New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 08:54 PM

Urdu Section ( 9 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Knowledge As Defined In the Quran قرآن کے مطابق علم کی افادیت و اہمیت

 

 آفتاب احمد، نیو ایج اسلام

28 اپریل2014

قرآن میں علم کی تفصیل کے بجائے علم کے تصور پر بحث کی گئی ہے۔ بہت سے مواقع پر قرآن میں مذہبی یا روحانی اور مادی یا سائنسی دونوں لحاظ سے علم پر بحث کی گئی ہے۔ جب قرآن کی مختلف آیات کا جامع تجزیہ اور مطالعہ کیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ قرآن میں علم سے مراد مذہبی اور سائنسی دونوں علوم ہیں۔ لہٰذا قرآن مسلمانوں کے اس عام تصور کی نفی کرتا ہے کہ قرآن صرف مذہبی علم پر ہی زور دیتا ہے اور دنیاوی علوم یا سائنس کو تسلیم نہیں کرتا۔

قرآن مجید میں علم اور حکمت دو الفاظ مذہبی علوم، پراسرار علوم، سائنس اور ٹیکنالوجی، بہتر اسلوب حکمرانی وغیرہ کے لیے بار بار استعمال کیے گئے ہیں۔ خدا کو علّام الغیوب اور تمام علوم و فنون کا جامع کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں خدا کو علیم (علام الغیوب) اور حکیم (تمام علوم و فنون اور حکمتوں کا جاننے والا) کہا جاتا ہے۔ ان دو الفاظ سے تمام علوم پر  خدا کی اجارہ داری کا پتہ چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی انسان کو علیم نہیں کہا جا سکتا ہے۔ جسے کچھ علم ہو اسے صرف عالم (جس نے خدا کے فضل سے کسی بھی میدان میں تھوڑا علم حاصل کیا ہو) کہا جا سکتا ہے۔ خدا لوگوں کی روحانی اور دانشورانہ صلاحیتوں اور علم کے لئے ان کے جذبہ کے مطابق علم کا ایک حصہ عطا کرتا ہے۔ جو کچھ بھی تھوڑا علم یا سائنس انسان کے پاس ہے وہ خدا کا تحفہ ہے۔ انسان اپنی مرضی سے علم کا دعوی نہیں کر سکتا۔ اعلی مذہبی روحانی یا سائنسی علم حاصل کرنے کی تو بات ہی چھوڑ دیں خدا کے فضل کے بغیر انسان بول بھی نہیں سکتا۔ قرآن کا فرمان ہے:

‘‘(اِس کامل) انسان کو پیدا فرمایا۔ ’’۔ (الرحمن : 13)

لہذا صرف بات کرنے کی بھی انسان کی صلاحیت خدا کے فضل کے بغیر نہیں ہے۔ قرآن کی ایک اور آیت میں یہ ذکر ہے کہ تمام علوم خدا کو حاصل ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں کوئی بھی علم خواہ وہ روحانی ہو یا سائنسی خدا کی اجارہ داری سے باہر نہیں ہے۔ انسان یا فرشتے بھی اپنی خواہش کے مطابق علم سے حصہ پاتے ہیں۔ قرآن کا فرمان ہے:

‘‘اور اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو تمام (اشیاء کے) نام سکھا دیئے پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا، اور فرمایا: مجھے ان اشیاء کے نام بتا دو اگر تم (اپنے خیال میں) سچے ہو۔ فرشتوں نے عرض کیا: تیری ذات (ہر نقص سے) پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اسی قدر جو تو نے ہمیں سکھایا ہے، بیشک تو ہی (سب کچھ) جاننے والا حکمت والا ہے’’ (البقر 31-32)

فرشتے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں انہیں صرف انہیں باتوں کا علم ہے جو اللہ نے انہیں سکھایا ہے۔

مختلف مواقع پر اللہ نے قرآن مجید میں یہ فرمایا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو مختلف چیزوں کا علم دیا ہے۔

