New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 02:42 AM

Urdu Section ( 16 Apr 2012, NewAgeIslam.Com)

Is Yoga Anti-Islam? کیا یوگا غیر اسلامی ہے؟


ایمن ریاض، نیو  ایج  اسلام

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو  ایج  اسلام)

11 اپریل، 2012

ایک بات جو قدامت پسند مسلمانوں کو  پریشان  کرتی رہی ہے  وہ ہے حال ہی میں آزاد خیال مسلمانوں کے ذریعہ یوگا کو  اپنے روز مرّہ کے معمول میں شامل کیا جانا۔ یوگا آہستہ آہستہ اور یقینی طور پر ہمارے گھروں میں داخل ہو گیا ہے اور ہم میں سے بہت سے اس سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ابھی تک مسلم طبقے کا ایک بڑا حصہ اسے بدعت اور "صرف ہندوؤں کے لئے"  مانتا ہے۔

میں 21 برس  کا ہوں اور میں گزشتہ 4-5 سالوں سے یوگا کر رہا ہوں۔ میں نے اس سے متعدد فوائد حاصل کئے ہیں: توجہہ مرکوز کرنے کی میری  صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، میں شاید ہی کبھی شدت دبائو کا شکار ہوتا ہوں، میرا باڈی ماس انڈیکس 21.7 ہے، اور سب سے اہم، مجھے  بہت زیادہ اطمینان اور سکون ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے دوسرے چھوٹے فوائد بھی ہیں، جیسے: شیرش آسن اور سروانگ آسن سے میری انکھوں کی روشنی بہتر ہوئی ہے، پشچمو تّاسن کی وجہ سے میرا معدہ کافی مضبوط ہوا ہے اور پھیپھڑوں کے لئے میں کپال بھاتی اور  سانس لینے کی دیگر مشقیں کرتا ہوں۔ اصل میں مجھے یوگا کرنے میں  اس قدر لطف آتا ہے کہ میں اپنی ماں کو بھی اسے کرنے کے لئے زور دیتا ہوں اور اپنے بڑے بھائی سے بھی اسے کرنے کے لئے کہتا ہوں۔

حال ہی میں ایک دن ایک قریبی رشتہ دار کو مجھے یوگا کرتے ہوئے دیکھ کر تعجب ہوا۔ میں پانچوں وقت نماز پڑھتا ہوں اور ان کا خیال تھا کہ جو نماز پڑھتا ہے اسے یوگا نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس کی بنیاد ہندو مذہب میں ہے۔ میں نے ان کے ساتھ اس پر بحث نہیں کی اور اس دن کے بعد سے  میں ان کے سامنے یوگا نہیں کرتا ہوں۔ ایک اور رشتہ دار نے کہا کہ: "یوگا کچھ بھی نہیں، جو نماز ہے اسی کی نقل ہے"۔ اس بار میں یہ سن کر حیران رہ گیا۔ اس بار بھی میں نے ان سے اس پر کوئی بحث نہیں کی۔

مجھے سب سے پہلے اس کی بنیادی باتیں بتا لینے دیجئے۔ لفظ یوگا سنسکرت لفظ  یج سے بنا ہے جس کے معنی باندھنا، منسلک کرنا اور جوڑنا ہے، اپنی توجہہ کو سمت دینا اور مرکوز کرنے کے ہیں۔ اس کے معنی اتحاد اور  عمل اشتراک کے بھی ہیں۔ یہ خدا کی مرضی کے ساتھ اپنی مرضی کو  متحد کرنے کا حقیقی عمل ہے۔ مہادیو دیسائی 'گاندھی کے مطابق گیتا' عنوان کی اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ: "یہ جسم، دماغ، اور روح کی تمام طاقت کو خدا سے ملانا ہے ..." مجھے لگتا ہے کہ یہ اسلام کی تعریف ہے۔ اسلام کے معنی اپنی مرضی کو خدا کی مرضی کے حوالے کر کے سکون حاصل کرنا ہے۔ یوگا میں بھی ہم خود کو خدا کے حوالے کر کے سکون حاصل کرتے ہیں۔

یوگا کے بارے میں ایک غلط فہمی ہے کہ یہ صرف ورزش اور کچھ پیچیدہ آسن ہی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ آسن یوگا کی  صرف ایک حالت ہے۔ پتانجلی نے روح کی تلاش کے لئے  یوگا کے کل آٹھ اعضاء کو بیان کیا ہے۔ یہ مندرجہ ذیل ہیں:

