New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 06:24 AM

Urdu Section ( 3 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Cruelty does not Justify Terrorism ظلم دہشت گردی کا جواز پیش نہیں کرتا ہے


ایمن ریاض، نیو ایج اسلام

26مئی ، 2012

(انگریزی سے ترجمہ  سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IPRI) کی طرف سے منعقد ایک بین الاقوامی سیمینار میں ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسلمانوں کے خلاف جابرانہ اور دبانے والی کارروائی انفرادی طور پر مسلمانوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے  اسلحہ اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔  اس سیمینار میں اس پر بھی بات ہوئی کہ کس طرح  اسلام کے خلاف تعصب کو ختم کیا جائے۔

شاید وہ اس بات کو احساس کرنے میں ناکام رہے کہ  اسلام کے خلاف تعصب  تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک  کہ  اللہ اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم  کے نام پر  دہشت گردی ختم نہیں ہو جاتی۔ 

بہت سی اسلامی دہشت گرد تنظیمیں اپنی کارروائیوں کے جواز کے طور پر کہتے ہیں کہ  وہ مظلوم ہے اور اس وجہ سے اب ان کا واحد مقصد ہے ظالموں  کے خلاف بدلہ لینا۔ بظاہر یہ دلیل درست لگتی ہے  اور یہ  نیوٹن کے 'تیسرے لاء پر بھی  عمل کرتا ہے،  جس کے مطابق، ہر عمل کا  اس کے مساوی اور مخالف ردعمل ہوتا ہے'۔ لیکن جارحیت کی تازہ ترین اور سب سے زیادہ طاقتور تھیوری ، جنرل اگریشن ماڈل(GAM) ، کے مطابق ، ان کی دلیل میں دم نہیں ہے۔

یہ تھیوری کہتی ہے کہ واقعات جو آخر میں واضح جارحیت کی طرف لے جا سکتے ہیں، ان کی شروعات دواہم اقسام کے  ذریعہ ہو سکتی ہے:

(1)    موجودہ صورتحال سے متعلق عوامل (مواقعاتی عوامل)

(2)  ملوث افراد سے متعلق عوامل (ذاتی عوامل)

پہلی قسم  کے  متغیرات میں مایوسی، کسی دوسرے شخص یا گروپ کی طرف سے کسی طرح کی  اشتعال انگیزی (مثال کے طور پر،توہین رسالت یا  قرآن کا جلانا ہے)، دوسروں کے جارحانہ عمل  اور عملی طور پر ایسا کچھ بھی جو افراد کو  پریشانی کا تجربہ کراتا ہو ، اس کا انکشاف شامل  ہے۔ دوسری قسم کے متغیر میں، ذاتی عوامل، جس میں ایسی علامتیں جو  جارحیت کی طرف کچھ افراد کو راغب کر تی ہیں (مثال کے طور پر تنک مزاجی  ہو سکتی ہے کیونکہ پوری دنیا میں  یہودی اور عیسائی  اور ہندوستان میں ہندو  مسلمانوں کے مقابلے میں بہتر حالت میں ہیں)،  تشدد کے بارے میں بعض رویہ اور عقائد (مثال کے طور پر، یہ یقین کہ تشدد  قابل قبول اور مناسب ہے)، دوسروں کے طرز عمل میں دشمن کے ارادوں کا احساس کرنے کا رجحان (یہ  بعض مسلمانوں میں بہت زیادہ ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ساری دنیا ان کے خلاف ہے)، اور جارحیت سے متعلق مخصوص مہارت ۔

یہ مواقعاتی اور ذاتی تغیرات بظاہر جارحیت کی طرف لے جاتے ہیں یعنی، دہشت گردی کے تین بنیادی عمل پر ان کے اثرات کے ذریعے کام کرتا ہے: اکساوہ (جسمانی اکساوے یا حوصلہ افزائی)، جزباتی حالات (مخالف جزبات یا  چہرے پر غصے کا اظہار) اور  بیداری (یا تو  افراد مخالف  خیالات کے بارے میں سوچتے ہیں،  یا  پھر  اپنے جارحانہ رویہ کو دماغ میں لاتے ہیں)۔  کسی فرد کے ذریعہ موجودہ صورت حال کی تشریحات اور  بچائو کے عمل (پولیس کی موجودگی) پر منحصر ہے،  وہ یا تو  پر فکر عمل یا بغیر سوچے سمجھے کئے گئے عمل میں مشغول ہو سکتے ہیں جو ظاہر طور پر جارحانہ عمل کا سبب بن سکتا ہے۔