‘‘اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی ہے اور اس نے آپ کو وہ سب علم عطا کر دیا ہے جوآپ نہیں جانتے تھے، اورآپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے’’۔ (النساء: 113)

قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ خدا عالم الغیب والشہادہ العزیز الحکیم ہے۔ (التغابن : 18)

"اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے"۔ (النساء : 111)

عام مسلمانوں کے درمیان اب بھی یہی بات مشہور ہے کہ قرآن صرف مذہبی یا روحانی علوم کا مصدر ہے اور اس کا دنیاوی علوم اور فنون لطیفہ سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ یہ تصور انہیں اسلامی مدارس کی روایت کی طرف لے گیا جو کہ سائنسی علوم اور ان دیگر علوم اور فنون سے دور تھے جو  کمیونٹی کی مادی ترقی اور فروغ کے لئے ضروری تھے جن کی وجہ سے اس دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی بالادستی قائم ہو سکتی تھی۔ قرآن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور گزشتہ تمام انبیاء اور رسولوں پر نازل ہونے والے مذہبی علوم کا ذکر ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس میں ان سائنسی علوم کا بھی ذکر ہے جو اللہ نے انبیاء اور سائنسی مزاج کے حامل عام لوگوں کو عطا کیا ہے جنہوں نے دنیا میں مختلف سائنسی ایجاد اور جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب ہم قرآن مجید کی ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں جن کا تعلق مذہبی علوم سے ہے۔

"اے حبیبِ مکرّم!) یہ (قصّہ) غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم آپ کی طرف وحی فرما رہے ہیں۔"(یوسف: 102)

اس آیت کا تعلق پرانی امتوں کے بارے میں تاریخی علوم سے ہے جو زمانہ قدیم میں موجود تھے خاص طور پر اس آیت میں ان امتوں کا ذکر ہے جنہیں خدا کی نافرمانی، بت پرستی اور بدعنوان اور برے عادات و اطورا کی وجہ سے تباہ کر دیا گیا۔

اسی طرح ایک دیگر آیت میں اللہ کا فرمان ہے:

"یہ (بیان ان) غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں، اس سے قبل نہ آپ انہیں جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم۔" (ھود : 49)

مذکورہ بالاآیات میں خاص طور پر ان تاریخی علوم کا ذکر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے تھے۔

ایک دیگر آیت میں قرآن کا فرمان ہے:

 ‘‘اور (اے حبیب!)اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کیا اور تمہیں وہ سکھایا جو تم نہیں جانتے تھے’’ (النساء)۔

مندرجہ بالا آیت میں کتاب کا مطلب دینی علم ہے اور لفظ حکمت کا مطلب ایسے دیگر مسائل ہیں جو دینی اور دنیاوی اعتبار سے اہم ہیں۔ دنیاوی اہمیت کے حامل کون سے مسائل ہو سکتے ہیں ان کا ذکر دیگر آیات میں ہے۔ مثال کے طور پر حضرت یوسف علیہ السلام کو خوابوں کی تعبیر کا علم تھا۔ خوابوں کی تعبیر خالصتا کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کو خوابوں کی تعبیر کا علم دیا گیا تھا۔ قرآن میں یوسف علیہ السلام کا کہنا ہے:

"یہ (تعبیر) ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائے ہیں ۔" (یوسف: 37)

سورہ یوسف کی آیت نمبر 101 میں یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ انہیں ‘‘تاویل الاحادیث’’ کا علم عطا کیا گیا ہے۔ مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ‘‘تاویل الاحادیث’’ سے حکمرانی اور تحکیم کا فن مراد ہو سکتا ہے۔ کسی بھی صورت میں اس آیت کا کسی مذہبی حکم سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس سے مراد حکمرانی کے روز مرہ کے معاملات سے نمٹنے کا ہنر ہے۔

لہٰذا قرآن کی آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے قرآن صرف مذہب اور تاریخ کا ہی علم فراہم نہیں کرتا بلکہ یہ سائنسی علوم کا بھی مصدر و سرچشمہ ہے۔ اب ہم ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں جن کا تعلق سائنسی علوم اور ایجادات سے ہے۔

