New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 06:38 AM

Urdu Section ( 29 Aug 2016, NewAgeIslam.Com)

Only if, We could Accept the Sufi Ways of Life rather than Propagating Sectarianism کاش ! یہ دوری دور ہوجاتی

 

 

 

 

 

 احمد جاوید

28 اگست، 2016

ملک کی ایک مشہور چشتی خانقاہ کے ایک بڑے عالم فاضل فرزند نے جمعہ کو سو شل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں اس صورت حال پر گہری فکر و تشویش کا اظہار کیا کہ ‘ ایک طرف جہاں پیری مریدی کو بطور وراثت منتقل کیا جانے لگا ہےاگر چہ صاحب سجادہ اس کے حقدار نہ ہوں، دوسری طرف مزارات میں بے شمار اضافہ ہوا ہے، ... فرضی مزارات (تک) معرض وجود میں آگئے ہیں ... جو چوٹی کےبڑے بڑے اولیاء کرام تھے جنہوں نے تبلیغ اسلام کےلیے اپنے گھر بار ، وطن، مال و دولت او راولاد تک چھوڑ کر آئے، جنہوں نے اپنے تن من دھن ہر چیز کو دین اسلام کےلیے قربان کردیا ....، ان سے دوری ہونے لگی ہے اور ...،۔ انہوں نے لکھا کہ ‘ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں فرضی او رجعلی مزارات ( اور جعلی پیروں) کے خلاف خلوص کے ساتھ آواز بلند کرنا چاہئے ... اور جواصلی مزارات ہیں وہاں ہونے والے خلاف شرع کاموں کو بھی روکنا چاہئے تاکہ دنیا کے سامنے اہل سنت و جماعت کے معمولات پرکوئی انگلی نہ اٹھا سکے اور کوئی اہل سنت و جماعت کو بد نام نہ کرسکے، ۔ آج ہی اخباروں میں یہ خبر آئی کہ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے جمعیۃ کا 33واں اجلاس اجمیر شریف میں بلانے کا اعلان کیا ہے ۔ نومبر میں بلائے گئے اس اجلاس میں پانچ لاکھ لوگوں کی شرکت کی امید ہے۔ تاریخ میں پہلی بار دیوبند سےاجمیر شریف کےلئے ٹرین روانہ کی جائے گی اور اس ‘کاروان اتحاد امت’ کا جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ہر اسٹیشن پر شاندار استقبال کیا جائے گا۔ جمعیۃ کے اجلاس میں پہلی مرتبہ ملک بھر کی بڑی درگاہوں اور خانقاہوں کے سجادہ نشینوں کو مدعو کیا جارہا ہے اور پہلی مرتبہ جمعیۃ کے کسی اجلاس میں عالمی نعتیہ مشاعرہ کا اہتمام بھی کیا جارہا ہے۔ جمعیۃ کے ان فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے تنظیم کے ترجمانوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارا سلسلہ وہابیت نہیں بلکہ چشتیہ سلسلہ ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسلام دشمن اور فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کو آپس میں لڑانا اور ہمیں وہابی ثابت کرنا چاہتی ہیں لیکن مولانا محمود مدنی کے اس فیصلے نے تفرقہ پیدا کرنے والوں کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ یہ ایک ایسا اجلاس ہوگا جس میں شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی سب شریک ہوں گے او رملی اتحاد کا ثبوت دیں گے۔

