنیا دڈالی بنیاد پرستی اور اسلامو فاشزم کو فروغ دے رہے ہیں(۷)مشہور کھیلوں  اور دوسری ثقافتی سرگر میوں سے منقطع  ہو جانے کی وجہ سے ان ملکوں میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں انہیں قومی دھارے میں شامل ہونے میں موانع  پیدا ہو رہے ہیں اور انہیں الگ تھلگ رہنے  پر مجبور کر رہے ہیں ۔(۸) علم کی اسلامی اور غیر اسلامی میں تقسیم نے  ، جیسا کہ اب بھی کئی مدارس میں ہے، اس نے   مسلمانوں کے درمیان  عالم گیر تعلیم کے پھیلائو میں رکاوٹ اور ان کے دانشورانہ نقطۂ نظر   کو تنگ کر دیا ہے۔(۹)جواز کا خیال کئے بغیر دولت کا  صرف ۵۔۲ فیصد رقم دینے کا نظریہ  (جبکہ قرآن میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں ہے اور نہ  کوئی عدد بیان کی  گئی ہے) بد عنوانی کو فروغ دے  رہا ہے، آمدنیوں میں تفاوت اور مسلم ممالک میں غربت میں اضافہ کر رہا ہے۔(۱۰)اس کا صرف رسومات پر زور اور باقی پر سرد مہری یہاں تک کہ سماجی، کردار ،اخلاقی اور کے ذہنوں کوحرکت دینے والی  قرآنی مثالوں کو نظر انداز کرنے کے سبب اسلام صر ف ایک مسلک میں تبدیل ہو  رہا ہے جو جدید تہذیبوں میں  اپنے اثرات مرتب کرنے  میں ناکام ہے۔(۱۱) مذہب کو مرکز بنا  کر کی جانے والی اس کی سیاست  اور دنیا کو مسلم اور  غیر  مسلم میں تقسیم  کا تصور اب کسی کام کا نہیں ہے اور پوری دنیا میں بڑھ رہے سیکولر رجحان کی تو بات  ہی چھوڑئیے ،اب غیر مسلم طاقتیں ہندوستان، امریکہ اور یوروپی یونین ان کی جنگ آزادی  (جیسا کہ مگربی پاکستان، افغانستان، لیبیا)میں تعاون کر رہی ہیں اور ناٹو کے یوگوسلاویہ میں حملے کے سبب اس زمین سے البانیا کے مسلمانوں  کا وجود مٹنے سے بچ گیا ۔(۱۲)قدیم مذہب کی بنیادوں پر  مبنی تقسیم پر عمل پیرا ہونا اسلام کے ہی اندر فرقہ واریت کو فروغ دے سکتا ہے۔

مندرجہ بالا نکات پر غور (ان میں وسعت ہو سکتی ہے ) کرنے کے بعد یہ عیاں ہو تا ہیکہ ہے  کہ وہ وقت آگیا ہے جب مسلم اشراف، پڑھے لکھے طبقے اور دانشواران کو  قدیم اسلامی قانون اورقرآن کے شریعت الٰہی میں فرق  پر دھیان دینا چاہیے۔قرآن ان میں سے کسی بھی اثرات اور نا موزوئیت سے انکار نہیں کرتا ہے۔ اس کڑوی سچائی سے چشم پوشی اس  مسئلے کو اور بڑھائے گی جو مسلم اکثریت والے ممالک اور جہاں مسلمان اقلیت کے طور پر رہ رہے ہیں وہاں اسلامی شرعی قانون  کے نفاذ یا پیٹرو ڈالر کے ذریعہ پیدشدہ فتنہ کے سبب ان لوگوں کو اٹھانی پڑ رہی ہیں ۔  (قسط جاری)

نوٹس:

۱۔  شبلی نعمانی، الفاروق،۱۸۹۸، کراچی، ریپرنٹ۔۱۹۹۱،  صفحہ ۱۹۱۔۱۹۲

۲۔  ابو حنیفہ (۸۰ تا ۱۴۹ ہجری)، ملک ابن انس(۹۷ تا ۱۷۹ ہجری)محمد الشافعی(۱۵۰ تا ۲۰۵ ہجری)،احمد ابن ہنبل (۱۶۴تا ۲۴۰ ہجری)۔شیعہ امام جعفر الصادق (۸۳ تا ۱۴۸ ہجری)

۳۔ احمد حسین، ڈاکٹرن آف اجماع ان اسلام، نئی دہلی۔۱۹۹۲، صفحہ۔۱۶

۴۔ (۱)میری امت کسی غلطی پر متفق نہیں ہوگی۔ جب تم کوئی نااتفاقی دیکھو تو اکثریت جو کہہ رہی ہے اس پر عمل کرو۔(۲)مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امیر کی اتباع کرو،(۳)جو کچھ بھی مسلمانوں کی نظروں میں غلط ہے وہ اللہ کی نظر میں بھی غلط ہے اور وہ جسے برا سمجھتے ہیں وہ اللہ کی نظروں میں برا ہے۔

۵۔ خوارج ایک ظالم اور جنونی فرقہ تھا جو بڑی بے رحمی سے اپنے حریفوں کا قتل کرتا تھا اور خون کی ندیاں بہا دیتا تھا۔ فلپ کے ہٹی، ہسٹری آف دی عربس۔۱۹۳۷، ۱۰واں ایڈیشن، لندن۔۱۹۹۳، صفحہ۔۲۴۷۔اس فرقہ کے کچھ لوگوں نے کئی خدائوں کو ماننے والوں کے بچوں، ان کے اپنے والدین، اور پوری دنیا کے غیر مسلمانوں کے قتل کو جائز ٹھہرایا تھا۔غنیت الطالبین، اردو ترجمہ ساہر شمس بریلوی، ارشد برادرس، نئی دہلی، صفحہ۔۱۷۸تا۱۸۰

۶۔ قرمط کے ماننے والے: حمدان قرمط نے اس کا قیام کیا، جو اقتدار کے بھوکے کاشت کار تھے۔۲۴۷ ہجری کے آس پاس (اسلام کی تیسری صدی) یا فرقہ بولشیوک انقلاب کی طرز پر سامنے آیا اور سیاسی اسلام میں سب سے بد خواہ اس کی ترقی رہی۔قرمط کے جانشین نے خلیج فارس کے مغربی حصے میں ایک آزاد ریاست کا قیام کیا(۲۸۶ہجری)اس جگہ سے ان لوگوں نے پڑوسی مقامات پر حملے کئے،اور عراق کے نچلے حصے کو یوں ہی چھوڑ دیا۔۔۔خلافت کے لئے دہشت بن گئے۔۔۔اور شام اور عراق کو خون میں ڈبوئے رکھا۔

۔۔۔۔۔۔۔

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمدیونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/the-classical-islamic-sharia-law-is-not-a-word-of-god!-(part-1--how-the-qur’anic-message-has-been-subverted)/d/5714


URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/ancient-islamic-shariah-laws-–-part-one--اسلام-کے-قدیم-شرعی-قانون-اللہ-کے-الفاظ-نہیں-ہیں(باب۱--قرآن-کے-پیغامات-کو-کس-طرح-تہ-بالا-کر-دیا-گیا/d/6237

 

Loading..

Loading..