جب قوم نوح نے بت پرستی اور برے کاموں کو ختم کرنے اور خود کی اصلاح کرنے سے انکار کر دیا تو خدا نے انہیں تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نوح علیہ السلام کو ایک بہت بڑا جہاز بنانے کی ہدایت دی گئی۔ قدیم ترین زمانے سے تعلق رکھنے والے نوح علیہ السلام لکڑی سے ایک بہت بڑا جہاز بنانے کے قابل تھے جو کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا ایک عجوبہ تھا۔ جہاز اس قدر مضبوط تھا کہ چالیس دن سے زیادہ تک طوفانی ہواؤں اور سمندری لہروں میں تیرتا رہا۔ مفسرین کے مطابق جہاز دہائیوں میں تعمیر کیا گیا تھا۔ نوح علیہ السلام جو کہ نہ تو سائنسدان تھے اور نہ ہی کوئی انجنیئر انہوں نے براہ راست خدا کی ہدایات اور اس کی مدد سے جہاز کی تعمیر کی۔ قرآن کا واضح طور یہ کہنا ہے کہ نوح علیہ السلام نے براہ راست خدا کی نگرانی اور رہنمائی میں جہاز کی تعمیر کی۔

"اور تم ہمارے حکم کے مطابق ہمارے سامنے ایک کشتی بناؤ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے (کوئی) بات نہ کرنا، وہ ضرور غرق کئے جائیں گے۔ اور نوح (علیہ السلام) کشتی بناتے رہے اور جب بھی ان کی قوم کے سردار اُن کے پاس سے گزرتے ان کا مذاق اڑاتے۔ نوح (علیہ السلام انہیں جوابًا) کہتے: اگر (آج) تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو (کل) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے جیسے تم تمسخر کر رہے ہو۔"( ھود: 37-38)

"پھر ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناؤ سو جب ہمارا حکمِ (عذاب) آجائے اور تنور (بھر کر پانی) ابلنے لگے تو تم اس میں ہر قسم کے جانوروں میں سے دو دو جوڑے (نر و مادہ) بٹھا لینا اور اپنے گھر والوں کو بھی (اس میں سوار کر لینا) سوائے ان میں سے اس شخص کے جس پر فرمانِ (عذاب) پہلے ہی صادر ہو چکا ہے، اور مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں کچھ عرض بھی نہ کرنا جنہوں نے (تمہارے انکار و استہزاء کی صورت میں) ظلم کیا ہے، وہ (بہر طور) ڈبو دیئے جائیں گے"( المؤمنون: 27

مندرجہ بالا آیات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خدا نے نوح علیہ السلام پر سائنسی اور تکنیکی علوم کا انکشاف کیا۔ مستقبل کی نسلوں نے جہاز یا کشتی کی تعمیر کے علوم کو حاصل کیا اور ان علوم سے فائدہ اٹھایا جو نوح علیہ السلام پر نازل کئے گئے تھے۔ نوح علیہ السلام نے جس ماڈل کی جہاز تعمیر کی تھی بعد کی نسل کے سائنسدانوں نے جہاز اور کشتیاں تعمیر کرنے کے لیے بالکل انہیں سائنسی اصولوں کا استعمال کیا۔

نوح علیہ السلام کے بعد خدا نے اپنے نبی سلیمان علیہ السلام پر سائنسی علوم کا انکشاف کیا۔ خدا نے انہیں ایک طاقتور بادشاہ بنایا اور ہواؤں کو ان کا تابع کر دیا۔ جہاں کہیں بھی جانا چاہتےتھے ہوائیں انہیں لے جاتی تھیں۔ جناتوں اور شیطانی طاقتوں کو ان کی خدمت میں لگا دیا گیا تھا۔ وہ ان کے حکم پر عمارتوں اور محلات کی تعمیر کرتے اور سمندر میں غوطہ زن ہوتے اور ان کے لئے مال و دولت نکال کر لاتے۔

