New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 01:03 PM

Urdu Section ( 31 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Revolution and Prophethood انقلاب اور نبوت

 

 

علامہ رحمت اللہ طارق

اسلام دین فطرت ہے جس میں رہبا نیت ہے نہ پاپائیت ۔ نہ دنیا سے فرار  کی تعلیم ہے ،نہ رستگاری اور نجات  کے لئے  پروانوں  کے اجراء کی گنجائش  ۔ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو اپنے ساتھ قرآن کریم کی روشنی  بھی لائے ۔ جس میں بڑے اعتماد سے کہا گیا  تھا کہ انسانیت  کو عبودیت  ، غلامی اور مذہبی  رسوم  کے جو بھاری  بھر کم طوق و سلاسل  پہنا کر بے بس ولا چار اور لاغر بنا دیا گیا  ہے یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن ان کو توڑ کر انسانوں کو آزاد کرنے اور صحیح راہِ عمل بتانے آئے ہیں ۔ پھر دنیا نے دیکھ بھی لیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اور قرآن  نے حریت  اور مساوات  کا جو انقلاب  پیدا کیا  اس کی مثال  دنیا کے کسی  بھی نظام  میں ملنی محال ہے۔ لیکن پھر ایسا  بھی ہوا کہ انسانوں  ہی میں سےایک  طبقہ ایسا بھی پیدا ہوا  کہ جس نے اپنے ہی  ہم جنس  آدم  زادوں  کو دنیا سے  گریز اور رفرار  کا راستہ دکھلانے  کے لئے راہبا نہ زندگی  ، تجرد اور  گوشہ نشینی  کا درس  دینا شروع  کردیا ۔ اور رفتہ  رفتہ  لوگوں کو باور کرنے میں  کامیاب ہوگیا اور یہ جو قرآن  نے کہا تھا ۔ ربنا ما خلقت ھٰذا با طلا  ، قدرت نے یہ نظام جس پر یہ کائنات  چل رہی ہے،بے  کار اور بےسود پیدا نہیں  کیا ہے۔  انہوں نے اسے ہی بے سود ٹھہرا کر کہنا شروع کر دیا کہ یہ زندگی  نے مقصد ، اس کی رنگینیاں  بے حقیقت  ، اس کی  رعنائیاں  ہیچ ہیں۔ اس میں کھوجانےوالا مالک ارض و سماء سےبچھڑ جاتاہے ۔ یہاں جو کچھ  ہے باطن  کی صفائی  اور اپنے  ہی ہم جنسوں  میں ‘‘ عبود یت ’’ کو مرتکز  کرنے میں ہے۔

یہ ایک ایسا  راستہ تھا جس میں نہ قوانین کے نفاذ  کےلئے جان جوکھوں میں ڈالنے کی نوبت  پہنچ سکتی تھی ، نہ ہی  جابروں  کے ظلم  اور شاہوں  کے ستم جھیلنے  کے لئے جان  کا نذرانہ  پیش کرنا پڑتا تھا ۔ اس طرح جبراً گر اپنی فرماں روائی  میں لگا ہوا  تھا تو یہ  بھی روحانی  حکمرانی میں اپنی  پرستش اور بالا دستی  کا ڈول ڈالے ہوئے تھا ۔ بلکہ یہاں سرتابی  کی گنجائش  ہی نہیں،  روحانیت  والوں  نے لوگوں  کو اس قدر مسخر  اور تابع بنا رکھا تھا کہ ہر فرد  تقدیر کے حوالے اور ان روحانی  شہنشاہوں کی باطنی  توانائیوں  کے ذریعے  سے نظام قدرت  چلنے کا عقیدہ  رکھے ہوئے تھا ۔ اس طرح صوفیاء او رمذہبی  راہب لوگوں کے احتساب سے خود بچ گئے  اور عامۃ الناس  کو جابروں سے نہ بھڑنے  کی پٹی بھی  پڑھا گئے ۔ ادھر  لوگوں نے بھی اپنے ہوش و حواس کو تیاگ کر یقین کرلیا  کہ یہ لوگ  بے ضرر اور اللہ تک  پہنچے ہوئے ہیں  ان سے قربت  اور فیض  حاصل کرکے ہی علی علیین  تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ کہ خود دنیا کانظام  بھی انہی  کی روحانیت سے استوار ہے۔ یہ قطب  اور ابدال  اگر نہ ہوں تو نظام  ٹھپ ہوکر رہ جائے گا ۔ اسلام  کی اس متوازی  اور باطنی شریعت  کا نام ‘‘ تصوف’’ ہے ہمارے   رواں ماحول  میں علامہ  پرویز مرحوم  نے اپنی ادبی علمی اور ابلاغی  زبان میں ، سید عبدالودود نے سائنسی  لہجے  میں اور حقائق  کے ترازو  میں رکھ کر جس طرح تصوف   کی حقیقت  کو تولا اور  بے وزن  ثابت کیاہے  اس سے اہل باطن  کی  آنکھ  کھل جانی  چاہئے ۔ اسلام کے ‘‘ توحیدی’’  مزاج  کو نقصان  پہنچانے  کا یہ متبادل  نظام ایجاد  کرنے اور چلانے کا بنیادی محرک  ایرانی محدثین  کی کاوش  روایت سازی ہے۔ یہ جو خود  تو کسی حد تک بت پرستی  سے بچا رہا ، لیکن لوگوں کو مبشرات  ، رویا، محدثیت اور الہام کے دام فریب  میں پھنسا کر انہیں وادی  کفر او رضلالت میں بھٹکنے پر مجبور کردیا ۔