گویا ایک ہی آگ دونوں طرف لگی ہوئی ہے ، یہ بھی بے چین ہیں اور وہ بھی بے چین ہیں، ان میں بھی اضطراب ہے ان میں بھی اضطراب ہے ، ملک کے مسلمانوں میں خود کو اولیا اور صوفیا سے جوڑنے اور اپنے مسائل کاحل ان کی تعلیمات میں دیکھنے کا یہ نیا ظاہرہ (Phenomena) یونہی نہیں پیدا ہوا ہے، اس کے بڑے ٹھو س عوامل و محرکات ہیں جو اب کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ جن کی پہچان درگاہوں ، خانقاہوں او رمزارات سے ہے وہ بھی اس خواہش او راس ضرورت پر زور دے رہے ہیں کہ ہمیں ان صوفیا کے طریقے اور ان کی تعلیمات کو اپنانا ہوگا جن کی قربانیوں نے وطن عزیز میں اسلام کے پیغام امن و محبت کو عام کیا اور جو آج بھی اس ملک میں اپنے پرائے سب کے دلوں پر راج کررہے ہیں اور وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں جو ان کے حریف و مقابل سمجھےجاتے رہے ہیں ۔ ان کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ ان کا ان کے اسلاف و اکابر کا سلسلہ کوئی وہابی سلسلہ نہیں بلکہ سلسلہ چشتیہ ہے۔ کاش! ہم سچ سچ صوفیا کے دکھائے ہوئے ان ہی راستوں پرچل پڑیں جن پر چل کر انہوں نے اس ملک کی کایا پلٹ دی تھی اور اے کاش ! ہمیشہ کےلیے نہ سہی تھوڑے دنوں کے لیے بھی آپسی جھگڑوں ، رنجشوں ، مشربی رقابتوں ، مسلکی اختلافوں او راپنی اپنی برتری کی جنگوں کو پس پشت رکھ دیں۔ کاش! جن پر بدعات و خرافات کو فروغ دینے کا الزام ہے وہ سچ مچ جعلی پیروں ، نقلی مزاروں اور سیدھے سادے لوگوں کو ٹھگنے او رگمراہ کرنے والوں کے خلاف کمر کس لیں اور جن پر اولیاء و صوفیا کا مخالف ہونے کا الزام ہے وہ سچ مچ اولیا اور صوفیا کے در سے لوگوں کے ٹوٹے ہوئے رشتے جوڑنے ، ان کی تعلیمات کو اپنانے اور ان کی محبت و عقیدت کو عام کرنے کا بیڑا اٹھالیں۔ جس دن ایسا ہوگیا، اسی دن اس سرزمین پرایک ناقابل تصور انقلاب آجائے گا۔ لیکن اصل سوال تو یہ ہے کہ فکر مندی کااظہار تو سب کرتے ہیں، دعوے سب کے پاس ہیں ، لیکن اعمال؟ نہ ان کی نمازوں میں وہ سوز وگداز ہے نہ ان کے حال و قال اور وجد سماع میں وہ تڑپ جو دلوں کی دنیا زیر و زبر کردینے کی طاقت رکھتی تھی ۔

اگر صرف اجمیر شریف میں لاکھوں لوگوں کا مجمع لگانےیا مشاعرہ منعقد کرنے سے تبدیلی آنا ہوتی تو کب کی آگئی ہوتی کہ ہر سال رجب میں یہا ں ملک کے کونے کونے سے لاکھوں لوگ آتے ہیں اور اگر عالم فاضل پیرزادوں ، سجادہ نشینوں اور ان کے منتسبین کی اظہار مندی سے کچھ ہونا ہوتا تو بھی خانقاہوں ، درگاہوں او رمزاروں کی دنیا بدل گئی ہوتی کہ ہر دن ایسے سیکڑوں افراد ہر مجلس ہر محفل میں اس فکر مندی کا اظہا ر کرتے ہیں ۔ صوفیا نے نہ ایک دن کا مجمع لگا کر انقلاب لایا نہ اٹھتے بیٹھے اظہار فکر و تشویش کر کے دلوں کی دنیابدلی ۔ ایک دہشت گردی کے مسئلہ کو ہی لے لیجئے جس نے آج ساری دنیا کو بے چین کررکھا ہے اور لوگوں کو صوفیا اور ان کی تعلیمات کی بے تحاشا یاد دلائی ہے لیکن جن نوجوانوں کی دہشت پسندی متاثر کررہی ہے، جو داعش کی طرف کھینچ رہے ہیں یا جن میں تشدد پسندی سےمتاثر ہونے کے امکانات ہیں، ان کو اس سے روکنے یا بچانے کےلیے آپ کیا کررہے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو عفریت کی صورت ہمارے سامنے کھڑا ہے او رہم ہیں کہ فکر و تشویش کا اظہار کررہے ہیں یا جلسہ بلا کر اس کی مذمت میں رطب اللسان ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ بڑاکام کیا۔ زیادہ سے زیادہ یہ آپ کی اپنی شبیہ یااپنا چہرہ بچانے کی تگ و دومانی جاسکتی ہے یا پھر اسلام پر الزمام کادفاع؟ مگر یہ مسئلہ کاحل تو نہیں ۔