" پھر ہم نے اُن کے لئے ہوا کو تابع کر دیا، وہ اُن کے حکم سے نرم نرم چلتی تھی جہاں کہیں (بھی) وہ پہنچنا چاہتے۔ اور کل جنّات (و شیاطین بھی ان کے تابع کر دیئے) اور ہر معمار اور غوطہ زَن (بھی)۔ اور دوسرے (جنّات) بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے،۔ " (صاد : 36-38)

قرآن میں بادشاہ سلیمان اور ملکہ صبا، بلقیس کا واقعہ بھی مذکور ہے۔ بادشاہ سلیمان نے بلقیس کو ایک سچے دین کی عودت دیتے ہوئے ایک خط بھیجا اور اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ اگر اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو اس کے نتائج برے ہوں گے۔ سلیمان نے اپنے درباریوں سے پوچھا کہ کوئی ہے جو صبا کو اس محل میں پہنچنے سے پہلے ملکہ کا تخت یہاں حاضر کر دے۔ ایک درباری جسے ایک خاص علم حاصل تھا اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے اس علم یا سائنس کی مدد سے پلک جھپکتے ہی اس دربار میں اس کا تخت حاضر کر دیگا۔

"پھر) ایک ایسے شخص نے عرض کیا جس کے پاس (آسمانی) کتاب کا کچھ علم تھا کہ میں اسے آپ کے پاس لا سکتا ہوں قبل اس کے کہ آپ کی نگاہ آپ کی طرف پلٹے (یعنی پلک جھپکنے سے بھی پہلے)، پھر جب (سلیمان علیہ السلام نے) اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا (تو) کہا: یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر گزاری کرتا ہوں یا نا شکری، اور جس نے (اللہ کا) شکر ادا کیا سو وہ محض اپنی ہی ذات کے فائدہ کے لئے شکر مندی کرتا ہے اور جس نے ناشکری کی تو بیشک میرا رب بے نیاز، کرم فرمانے والا ہے"۔ (النمل : 40)

 انہوں نے ایسا کیا اور ملکہ صبا کا تخت سیکنڈوں میں سلیمان کے محل میں موجود تھا۔ ملکہ صبا سلیمان کے محل میں پہنچی۔ پھر کیا ہوا قرآن میں دیکھیں:

"پھر جب وہ (ملکہ) آئی تو اس سے کہا گیا: کیا تمہارا تخت اسی طرح کا ہے، وہ کہنے لگی: گویا یہ وہی ہے اور ہمیں اس سے پہلے ہی (نبوتِ سلیمان کے حق ہونے کا) علم ہو چکا تھا اور ہم مسلمان ہو چکے ہیں۔ اور اس (ملکہ) کو اس (معبودِ باطل) نے (پہلے قبولِ حق سے) روک رکھا تھا جس کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتی رہی تھی۔ بیشک وہ کافروں کی قوم میں سے تھی۔" (النمل : 42-43)

ا س نے محل میں اپنا تخت پایا اور یہ محسوس کیا کہ یہ سائنسی کارنامے صرف وہی انجام دے سکتا ہے جسے عظیم روحانی علم حاصل ہو۔ وہ ایمان لے آئی۔ اور جس نے اپنے علم کی مدد سے اس تخت کو حاضر کیا تھا وہ بادشاہ سلیمان کے محل کا ایک درباری تھا وہ کوئی نبی نہیں تھا۔ مطلب یہ ہے کہ خدا نے صرف نبیوں کو ہی سائنسی علم عطا نہیں کیا بلکہ اس نے سائنسی مزاج رکھنے والے عام لوگوں کو بھی سائنس کا علم عطا کیا۔

