New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 09:18 AM

Urdu Section ( 9 Apr 2013, NewAgeIslam.Com)

Islam Promotes Education and Liberation اسلام خواتین پر خصوصی توجہ کے ساتھ تعلیم اور آزادی کو فروغ دیتا ہے

 

حروف کو چھوٹا یا بڑا کرنے کیلئے او پر  A A A پر کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

27 جنوری 2013

(انگریزی سے ترجمہ  ۔  مصباح الہدیٰ  ،  نیو ایج اسلام)

 لازمی ہے۔ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنا ایک غیر اسلامی عمل  ہے۔قرآن اور احادیث نے مسلمان مرد اور عورتوں دونوں پر  تعلیم حاصل کرنا لازم قراردیا ہے۔ قرآن پاک میں سینکڑوں مقامات پر  براہ راست اور بالواسطہ دونوں طور پر اجاگر کیا گیا ہے ۔ بے شک تمام لوگوں تک علم اور حکمت پہنچانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہم فرائض اور ذمہ داریوں میں سے ایک ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے : اسی طرح ہم نے تمہارے اندر تمہیں میں سے (اپنا) رسول بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں (نفسًا و قلبًا) پاک صاف کرتا ہے اور تمہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور حکمت و دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں وہ (اَسرارِ معرفت و حقیقت) سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے وہی ہے جس نے اَن پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک (با عظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا وہ اُن پر اُس کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اور اُن (کے ظاہر و باطن) کو پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، بیشک وہ لوگ اِن (کے تشریف لانے) سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے،

  کی عظیم طاقت کا احترام کر سکتے ہیں، اس کے بارے ان کے پاس زیادہ علم ہوگا ان کے مقابلے جو لوگ نہیں جانتے ۔ اور فرشتے ان کے لئے بڑی خوشی سے اپنے پر پھيلائیں گے ، اور ان کے لئے  مغفرت طلب کی جائے گی ۔ علم والوں کو  انبیاء کا وارث تصور کیا جاتا ہے۔فرما دیجئے: کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں؟ بس نصیحت تو عقل مند لوگ ہی قبول کرتے ہیں۔