1.        یم

2.      نیم

3.      آسن

4.      پرانایام

5.      پرتیاہارا

6.      دھارنا

7.      دھیان

8.      سمادھی

یوگا کے یہ تمام  آٹھ اعضاء بھی اسلام اور اس کی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ یامہ کے بارے میں، قرآنی آیات 24: 27-29اور  58:81، اخلاقی احکام دیتی ہیں۔ جب ہم  پورے ایک مہینے کے لئے روزہ رکھتے ہیں تو  ہم نظم و ضبط کے زریعہ اپنی تمام حس اور  منشاء کو پاک کر لیتے ہیں، نماز کی بہت سی وضع یوگا کے کئی  آسنوں جیسے وجر آسن اور ویر آسن سے پوری طرح میل رکھتے ہیں، جیسے سجدہ  کی حالت میں ہم  پھیپھڑوں میں بچی ہوئی ہوا کو باہر نکالتے ہیں اور تازہ ہوا کو اندر لیتے ہیں، قرآن مجید نے ہمیں ہدایت کی ہے کہ ہم اپنے نفس سے رہنمائی نہ لیں بلکہ اپنی نفس کو قابو میں رکھیں۔ قرآن کی ایک آیت  میں،  اللہ نے  محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور ہم سب کو  "اپنی تمام تر توجہ " کے ساتھ غور و فکر  و مراقبہ کرنے کو کہا ہے؛ اور آخر میں ہم سبھی لوگوں کو اللہ سے تعلق پیدا کر  اعلی شعور حاصل کرنے کی حالت تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

لفظ 'اوم' مسلمانوں کو روکتا ہے؛  یہاں تک کہ آزاد خیال مسلمان  بھی آزادانہ طور پر اس لفظ کو گلے نہیں لگا سکتے ہیں۔  ہر لفظ کا ایک خاص مطلب ہے؛ 'اوم' لفظ ایک مختلف ذہنی تصویر پیش کرتا ہے جسے مسلمان قابل قبول نہیں مانتے ہیں۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ: سیدھی سادھی بات ہے کہ 'اوم' نہ کہیں۔  ایک مسلمان ایک بہت ہی اچھا مسلمان ہو سکتا ہے یہاں تک کہ اگر وہ سبزی خور ہے، اسی طرح ایک مسلمان 'اوم' کا حصہ چھوڑ کر  یوگا پر عمل اچھی طرح کر سکتا ہے۔  صرف ایک لفظ کی وجہ سے اس قدیم رحمت کو ردّ نہیں کرنا چاہئے۔ کون جانتا ہے کہ یوگا کے تمام  آسن اس وقت کی نماز کی ایک شکل ہوں، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ "ہم نے ہر زمانے میں ایک نبی بھیجا ہے" اور "ہم نے ہر زمانے  میں ایک ڈرانے والا بھیجا ہے"۔  ہو سکتا ہے یہ خدا کی عبادت کا طریقہ رہا ہو۔ سجدہ ميں ہمارے جسم کے آٹھ حصے زمین  کو چھوتے ہیں، وہ یہ ہیں: پیشانی، ناک، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، دونوں پاؤں؛ اور ساشٹانگ میں بھی جسم کے آٹھ حصے زمین کو چھوتے ہیں، وہ یہ ہیں: دو پاؤں، دونوں گھٹنے، دو نوں ہاتھ، سینے اور ٹھوڑی یا پیشانی۔

ہم سب کو اپنے خیالات میں تھوڑی تبدیلی  کرنے کی ضرورت ہے۔ یوگا غیر اسلامی نہیں ہے، بلکہ یہ مکمل طور پر اسلامی ہے۔ اگر ہم مجموعیت میں یوگا کریں، میری مراد صرف یوگا کے آسنوں سے نہیں ہے، تو ہم  زیادہ بہتر مسلمان بن سکیں گے۔  یوگا ہمیں مثبت سمت میں ہمارے ذہنوں کو لے جانے میں مدد کر سکتا ہے؛  جن  نوجوانوں میں قدامت پسندی، بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے وائرس داخل کرائے گئے ہیں، ان کا مقابلہ یوگا اور دماغ کے کنٹرول کے فن کی مشق کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے پورے مسلمان طبقے کو  یوگا کو اپنانے پر زور دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ نوجوانوں کے ساتھ ہی بزرگوں کی بھی مدد کرتا ہے؛ یہ ہندوئوں کے ساتھ ہی مسلمانوں کی بھی مدد کرتا ہے۔

آخر میں میں کہنا چاہوں گا "اللہ شانتی، شانتی، شانتی" ۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/interfaith-dialogue/is-yoga-un-islamic?/d/7036

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/is-yoga-anti-islam?--کیا-یوگا-غیر-اسلامی-ہے؟/d/7084 

 

Loading..

Loading..