New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 10:51 PM

Urdu Section ( 23 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

Islamic Law اسلامی قانون کے طور پر شریعت پر کچھ خیالات

 

ڈاکٹرعدیس ددریجا، نیو ایج اسلام

19جون، 2012

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

اسلامی روایت کے سب سے زیادہ متنازع پہلوؤں میں  آج  شریعی قوانین کا تصور ہے۔ خاص طور پر جب اس کے ساتھ  اسلام میں خواتین کے رول اور ان کی حیثیت کا  زیادہ  شدید  بحث والا موضوع بھی شامل ہو۔ یہاں تک کہ تعلیم یافتہ (مغربی) (غیر) مسلم ناظرین کے ذہنوں میں  شرعی قوانین یا اسلامی قانون کی اصطلاح آتے ہی وحشیانہ، ذلیل کرنے والا اور  قرون وسطی کے زمانے کے عمل جیسےسزائے رجم،  ہاتھ کاٹ لینا،  جبری شادیاں، آنر کلنگس (غیرت کے نام پر قتل)  یا  عبایات، نقاب، چادریں یا حجاب پہنےمسلم خواتین کی  تصویریں آتی ہیں۔ ان میں سے کچھ شبیہ کو  لٹریچراور ہالی وڈ   ( کی طرح )کی فلموں،  مقبول ادب یا میڈیا سمیت  مقبول   تقریروں  کے ذریعہ تقویت حاصل ہوتی  رہتی ہے۔ اس طرح کی سرگزشت اکثر سوانح عمری کی شکل میں  اس دلچسپ انداز میں لکھی ہوتی ہیں کہ  یہ قاری کے ذہن میں  مظلوم (مسلمان عورتوں) لوگوں کے لئے ہمدردی ،اورایسےلوگوں اور اداروں کےتعلق سے جو شریعی قوانین کو برقرار رکھتے ہیں غصہ اور مایوسی کے  جذبات  پیدا کرتی ہیں۔

مغربی یورپ، شمالی امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ  کی لبرل جمہوریتوں میں مسلمانوں کی خاطر خواہ موجودگی ہے جو   اب ان ملکوں میں  مستقل طور پر رہ رہے ہیں،  یہاں پر  بعض مخصوص 'اسلامی' طریقے جیسے  چہرے کا پردہ کرنے والی خواتین کی کئی مغربی ممالک   کے بڑے شہروں کی گلیوں میں موجودگی  ایک اوسط (غیر) مسلمان (مغربی) کے زہنوں میں  ان کی شبیہ کو لے کر  مزید شبہ کے بارے میں پختگی پیدا کرتی ہے۔  مزید برآں، مغربی مسلمانوں کی ایک اقلیت کی طرف سے مغربی قانونی نظام  کے تحت عائلی قوانین کے دائرے میں  شریعت ٹریبیونل  کو شامل اور باضابطہ  تسلیم کرنے کے مطالبات  (ایسا قدامت پسند یہودیوں اور کچھ  عیسائیوں کے جیسے دیگر طبقات کو اس کا فائدہ حاصل کرنے کا حق تھا) اگر خوف زدہ نہیں  تو  ان لوگوں کے لئے خطرے کی گھنٹی  ضرورہے جو اس کے تحت اپنے انتظامات کرنے  کی خواہش رکھتے ہیں۔   مغرب کے بہت سے غیر مسلم  اور چند مغربی ممالک کے مسلمانوں کے درمیان بھی خوف  ہے کہ وحشیانہ، قدیمی،عورتوں کی تذلیل کرنے والا شریعت قانون مغرب میں  آ رہا ہے اور وہاں کی بہتری کے لئے برقرار رہنے والا ہے۔

 تاہم،  کم از کم  اصولی سطح پر  بہت سے مسلمانوں کے ذہنوں میں شرعی قوانین خیالات، شبیہ اور جذبات کا ایک بالکل مختلف خاکہ   پیدا کرتا ہے۔ اس میں   انصاف، اخلاقی خوبصورتی،  رحم اور معافی شامل ہے۔   یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