لوگوں نے  ان کی وضعی  احادیث پر اعتماد  کیا اور یہ سمجھا کہ معروضی  حالات  میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متبادل  نظام کی خود ہی  صورتیں بتلادی تھیں ۔ اب جو صوفیاء نے اعلان کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے بواسطہ جبرئیل  فیوض  و برکات حاصل کرتے تھے مگر ہم لوگ بغیر کسی واسطے  کے منبع  فیض  سےیعنی اللہ  سے مل کر حاصل کر رہے ہیں ۔ تو مسلمان اس پر ذرانہ چونکے، بلکہ ان کی ایسی شطحیات  پر عش عش کر اٹھے اور اگر کسی  نے کہا کہ  تا اللہ ان لوائی اعظم من لواء محمد  میرے علم و عرفان کا جھنڈا  محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے علم و عرفان سے بدر جہاں  زیادہ اونچا  ہے۔تو بجائے  ا س کے امت  محمد یہ مل کر بارگاہ تصوف  میں پر زور احتجاج کرلیتی الٹا  تحسین  اور مرحبا  کے ڈونگر ے برسا کر اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  میں معاون  بنی رہی۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارا دین  مکمل ہے۔ اللہ، قرآن  کی رہنمائی اور ہادی بر حق محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت  کو جس سیدھی  صاف اور روشن  ڈگر پرچلنے کی وصیت کی ہے، وہی باعث  نجات  اور فکر و نظر کی سلطانی راہ ہے۔ اس کی موجودگی  میں باطنی  مخصوص  اصطلاحات  سے فریب  کھا کر تصوف کی پیچیدہ زلفوں  کا اسیر ہونا  کسی ہوش مند کو زیب  نہیں دیتا ۔ کیا دین، حقیقت کی بیداری  کے مقابل  خوابوں کی اندھی  رہنمائی کا نام ہے؟ یارو ! کچھ تو سوچو تمہیں  کسی مہدی  و مسیح ، کسی قطب و ابدال اور کسی راہب  و صوفی کی طرف  دیکھنے کی کیا ضرورت ہے ۔ علوم کا ارتقائی  سفر مشاہدے کی شکل  اختیار کر چکا ہے، جب کہ سائنس  اورمشاہدہ دوراز کار رفتہ فلسفیوں  کا ساتھ  نہیں دے سکتے ۔ تم قرآن  کے حقائق  او رمعانی معلوم کرنے  سے اپنے آپ کو محروم  کر کے ضلالت  کے صحرا میں دوڑ رہے ہو جہاں سراب  ہی سراب ہے ۔ ان محدثو ں   نے انتظاری اور دیگر  رخوں  کی احادیث  بنا کر امت اسلام  کے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔ اس انتظار  نے باطنیت  کا سہارا لے کر سینکڑوں آنے والوں  کا راستہ  ہموار کردیا ہے۔

335 پیغمبر آئے اور ہر آنے والے نے دین اسلام کے حاملوں میں سے تھے اپنے ہم نوا اور حامی بنا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اور قرآن  کی پیش کردہ ہدایت  اور رہنمائی  کے آگےبند باندھ  لیا انہی رہبروں میں ‘‘ بابی’’ اور بہائی  تحریکوں  کے بانیوں  اور جاں نثار ساتھیوں  کا بڑا  کردار ہے۔ بلکہ بغیر  تشبیہ  کے میں تو کہو ں گاکہ  بابی  تحریک  نے قید و بند اور پھانسیوں کا جس پامردی سے خیر مقدم  کیا، رواں  تاریخ میں  اس کی مثال  ملنی محال  ہے ۔ اور بلاشبہ کہا  جاسکتا ہے کہ ان لوگوں نے قربانی  کی بڑی تاریخ  مرتب کی  ہے۔ لیکن  کیا ان کی تعلیمات  میں اتنی سکت اور توانائی  تھی کہ رہنمائی  کے نئے تقاضوں  کا بوجھ سہار سکے؟ سائنس  کے بے رحم  تھپیڑوں سے اپنے آپ کو بچا سکے؟ ا س کا جواب  نفی میں ہے اور یقیناً نفی  میں ہی ہوگا۔