تو یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ جارحیت یا  دہشت گردانہ کارروائیاں جیسے جبر  صرف ایک یا چند عوامل کے سبب نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ یہ  ایک ساتھ بڑی تعداد میں مل کر  کئی تغیر کے کام کرنے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ لہذا،  مایوسی‑ جارحیت /  جبر‑ دہشت گردی کی مشہور تھیوری واقعی گمراہ کن ہے۔  

آج، 26 مئی، 2012 کو جناب سلطان شاہین کے ذریعہ پوسٹ کئے گئے کمنٹ سے مجھے معلوم چلا کہ  ایک شرپسند نے کمنٹ کے طور پر  مسٹر شاہین نجفی کو مارنے کی دھمکی پوسٹ کی ہے۔ اہم مسئلہ یہ ہے کہ مسٹر شاہین نجفی نے  اپنے گیتوں میں اپنے ملک ایران  کی سماجی اور سیاسی صورت حال پر تنقید کی ہے۔ ان کا تازہ ترین گانا شیعہ اسلام کے دسویں امام پر مبینہ طور پر طنز ہے۔ ان کے اس عمل کو  گرینڈ آیت اللہ صافی گول پیگانی  نے توہین رسالت کے طور پر تصور کیا گیا۔  میں جاننا چاہوں گا کہ  کیا دسویں امام خدا ہیں یا  نبی ہیں؟

لوگوں نے ان کو قتل کرنے پر  اپنی آمادگی کا اظہار  بنیادی طور پر   دو ہمت افزائی کرنے والے اسباب کی وجہ سے۔ (1) ایران کے ایک عالم کے ذریعہ موت کا فتویٰ اور  (2) ان کو مارنے پر ایک لاکھ ڈالر کا انعام ۔  یہاں پھر مایوسی ‑جارحیت / جبر‑ دہشت گردی کی تھیوری غلط ثابت ہوئی، کیونکہ کوئی مایوسی یا جبر نہیں ہے۔ لوگ ذاتی طور پر انہیں اس لئے قتل کرنا چاہتے ہیں کہ انہیں لگتا ہے کہ وہ مذہب کا ایک اہم فریضہ ادا کر رہے ہیں  اور ساتھ ہی انہیں اس سے ایک بڑی رقم بھی حاصل ہوگی۔ آخرت میں جنت اور اس دنیا میں  رقم مسٹر نجفی کو قتل کرنے کو لوگوں کو  تحریک دے رہی ہے۔

ہر قانون ایک مقررہ مدت کے لئے ہے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کا قانون کہتا ہے کہ: ' آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت'، یہ اس وقت کا ایک حیرت انگیز قانون تھا لیکن یہ آج نہیں ہے؛ حضرت عیسی علیہ السلام کا قانون کہتا ہے: 'اگر کوئی آپکے دائیں گال پر مارتا ہے تو ، اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف کر دو'، یہ بھی اس وقت ایک حیران کن قانون تھا لیکن آج کے جارحانہ  دنیا میں یہ  مناسب اور  معقول نہیں ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا قانون کہتا ہے کہ:' ہم نے تورات میں ان کے لئے زندگی کے بدلے زندگی  مقرر کی، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، زخم کے بدلے  برابر زخم: اگر صدقہ کے طور پر کوئی در گزر کر دے تو  یہ  اس کے برے اعمال کے لئے کفارہ ہوگا۔

معافی سزا دینے سے زیادہ بہادری کا کام ہے۔  آنکھ کے بدلے آنکھ واقعی پوری دنیا کو اندھا بنا دیگا اور یہ آج  تک صحیح ہے۔ آخر میں میں معصوم لوگوں کے قتل پر قرآن کی واضح مزمت کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ح ضضضض 5ویں  باب  کی  آیت نمبر 32 میں  اللہ فرماتا ہے: "  جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے یعنی خونریزی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کی سزا) کے (بغیر ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو زندہ رکھا (یعنی اس نے حیاتِ انسانی کا اجتماعی نظام بچا لیا)

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/oppression-does-not-legitimise-terrorism/d/7453

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/cruelty-does-not-justify-terrorism--ظلم-دہشت-گردی-کا-جواز-پیش-نہیں-کرتا-ہے/d/7524 

 

Loading..

Loading..