میں مندرجہ ذیل میں  اس کی  وجہ کی وضاحت کرنے کی  کوشش کروں گا۔  سب سے پہلے، میں اسلام کے مذہبی علم کائنات میں شریعت کے تصور  کے معنی اور اس کی اہمیت اور اس  سے منسلک   بنیادی اصولوں کو بیان  کروں گا۔  میں  اسلامی روایت کے معیاری  ذرائع کے بارے میں بھی   چند  رائے پیش کروں گا جو  شرعی قانون کو  بنانے والے جز  ہیں۔

یہ اعتراف کیا جانا ضروری ہے کہ   ابتدائی  زمانے سے ہی شریعت  کا تصور اس کے  مشکل بنادئے گئے تاریخی مظہر کے مقابلے  بہت وسیع  ہے، جس کو  شرعی قانون کے طور پر  اپنا اظہار مل گیا۔اسےمکمل طور پر سمجھنے کے لئے ہمیں  یہ جاننا ہوگا کہ شریعت لفظ  کے معنی کیا  ہیں اور  مجموعی طور پر اسلامی مذہبی علم کائنات میں  اس کا مفہوم کیا ہے۔

لفظ شریعت کا حقیقی معنیٰ یہ ہے کہ شریعت  ایک ایسے راستے  کی رہنمائی کرتاہے جو   زندگی کوسمت   دینے والا ہے۔  (7ویں صدی کے ریگستانی عرب کے تناظر میں جو  اسلام کی جائے پیدائش ہے،  یہ معنیٰ ایک منبع کی جانب  لے جانے  سے منسلک ہے)  قرآن  کے مذہبی  علم کائنات میں مسلمانوں کی مقدس کتاب دنیا کی مفہوم کو ظاہر کرتی ہے، اس طرح اس کے مطابق انسانی زندگی ‑  تمام زندہ اور غیر زندہ مادّہ  سبھی کو سب سے زیادہ رحم کرنے والے  اور رحیم اللہ نے پیدا فرمایا، جو   ہمیشہ دینے والا ہے، سب کا  پالن ہار ہے اور اپنی خوبصورتی اور  شان  کا منبع اور اس کی جانب  رہنمائی کرنے والا ہے۔  انسانوں کے معاملے میں فراہم کرنے والے، پالنے والے اور رہنمائی کرنے والا یہ خیال انسانی وجود کے روحانی اور غیر روحانی  دونوں پہلوئوں  میں شامل ہے۔   مزید برآں، اس مذہبی نظریے کے مرکز میں  یہ  خیال ہے کہ شریعت کا تصور اس بات کو تازہ کرتاہے کہ  اللہ نے   تمام انسانوں کو ایک فطرت کے ساتھ پیدا کیا ہے جو  خدا اور اس کی ہدایت  کے لئے بے قرار رہتی ہے۔   انسان اپنے وجود کے اس   طول و عرض  کو  مستقل یا  طویل  مدت تک بے دینی والے عمل  اور رویے کی وجہ سے پہچان نہیں سکتا ہے، جس  کے سبب وہ   خدا سے  منقطع ہو گئے ہیں اور اس لئے خود کو خدا کے حوالے کرنے  اور اس کی عبادت کرنے  کے  اپنے قدرتی  توجہ سے ہٹ گئے ہیں۔ تاہم ،   ان کا شعور  کبھی کبھی  انہیں ان کی فطرت سے آگاہ کرتا ہے، خاص طور سے اس وقت جب ان کی زندگی میں   بہت زیادہ ضرورت یا بحرانی حالت  پیدا ہوتی ہے ۔ جو فطرتاً روحانی یا غیر روحانی ہو سکتی ہے۔