اسے دوبارہ محل میں چلنے کے لئے کہا گیا تو اس نے سمجھا کہ محل کے فرش پر پانی ہے۔ درباری حیران و ششدر رہ گئے اور اس سے کہا کہ وہاں فرش پر کوئی پانی ہے بلکہ شیشہ کے فرش کی وجہ سے پانی کا وہم پیدا ہو گیا ہے۔ تو اس نے اپنا کپڑا اوپر کیا جس سے اس کی ٹانگیں بے نقاب ہو گئیں۔ اس طرح کا نظارہ صرف اس دور جدید میں ہی پایا جا سکتا ہے لیکن بادشاہ سلیمان کی سلطنت سائنسی اور صنعتی طور سے تیار کی گئی تھی، اس حقیقت سے یہ امر واضح ہے کہ ان کے محل کا فرش اتنے اعلی معیار کے شیشے سے بنا ہوا تھا کہ اس کی وجہ سے پانی کا وہم پیدا ہوتا تھا۔اس کے علاوہ قرآن مجید میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ بادشاہ سلیمان نے بہت سے جناتوں کو مقرر کر رکھا تھا جو زمین سے کوپر نکالتےاور اسے بڑی بڑی بھٹیوں میں پگھلا کر سلیمان علیہ السلام کے لیے عمارات اور محلات تعمیر کرتے تھے۔ اس طرح کی بھٹیاں آج جدید ترین ٹیکنالوجی سے چلائی جانے والی بڑی بڑی فیکٹریوں میں پائی جاتی ہیں۔

" اور بیشک ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی بارگاہ سے بڑا فضل عطا فرمایا، (اور حکم فرمایا:) اے پہاڑو! تم اِن کے ساتھ مل کر خوش اِلحانی سے (تسبیح) پڑھا کرو، اور پرندوں کو بھی (مسخّر کر کے یہی حکم دیا)، اور ہم نے اُن کے لئے لوہا نرم کر دیا۔ (اور ارشاد فرمایا) کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور (ان کے) حلقے جوڑنے میں اندازے کو ملحوظ رکھو اور (اے آلِ داوؤد!) تم لوگ نیک عمل کرتے رہو، میں اُن (کاموں) کو جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہوں۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے (ہم نے) ہوا کو (مسخّر کر دیا) جس کی صبح کی مسافت ایک مہینہ کی (راہ) تھی اور اس کی شام کی مسافت (بھی) ایک ماہ کی راہ ہوتی، اور ہم نے اُن کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا، اور کچھ جنّات (ان کے تابع کردیئے) تھے جو اُن کے رب کے حکم سے اُن کے سامنے کام کرتے تھے، اور (فرما دیا تھا کہ) ان میں سے جو کوئی ہمارے حکم سے پھرے گا ہم اسے دوزخ کی بھڑکتی آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ وہ (جنّات) ان کے لئے جو وہ چاہتے تھے بنا دیتے تھے۔ اُن میں بلند و بالا قلعے اور مجسّمے اور بڑے بڑے لگن تھے جو تالاب اور لنگر انداز دیگوں کی مانند تھے۔ اے آلِ داؤد! (اﷲ کا) شکر بجا لاتے رہو، اور میرے بندوں میں شکرگزار کم ہی ہوئے ہیں۔" (صبا: 10-13)

سلیمان کے پیشرو بادشاہ اور نبی داؤد کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ خدا نے انہیں سائنسی علم عطا کیا تھا۔ انہیں پرندوں کی زبان سکھائی گئی تھی اور خدا نے لوہے سے مختلف اوزار اور ہتھیار بنانے کا بھی علم انہیں دیا تھا۔ انہیں آسانی کے ساتھ لوہے کا ڈھانچہ تیار کرنے اور اسے ایک خاص شکل دینے کا ہنر حاصل تھا اور خاص طور پر انہوں نے ایسے ہتھیار بنائے جو جنگوں میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ قرآن کا فرمان ہے:

"اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو تمہارے لئے زِرہ بنانے کا فن سکھایا تھا تاکہ وہ تمہاری لڑائی میں تمہیں ضرر سے بچائے، تو کیا تم شکر گزار ہو ؟"(الانبیاء:80)

داؤد (علیہ السلام) کے بارے میں قرآن میں مزید یہ باتیں بھی پائی جاتی ہیں:

" اے حبیبِ مکرّم!) جو کچھ وہ کہتے ہیں آپ اس پر صبر جاری رکھیئے اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کریں جو بڑی قوت والے تھے، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے۔ بے شک ہم نے پہاڑوں کو اُن کے زیرِ فرمان کر دیا تھا، جو (اُن کے ساتھ مل کر) شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرتے تھے۔ اور پرندوں کو بھی جو (اُن کے پاس) جمع رہتے تھے، ہر ایک ان کی طرف (اطاعت کے لئے) رجوع کرنے والا تھا۔ اور ہم نے اُن کے ملک و سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور ہم نے انہیں حکمت و دانائی اور فیصلہ کن اندازِ خطاب عطا کیا تھا۔ "(صاد: 17-20)

مندرجہ بالا آیات یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نبی بنانے کے علاوہ اللہ نے داؤد (علیہ السلام) کو سائنسی علم بھی عطا کیا تھا۔

ایسے دیگر انبیاء بھی ہیں جنہیں خدا نے علم و حکمت عطا کیا ہے۔ مثال کے طور پر خدا نے حضرت خضر کو ایک خاص علم عطا کیا ہے۔

"تو دونوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندے (خضر علیہ السلام) کو پا لیا جسے ہم نے اپنی بارگاہ سے (خصوصی) رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اسے اپنا علم لدنّی (یعنی اَسرار و معارف کا الہامی علم) سکھایا تھا۔"( الکہف: 65)

خدا نے لقمان علیہ السلام کو بھی حکمت عطا کیا تھا:

"ہم نے لقمان کو حکمت دی" (لقمان : 2)

مندرجہ بالا تمام آیات یہ امر عیاں ہے کہ اللہ نے انبیاء علیہم السلام کو مذہبی، تاریخی یا انتظامی یا سائنسی اہمیت کے حامل تمام علوم عطا کیا۔ خدا نے انسان کو اپنے نبیوں کے ذریعے اخلاقی اور روحانی بلندی عطا کرنے کے لیے مذہبی احکامات عطا کیا اور ان کی مادی زندگی کو آرام دہ اور پرسکون بنانے کے لئے انہیں سائنسی علوم اللہ نے دی۔

 صرف یہی نہیں کہ اللہ نے نوح، سلیمان اور داؤد جیسے انبیاء اور ان کے درباریوں کو ہی سائنسی علوم سے نوزا ہےبلکہ اللہ نے مسلم اور غیر مسلم عام لوگوں بھی ان علوم سے نوازا ہے تاکہ وہ بھی معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ دوسری بات یہ کہ خدا نے ہر اس انسان کو سائنسی کا علم عطا کیا جس نے زمین، فطرت اور اللہ کی تمام ذی روح اور غیر ذی روح تخلیقات میں تحقیق کرنے کی کوشش کی۔ خدا انسانوں کو اپنی کائنات اور تخلیق پر غور کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس انسان کو اپنے انعامات سے نوازتا ہے جو اس کی کائنات پر غور و فکر اور تحقیق کرتا ہے۔ غیر مومنوں کو اس امید پر علم و حکمت عطا کی گئی کہ ہو سکتا ہے کہ وہ علم کی بنیاد پر خدا کی معرفت حاصل کر لیں گے۔ خدا نے قارون کو ایک خاص علم، فن یا تجارت سے نوازا تھا۔ اس نے اس علم یا فن کی مدد سے بہت بڑی دولت جمع کرلی اور اس کی برکتوں اور نعمتوں کے لئے خدا کا شکر ادا نہیں کیا۔ خدا نے اس کے ایمان کو جانچنے کے لئے اسے علم اور دولت دی۔ قارون کے بارے میں قرآن کا کہنا ہے کہ:

"بیشک قارون موسٰی (علیہ السلام) کی قوم سے تھا پھر اس نے لوگوں پر سرکشی کی اور ہم نے اسے اس قدر خزانے عطا کئے تھے کہ اس کی کنجیاں (اٹھانا) ایک بڑی طاقتور جماعت کو دشوار ہوتا تھا، جبکہ اس کی قوم نے اس سے کہا: تُو (خوشی کے مارے) غُرور نہ کر بیشک اللہ اِترانے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ اور تو اس (دولت) میں سے جو اللہ نے تجھے دے رکھی ہے آخرت کا گھر طلب کر، اور دنیا سے (بھی) اپنا حصہ نہ بھول اور تو (لوگوں سے ویسا ہی) احسان کر جیسا احسان اللہ نے تجھ سے فرمایا ہے اور ملک میں (ظلم، ارتکاز اور استحصال کی صورت میں) فساد انگیزی (کی راہیں) تلاش نہ کر، بیشک اللہ فساد بپا کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ وہ کہنے لگا: (میں یہ مال معاشرے اور عوام پر کیوں خرچ کروں) مجھے تویہ مال صرف اس (کسبی) علم و ہنر کی بنا پر دیا گیا ہے جو میرے پاس ہے۔ کیا اسے یہ معلوم نہ تھا کہ اللہ نے واقعۃً اس سے پہلے بہت سی ایسی قوموں کو ہلاک کر دیا تھا جو طاقت میں اس سے کہیں زیادہ سخت تھیں اور (مال و دولت اور افرادی قوت کے) جمع کرنے میں کہیں زیادہ (آگے) تھیں، اور (بوقتِ ہلاکت) مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں (مزید تحقیق یا کوئی عذر اور سبب) نہیں پوچھا جائے گا۔"(القصص76-78)

اس ناشکری کا نتیجہ تھا کہ:

"پھرہم نے اس (قارون) کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، سو اللہ کے سوا اس کے لئے کوئی بھی جماعت (ایسی) نہ تھی جو (عذاب سے بچانے میں) اس کی مدد کرسکتی اور نہ وہ خود ہی عذاب کو روک سکا۔"(القصص:8)

قارون تباہ کر دیا گیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی اس نے علم کے لئے خدا کا شکریہ ادا نہیں کیا اور یہ مان بیٹھا کہ اس کا علم خدا کا عطا کردہ نہیں ہے۔

اسی طرح جادوگر سامری حضرت موسی علیہ السلام کا ہم عصر تھا۔ اسے کچھ علم اور بصیرت عطا کی گئی تھی۔ وہ موؤمن نہیں تھا اور جب موسی علیہ السلام کوہ طور پر گئے تو اس نے ان کی قوم کو گمراہ کیا اور ایک سنہرا بچھڑا پیدا کیا جس کی آواز گائے کی تھی۔ موسی کی قوم نے بچھڑے کی پرستش شروع کر دی۔ جب موسی علیہ السلام واپس آئے تو انہوں نے بچھڑے کو جلا دیا اور سامری پر لعنت بھیجی جس کے بعد اسے معاشرے کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

" ارشاد ہوا: بیشک ہم نے تمہارے (آنے کے) بعد تمہاری قوم کو فتنہ میں مبتلا کر دیا ہے اور انہیں سامری نے گمراہ کر ڈالا ہے۔ پس موسٰی (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف سخت غضبناک (اور) رنجیدہ ہوکر پلٹ گئے (اور) فرمایا: اے میری قوم! کیا تمہارے رب نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں فرمایا تھا، کیا تم پر وعدہ (کے پورے ہونے) میں طویل مدت گزر گئی تھی، کیا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے غضب واجب (اور نازل) ہوجائے؟ پس تم نے میرے وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ وہ بولے: ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کی مگر (ہوا یہ کہ) قوم کے زیورات کے بھاری بوجھ ہم پر لاد دیئے گئے تھے تو ہم نے انہیں (آگ میں) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے (بھی) ڈال دیئے۔ پھر اس (سامری) نے ان کے لئے (ان گلے ہوئے زیورات سے) ایک بچھڑے کا قالب (تیار کرکے) نکال لیا اس میں (سے) گائے کی سی آواز (نکلتی) تھی تو انہوں نے کہا: یہ تمہارا معبود ہے اور موسٰی (علیہ السلام) کا (بھی یہی) معبود ہے بس وہ (سامری یہاں پر) بھول گیا۔ " ( طٰہٰ: 85-88)

