New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 12:30 PM

Urdu Section ( 21 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Muslims should Avoid Religious Fanaticism مسلمانوں کو مذہبی جنون سے بچنا چاہیئے


ایمن ریاض، نیو ایج اسلام

16جون،2012

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو  ایج اسلام)

پوری دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے کہ وہ  بہت زیادہ مذہب کی طرف مائل ہوتے ہیں؛ انہیں مثبت کے ساتھ ساتھ منفی دونوں معنوں میں بنیاد پرست کہا جاتا ہے۔ مثبت معنی میں  ایک بنیاد پرست مسلمان وہ ہے جو ہر روز  پانچوں وقت کی نماز پڑھتا ہے، رمضان کے مہینے میں روزہ رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور اگر ممکن ہو تو حج کے لئے بھی جاتا ہے، وغیرہ۔ منفی معنی میں ایک بنیاد پرست مسلمان وہ ہے جو کافروں کو مارنے اور مرنے کے لئے تیار ہے اور جو پوری دنیا کو دارالاسلام میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

دونوں میں سے کسی بھی معنوں میں مسلمانوں کو ایک ایسا طبقہ مانا جاتا ہے جو  اسی پر سختی سے عمل کرتا ہے جسے وہ اسلامی تعلیمات مانتا ہے اور اس کی فکر نہیں کرتا ہے کہ  تعلیمات صحیح ہیں یا ان کی غلط تشریح کی گئی ہے۔ اس سخت رویہ  نے مسلم  دنیا کو دیگر طبقات سے  الگ کر دیا ہے۔ مسلمان ایک خول میں رہنا چاہتے ہیں، اور یہ  امید اور خواہش رکھتے ہیں کہ اسلام کے سنہری دن 'واپس آئیں گے۔ وہ ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں  کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جب بھی ایک عام مسلمان مرد بحث میں ہارتا ہوا محسوس کرتا ہے، تو وہ اکثر کہتا ہے، 'ذرا انتظار کرو، اسلام کی فتح ایک حقیقت ہے اور یہ عنقریب آئے گی'۔ اگر ایک انتہا پسند ایسی حالت کو پہنچتا ہے تو وہ کچھ نہیں بولتا ہے، اور اگر انہیں مار نہیں سکتا ہے تو  وہ ان کو نقصان پہنچانے کے لئے منصوبہ بندی کرتا ہے۔ ہم 21ویں صدی میں رہ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود  ہم 7ویں صدی میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔

مذہب کو  ایک نظریہ یا عقیدے کے نظام اور مذہبی شناخت کے نظریہ میں تمیز کیا جانا ضروری ہے،  کیونکہ مذہبی شناخت کا نظریہ فرقہ پرستی ہے۔  ایک نظریہ کے طور پر مذہب کہتا ہے کہ یہ اس مذہب کے اصولوں ہیں  اور ایک اچھا انسان اس پر عمل کرے گا؛ جبکہ مذہبی شناخت کا نظریہ کہتا ہے کہ کسی خاص 'طبقے' کو اس انداز میں عمل کرنا چاہیئے تاکہ اپنے مذہب اور دیگر مذاہب کے درمیان بنیادی فرق واضح ہو جائے، اور ان کا مذہبی تشخص دیگر مذاہب کے مذہبی تشخص سے مختلف ہے۔  مذہب نہ تو فرقہ پرستی کا سبب ہے اور نہ ہی اس کی انتہا ہے، یہ صرف اس کا ایک ذریعہ ہے۔

 مذہبی اختلاف اکثر غیر مذہبی سماجی ضروریات، آرزو اور تنازعات کا روپ اختیار کر لیتے ہیں جو معاشرے یا سماجی ماحول میں طاقتوں کے عمل متقابل کے سبب سامنے آتے ہیں۔ اس طرح ان کی طرف سے پیش کئے گئے دلائل اس طرح ہوتے ہیں: پہلے، مسلم مفادات خطرے میں ہیں، اب اسلام خطرے میں ہے، پہلے مسلمانوں کو جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اب اسلام کے وجود کو خطرہ لاحق ہے، وغیرہ

جبکہ مذہب فرقہ پرستی کی ابتدا اور ترقی کے لئے ذمہ دار نہیں ہے، لیکن مذہبی جنون اس میں ایک اہم معاون عنصر ہے۔ مذہبیت کو  مذہبی معاملات میں گہری اور شدید جذباتی وابستگی اور زندگی کے غیر مذہبی یا غیر روحانی شعبوں میں اور فرد کی نجی زندگی سے باہر مذہب اور مذہبی جذبات کے دخل دینے اور مذہب کو  سیاست، معاشیات اور سماجی زندگی سے علیحد کرنے سے انکار  کرنےکے رجحان کے طور پر تعریف کی جا سکتی ہے۔ اس کا مطلب حد سے زیادہ مذہبی ہونا یا کسی کی زندگی میں بہت زیادہ مذہب ہونے سے ہے۔

