New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 07:30 AM

Urdu Section ( 11 Nov 2010, NewAgeIslam.Com)

Islam, Jihad and Barack Hussein Obamaاسلام ،جہاد اور براک حسین اوبامہ

An Editorial in the Akhbar-e-Mashrique

(Translated from Urdu by New Age Islam Edit Desk)

The American President Barack Hussein Obama who is currently on a visit to India is the son of a Kenyan (African) Muslim father and American Christian mother. The middle name Hussein in his name tells us this truth though by faith he is Christian and goes to the church regularly. Nonetheless the blood of a Muslim runs through his veins and just as blood runs throught the whole body, Muslimhood also runs through his existence and every now and then uncounsciously he becomes an exponent and preacher of Islam.

On the first day of his visit to India when he was meeting the students of St Xavier's College In Mumbai, answering their queries, a girl student asked him the meaning of jihad in Islam. The question stirred up the Muslim in Obama and he delivered an eloquent lecture on the truth and greatness of Islam. He recognised the fact that Islam was the best  religion in the world and the followers of Islam were peace-loving. In the same vein he explained the meaning of jihad and said that it had very wide meaning. He clarified that today jihad was being explained in many ways and a few people were promoting violence giving Islam a bad name.

Rejecting this theory about Islam Obama said that people having such a mentality should be isolated from Islam. President Obama not only recognises the greatness of Islam but also has a soft corner for the Islamic world. Shortly after taking over as the President of the US, he had addressed the Muslims of the world from Egypt and had expressed his resolve to solve their issues. No other President of the US ever showed any interest in the Islamic world or in solving their issues. On the contrary his predecessor George Bush inflicted irreparable damages on the Islamic world by attacking Iraq and Afghanistan. While showering praises on Islam and the Muslims in Mumbai he did not even bother about the fact that a strong anti-Islamic lobby was always active in the form of the RSS in the country.

It is a matter of relief that some religious leaders and intellectuals of Delhi have welcomed Obama’s views on Jihad. He clearly stated that those victimising innocent people in the name of jihad were ignorant of the true meaning of jihad and shed human blood due to their cynicism.

Muslim Personal Law Board member Kamal Farooquee, Rajya Sabha MP Mahmood Madani and MP Rashid Alwi appreciated Obama’s statement on jihad and said that unleashing violence on innoncent people was not jihad and those involved in such acts were actually tarnishing the image of Islam. Rashid Alwi stated clearly that Islam could not be seen through the prism of terrorist organisations like Al Qaida and Lashkar-e-Taiba. In its public meetings, Jamiat-e-Ulema Hind has declared the violent definition of Jihad un-Islamic and has actually passed resolutions on this subject. Al Qaida founder Osama bin Laden and his deputy Aiman Al Zawahiri keep issuing fatwas of violent Islam and jihad through their audio and visual media and incite people to unleash terror and violence but their appeals hold no attraction for common people now. Osama is not a hero of the Muslims and nobody pays any heed to him. However, confusion still exists in the minds of people about  jihad which needs to be cleared by ulema.

Source: Akhbare-Mashrique, New Delhi

URL: https://newageislam.com/urdu-section/islam,-jihad-and-barack-hussein-obamaاسلام-،جہاد-اور-براک-حسین-اوبامہ/d/3673

امریکی صدر براک حسین اوبامہ جو اس وقت ہندوستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں ایک کنیائی (افریقی) مسلمان باپ اور امریکی عیسائی کی اولاد ہیں۔ ان کے نام میں حسین کاٹکڑا اسی حقیقت کا غمّاز ہے گوکہ وہ عقیدتاً عیسائی ہیں اور باضابطہ چرچ میں جاتے ہیں ۔بہر حال ان کی رگوں میں ایک مسلمان کا خون ہے اور جس طرح سےخون سارے جسم میں گردش کرتا رہتا ہے اسی طرح مسلمانی اوبامہ کے وجود میں ہلکورے لیتی رہتی ہے اور وہ شعوری اور لاشعوری طور سے اسلام کے مبلّغ اور شارع بن جاتے ہیں ۔ہندوستان میں اپنے قیام کےپہلے دن جب وہ ممبئی کے سینٹ زیوئرس کالج میں طلبا اور طالبات سے ملاقات کررہے تھے اور ان کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے تو ایک طالبہ نے اسلام میں جہاد کی حقیقت کے حوالے سے ان سے سوال کیا۔ اس پر حسین اوبامہ کے اندر کامسلمان جاگ اٹھا اور انہوں نے اسلام کی حقانیت اور عظمت پر ایک بلیغ خطبہ دے ڈالا ۔بھری بزم میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اسلام دنیا کابہترین مذہب ہے اور اسلام کے ماننے والے امن پسند ہیں ۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ‘‘جہاد’’ کی بھی تشریح کی اور کہا کہ اس کے معنی ومفہوم وسیع ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی وجہ اس وقت جہاد کی مختلف تشریحات کی جارہی ہیں اور چند لوگ جہاد کے پردے میں تشدد کو ہوا دے کر اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔

صدر اوبامہ نے جہاد کے اس نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ اس قسم کی ذہنیت رکھنے والے لوگوں کو اسلام سے الگ کیا جانا چاہئے ۔ صدر اوبامہ نہ صرف یہ کہ اسلام کی عظمت وجلال کے قائل ہیں بلکہ عالم اسلام کے تئیں بھی اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔مسند صدارت پر فائز ہونے کے بعد ہی انہوں نے مصر جاکر دنیا کے تمام مسلمانوں کو مخاطب کیا اور ان کےمسائل کو حل کرنے کے باب میں اپنے تعاون کااعلان کیا۔ اوبامہ سے پہلے امریکہ کے کسی صدر کو نہ تو عالم اسلام سے دلچسپی تھی اور نہ ان کے مسائل حل کرنے سے انہیں کوئی نسبت رہی ہے بلکہ اوبامہ کے پیش روصدر بش نے عراق اور افغانستان پر حملہ کر کے عالم اسلام کو ناقابل اندمال زخم لگائے۔ ممبئی میں اسلام اور مسلمانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اوبامہ نے اس کی بھی پروا نہیں کہ اس ملک میں سنگھ پریوار کی شکل میں ایک نہایت ہی مضبوط اسلام مخالف لابی ہر وقت کام کرتی رہتی ہے ۔شکر کا مقام ہے کہ دہلی کے بعض ملّی رہنماؤں اور ثقہ مسلمانوں نے جہاد کے حوالے سے صدر اوبامہ کے بیان کی تائید کی ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ جو لوگ بے قصور او رمعصوم لوگوں کو تشدد کا نشانہ بناتےہیں وہ جہا دکے حقیقی مفہوم سے نابلد ہیں اور محض اپنی سنک میں انسانی خون بہاتے ہیں۔ مسلم پرسنل لابورڈ کے ممبر کمال فاروقی ،راجیہ سبھا کے ممبر پارلیامنٹ مولانا محمود مدنی اور ممبر پارلیامنٹ راشد علوی نے جہاد کے حوالے سے اوبامہ کے بیان کو سراہتے ہوئے کہا کہ معصوموں کے خلاف تشدد برپا کرنا جہاد نہیں ہے اور جو لوگ اس طرح کی حرکت کررہے ہیں وہ اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔ راشد علوی نے صاف طور سے کہا کہ اسلام کو القاعدہ یالشکر طیبہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں سے جوڑ کرنہیں دیکھا جاسکتا ہے۔

جمعیۃ علما ہند نے اپنے عوامی جلسوں میں جہاد کی متشدد تشریح کو غیر اسلامی ٹھہرایا ہے اور اس بات میں باضابطہ قرار داد یں منظور کی ہیں۔القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن اور ان کے نائب ایمن الظواہری آج بھی آڈیو اور ویڈیو کے ذریعہ متشدد اسلام اور جہاد کی للکار دیتے رہتے ہیں اور کشت وخون کا بازار گرم کرنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں لیکن اب ان کی اپیل میں عام لوگوں کے لئے کوئی کشش باقی نہیں ہے۔ اسامہ اب مسلمانوں کے ہیرو نہیں رہے اور ان کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دیتا ۔ تاہم جہاد کے تعلق سے عام ذہنوں میں ابھی بھی ابہام پایا جاتا ہے جسے علمائے کرام کو دورکرنے میں اپنی سی سعی کرنی چاہئے ۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/islam,-jihad-and-barack-hussein-obamaاسلام-،جہاد-اور-براک-حسین-اوبامہ/d/3673

 

Loading..

Loading..