New Age Islam
Sat Oct 24 2020, 06:41 PM

Urdu Section ( 4 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

The Quran Speaks: Protect the Environment- It is Now or……… قرآن کا حکم : ماحولیات کی حفاظت ابھی یا ۔۔۔

 

ایمن ریاض، نیو ایج اسلام

31 مارچ 2012

(انگریزی سے ترجمہ  ،  نیو ایج اسلام)

‘‘اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش ہے بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بےشک وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے’’(قرآن 6:165) ۔

نہ صرف یہ کہ ہمارا سیارہ خالی ہو رہا  ہے، یہ بہت تیزی سے خالی ہو رہا ہے۔ 500،4 ملین سالوں میں، ہماری زمین میں بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں ۔ اور یہ ، اب ایک بار پھر تبدیل ہو رہی ہے، اور تبدیلیاں پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہیں۔ لیکن اس وقت تبدیلی کے اہم محرکات ہم انسانوں کے ذریعہ پیدا کئے جا رہے ہیں ۔

 ہم اپنی دنیا میں حرارت اور اس کی تباہی  اور آلودگی کا باعث بن رہے ہیں ۔ اگر تبدیلی کی یہی شرح صرف مزید چند سالوں تک  جاری رہی تو ہماری نسل اور ہمارے بعد کی نسل کو زبردست اور تباہ کن تبدیلیوں کا سامنا کرنا ہو گا۔ ‘ زمیں کے پھیپھڑے ’ ایمیزون جنگلات  جل اور مرجھا سکتے ہیں، وسیع سمندر رتیزاب بن سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں کروڑوں مخلوقات کی موت ہو سکتی ہے، قطب جنوبی  پگھل سکتا ہے، جس کی وجہ سے پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ ہجرت کر سکتے ہیں، اور ان کے مشہور اور پر اسرار جانور ہمیشہ کے لئے معدوم ہو سکتے ہیں ۔

بالکل اسی مندرجہ بالا صورت حال کو خدا نے کس کمال کے ساتھ بیان کیا ہے:

"خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا اُن کو اُن کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں "۔ (قرآن 30:41)

خدا ہم سے یہ فرما رہا ہے کہ وہ "بدی" جو ہم، انسانوں نے کی ہے، اس کا بوجھ ہمیں برداشت کرنا ہو گا ۔ بحران کے حل کا واحد راستہ ذاتی تبدیلیاں ہیں ۔ خدا ان لوگوں سے محبت نہیں کرتا، جو "قدرتی" نظام کے خلاف ہیں ۔

"(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا،اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے "(قرآن 56-55 :7)۔

سائنسدان ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ ہماری دنیا اگلی صدی میں تقریباً 1.4 اور  5.8  ڈگری سیلسیس گرم ہو جائے گی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ، ڈیوڈ ایٹن برا ‘ David Attenborough’ کے مطابق، آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات تقریباً "شدید اور تباہ کن" ہوں گے ۔

اس صورت حال کی اہم وجوہات میں سے ایک شاہانہ زندگی اور بڑی تعداد میں ہمارے ذریعہ پیدا  کیا گیا فضلہ ہے ۔ جان وگلر  کے مطابق، "اگر تمام لوگ ترقی یافتہ ممالک کی موجودہ طرز زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں، تو تین سے بھی زائد اضافی پلانٹس کی ضرورت ہوگی۔"

خدا اپنی مقرر  کردہ حدود سے ہمارے تجاوز کرنے کو پسند نہیں فرماتا ۔ وہ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ ہم ‘ میانہ روی ’ اختیار کریں تشدد کا راستہ نہیں۔ اگر ہم طرز زندگی میں، مسلسل، فطرت سے بھی زیادہ متشدد ہوتے ہیں، تو، تشد کے طریقے سے  چیزوں کو حاصل کر کے، خود معاوضہ یا کفارہ  بھی ادا  کریں گے ۔ دنیا کے ایک حصہ میں بڑے پیمانے پر بارش ہو گی، اور دوسرے حصے میں جنگل کی آگ، اس سے پہلے کہ زیادہ تاخیر ہو جائے، ہمیں اسےتبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

"اے نبی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزّین کیا کرو اور کھاؤ اور پیؤ اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا! "(اور عبد حلیم ترجمہ کے مطابق لفظ ‘‘بیکار ’’ کے بجائے ‘‘اسراف’’ ہے۔) (قرآن 7:31)

خدا کا فرمان ہے:

"اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا"(قرآن 6:141)۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ کا نصف (ان تمام کے پیچھے، انسان کے بعد اصل قصور وار) گھریلو سرگرمیوں سے آتا ہے۔ صرف اگر ہم اسے تبدیل کریں، اور اپنی زندگی کو تھوڑا زیادہ شائستہ  بنائیں، تب جا کر ہم اپنی مادری فطرت کی ایک عظیم خدمت کرنے کے قابل ہوں گے ۔

ترقی یافتہ ممالک میں ایک متوسط خاندان کو زیادہ بجلی کی ضرورت ہوتی  ہے، جو کہ توانائی گرڈ  سے پیدا ہوتی ہے، جسے بنیادی طور پر معدنی  ایندھن، کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس کئے ذریعہ تقویت فراہم کی جاتی ہے ۔ ان کی طرز زندگی ایسی ہے، گو کہ وہ اس سیارے پر توانائی کےسب سے زیادہ بھوکے ہیں۔ ان کی متوسط کار ماحول میں 10 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتی ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

