New Age Islam
Sun Apr 11 2021, 02:30 PM

Urdu Section ( 8 May 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Quran’s Inclusive Approach and Narrow-Mindedness of Urdu Translators of Quran قرآن کا جامع نقطہ نظر اور اس کے اردو مترجمین کی تنگ نظری

 

 آفتاب احمد، نیو ایج اسلام

29 اپریل2014

عام طور پر ایک مسلمان وہ ہوتا ہے جو دین اسلام سے تعلق رکھتا ہے اور اللہ اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے اور قرآن اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرتا ہے۔

قرآن میں بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کو مسلمان کہا گیا ہے اور اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام کے پیروکاروں کو یہودی اور حضرت عیسی علیہ السلام کے متبعین کو عیسائی کہا گیا ہے۔

تاہم، قرآن مجید میں درجن سے زائد ایسی آیات ہیں جن میں ابراہیمی مذہب کے تمام پیروکاروں کو مسلمان مانا گیا ہے اس لیے کہ وہ ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں اور جھوٹے دیوتاوں اور دیویوں میں یقین نہیں کرتے تھے یا سورج، چاند، پہاڑوں یا بارش   کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے کے نبیوں کے متبعین کو بھی مسلمان کہا جاتا تھا۔ لہذا، قرآنی آیات کے مطابق تمام انبیاء مسلمان ہی تھے۔ قرآن کا اعلان ہے کہ خدا نے اپنے تمام ماننے والوں کا نام مسلمان رکھا ہے۔

‘‘اور اﷲ (کی محبت و طاعت اور اس کے دین کی اشاعت و اقامت) میں جہاد کرو جیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں منتخب فرما لیا ہے اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ (یہی) تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہے۔ اس (اﷲ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے، اس سے پہلے (کی کتابوں میں) بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ یہ رسولِ (آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو جائیں اور تم بنی نوع انسان پر گواہ ہو جاؤ’’۔ (الحج:78)

قرآن واضح طور پر یہ اعلان کرتا ہے کہ جو لوگ خدا کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں اور جھوٹے معبودوں کی پرستش نہیں کرتے وہ مسلمان ہیں اور ایسے لوگوں کو صرف قرآن میں ہی نہیں بلکہ ہر دور میں مسلمان کہا گیا ہے، مثال کے طور پر قرآن میں حضرت نوح علیہ السلام کو مسلم کہا گیا ہے:

‘‘سو اگر تم نے (میری نصیحت سے) منہ پھیر لیا ہے تو میں نے تم سے کوئی معاوضہ تو نہیں مانگا، میرا اجر تو صرف اللہ (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں (اس کے حکم کے سامنے) سرِ تسلیم خم کئے رکھوں’’ (یونس:72)۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مسلمان کہا گیا ہے جو اپنے بیٹے کو آخری سانس تک مسلم ہی رہنے کی تاکید کرتے ہیں:

‘‘اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب (علیہ السلام) نے بھی (یہی کہا:) اے میرے لڑکو! بیشک اللہ نے تمہارے لئے (یہی) دین (اسلام) پسند فرمایا ہے سو تم (بہرصورت) مسلمان رہتے ہوئے ہی مرنا’’ (البقر:32)۔

خدا نے ابراہیم علیہ السلام کے بھی مسلمان ہونے کا اعلان کیا ہے۔ قرآن ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام ایک یہودی یا عیسائی تھے۔

‘‘ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی وہ ہر باطل سے جدا رہنے والے (سچے) مسلمان تھے، اور وہ مشرکوں میں سے بھی نہ تھے’’ (آل عمران: 67)۔

یوسف علیہ السلام نے خود کو مسلم کہا اور انہوں نے حالت اسلام پر ہی موت کی دعاء کی:

‘‘اے میرے رب! بیشک تو نے مجھے سلطنت عطا فرمائی اور تو نے مجھے خوابوں کی تعبیر کے علم سے نوازا، اے آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے! تو دنیا میں (بھی) میرا کارساز ہے اور آخرت میں (بھی)، مجھے حالتِ اسلام پر موت دینا اور مجھے صالح لوگوں کے ساتھ ملا دے’’ (یوسف:101)۔