اگر یہ سچ ہے کہ داعش او راس جیسی تنظیمیں دنیا کے دوسرے حصوں کی طرح اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بر صغیر میں بھی سرگرم ہیں اور اس کے لئے وہ انٹر نیٹ جیسے جدید تر وسائل کا استعمال کررہے ہیں تو کیا ان کامقابلہ کرنے کےلئے آپ کو بھی ان ہی وسائل کا سہارا نہیں لینا چاہئے مگر اب تک آپ کی کتنی ٹیمیں ہیں جو یہ کام کر رہی ہیں؟ اگر اس میں کوئی سچائی ہے کہ ان سے جدید تعلیم یافتہ افراد اور نو مسلم نوجوان متاثر ہورہے ہیں جیسا کہ کیرل او ر مہاراشٹر سے آنے والی رپورٹیں بتاتی ہیں ، مہاراشٹر سے جو لڑکے داعش میں شامل ہونے کے لیے عراق چلے گئے تھے یا کیرل کے ایک اسکول سے جن نوجوان لڑکے لڑکیوں کی گمشدگی کی خبریں آرہی ہیں اور خود ان کے خاندان بھی اس کی تصدیق کرتےہیں ۔ تو سوال ہے کہ اب تک ہم نے ایسے لڑکے لڑکیوں کو اس سےبچانے کےلئے کیاکیا؟ کیا ہم اسکولوں اور کالجوں میں گئے یا انٹر نیٹ پر سرگرم ہوئے ۔ جو لوگ صوفیا سے نفرت کی حد تک عداوت رکھتے ہیں ، ان کےمقبروں ، مزاروں ، درگاہوں اور خانقاہوں کو نہ صرف الفاظ کے توپ و تفنگ کانشانہ بناتے بلکہ بموں اور میزائلوں سےاڑاتے ہیں، صحابہ کرام کے مزارات تک اپنا غیظ و غضب نکالتے اور ان کو تہ و بالا کررہے ہیں، ان تک ہم نے اسلام کا پیغام امن و محبت ، دین کی روح اور صوفیا کی تعلیمات کوکیسے پہنچائیں، اب تک کسی نے اس کی بھی فکر کی ہے، اس راہ میں بھی کوئی قدم اٹھایا ہے؟ غور و فکر سےکام لیں او ر ٹھنڈے دل سے سوچیں تو اس کا ایک ہی راستہ ہے، نوجوانوں کو تصوف کی طرف مائل اور اس میں شریک کرنے کا راستہ۔ انتہا پسند ی کی سپلائی لائن اسی طریقہ سے کاٹی جاسکتی ہے۔ اگر آپ مانتے ہیں کہ یہ اسلام او رمسلمانوں کے خلاف خطرناک سازش ہے، اسلام دشمن طاقتیں اور انتہا پسند عناصر سادہ لوح نوجوانوں کو ورغلا کر تشدد کی راہ پر لگاتے ہیں تو آپ کو آگے آناہوگا، ان کو ان سازشوں سےبچانے کی عملی کوششیں کرنی ہوں گی۔ ہم ان سے نوجوانوں بالخصوص اسکول کالج کے طلبہ و طالبات کو بچانے کے لیے ان کو صوفیا او ران کی تعلیمات سے متعارف کرائیں، خانقاہوں میں لے جاہیں اور ان اسکالر ز سےملوائیں جو ان کےدل و دماغ میں اٹھنے والے سوالات کا تعلیمات صوفیا کی روشنی میں تشفی بخش جواب دیں۔ اس دوری کو ختم کریں جو دین اور دنیا کے نام پر مسلم معاشرے کی سب سے بڑی ٹریجڈہی بتائی ہے کہ جن کے پاس روزے، تقوی اور عبادت و ریاضت ہے اس کے دل سوز عشق و محبت اور گداز عقیدت و ارادت سے خالی ہیں اور جن کے پاس عشق و عقیدت ہے وہ شریعت پر عمل کی دولت سے تہی دامن ہیں ۔ جن دن ان کو عشق و محبت اور ان کو تقوی و طہارت کی دولت مل گئی ، یہ دوری ختم ہوگئی ، اسی دن اس امت کے آدھے مسائل دور ہوجائیں گے اور وہ انقلاب آئے گا جس کا کسی نے تصور نہیں کیا۔

28 اگست، 2016 بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ahmad-javed/only-if,-we-could-accept-the-sufi-ways-of-life-rather-than-propagating-sectarianism--کاش-!-یہ-دوری-دور-ہوجاتی/d/108400

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..