New Age Islam
Fri Sep 24 2021, 06:06 PM

Urdu Section ( 17 Aug 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Today's Nazeer Akbarabadi - Anwar Masood آج کا نظیر اکبر آبادی۔۔ انور مسعود

امجد اسلام امجد

15 اگست،2021

احمد ندیم قاسمی مرحوم نے جب انور مسعود کو اپنے دور کا نظیر اکبر آبادی قرار دیا تو پوری ادبی دنیا نے ایک زبان ہوکر اس تشبیہ کی داد دی کہ دونوں نے اپنی اپنی شاعری میں عوام، عوامی زبان اور عوامی محسوسات اسلوبی اور بر جستگی سے سمویا ہے اس میں کوئی تیسرا ان کے برابر تو کیا ان کے نزدیک بھی نہیں پھٹک سکا۔

انور مسعود

------

اگرچہ انور مسعود کی اردو غزلیں او رمشہور زمانہ پنجابی نظمیں بھی اپنی مثال آپ ہیں لیکن اس کے طنز یہ اور مزاحیہ قطعات بھی کسی سے کم نہیں اردو اخبارات میں فکاہیہ کالموں اور قطعہ نگاری کی تاریخ خاصی پرانی ہے لیکن جتنی مقدار اور جس قدر اعلیٰ معیار کے ساتھ انور مسعود نے قطعات لکھے ہیں شاید صرف رئیس امروہی مرحوم ہی کا نام ان ے پہلے اور اوپر لیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے اپنے اس حال ہی میں شائع ہوئے قطعات کے کلیات میں بھی اس بات کو دوہرایا کہ ان کی قطعہ نگاری کا آغاز غزل ایوب خان کی حکومت کے زمانے میں رویت ہلال کے حوالے سے چھڑنے والی ایک بحث سے ہوا اور تب سے اب تک وہ اس صنف سخن میں طبع آزمائی کرتے چلے آرہے ہیں۔گزشتہ دس بارہ برس سے وہ ادارہ ایکسپریس سے بطور قطعہ نگار منسلک ہیں اور قارئین زندگی کے مختلف شعبوں اور مسائل سے متعلق ان کے طنز یہ او رمزاحیہ شعری تبصروں کا بہت شوق اور دلچسپی سے مطالعہ کرتے ہیں۔

بک کارنر جہلم والوں نے 568 صفحات میں ہر صفحے پر تین قطعے شائع کر کے نہ صرف ڈیڑھ ہزار سے زیادہ مسکراہٹوں اور قہقہوں کو ایک جگہ جمع کردیا ہے بلکہ اس کی معرفت ہماری معاشرت، سیاست، تہذیب، مسائل اور افراد کے حوالے سے بھی ایک پوری تاریخ مرتب کردی ہے جن میں سے تین ایسے قطعات کا میں خصوصی طور پر ذکر کرنا چاہوں گا جن میں سے دو کا تعلق انہی کی طرح مسکراہٹیں بکھیرنے والے عظیم اور محبوب فن کاروں معین اختر اور فاروق قیصر سے ہے اور تیسرے کا تعلق اس شخصیت سے ہے جس کے قائم کردہ ادارے سے نہ صرف یہ کتاب شائع ہوئی ہے بلکہ جو اپنی ذات میں ایک انجمن ہونے کے ساتھ ساتھ انور مسعود کی طرح میرے دل سے بھی بہت قریب تھی تو سب سے پہلے آئیے ترتیب وار معین اختر مرحوم، فاروق قیصر مرحوم اور شاہد حمید مرحوم کو پیش کیے جانے والے قطعاتی خراجِ عقیدت و محبت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

قدرت نے تجھ کو ایسا بنایا تھا با کمال

اسٹیج کے ہُنر کا شنا سا کہیں جسے

تیرا نہ تھا جو ادب مہذب مزاح میں

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

اس کی کلیاں کی جو خوشبو ہے رہے گی دیر تک

اس کے انکل کی تو یاد آتی رہے گی بات بات

اک بڑا فنکار اس فانی جہاں سے اٹھ گیا

سخت ورد انگیز ہے فاروق قیصر کی وفات

وہیں پر ہے طباعت کا وہ مرکز

جو شاہد کی مشقت کا ثمر ہے

بہت مشہور ہے اب شہر جہلم

وہی جہلم جہاں بُک کارنر ہے

اب جہاں تک قطعات کے انتخاب کی بات ہے تو یہ اپنی جگہ پر ایک تقریباً ناممکن عمل ہے کہ ان کی تعداد درجنوں میں نہیں بلکہ سیکڑوں میں ہے ا س بہت مختصر انتخاب کی ایک خوبی البتہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ ان میں موضوعات کے تنوع اور انداز بیان کی مشاقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

روح لبریز تعفن ہی رہے توبھائی

جسم پر عطر لگانے سے بھی کیا ہوتا ہے

خوف جب یوم قیامت کا نہیں ہے دل میں

عالمی یوم منانے سے بھی کیا ہوتاہے

رائیگاں ہے بہہ گیا ہے، بہہ رہا ہے جو لہو

پھول آزادی کا اس وادی میں گر کھِلتا نہیں

فیصلے سارے غلط کشمیریوں کے باب میں

ان کو حق خود ارادیت اگر ملتا نہیں

یہی تو دوستوں لے دے کر میرا بزنس ہے

تمہی کہوں کہ میں کیوں اس سے توڑ لوں ناتا

کروں گا کیا جو کرپشن بھی چھوڑ دی میں نے

”مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا“

شدِت درد میں ہونٹوں پہ دعا کا ہونا

ثابت اس سے بھی تو ہوتا ہے خدا کا ہونا

حسنِ نیت نہ میسّر ہوتو انور صاحب

ہے خطرناک بہت ذہن رسا کا ہونا

امن و سلامتی کی روشنی ہے مراشعار

دنیا کو یہ پیام دیے جارہا ہوں میں

بھارت نے پائلٹ ابھی نندن کی شکل میں

جو کچھ بھی مجھے دیا تھا وہ لوٹا رہا ہوں میں

قائد اعظم کا انداز سیاست سیکھئے

بس یہی اک راستہ ہے نیک نامی کے لیے

ہم نے حاصل کی تھی جو برطانوی حُکاّم سے

کیا یہ آزادی تھی امریکی غلامی کے لئے

سمجھ میں یہ تضاد آتا نہیں

سمجھ لینے کی کوشش کررہے ہیں

بہت اچھی ہوتی ہیں اب کے فصلیں

بہت سے لوگ بھوکے مررہے ہیں

ہوں نہ ٹی وی کے کسی چینل پہ کج مج بحثیاں

کام کی ہو بات کوئی صرف منصوبے نہ ہوں

اس قدر باتیں نہ ہوں تفریق کی تقسیم کی

رہیئے اب ایسی جگہ چل کر جہاں صوبے نہ ہوں

ہمیں اس سے کوئی نہیں ہے ندامت

جو کہتا ہے کہتا رہے یہ زمانہ

یہ چینی کے بحران کا فائدہ ہے

ہمیں آگیا ہے قطاریں بنانا

کیا کہوں قانون کی درماندگی

تنگ ہوکر رہ گیا ہے قافیہ

کس قدر گمبھیر ہے یہ مسئلہ

مافیہ در مافیہ درمافیہ

15 اگست،2021، بشکریہ: روز نامہ چٹان، سری نگر

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/nazeer-akbarabadi-anwar-masood/d/125235

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..