بادشاہ سلیمان نے خود کو مسلمان بتایا اور ملکہ صبا جو کہ سورج کی پرستار تھی اسے "اسلام" کی دعوت دی اور انہوں نے اسے اس کے خلاف جنگ کی تنبیہ کی۔ سورہ النمل میں بادشاہ سلیمان اور ملکہ صبا کے درمیان گفتگو کی ایک تفصیل ملتی ہے جس کے مطابق آخر کار صبا اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جاتی ہے، وہ آیات اس طرح ہیں:

‘‘(ملکہ نے) کہا: اے سردارو! میری طرف ایک نامۂ بزرگ ڈالا گیا ہے، بیشک وہ (خط) سلیمان (علیہ السلام) کی جانب سے (آیا) ہے اور وہ اللہ کے نام سے شروع (کیا گیا) ہے جو بے حد مہربان بڑا رحم فرمانے والا ہے، (اس کامضمون یہ ہے) کہ تم لوگ مجھ پر سربلندی (کی کوشش) مت کرو اور فرمانبردار ہو کر میرے پاس آجاؤ، (ملکہ نے) کہا: اے دربار والو! تم مجھے میرے (اس) معاملہ میں مشورہ دو، میں کسی کام کا قطعی فیصلہ کرنے والی نہیں ہوں یہاں تک کہ تم میرے پاس حاضر ہو کر (اس اَمر کے موافق یا مخالف) گواہی دو، انہوں نے کہا: ہم طاقتور اور سخت جنگ جُو ہیں مگر حکم آپ کے اختیار میں ہے سو آپ (خود ہی) غور کر لیں کہ آپ کیا حکم دیتی ہیں’’ (النمل: 33-29)۔

‘‘سلیمان علیہ السلام نے) فرمایا: اے دربار والو! تم میں سے کون اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لا سکتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر میرے پاس آجائیں’’ (النمل:38)۔

‘‘پھر جب وہ (ملکہ) آئی تو اس سے کہا گیا: کیا تمہارا تخت اسی طرح کا ہے، وہ کہنے لگی: گویا یہ وہی ہے اور ہمیں اس سے پہلے ہی (نبوتِ سلیمان کے حق ہونے کا) علم ہو چکا تھا اور ہم مسلمان ہو چکے ہیں’’ (النمل:42)۔

‘‘اس (ملکہ) سے کہا گیا: اس محل کے صحن میں داخل ہو جا (جس کے نیچے نیلگوں پانی کی لہریں چلتی تھیں)، پھر جب ملکہ نے اس (مزیّن بلوریں فرش) کو دیکھا تو اسے گہرے پانی کا تالاب سمجھا اور اس نے (پائینچے اٹھا کر) اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں، سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا: یہ تو محل کا شیشوں جڑا صحن ہے، اس (ملکہ) نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! (میں اسی طرح فریبِ نظر میں مبتلا تھی) بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان (علیہ السلام) کی معیّت میں اس اللہ کی فرمانبردار ہو گئی ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے’’ (النمل:44)۔

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم بدفعلی کی وجہ سے تباہ کر دی گئی تھی۔ اس قوم پر خدا کا غضب نازل ہونے کے بعد قرآن کا بیان ہے کہ مسلمانوں کے گھر کے سوا اور کوئی گھر نہیں بچا تھا۔ اور مسلمان کا وہ گھر لوط علیہ السلام کا ہی گھر تھا:

‘‘سو ہم نے اُس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا (اور کوئی گھر) نہیں پایا (اس میں حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی دو صاحبزادیاں تھیں’’ (الذاریات:36)

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:

‘‘اور موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر توکل کرو، اگر تم (واقعی) مسلمان ہو’’ (یونس:84)۔

یہاں تک کہ ان جادوگروں نے بھی موسیٰ علیہ اسلام کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دئے اور مسلمان ہو گئے جنہیں فرعون نے موسیٰ موسیٰ علیہ اسلام کو شکست دینے کے لیے بلایا تھا:

‘‘سو وہ (فرعونی نمائندے) اس جگہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہوکر پلٹ گئے، اور (تمام) جادوگر سجدہ میں گر پڑے، وہ بول اٹھے: ہم سارے جہانوں کے (حقیقی) رب پر ایمان لے آئے، (جو) موسٰی اور ہارون (علیہما السلام) کا رب ہے، فرعون کہنے لگا: (کیا) تم اس پر ایمان لے آئے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا؟ بیشک یہ ایک فریب ہے جو تم (سب) نے مل کر (مجھ سے) اس شہر میں کیا ہے تاکہ تم اس (ملک) سے اس کے (قبطی) باشندوں کو نکال کر لے جاؤ، سو تم عنقریب (اس کا انجام) جان لو گے، میں یقیناً تمہارے ہاتھوں کو اور تمہارے پاؤں کو ایک دوسرے کی الٹی سمت سے کاٹ ڈالوں گا پھر ضرور بالضرور تم سب کو پھانسی دے دوں گا، انہوں نے کہا: بیشک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں، اور تمہیں ہمارا کون سا عمل برا لگا ہے؟ صرف یہی کہ ہم اپنے رب کی (سچی) نشانیوں پر ایمان لے آئے ہیں جب وہ ہمارے پاس پہنچ گئیں۔ اے ہمارے رب! تو ہم پر صبر کے سرچشمے کھول دے اور ہم کو (ثابت قدمی سے) مسلمان رہتے ہوئے (دنیا سے) اٹھالے’’ (الاعراف:119-126)

فرعون اور موسی علیہ اسلام کے درمیان محاذ آرائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرعون نے سمندر میں ڈوب جانے سے پہلے اقرار توحید کر کے مسلمان ہو گیا تھا:

‘‘اور ہم بنی اسرائیل کو دریا کے پار لے گئے پس فرعون اوراس کے لشکر نے سرکشی اور ظلم و تعدّی سے ان کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ جب اسے (یعنی فرعون کو) ڈوبنے نے آلیا وہ کہنے لگا: میں اس پر ایمان لے آیا کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس (معبود) کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں (اب) مسلمانوں میں سے ہوں’’ (یونس:90)۔

اور سب سے آخر میں اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے کا حکم دیا:

‘‘فرما دیجئے: بیشک مجھے میرے رب نے سیدھے راستے کی ہدایت فرما دی ہے، (یہ) مضبوط دین (کی راہ ہے اور یہی) اﷲ کی طرف یک سو اور ہر باطل سے جدا ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ہے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے، فرما دیجئے کہ بیشک میری نماز اور میرا حج اور قربانی (سمیت سب بندگی) اور میری زندگی اور میری موت اﷲ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں (جمیع مخلوقات میں) سب سے پہلا مسلمان ہوں’’ (الانعام:161-163

لہذا، قرآن ان تمام لوگوں کے تئیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں یا جو اہل کتاب ہیں ایک جامع نقطہ نظر رکھتا ہے۔ قرآن کے پیش کردہ معیار کے مطابق ہر وہ شخص جو خدا پر ایمان رکھتا ہے مسلمان ہے۔ خدا نے انہیں صرف قرآن مجید میں ہی مسلمان نہیں کہا بلکہ اپنی نازل کردہ گزشتہ تمام صحائف میں انہیں مسلمان کہا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ عربی قرآن گزشتہ تمام انبیاء علیہم السلام کے پیروکاروں کو مسلمان کہتا ہے جبکہ قرآن کے اردو ترجمہ نگاروں کو لفظ مسلمان کا ترجمہ مسلمان سے  کرنے میں جھجھک محسوس ہوتی ہے اور لفظ مسلم سے گریز کرتے ہوئے کہ جس کا استعمال خود قرآن کرتا ہے وہ لفظ مسلمون یا مسلمین کا ترجمہ حکم بردار یا فرماں بردار کرتے ہیں۔ قرآن کے مسلم مترجمین دیگر نبیوں کے پیروکاروں کو مسلمان کے طور پر قبول نہیں کرتے اگرچہ قرآن واضح طور پر انہیں مسلمان کہتا ہے۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

آفتاب احمد نیو ایج اسلام کے کالم نگار اور فری لانس صحافی ہیں۔ وہ کچھ عرصے سے قران کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

URL for English article:

 http://newageislam.com/islamic-society/aftab-ahmad,-new-age-islam/quran’s-inclusive-approach-and-narrow-mindedness-of-urdu-translators-of-quran/d/76778

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/aftab-ahmad,-new-age-islam/quran’s-inclusive-approach-and-narrow-mindedness-of-urdu-translators-of-quran--قرآن-کا-جامع-نقطہ-نظر-اور-اس-کے-اردو-مترجمین-کی-تنگ-نظری/d/76935.

 

Loading..

Loading..