تاہم قرآن مجید میں دیگر ایجادات کا بھی ذکر ہے جن کے موجدوں کا نام اس میں مذکور نہیں ہے۔ مثال کے طور پر وزن کے پیمانے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے خدا نے نازل کیا ہے۔ ایسی دو آیات ہیں جن میں پیمانے کا ذکر ہے:

"بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزانِ عدل نازل فرمائی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو سکیں، اور ہم نے (معدنیات میں سے) لوہا مہیّا کیا اس میں (آلاتِ حرب و دفاع کے لئے) سخت قوّت اور لوگوں کے لئے (صنعت سازی کے کئی دیگر) فوائد ہیں اور (یہ اس لئے کیا) تاکہ اللہ ظاہر کر دے کہ کون اُس کی اور اُس کے رسولوں کی (یعنی دینِ اسلام کی) بِن دیکھے مدد کرتا ہے، بیشک اللہ (خود ہی) بڑی قوت والا بڑے غلبہ والا ہے۔"(الحدید : 25)

"اور اسی نے آسمان کو بلند کر رکھا ہے اور (اسی نے عدل کے لئے) ترازو قائم کر رکھی ہے۔" (الرحمن : 07)

اس کا مطلب یہ ہے کہ وزن کے پیمانے کا علم انسان پر اللہ نے نازل کیا ہے۔ چونکہ وزن کے پیمانے کا علم عام سائنسدان پر نازل کیا گیا تھا اسی لیے اس میں موجد کا ذکر نہیں ہے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ یہ علم خدا نے ہی عطا کیا تھا۔

اسی طرح قرآن میں چھوٹی چھوٹی ایجادات کا بھی ذکر ہے جن کی وجہ سے انسانوں کے لیے زندگی آسان اور زیادہ آرام دہ اور پرسکون ہو گئی۔ ان کے موجدوں کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ لیکن خدا کا فرمان ہے کہ اس نے ان کے علوم کا انکشاف کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خدا نے انسان کو تمام سائنسی ایجادات کا علم دیا ہے۔

مندرجہ بالا آیات سے یہ واضح ہے کہ سائنسی ایجادات کے تمام علوم اصل میں انسانوں کے لئے نازل کئے گئے تھے یا وہ مسلم اور غیر مسلم دونوں سائنسدانوں کے عین مطابق ہوں۔ اللہ نے مسلمانوں کو سائنسی علوم عطا کیا تاکہ خدا پر ان کے ایمان میں اضافہ ہو اور غیر مسلموں کو بھی اللہ نے سائنسی علوم سے نوازا تاکہ یہ ان کے لیے اللہ کی معرفت کا ذریعہ بن جائیں۔

تو یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ خدا کے لئے علم علم ہے۔ اس کی نظر میں علم کی مذہبی یا سائنسی طور پر کوئی تفریق نہیں ہے۔ مسلمانوں نے مذہب اور سائنس کے دو خانوں میں علم کو منقسم کر دیا ہے۔ انہوں نے سائنسی علوم کو غیر اسلامی قرار دیا اور اپنے اداروں کے نصاب سے سائنسی علوم کو خارج کر دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں خدا کائنات اس کی تخلیقات میں تحقیق کر کے سائنسی علوم حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کو حکم دیتا ہے۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

آفتاب احمد نیو ایج اسلام کے کالم نگار اور ایک فری لانس صحافی ہیں۔ وہ کچھ عرصے سے قرآن مجید کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/islamic-society/aftab-ahmad,-new-age-islam/knowledge-as-defined-in-the-quran/d/76774

URL for this aticle:

http://newageislam.com/urdu-section/aftab-ahmad,-new-age-islam/knowledge-as-defined-in-the-quran--قرآن-کے-مطابق-علم-کی-افادیت-و-اہمیت/d/87437

 

Loading..

Loading..