دین کا دفاع میرا پیدائشی حق ہے۔ میرے دل  میں کسی نفرت اور بیزاری  نہیں ہے۔ میرے پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  دنیا میں پیار او رمحبت  کے تقسیم کار ہیں ۔ میرے نزدیک  نبوت ظلی و بروزی ہوخواہ مستقل  ، دونوں برابر ہیں ۔ دونوں نبوتوں  کے لئے خام  مال ہمادے اکابر نے انتظاری  عقیدے  کی صورت میں خود  ہی فراہم  کردیا ہے۔ اب ہمیں نہ بہائیوں  نہ بابیوں  سےشکایت ہے ، نہ احمدیوں  سے شکوہ ۔ ہمارے چیخنے چلانے  کی زبانیں اپنوں  ہی نے بند کر رکھی ہے ۔ آپ فتویٰ کے زور پر انہیں کافر  کہتے جائیے ۔ وہ  احادیث کے سہارے نبوتیں  جاری کرتے رہیں گے ۔ آپ سے یہ نہ ہوسکے گا کہ اپنی مقدس کتابوں ابو داؤد اور بخاری  سے مہدی  اور مسیح کی آمد کا ناپاک عقیدہ  حذف کریں، ان سے یہ نہ بن پائے گا کہ اپنے باطل دعاوی سے دست کش ہوجائیں ۔ انقلاب  نبوت  کے خمیر میں شامل  ہوتا ہے ۔ انقلاب  فکر و نظر کا ہو یا معیشت اور معاشرت  کا دینی ہو خواہ سیاسی بصیرت  کابنیادی  طور پر ‘‘ نبوت’’ کے خمیر  میں شامل  ہوتا ہے۔ وہ دلوں سے بغض و نفرت کو نکال کر پیار و محبت  کی آبیاری کرتے اور خلق  اللہ کو ڈھیروں خداؤں کی بندگی  سے آزادی دلا کر رب واحد کے فطری او رلازوال قوانین  پرچلنے  کا درس  دیتے ہیں۔ وہ انسانو ں کو ڈھیر سارے خداؤں  کی بندگی  اختیار  کرنے نہیں دیتے ۔ آپ نظر دوڑا کر دیکھئے کہ جتنے  بھی ہادیان  بر حق آئے انہوں نے جب کبھی اصلاح  احوال  کی تو حاسدوں  ، انقلاب  دشمنوں،  اپنی ہی قوم  کے خوشحال لوگوں  ، مذہبی اجارہ داروں ،انقلاب  سے خائف حکمرانوں  اور شاہوں  نے مل کر ان کا راستہ  روکا  ( القی الشیطان فی امنیۃ)  دنیا کے بڑے انقلابی سیدنا ابراہیم علیہ السلام  نے نمرود وں ، موسیٰ علیہ السلام  نے فر عونوں  اور سید البشر  نے قیاصرہ اور کسراؤں  کی خدائی  کو چیلنج  کیا ۔ افراد بشر کو جینے کا سلیقہ  سکھایا ، دین و سیاست  کا شعور دیا ، عزت نفس  سے آشناء کیا ۔ جہاد زندگی   میں دفاع  کی پالیسی  کو اپنایا ۔ کیونکہ دفاع  ہی بقاء او رزندہ رہنے سے تعبیر  ہے تنازع  للبقاء ہر انسان بلکہ ہر  جاندار  کا فطری  حق ہے۔ جو قوم  دفاعی  سازو سامان سےنظری اور خواہ  عملی طورپر محروم ہے وہ اپنے عقیدے بلکہ میسر  و سائل  حیات کا تحفظ بھی نہیں  کرسکتی ۔ دینی مقاصد  اور بر تری  بغیر دفاعی  تحفظ کے نا ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن  بار بار زندہ رہنے کا حق  حاصل کرنے کا حکم  دیتاہے۔

