New Age Islam
Tue Jun 09 2026, 08:57 AM

Urdu Section ( 14 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Pakistan's Council for Islamic Ideology’s Refusal to Accept DNA Test as a Proof پاکستان کے اسلامی نظریاتی کونسل کا ڈین این اے ٹیسٹ کو بطور شہادت تسلیم کرنے سے انکار

 

علامہ ایاز نظامی، نیو ایج اسلام

14 جون، 2013

اطلاعات کے مطابق پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے ایک حالیہ اجلاس میں زنا بالجبر کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو ناقابل قبول ثبوت قرار دیا ہے۔ کونسل کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ کو زنا بالجبر کے مقدمہ میں بنیادی ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا، البتہ ضمنی یا ثانوی ثبوت کے طور پر ڈی این اے ٹیسٹ کو تسلیم کیا جا سکتا ہے، جس کے مطابق زنا بالجبر جیسے مقدمہ میں متاثرہ خاتون کو انصاف کے حصول کیلئے شرعی قانون کے مطابق جرم کے ثبوت کیلئے چار مسلمان، عاقل بالغ، عادل چشم دید گواہ پیش کرنا ہوں گے، اگر مذکورہ کیس میں ڈی این اے ٹیسٹ متاثرہ خاتون کے دعوے کی تائید بھی کر رہا ہو لیکن وہ چار گواہ پیش نہ کرسکی تو عدالت ڈی این کے ٹیسٹ کو ناکافی ثبوت قرار دیتے ہوئے ملزم کو باعزت رہا کرنے کا حکم جاری کر دے گی۔

کونسل کے اس فیصلے میں ڈی این اے ٹیسٹ کو ضمنی ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جانا بھی ایک لطیفہ سے خالی نہیں ہے، کیونکہ اگر مذکورہ کیس میں جرم کے ثبوت کیلئے شرعی گواہی دستیاب ہوگئی تو پھر ضمنی یا ثانوی ثبوت کے پیش کرنے کی نا تو نوبت آئے گی، اور نہ اس کی کچھ خاص اہمیت باقی رہ جاتی ہے، تو پھر ڈی این اے ٹیسٹ کو ضمنی شہادت کے طور پر بھی قبول کرنے کی زحمت کس لئے گوارا کی گئ؟

اسلامی نظریاتی کونسل کا یہ فیصلہ درحقیقت علماء اسلام کے ان فتاویٰ سے مختلف نہیں ہے جن کے مطابق کسی دور میں علماء کرام نے لاؤڈ اسپیکر پر اذان، ٹیلی ویژن، پرنٹنگ پریس، جدید علوم عصریہ کی تعلیم، مغربی لباس وغیرہ کو غیر اسلامی قرار دیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کی اہمیت نے خود کو اس قدر منوا لیا کہ ان چیزوں کو غیر اسلامی قرار دینے والے علماء کی نئی نسل کا اب ان کے بغیر گذارا نہیں ہے۔

علماء کرام نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں یہ فتویٰ جاری کرکے ایک بار پھر یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی تعلیمات آج کے جدید دور سے مطابقت نہیں رکھتیں، اور اسلام کا نفاذ آج کے دور میں ممکن نہیں ہے۔

ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں انسان کو اور بہت سی سہولتیں بہم پہنچائیں وہیں قانونی تفتیش کے طریقہ کار کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔ آج دنیا کے بیشتر ممالک میں جرائم کی تفتیش کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جاتا ہے، فنگر پرنٹ، کلوز سرکٹ کیمرے، ڈی این اے ٹیسٹ اور دیگر فارنسک شواہد کو عدالتوں میں قابل اعتبار اور مسلمہ ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور عدالتیں ان ثبوتوں کو قابل اعتبار قرار دیتےہوئے انہیں تسلیم بھی کرتی ہیں۔

دنیا کے کسی ملک میں جرائم پر قابو پانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادے کے مستند ہونے یا نہ ہونے پر بحث نہیں کی گئی، بلکہ بیشتر اسلامی ممالک میں بھی اس کو زیر بحث نہیں لایا گیا ہوگا، لیکن چونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دل میں اسلام کا درد عرب ممالک سے بھی زیادہ ہے اس لئے یہ اعزاز بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ہی حاصل ہوا ہے۔

