New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 10:34 PM

Urdu Section ( 31 Jul 2013, NewAgeIslam.Com)

Preparing for Lailatul Quadr لیلۃ القدر کی تیاری

 

 

 حاجی  ابراہیم یحیٰ

26 جولائی 2013

(انگریزی سے ترجمہ  ،  نیو ایج اسلام)

ہم مقدس مہینے کے آخری عشرے میں داخل ہونے والے ہیں۔ اس عشرے میں دنیا بھر کے متقی مسلمان پر مشقت  نماز اور عبادت کے لئے تیار ہیں،جس کا  آغاز  29 جولائی سے ہے ، جن میں سے کوئی ایک رات لیلۃ القدرت یا فیصلے یا قوت  کی رات ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے : "بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے، اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے، شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے،(یعنی اس مہینہ میں اللہ کی عبادت کرنا ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے ، یعنی 83 سال 4 مہینے سے افصل ہے )۔ اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں، یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے۔"(قران 97)

مندرجہ بالا قرآنی حوالے سے لیلۃ القدر میں اللہ کی عبادت کی اہمیت ہم پر واضح ہو جاتی ہے ۔ یہ ایک ایسی رات ہے جس میں ہر  زندہ مسلم اپنے  خالق کے سامنے  کھڑے ہونے کی خواہش رکھتا ہے  اس سے فریاد کرتا ہے اور مستقبل میں  بہتر زندگی کی دعا کرتا ہے ۔ چونکہ اس رات میں اللہ اپنے بندوں کی تقدیر لکھتا ہے ، اسی لئے یہ واضح ہے کہ  جو شخص اتنا خوش قسمت ہو کہ اس رات کو پائے  اور اس رات میں خلوص دل کے ساتھ روتے ہوئے اللہ سے دعا کرے  اور اپنے گناہوں سے توبہ  کرے اور اس پر نادم بھی ہو  تو  اللہ ضرور اسے قبول کر لے گا اور اس کے لئے ایک بہتر زندگی مقدر کردے گا۔

اس رات کی خصوصی نوعیت اور اہمیت کی وجہ سے، اللہ نے عمداً  عین شب قدر کو  مسلمانوں سے چھپا دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی  حکمت کاملہ کا  منشاء یہ ہے کہ  لوگ زندگی میں کچھ بہتر حاصل کرنے کے لئے جد و جہد کریں ۔ عین شب قدر ہم سے اس لئے چھپایا گیا کہ ہم رمضان کے پورے مہینے میں یا کم از کم آخری  عشرے میں ہی اپنی جد و جہد  کو دوگنا کر سکیں ۔ سختی سے  قطع نظر سچے مومن دیر رات یا  ابتدائی رات میں لیلۃ القدر کو تلاش کریں گے ۔

مسلمانوں کو لیلۃ القدر  میں انعام دینے کے لئے  اللہ کے ذریعہ اپنایا گیا "پوشیدہ کرنے کا طریقہ کار" یقینا مستحق شخص کو کچھ قابل قدر  عطا کرنے اور  منافق اور سست لو گوں کو اس محروم کرنے کا  بہترین طریقہ ہے ۔

عین لیلۃ القدر معلوم کرنے کی کوشش میں، جسے اللہ نے  اپنی اتھاہ  حکمت میں مخفی رکھا ہے، بعض علماء نے اس دن کے بارے میں  قیاس  آرائیاں کی ہیں۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ  شب قدر  رمضان المبارک کے پہلے دن میں ہے جبکہ دوسرے کا کہنا ہے شب قدر ساتویں دن میں ہے اور کچھ لوگوں نے یہ  فرض کیا کہ یہ  19ویں رمضان کو ہے ۔ یہ  تمام اقوال کسی بھی مستحکم  ثبوت پر مبنی نہیں ہیں۔ جو  علماء کرام اپنے دعوے کی حمایت میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی  ثقہ  احادیث پیش کرتے ہیں ،ان کے درمیان سب سے مقبول اتفاق رائے یہ ہے کہ شب قدر  رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے خاص کر طاق راتوں میں ۔