ایک اور اہم خیال  جو شریعت کے تصور کو  سہارا دیتی ہے وہ یہ کہ خدا نے انسانیت کوایک بھاری  ذمہ داری اور  دیگر تمام مخلوقات سے ممتاز’آزاد قوت ارادی کےساتھ انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کراپنا  فضل و کرم عطا کیا ہے۔ اسلام کے اس مذہبی  علم کائنات کے طول و عرض میں صرف انسان ہی خدا کی  وہ واحد مخلوق ہے   جو  شعوری طور پر  غلطی کر سکتی ہے  اور اس طرح وہ سے خدا کے بتائے راستے سے انحراف کر سکتی ہے اور  ساتھ ساتھ  خدا کی مرضی اور اپنی باطنی فطرت  کے مطابق عمل کر کے فرشتوں کی طرح اللہ کے ولی بن سکتے ہیں (فرشتوں کو  آزاد قوت ارادی  سے محروم رکھا گیا ہے)۔   جس کا ذکر پہلے کیا گیا وہ  محرومی (روحانی) اور عذاب دائمی  کی زندگی بسر کرے گا اور جس کا ذکر بعد میں کیا گیا وہ   روحانی نعمتوں اور خدا کی قربت کو حاصل کرے گا۔

  لفظ شریعت  اور اس سے جڑی  اصطلاحات   قرآن  و  اسلامی روایات میں جس طرح آئی ہیں وہ مختصرھیں ان  پر غور کرنے پر  یہ  ظاہر ہوتا ہے کہ  یہ وہ ہیں جن کی بڑی  قدر ہے، یہ وہ ہیں جو سب سے زیادہ مثبت  مفہوم سے منسلک ہیں  اور  جو  نہایت ہی ضروری اور  بہت زیادہ مطلوب ہیں۔

مندرجہ بالا میں دئے گئے  اسلامی مذہبی علم کائنات کے مد نظر  یہ بات سمجھنے کے قابل ہے کہ   مسلمانوں  نے ہمیشہ اس کی ضرورت محسوس کی ہے اور آج بھی  ایسا محسوس  کرتے ہیں، قانون کے دائرے  سمیت اپنی روزمرہ کی  زندگی میں خدا   سے 'ہدایت' چاہتے ہیں۔  اس رہنمائی کا بنیادی ذریعہ اسلام کی مقدس کتاب، قرآن ہے۔  'متن' کے طور پر  قرآن  ایک پیچیدہ مظہر قدرت ہے۔جسکی بنا پراسے ہم یہاں ذکر نہیں کر سکتے ہیں، اس کی ساخت، زبان اور مواد کی تفہیم کے لئے  بڑی تعداد میں  مختلف علوم  پر  مہارت حاصل کرنے  کی ضرورت ہے۔ ایک بات ہم  لوگوں کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ   اکثر قرآنی مواد کو  تفسیر،  توضیع اور وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے۔  قرآن میں موجود آیت پر  اپنی بنیاد بنا کر  اسلامی روایت نے  مذہبی فرائض  کے اصول کو قائم کیا ہے تاکہ قرآنی  ہدایات پر  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے عملی اظہار  کے مطابق عمل کر سکیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونےوالی وحی  آپ کے ذریعہ انسانیت پر ظاہر ہوئی۔ قرآنی پیغامات کی  اسی   تشریح اور توضیع  کو سنت کہا گیا۔   اسلام سےپہلےبھی عرب میں سنت کی اصطلاح  موجود تھی ۔جسکامطلب کسی بااثر فرد کے طرز عمل کو مثالی اور قابل تقلید  بتاناتھا۔   اس روایتی اسلامی نظریے کے مطابق  نبی  کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم  پر  وحی نازل ہوئی اور مومنوں کو   رہنمائی فراہم کرانے کے لئے قرآنی پیغامات  کی تشریح، اس پر تبصرہ کرنے اور اس کی توضیع کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  'قابل' یا  سب سے زیادہ مستند سمجھے جاتے ہیں۔