بس اﷲ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو (ان حقائق کا بصیرت کے ساتھ) علم رکھنے والے ہیں، یقیناً اﷲ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہے وہ‘‘مرد  بندے ’’ جنہیں علم ہے اس سے ڈر تے ہیں  ۔ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے  مطالعہ سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے  خود خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے خصوصی انتظامات کئے ہیں۔ ’’حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان کے لئے ایک دن مقرر کر دیا ۔ وہ اس دن ان سے ملاقات کرتے ، انہیں نصیحت کرتے اور اللہ تعالی کے احکام کے بارے میں انہیں  تعلیم دیتے ۔ [صحیح میں ، 1:50 بخاری نے روایت کیا ۔] 2000 احادیث کی روایات کی ہیں  ۔ ان کے آگے صرف دو شخص  تھے۔ اس  سے وہ نظریہ پاش پاش ہو جاتا ہے   کہ خواتین مردوں نہ پڑھا سکتی ہیں اور نہ ہی ا نہیں رہنمائی  دے سکتی ہیں ۔ علم حاصل کرنے کی اجازت ہے ۔ ہم ایک مثالی دنیا میں نہیں رہتے۔ ہمیں  مثالی اور عملی کے درمیان تفریق پیدا کرنا ہے ۔ یہ کوئی مثالی دنیا  نہیں ہے، آگے بڑھنے کے لئے ہمیں زندگی میں عملی  ہونا ہے۔ لیکن عملیت کا  مطلب بد اخلاقی  نہیں ہے، لیکن جب فلسفہ، اگر انتہائی کو پہنچ جائے تو بد خلاقی   پیدا کر سکتاہے۔ لہٰذا ،  اگر ضرورت ہو تو ایک عورت کو ایک مرد استاذ کے ذریعہ پڑھا یا جا سکتا ہے، اسے ہچکچانا  نہیں چاہئے۔ تک ، متشد لوگ کسی چیز کو  ،مشہور کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو ان کے گھروں سے باہر قدم نہیں رکھنا چاہئے  کیونکہ شیطان ان  کے پیچھے ہو جاتا ہے۔ اگر معاملہ  ایسا ہے تو محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات غزوات میں کیوں شریک ہوئیں۔ وہ کیوں زخمی مردوں  اٹھاتی  (مس کرتی)تھیں اور ان  کی عیادت کرتی تھیں ؟ یہ  خیالات ایسے  ہیں کہ انہیں نظر انداز کرنا  مشکل ہے، میرے مطابق ان سے نمٹنے طریقہ صرف کے یہ ہے کہ  ان کے نظریات  کو چیلنج کیا جائے اور ان کے معتقدات سے ہی ان  کا مقابلہ کیا جائے ۔ ۔  مجھے نہیں معلوم کہ کس طرح  یہ مصنوعی  خیال (مقصود بالاستہزاء)آیا ہے۔ یقینا اس وقت کاریں موجود نہیں تھیں ۔ وہ تمام  فتوے جو کہ آج ہم افغانستان اور سعودی عرب اور کچھ دیگر نام نہاد 'اسلامی' ممالک میں دیکھ رہے یا سن رہے ہیں ،   خواتین کی تعلیم پر پابندی لگانے اور کاروں کی ڈرائیونگ  پر  ہابندی لگانے کے بارے میں وہ آج  کے حکام کے فیصلے ہیں اور ان میں سے اکثر ، اگر سب نہیں تو ، اسلام سے کوسوں دور ہیں ۔ بہت مشکل ہے کیونکہ خدیجہ  (رضی اللہ عنہا)، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی  کی پہلی اہلیہ ، ایک بزنس مین عورت تھیں۔ در اصل وہ مردوں کے ساتھ اپنے  اونٹ پر سفر کرتی تھیں  اور ان کے ساتھ سودا کیا کرتی  تھیں! حضرت عائشہ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد 60،000 مسلمان مردوں کی ایک فوج کی قیادت کی تھی۔ اس  جنگ  کو "اونٹ کی لڑائی" کہا جاتا تھا۔ مسلمان مرد جو عورتوں کو آزادی نہیں دیتے وہ  مسلمان کہلانے کے لائق  نہیں ہیں  ، کیونکہ وہ نہیں سمجھتے۔  ایک مثال  ان کے سب سے بڑے  رہنما "ملا عمر" ہیں ۔ جیسا کہ مضمون کے آغاز میں ذکر کیا گیا تھا ، جن کے پاس  تعلیم کی کمی ہے  انہیں خدا کی تعریف کرنے میں دشواری ہے۔ وہ اسلام کے حق میں نہیں ہیں ، اور وہ بہت سی مصیبتوں  کی وجہ بن  سکتے ہیں۔ اور توقع کے مطابق ہم یہ دیکھ رہے ہیں  کہ  ان کی تعلیم کی کمی کا کیا  انجام ہو رہا  ہے: یہ نہ صرف یہ کہ  ہزاروں افراد کی موت کی وجہ بن رہی ہے بلکہ  یہ اعتدال پسند، تعلیم یافتہ مسلمانوں  کو دوسرے فرقوں کی طرف سے مکمل طور پر خیر مقدم کئے جانے سے  دور کر رہی ہے۔ صرف ان چند بنیاد پرستوں کی وجہ سے کمیونٹی کے ارکان کی اکثریت اس کا شکار  ہو رہی ہے ۔ غلط نہیں ہے  ۔ان کے پیروکار، جو زیادہ تر ناخواندہ ہیں، آنکھ بند کر کے ، حماقت  کے ساتھ اللہ تعالی کے مسخ شدہ  احکام پر عمل  کرتے ہوئے اپنے  رہنماؤں کی پیروی  کر رہے ہیں : اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے، ، واضح طور پر اسلام کے بارے میں ایک بہت بڑا علم نہیں ہے ، کیونکہ قرآن مقدس کی آیت 4:59 صرف اسلامی  معاملات میں ہی حکام  کی اطاعت کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ اس وقت تک(اس کے حکمران کے احکام )  سننا اور  اس کی اطاعت   کرنا ضروری ہے وہ اسے پسند کرے یا  نہ کرے جب تک اس کے حکم میں(اللہ) کی  نافرمانی شامل نہ ہو ، لیکن اگروہ(اللہ)   کی  نافرمانی کا کوئی عمل  نافذ کرے تو کسی پر  اس کی  بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری نہیں ہے (صحیح بخاری کا ترجمہ (باب  الاحکام) ، حصہ 9 ،  کتاب 89 ، نمبر 258)۔ "او، عورت  تیرا مشن کتنا مقدس ہے

یہاں ہماری جائے پیدائش میں !

اپنے جواں دل کو کھلا رکھنا

ہمیشہ خدا کے احساس کے لئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس  ہاتھ  کے  لئے جو لحد کھودتا  ہے

وہ وہی ہاتھ ہاتھ ہے جو دنیا پر حکومت کرتا ہے  ۔

 

--ایمن-ریاض/islam-promotes-education-and-liberation---اسلام-خواتین-پر-خصوصی-توجہ-کے-ساتھ-تعلیم-اور-آزادی-کو-فروغ-دیتا-ہے/d/11079

Loading..

Loading..