مجھے سو فیصد یقین ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے صرف مغرب اور ان کی جدید علمی ترقی کی مخالفت کی بنیاد پر ڈی این اے ٹیسٹ کو مسترد کیا ہے۔ ورنہ یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ جو علماء اسلام، اللہ کو تمام کائنات کا خالق مانتے ہوں تو وہ یہ بھی مانتے ہوں گے کہ ہر جاندار کے جسم میں ڈی این اے کا وجود بھی تخلیق الٰہی ہے تو اگر اس قدرت کے اس شاہکار کی بنیاد پر ایک مظلوم خاتون کو انصاف میسر آ سکتا ہو تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟لیکن چونکہ ڈی این اے ٹیسٹ بھی مغرب سے درآمد شدہ ہے اس لئے ناقابل اعتبار ٹھہرا۔

اب ذرا تصور کیجئے کہ پاکستان یا کسی دوسرے اسلامی ملک میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بطور بنیادی شہادت کے مسترد کر دیا جاتا ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر خاتون کو خواہ وہ گھر پر ہو یا گھر سے باہر ہر وقت چار گواہ اپنے ساتھ رکھنا پڑیں گے، تاکہ بوقت ضرورت کام آ سکیں۔ اور ان کا کام اس خاتون کی عصمت کی حفاظت سے زیادہ زنا بالجبر کے واقعہ کی تفصیلی جزئیات کا مشاہدہ ہوگا۔ تاکہ عدالت میں جب مقدمہ پیش ہو تو وہ گواہی دے سکیں کہ خاتون کے ساتھ کس طرح زنا بالجبر کا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے اس فتویٰ کے تناظر میں سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھڑ چکی ہے ایک ستم ظریف نے سوال اٹھایا ہے کہ خدا نخواستہ اگر اسلامی نظریاتی کونسل کے کسی رکن کے خاندان کی کسی خاتون کے ساتھ زنا بالجبر کا واقعہ پیش آ جائے، اور وہ چار گواہ پیش نہ کر سکے اور ملزم کے خلاف صرف ڈی این اے ٹیسٹ ہی بطور ثبوت موجود ہو تو ایسے نازک وقت میں بھی ڈین این اے ٹیسٹ بطور ثبوت قابل قبول ہوگا یا نہیں؟ ایک اور صاحب پوچھتے ہیں کہ اگر کونسل کے کسی رکن کا کسی حادثے میں انتقال ہو جائے اور لاش شناخت کے قابل نہ رہے تو کیا پھر بھی ڈی این اے ٹیسٹ بنیادی ثبوت کے طور پر ناقابل قبول ہوگا؟ اگر آپ کے ہی اصول کے مطابق ناقابل قبول ہے تو آپ کی عقل کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے، اور اگر بطور بنیادی ثبوت قابل قبول ہے تو پھر یہ دہرا معیار کیسا ؟

عالم اسلام ایک عجیب مخمصے کا شکار ہے جہاں ایک طرف شیخ عبدالعزیز بن باز جیسے علماء کرام ہیں جو آج کے اس ترقی یافتہ دور میں زمین کو ساکت اور چپٹی اور سورج کو متحرک قرار دینے پر مصر ہی نہیں بلکہ اس پر یقین نہ رکھنے والے کو کافر اور اسلام دشمن قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں اور دوسری جانب ڈاکٹر ذاکر نائک جیسے مسلم اسکالرز ہیں جو ہر سائنسی انکشاف کو زبردستی قرآن سے ثابت کرنے کے درپے ہیں۔

پاکستان کے ایک ٹی وی چینل پر ڈی این ٹیسٹ کے موضوع پر ایک بہت دلچسپ ٹالک شو منقعد ہوا ملاحظہ کرنے کیلئے۔

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/pakistan-council-islamic-ideology’s-refusal/d/12064

 

Loading..

Loading..