"دنیا خوبصورت اور سر سبز و شاداب ہے، اور بیشک خدا نےمعزز کیا، اور  تمہیں اس میں اپنا مہتمم بنایا، اور وہ دیکھتا ہے کہ تم کس طرح اپنے آپ کو بری الذ مہ کرتے ہو۔"

 گریٹ ہرڈن  کے ذریعہ پیش کردہ   Tragedy of the commons’ کے اصول کے مطابق، ذاتی مفاد اور عوامی منفعت کے درمیان مقابلہ ہے۔ انفرادی اور اجتماعی مفاد کے درمیان ایک تنازعہ ہے۔ ہرڈن کے نظریہ کا پہلا قانون ہے کہ آپ ‘صرف ایک ہی چیز نہیں کر سکتے’۔ ماحولیات ایک باہم مربوط میدان ہے، تو اخراج میں کچھ نہیں ہوتا ہے، اور ہر چیز ایک بڑی سطح پر ہوتی ہے۔ ماحولیاتی نظام گہرائی کے ساتھ باہم مربوط ہے، اس وجہ سے ایک جگہ پر کیا گیا ایک عمل، ایک دوسرے مقام پر ایک مخصوص (تقریبا نامعلوم) رد عمل کی وجہ ہو سکتا ہے۔

ہم اس زمین کے محافظ ہیں اور ہم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

"پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو " (قرآن 10:14)۔

اسلام میں اگر ہم ذاتی توجہ دینے کے بجائے، عوامی فلاح و بہبود پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، تو یہ صدقہ کے طور پر شمار کیا جائے گا۔

‘‘ اگر ایک مسلمان ایک درخت لگاتا ہے  یا فصل کی زراعت کرتا ہے، تو جب بھی کوئی پرندہ یا انسان یا جانور اس سے کھاتا ہے، تو یہ اس کے لئے ایک صدقہ شمار کیا جائے گا "۔

اور یہ بھی کہا جاتا ہے: "ہر زندہ مخلوق  کی خدمت کے لئے ایک اجر ہے۔"

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک انتہائی مشہور اقوال میں سے ایک، بیج لگانے کے بارے میں ہے، یہاں تک کہ اگر خاتمہ قریب ہو تب بھی:

‘‘ اگر قیامت ظاہر ہو ، اور تم میں سے کسی ایک کے ہاتھ میں ایک بیج ہو، تو اگر وہ  اسے قیامت سے برپا ہونے سے پہلے بو سکتا ہے ، تو اسے بو دینا چاہئے۔ "

عوامی فلاح و بہبود کی ان تمام کارروائیوں کو اسلام میں بڑی اہمیت دی گئی  ہے۔ ہم اپنے سیارے کو بچانے کے لئے جو سب سے اچھا کام  کر سکتے ہیں، وہ  ہے  درخت لگانا ، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہمیں ایسا کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کی ہے۔ قرآن میں ایسی متعدد آیات ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ زمین مر گئی تھی اور بارش کے ساتھ اس نے اس میں زندگی پیدا کی ۔

"اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینھ برساتا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینھ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں۔ پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں۔ اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں۔ اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزیں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) ان کے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں!" (6:99 قرآن)

"اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا "(قرآن 6:141)۔

"وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی (شاداب ہوتے ہیں) جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو۔  اسی پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور (اور بےشمار درخت) اُگاتا ہے۔ اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لیے اس میں (قدرتِ خدا کی بڑی) نشانی ہے!"(11-16:10قرآن)

ہم تین  R پر عمل کر سکتے ہیں: کم کرنا دوبارہ استعمال کرنا اور دوبارہ قابل استعمال بنانا ۔ لوگ اس سے پہلے اس طرح کی باتوں کو سن چکے ہیں، لیکن اگر ہم صرف ایک 'R' پر عمل کر  سکیں، تو وہ بھی ہمارے ماحول کے لئے، ایک بہت بڑی مدد ہو گی۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ ہم اکیلے نہیں رہتے، ہم دوسروں کے ساتھ رہتے ہیں، اور ہمارے اعمال اور ان کے اعمال کچھ نتائج پیدا کرتے ۔ لہذا، ہم سب کو مفاد باہمی کے طورپر سر گرمیاں انجام دینی چاہئے، نفع اور  نقصان کے طور پر نہیں: میرے لئے منافع اور آپ کے لئے نقصان؛ اور اگر ہم مفاد پرست کے طور پر کام کرتے  ہیں، تو کوئی بھی فائدہ اٹھانے والا نہیں ہوگا، نہ ہی تمہارے  لئے کوئی منافع اور نہ ہی میرے لئے کوئی نقصان، بلکہ ہم سب کے لئے صرف نقصان ہے ۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-environment/aiman-reyaz,-new-age-islam/the-quran-speaks--protect-the-environment--it-is-now-or/d/10960

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/aiman-reyaz,-new-age-islam-ایمن-ریاض/the-quran-speaks--protect-the-environment--it-is-now-or………--قرآن-کا-حکم---ماحولیات-کی--حفاظت-ابھی-یا-۔۔۔/d/11893

 

Loading..

Loading..