سنت کے نظریے کے علاوہ  بھی  دوسرے تصورات اور  اصول ہیں جو  شریعی قوانین کی اصطلاح  اور اس کی  تشریح کی تفہیم پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔  مسلمانوں کی تعداد کے لحاظ سے اسلام کی  سب سے زیادہ نمائندہ شاخ، سنی اسلام میں  قرآن اور سنت کی سلف صالحین ( عام طور پر مسلمانوں کی پہلی تین نسلوں کو صالح مانا  جاتا ہے)  کا  تشریحی   معتبریت  کا تصور  ہے۔   اس نظریے کے مطابق اس نسل کے مسلمانوں کی  وحی اور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے  عارضی قربت   اور ان کا  (سمجھا جاتا ہے) اسلام میں تعاون کا مطلب یہ   ہے کہ قرآن اور سنت کی تشریح کا ان کا  طریقہ، اگر ان سے  شروع ہو رہاہے  ، تو اگر  اس کا   مستند طور پر جائزہ لیا جائے  تو ان کو  بعد کے زمانے کے مسلمانوں کی تشریح پر استحقاق دیا جاتا ہے۔  اسلام کے دوسرے سب سے زیادہ نمائندہ  شاخ شیعت میں یہ تشریحی برتری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے  ناتیوں  اور ان کی نسلوں کو دیا جاتا ہے (جو  امام یا مسلم طبقے کے  مذہبی رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں)۔

درج بالا میں ذکر کئے گئے سنت کے تصور کی طرف واپس آتے ہیں ،  یہ ذہن نشین رکھنا اہم ہے کہ کچھ مسلمانوں کے  لئے   سنت کا  تصور متعدد زبانی تذکروں میں  ظاہر ہوا جنہیں بعد میں  تحریری شکل دی گئی، جنہیں اب حدیث کے طور پر جانا جاتا ہے۔   یہ اسلامی تاریخ  کی  پہلی دو تین صدیوں کی مدت میں  جمع کی گئیں۔  حدیث  ان  معلومات پر مشتمل ہیں جو مبینہ طور پر    ایک سلسلے  کے ذریعہ منتقل ہوئی   اور جو بتاتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مسئلے پر      کیا کہا اور  کیا   یا  کس پر خاموشی سے منظوری  دے دی۔  سنی حدیث کی ہی طرح شیعہ حدیث بھی ہیں  جو مستند مانے جانے والے  راویوں (حدیثوں کو بیان کرنےوالے) کے ایک سلسلے کے ذریعہ منتقل ہوئی ہیں جو بتاتی ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  یا  اماموں نے کسی مسئلے پر  کیا کہا اور  کیا  یا   کس مسئلے پر خاموشی سے منظوری دے دی۔  کیونکہ قرآن  کے نسبتاً کچھ  چھوٹا حصہ قانونی اہمیت  کے معاملات پر مشتمل  ہے کیونکہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم (اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب  سے زیادہ قابل ذکر صحابہ اور آئمہ) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ  اپنی پیغمبری کے  بیس یا  کچھ اور سالوں میں جو  قانونی معاملے سامنے آئے آپ نے  ان پر  فیصلے دئے تھے۔  وقت گزرنے  کے ساتھ مسلمانوں نے اہل علم لوگوں  کا ایک ادارہ تشکیل کیا  جو  روز مّرہ کی زندگی میں  مومنوں  کے فائدے اور ان کی رہنمائی کے لئے قوانین کی وضاحت  کے مقصدکے لئے قرآن اور سنت کی تشریح کے طریقہ کار پر کام کرتا تھا۔   مسلمانوں کی تاریخ کے اوائل زمانے میں  اہل علم کا یہ ادارہ   فقہ کے نام سے جانا جاتا تھا ، یہ ایک لفظ ہے جس کا مفہوم  کسی مخصوص قانونی معاملے پر قرآن اور سنت  میں پائے جا سکنے والے  یا نکالے جا سکنے والے ثبوت کی تفہیم ہے۔ مجموعی طور پر اسلامی کے  مذہبی علم کائنات میں  فقہ کا مقصد رہنمائی کی شکل میں کام کرنا ہوتا تھا  جس کا ذکر درج بالا میں کیا گیا ہے ، اور یہ لفظ شریعت  کے ساتھ بھی جمع اور بیان کیا گیا۔    وقت گزرنے کے  ساتھ ہی  اسلامی قانون کے کئی مکتب فکر  اور  نفیس قانونی نظریات کی ایک بڑی تعداد تیار کی گئی جس  نے  قرآن اور سنت کی تشریح کی۔ اس کے بعد سے  مسلمانوں کی ہر نئی نسل نے  مندرجہ ذیل طریقوں سے قرآن اور سنت کی تشریح کرنے کی کوشش کی: 1 ۔  براہ راست کے  بجاۓ میں ماضی میں قائم کئے گئے  قانونی نظریات کی روشنی میں ان پر توجہ دی۔  اسے  تقلیدی طریقہ  کار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جسے  یہاں پر تعلیمی روایت پسندی کہا جاتا ہے ، اس کو جنم دیا اور یہ   روایتی طور  پر تعلیم یافتہ مسلمان علماء کرام کے درمیان سب سے زیادہ نمائندہ طریقہ کار  ہے۔  2۔  تقلیدی  طریقہ کار کو فریب دے کر  ایسے  طریقہ کار  پر  اصرار کرتے ہیں،   جو قرآن اور حدیث  کے متن کوبراہ راست طور پر متوجہ کرنے کے ساتھ ہی  مسلمانوں کی ابتدائی نسلوں کی اجماع  پر توجہ دیتا ہے۔   یہ طریقہ کار  دو الگ نقطہ نظر میں تقسیم ہو جاتا ہے، مثال کے طور پر  ان میں سے ایک جو  قوانین کی وضاحت  کے مقصدکے لئے قرآن اور  اس کی  شعورپر مبنی تشریح  کو ترجیح دیتا ہے اور جس کا  زیادہ تر حدیث کے متن  کی معتبریت پر نسبتاً تنقیدی موقف ہے (ہم یہاں اس طریقہ کار کو  جدیدیت کہہ رہے ہیں) اوردوسرا جو  حدیث  پر مبنی قرآن  اور سنت کی تشریح کو  شعور اور شعور پر مبنی تشریح کے مقابلے میں  ترجیح دیتے  ہیں اور  اسلامی قانون کے دائرے میں ان کا  اطلاق کرتے ہیں۔  3۔ تمام احادیث کو ایک ساتھ مسترد کر  (لیکن ضروری نہیں ہے کہ سنت کے تصور کو بھی  مسترد کرے)  اسلامی قوانین کو قرآن  پر مبنی کرتے ہیں۔  یہ سب سے کم نمائندہ طریقہ کار ہے۔   4۔  غیر سائنسی اور سماجی سائنس کے  معاصر علم کی روشنی میں قرآن و سنت  کی تشریح کے ساتھ ہی  مندرجہ بالا کے1 اور2  کو شامل کرنے کے طریقہ کار کو ہم جدیدیت کہتے ہیں۔ تاہم مصنف کا خیال ہے کہ یہ ایسا طریقہ کار ہے جس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ سب سے پہلے کے تین طریقہ کار  اپنےذرائع اور علم کی  توثیق کے معاملے میں  مکمل طور پر قبل از جدید ہیں اور مسلم  علماء کے ذریعہ  قائم کئے گئے  قبل از جدید روایتی علوم  کے تحت منظم ہوتے ہیں۔