بہت زیادہ مذہبی جنون دنیاوی امور میں مذہبی عنصر کو اثر رکھنے کے قابل بناتا ہے اور  فرقہ پرستوں کے ذریعہ اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر  لوگوں کو  جذباتی اپیل کے اثر کو قبول کرنے والا بناتا ہے۔  مزید برآں، مذہبیی جنون  کی کوئی واضح حدود نہیں ہے  اس لئے یہ اکثر قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔  مذہبی جنون کے بغیر   مذہبی جزبات کو پیدا نہیں کیا جا سکتا ہے اور بغیر مذہبی جزبات کے  فرقہ پرستی  اجتماعی تحریک کی شکل اختیار نہیں کر سکتی ہے۔

'حملہ کرو یا  آپ کو مار دیا جائے گا' کے خوف کے نفسیات کی وجہ سے حالیہ برسوں میں مذہبی جنون میں اضافہ ہوا ہے۔ جہاں کہیں بھی ہم جاتے ہیں، ہم خوف کے اس  نفسیات کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلتا ہوا پاتے ہیں: مساجد میں امام کہتے ہیں کہ 'یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں' ، 'امریکہ اسلام کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے'وغیرہ۔  انٹرنیٹ ہر ہم  متعدد سائٹس پاتے ہیں جو نفرت اور عدم رواداری کو پھیلا رہے ہیں۔ زیادہ تر ان ویب سائٹس پر  امریکیوں یا اسرائیلیوں کے  (نعوذبا للہ) قرآن کو نظر آتش کرنے والے ویڈیو  نظر آتے ہیں، اور اس انداز میں پیش کرتے ہیں  جیسے پوری دنیا کے غیر مسلم ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں۔ فرقہ پرست اپنے مذہبی 'طبقے ' کے دلوں میں خوف پھیلاتے ہیں اور یہ انتقامی کارروائی، یعنی، نام نہاد کافروں کے خلاف تشدد کی طرف لے جاتا ہے۔

جب گہرے اور شدید جذبات پیدا ہوتے ہیں تو عام طور پر  عقل کھو جاتی ہے۔ جتنا زیادہ کوئی محسوس کرتا ہے اتنا ہی کم وہ غور کرتا ہے۔ ایسا ہی مسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے، انہوں نےکچھ نیا دیکھنے سے اپنی نظر پھیر لی ہے اور کچھ بھی نیا سننے سے خود کو محفوظ کر رکھا ہے۔ مختصر میں مسلمان حصار والی زندگی جینا چاہتے ہیں، اور  نہ تو کوئی نئی چیز سننا چاہتے ہیں اور نہ ہی دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ  یہ  قرآن اور سنت کے خلاف ہو سکتا ہے۔  وہ بار بار ایک ہی مولانا کو سننا چاہتے ہیں اور  اسی ٹی وی چینل کو بار بار دیکھنا چاہتے ہیں۔

مسلمانوں کو مذہبی جنون سے بچنا چاہیئے۔ اوّل، تو وہ لوگ مالی، اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے پسمنادہ ہیں (میں صرف خلیج کے ممالک کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہوں، جہاں کچھ حکمران اشرافیہ طبقے کے پاس پیسہ ہے، میری توجہہ عام مسلمانوں پر ہے جو صرف جانوروں کے ایک جھنڈ کے طور پر  پیروی کرتے ہیں)۔ اپنی علیحدگی اور مجموعی طور پر  پسماندگی کے لئے خود کو قصور وار بتانے کے بجائے وہ دیگر طبقات کو ذمہ دار ٹھراتے ہیں۔  وہ 7ویں صدی کی زندگی بھی جینا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ہر میدان میں پیش قدمی بھی کرنا چاہتے ہیں۔  یہ ممکن نہیں ہے۔

مذہبی جنون اس وقت تک اچھا ہے جب تک کہ یہ مذہب اور روحانیت تک محدود ہے، یہ غیر مذہبی یا سیکولر سرگرمیوں کے دائرے میں جیسے ہی داخل ہوتا ہے یہ برہم کرنے والے اور برائی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر  دفتر میں نماز پڑھنا اچھا ہے لیکن یہ تب برہم کرنے والا بن جاتا ہے جب  آپ دوسروں کو کام بند کرنے اور ساتھ ساتھ  نماز پڑھنے کے لئے کہتے ہیں۔

 کسی بھی چیز کی انتہا خراب ہے، مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے، اور غیر مذہبی معاملات میں مذہب کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ مذہبی جنون سے  باہر نکلنے کا راستہ یہ ہے کہ اس کے خلاف نظریاتی جنگ چھیڑی جائے، یہ صرف ایک نظریہ ہے، اور غلط یا کمزور  خیالات کو  صرف صحیح یا ایک اعلی خیال سے ہی خارج کیا جا سکتا ہے۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-society/muslims-must-shun-their-religiosity/d/7640

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/muslims-should-avoid-religious-fanaticism--مسلمانوں-کو-مذہبی-جنون-سے-بچنا-چاہیئے/d/7703

 

Loading..

Loading..