جابروں کو للکار نا انبیاء کا فریضہ ہے ۔ نظریات  اور عقائد  کو اخلاقی  توانائیوں  کے علاوہ مادی کمک  پہنچانا  بھی ضروری ہے ۔ بصورت  دیگر نہ نظریات فروغ پاسکتے ہیں او رنہ ہی  اخلاقی  قدریں  فناء سے بچ سکتی ہیں ۔ حضرت نوح علیہ السلام  نے جب بڑے لوگوں  سے بات کرنی  چاہی تو انقلاب  کی بو سونگھ  کر وہ بپھر گئے او رکہنے لگے ۔ نوح علیہ السلام ہم جانتےہیں ان گھٹیا اور خسیس  لوگوں نے تمہارا  ساتھ  دے کر تمہیں انقلاب  لانے کےلئے اکسایا ہے ۔ لیکن  ہم نے بھی تہیہ  کرر کھا ہے کہ بتوں  کی خدائی جاری  رہے گی یہاں ‘‘وُدّ’’ بھی ہوگا اور ‘‘سواع’’ ، بھی ‘‘ بغوث’’  بھی رہے گا اور ‘‘ بقوق’’ بھی ۔ اسی طرح ‘‘ نعصر ’’  کی خدائی بھی چلتی رہے گی ۔ اسی طرح شعیب علیہ السلام نے بھی سرمایہ  داروں  کو اسلامی  نظام کے قیام کی دعوت  دی تو قوم  کہنے لگی کہ تمہارا مطلب  ہے کہ ہم اپنا کمایا ہوا سرمایہ  او رمال متاع  تمہارے  سپرد کردیں اور تم لوگوں میں بانٹ  دو۔ کیوں نہ ایسا ہو کہ تم یہاں سے نکل جاؤ ۔ چنانچہ پھر ایسا  بھی ہوا کہ شیبی اور اکسوی قبائل  نے آپ پر حملہ کر کے مال  و مویشی بھی چین لئے ساتھیوں اور اہل خانہ  کو بھی منتشر  کر ڈالا۔

حضرت یونس علیہ السلام  نے قوم کی زندگی کی رعنائیوں سے آشنا کرنا چاہا، مگر قوم نے انقلاب  کی آواز کو اپنے لئے خطرہ تصور کرلیا اوررد عمل کا اتنا شدید  مظاہرہ کیاکہ آپ کو نینوا سے کوچ کرنا پڑا۔ موسی علیہ السلام  غلام اور ناتواں  قوم کو فرعون کی غلامی سے آزاد کرنے اور خدا وندِ ازیس کی پوجا سے نجات دلا کر رب واحد کی جناب سے نئی زندگی  دلوانا  چاہتے تھے ۔ فرعون نہ تو اسرائیلیوں  و دیگر ناتواں اقوام  کو جینے کا حق دینا چاہتا تھا ، اورنہ ہی اپنی خدائی میں حقیقی  رب العٰلمین کی ربوبیت  عامہ کو برداشت کرنے پر آمادہ  تھا چنانچہ  اس نے سید نا موسیٰ علیہ السلام  کو ہر طرف سے گھیرے میں لے لیا ۔ حتیٰ کہ قارون  وغیرہ جیسے سرمایہ دار رشتہ داروں تک کو فرعون  نے اپنے ساتھ  ملا لیا ۔ کشمکش حیات  کا یہ سلسلہ اس وقت تک نہ رکا جب تک موسیٰ علیہ السلام  کی جد وجہد  رنگ نہ لائی ۔ اب طے شدہ پروگرام کے مطابق  لاکھوں اسرائیلی رات کے کسی حصے  میں گھر بار چھوڑ کر سمندر  پار نکل گئے ۔ پھر بھی بت پرستی پر جمے رہے ۔ بالآخر تو رات کی تدوین  کے بعد آپ  کو از سر نو اپنا  پروگرام شروع کرنا پڑا ۔ صحرائے  سینا بھی  مصر میں شامل تھا ۔ آپ  نے فرعون کی مملکت پر قبضہ اور غلامی  کے روگیوں  کو آزادی  کی حرارتوں سے توانا بنا کر زندہ رہنے کا حق  دلایا ۔