امام بخاری کی ایک رویت میں اللہ کے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا  کہ " شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔" ایک اور حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ ، " شب قدر کو آخری عشرے کی راتوں میں تلاش کرو ، اور اگر تم میں سے کوئی  کمزور ہے، یا اس پر عمل نہیں کر سکتا تو اسے باقی سات دنوں کو  نہیں چھوڑنا  چاہئے(مسلم) ۔ در حقیقت لیلۃ القدر کے بارے میں دیگر مستند احادیث ہیں، اور ان سب میں ایک بنیادی نقطہ وہ 'رات' ہے جو رمضان کے آخری عشرے میں پائی جاتی ہے ۔ اگرچہ، بہت سے مسلمانوں کو اس بات کا گہرا احساس ہے کہ  شب قدر رمضان کی 27ویں شب میں ہے لیکن یہ  یقینی نہیں ہے، لیکن مسلمانوں کو انتخابی ہوئے بغیر  آخری عشرے کی طرف اضافی توجہ توجہ دینے کی ضرورت  ہے تا کہ انہیں اس بات کا پختہ  یقین ہو کہ  انہوں نے شب قدر کو ترک نہیں کیا ہے ۔ مسلمانوں کو اس رات کی تلاش کرنی  چاہئے اور اور اس رات کو خلوص کے ساتھ بشمول تہجد ، قرآن کی  تلاوت  اور دعا کے عبادت گزاری میں گزارنی چاہئے ۔ ابوہریرہ کے ذریعہ روایت کردہ ایک حدیث میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) فرماتے ہیں کہ : "جو شخص شب قدر کو اللہ پر ایمان کی نشانی کے طور پر  اور اللہ سے اجر تلاش کرتے ہوئے گزارے گا  اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئے جائیں گے۔ "( بخاری، مسلم)

شب قدر  کے حوالے سے مندجہ  بالا  تمام رحمتوں  اور برکتوں کو جاننے  کے بعد، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ "ہم  بحیثیت ایک مسلم کے اس رات کو تلاش کرنے کی جدوجہد میں کس طرح تیار ہیں؟"

بدقسمتی سے، کچھ مسلمان رمضان آخری عشرے کے  دوران امید پر کھرے نہیں اترتے ۔ وہ اس الہی مدت کے دوران اپنی عبادت و ریاضت میں اضافہ کی  کوئی کوشش  کئے بغیر اس رات کو صرف ایک عام رات ہی سمجھتے ہیں ۔ بعض مسلمان اس مدت میں غیر سود مند سرگرمیوں میں اور ضرورت سے زیادہ میل جول کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

کچھ مستورات کو توانائی محفوظ کرنے پر امادپہ کرنے اور اور مکمل طور پر نماز اور عبادت میں شرکت کرنےپر  امادہ کرنے کے بجائے مطبخ میں مختلف انواع کے  کھانے پکانے میں ان کا  قیمتی وقت صرف کرنے پر امادہ کیا جاتاہے ۔ عید الفطر(یعنی روزے کے اختتام کی طرف اشارہ کرنے والا تہوار) قریب ہے اس   وجہ سے بھی  کچھ مسلمان خریداری میں مشغول ہوتے ہیں  جبکہ  مسلمان تاجر اور صنعت کار اور درزی اور  حجام جیسی عورتیں اضافی رقم  حاصل کرنے کے لئے راتوں کو کام میں گزارتی ہیں  اورایسے مواقع  کو  ‘‘ کاروبار کا بڑا موقع’’ گردانتی ہیں ۔

جس طرح  تاجر، طالب علم اور دیگر پیشہ ور اپنی تیاریوں  کو بڑھا دیتے ہیں  اور اپنے  موسموں کےلئے چوکس ہو جاتے ہیں اور پر عزم  ہو جاتے ہیں اسی طرح مسلمانوں سے  رمضان المبارک کے تمام دنوں میں اور  خاص طور پر آخری عشرہ کے ان ایام میں جن میں  شب قدر ہوتی ہے   عبادت اور نماز میں زیادہ  توجہ مرکوز کرنے کی توقع  کی جاتی ہے۔

اگر ہم ان دنیاوی حصول اور جستجو میں اتنی زیادہ کوشش کر سکتے ہیں اور  سنجیدگی سے توجہ دے سکتے ہیں کہ جن سے لطف اندوز ہونے کے لئے ہوسکتا ہے کہ  ہم لمبی عمر نہ جی سکیں ، تو کیا ہم فنا ہونے والوں کے لئے جو کہ آج نہ  تو کل کسی بھی وقت اس دنیا کو چھوڑنے والے ہیں ، زیادہ ضروری اور مناسب  نہیں ہے  کہ ان کاموں پر توجہ مرکوز کریں جس کا اللہ نے حکم دیا ہے  اور جو کہ  آخرت  میں ہمارے لئے لازوال فائدہ اور خوشی کا سب ہوگا  جہاں ہم  پر کبھی موت طاری نہیں ہوگی ؟

حاجی ابراہیم یحیٰ سعودی عرب میں‘‘British Academic Centre’’ برطانوی تعلیمی مرکز میں ایک سینئر انگریزی لیکچرر ہیں ۔

ماخذ:

http://www.arabnews.com/news/459183

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/islamic-society/alhaji-ibrahim-yahaya/preparing-for-lailatul-quadr-(night-of-power)/d/12808

URL for this article:

Loading..

Loading..