 درج بالا میں  پیش خاکہ کے مد نظر  یہ سمجھنا  (ذہن نشین کرنا)  ضروری ہے کہ  قانون کے طور پر شریعت  کا  خیال مکمل طور پر تشریحی کوشش ہے۔  اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ شریعت کے 'خدائی قانون'  کے طور پر ہر ایک  تفہیم قرآن اور سنت کی انسانی تشریح کا نتیجہ ہے۔  قرآن اور سنت کا  ہر ایک تشریحی ماڈل  مختلف تشریحی مفروضات پر مبنی ہے۔ ان مفروضات کا   احتیاط کے ساتھ  تجزیہ اور  تحقیقی کرنے پر  ہمیں اصل  بصیرت  حاصل  ہوگی کہ آخر قرآن اور سنت کی مختلف تفہیم کیوں وجود رکھتی ہیں۔

ڈاکٹر ادس ددریجا  میلبورن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں اور وہ نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدہ کالم لکھتے ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/some-thoughts-on-sharia-as-islamic-law/d/7667

URL for Hindi article:

http://www.newageislam.com/hindi-section/इस्लामी-कानून-के-रूप-में-शरीयत-पर-कुछ-विचार/d/8317

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/islamic-law--اسلامی-قانون-کے-طور-پر-شریعت-پر-کچھ-خیالات/d/8400

 

Loading..

Loading..