دیگر پاکبازوں کی طرح سیدنا عیسی علیہ السلام نے بھی جاں نثار ی اور جاں بازی میں ایک مثال رقم کرائی ، آپ راہب فیملی  کے چشم و چراغ تھے ان کی فیملی  کو احترام کی نظروں سے دیکھاجانا تھا، آپ  علیہ السلام  طبعاً نرم مزاج  ، نرم خو اور مرنجان  مرنج انسان  تھے ۔ اس پر حالات  کی ستم ظریفی یہ کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل  جیسے اکھڑ مزاج لوگوں  کی اصلاح  کے لئے بھیجے گئے ۔ و رسولاالی بنی اسرائیل  جس کا نتیجہ یہ نکلا  کہ آپ علیہ السلام کو پہلے ہی مرحلے پر اذیت اور تنقید کا نشانہ  بنایا گیا ۔ یہودی سرمایہ داروں نے برملا آپ علیہ السلام کے خاندان کو ہدف ملامت ٹھہرایا ۔ اور سرمایہ داروں کو یہ کہہ کر متحد کیا کہ اس کے ساتھ اشرافیہ کم اور نچلے  طبقے  کے معاون  اور انصار زیادہ  ہیں ۔ اٹھو اور اپنے وقار  کو تحفظ  دو۔ چنانچہ ان کی ملی بھگت  کامیاب ہوئی اور عفوان شباب میں ہی ایسے منظر  میں آپ علیہ السلام  کو لے جایا گیا  کہ بعد میں آپ علیہ السلام  کی طبعی  موت کا پتہ بھی نہ چل سکا ۔

آخر میں ذکر مبارک ہوتا ہے سید البشر انقلابیوں کے امام سید نا  محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا، آپ کی قوم بھی قوم موسی علیہ السلام کی طرح اکھڑ اور ہدایت  قبول کرنے کی صلاحیتوں  سےمحروم  تھی، تاہم  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوری جاں  نثاری  سے اپنا کام شروع کیا۔ مکہ کے مختصر  آبادی  تقریباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور پر ے کے رشتہ داروں  پر مشتمل  تھی، لہٰذا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات  اقدس  کو تو نشانہ نہیں بنا سکے  تھے ۔ لیکن  آپ علیہ السلام کی انقلابی  عمل کو نظر تحسین  سے دیکھنے کے روا دار بھی  نہیں تھے ۔پیغمبر انہیں زندگی  کے اہم تقاضوں  سے با خبر کرنا چاہتا  تھا ، مگر انہیں موت گوارا تھی زندگی نہیں ۔ چنانچہ مخالفین  نے رشتہ داروں کو خاطر میں نہ لا کر اذیت کی انواع  و اقسام  کا مظاہرہ  شروع کیا ۔ نوبت گھر بدری او رہجرت تک پہنچی ، شاہ حبشہ نےآپ کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفقا ء کو  سیاسی پناہ بھی  دی اور حفاظت  کاآہنی  انتظام بھی کر دیا ۔

مکہ والے تعاقب کرتے ہوئے جب شاہ حبشہ  کے ہاں پہنچے تو شاہ نے نکلا سا جواب دے کر انہیں  واپس کر دیا۔ اس کے بعد جب رب کی طرف سے اشارہ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوئے مدینہ ہجرت  کی تو کفارنے چڑھائی کردی او رمیدان ‘‘ بدر’’ میں زور کا رن پڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے 313 جاں بازوں کی مختصر جمعیت  کے ساتھ دفاع کیا ۔ وہ کہتےہیں کہ بظاہر  شمشیر زنی پہلو انی  اور میدان  میں صف شکنی  سے ‘‘ جذبہ’’ زیادہ کام کرتا ہے چنانچہ یہاں بھی فدایان اسلام، اللہ کی عطا ء کردہ قوت  ارادی  ،جذبہ دفاع اور  اسلام کی سر بلندی کے عزم  نے میدان  مار لیا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کے افق پر اسلام کے جھنڈے گاڑ دیئے ۔ اللہ والوں کے اس گروہ نے بھی جہاد زندگی میں دفاع ہی کو اصول بنایا ۔ کہیں جارحیت نہیں کی ۔ کسی کے کھیت نہیں اجاڑے ، عبادت  خانے نہیں  گرائے ، بستیوں  میں آگ  کے الاؤ روشن نہیں  کئے ۔ بچوں  اور خواتین  پر دست درازی  کرنے کے بجائے ماؤں بہنوں کی طرح حفاظت کی ۔ مذہبی اجارہ داری ختم کرنے کے باوصف غیر مذاہب  کے پادریوں ، پنڈتوں ، راہبوں او رموبدوں کو احترام سےجینے دیا ۔ حقوق  میں نسلی  صنفی اور مذہبی  امتیاز  کو حرف غلط  کی طرح مٹا دیا ۔ اور دنیا کو متنازع للبقا کا راز یہ کہہ کر سمجھا دیا کہ  لیس للانسان الاماسعیٰ ۔ جینے کا حق حاصل کرو گے تو جیو گے۔

جولائی، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صو ت الحق، کراچی  

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/allama-rahmatullah-tarique/revolution-and-prophethood--انقلاب-اور-نبوت/d/98365

 

Loading..

Loading..