New Age Islam
Thu Sep 16 2021, 12:06 PM

Urdu Section ( 13 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Mali: Caught in the crossfire of clash of civilisations مالی : تہذیبی تصادم کے گھیرے میں

 

(حروف کو چھوٹا یا بڑا کرنے کے لئےA A A    پر کلک کریں)

ابو طاہر فیضی

 14 جنوری ، 2013

مالی چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہوا غریب ملک ہے ۔ اس کے شمال میں واقع ممالک مسلم اکثریتی اورجنوب میں کثیر المذاہب ممالک ہیں ۔ عظیم سلطنتیں قائم تھیں جن کا دائرہ  آس پاس کے دیگر ممالک تک پھیلا ہوا تھا ۔ قدیم زمانے سے یہ ملک معدنیاتی اعتبار سے مالا مال رہا ہے۔ ملکی مصنوعات اعلیٰ پیمانے کی تھی ساتھ ہی معدنیات سے مالا مال ملک تھا۔ خصوصاً یہاں کے سونے  کی کانیں  مشہور تھیں۔ ہاتھی دانت  کی تجارت کا ایک بہت بڑا  مرکز تھا ساتھ ہی وسطی افریقہ  تک جانے کی کوشش کرنے والے سیاحوں کا محفوظ راستہ بھی ۔ ان ہی وجوہات نے مالی  کو ایک خوشحالی ملک بنادیا تھا ۔ یہاں  کی دولت  کے قصے دور دور تک مشہور تھے اور جہاں گرد سیاح مالی کی ترقی اور دولت  دیکھنے  دور دور سے آتے تھے ۔ یہاں کا مشہور حکمراں منسی محمد موسیٰ (1307ء تا 1332 ء) تھا ۔ جس کی دولت کے قصے 700 برس گذرنے کے بعد بھی زبان زد عام ہیں ۔ اس کا سفر الف لیلوی  داستان سے کم نہیں ہے۔ مشہور مورخین ابن بطوطہ ، ابن خلدون اور المعری نے اس کی مالداری کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کی ثروت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1324ء میں سلطان نے 60 ہزار افراد کے ساتھ سفر حج کیا۔ ان میں سے بارہ ہزار افراد صرف سونا، ہیرے، جواہرات اٹھانے کے لیے مختص تھے ، جہاں  جاتے مال و دولت لٹاتے ہوئے جاتے تھے جس کی وجہ سے راستے میں آنے والے شہروں و قرب جوار میں سونے کی قیمتیں  نچلی سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ سلیبرٹی نیٹ ورتھ کی حالیہ  رپورٹ کے مطابق ان کی دولت کا اندازہ 400 ارب ڈالر لگایا گیا ہے اور معلوم تاریخ میں آج تک اس کا ریکارڈ نہیں توڑا جاسکا ہے۔

انہی الف لیلوی  داستانوں کی وجہ سے سلطنت مالی غلاموں کی تجارت کرنے والے بردہ فروشوں ، مہم جوؤں اور استعماری طاقتوں کی دلچسپی کا باعث بنی رہی ۔ وقتاً فوقتاً ان پرقبضہ کی کوششیں بھی ہوتی رہیں  لیکن مختلف اوقات میں مختلف حریت پسندوں نے استعماری طاقتوں سے لوہا لیا جن میں احمد دلوبو (متوفی 1844ء) حاجی عمر تجانی اور ا مام محمد زیادہ مشہور ہیں ۔ بالآخر فرانس نے شہر سیگو پر 1890 اور ٹمبکٹو پر 1893 میں قبضہ کرلیا۔ فرانس نے مغربی  افریقہ کے اپنے مقبوضات کو آٹھ حصوں میں تقسیم کردیا جس میں سے ایک مالی تھا جسے فرانسیسی  سوڈان کا نام دیا گیا ۔ فرانس کا یہ قبضہ 65 سال تک رہا ۔

فرانس نے اپنے دور حکومت میں ان لوگوں کو شہری حقوق دیئے جنہوں نے فرانسیسی  کلچر کو اپنایا اور اس طرح معاشرہ میں ایک علاحدہ طبقہ پیدا ہوا جو ‘ایلائٹ’ کہلاتا تھا ۔ آزادی کے بعد یہی  ایلائٹ طبقہ  ملک کے لیے مصیبت کا سبب بنا ہوا ہے ۔ کیونکہ فرانس  نے حکومت کی باگ ڈور ان کے سپرد کردی تھی جو مالی کی تہذیب و ثقافت کے بالکل مختلف تھا۔ یہی سبب ہے کہ آزادی کے بعد سے ہی مالی میں مختلف طرح کے سیاسی سازشیں اور بغاوتیں ہوتی رہیں۔  ایلائٹ طبقہ مالی کو ثقافتی طور پر فرانس کا ایک حصہ سمجھتا ہے جب کہ عام لوگ اس کو مسلم ثقافت کا ایک حصہ سمجھتے ہیں ۔ عمل اور رد عمل کے دوران یہا ں سخت گیر انتہا پسندوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ ساتھ ہی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے شمال کے طوار غ (بربر) قبیلوں  میں بھی  بے اطمینانی پھیلتی  رہی اور لاوا اندر ہی اندر پکتا رہا جس نے دوسال پہلے مسلح بغاوت کی شکل اختیار کرلی ۔مالی کے عوام کی بد قسمتی  ہے کہ حکمراں طبقہ عوامی مفاہمت  کے بجائے  طاقت سےمسئلہ  حل کرنے کے درپے ہے او رمخالفین بھی سیاسی طریقے کے بجائے مسلح جد وجہد پر یقین رکھتا ہے جس نے ملک کو خانہ جنگی میں ڈھکیل دیا ہے۔ مالی کے بارے میں اقوام متحدہ کا رویہ بھی یکطرفہ ہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو اصلاحات پر مجبور کرنے کے بجائے  اندھا دھند  ان کی حمایت شروع کردی ہے۔ گذشتہ دنوں اقوام متحدہ  نے افریقی  یونین کی فوجیوں کی تعیناتی کو منظوری دی تھی تاکہ شدت پسندوں کو شمالی شہروں سےنکالا جا سکے لیکن اب مالی میں بجائے افریقی یونین کے فرانس  نے فضائی کارروائی شروع کردی ہے۔ دوسرے ملکوں میں یکطرفہ مداخلت کا جو راستہ امریکہ نے دوسروں کو دکھایا تھا اسی پر اب فرانس عمل کررہا ہے۔

70 کے عشرے میں ‘تہذیبی تصادم’ کی اصطلاح وجود میں آئی، مالی اور فرانس انہی تہذیبی  تصادم کے لپیٹ میں ہے اور مالی حکومت بیچ  میں کٹھ پتلی کی مانند  ہے جس میں نہ انتہا پسندوں کو پسپا کرنے کی صلاحیت  ہے او رنہ ہی فرانسیسی  حملہ آوروں کو روکنے کی طاقت ۔ دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو مالی  کے انتہا پسند اور فرانس دونوں کلچرل انتہا پسندی پر اتر آئے ہیں۔ آزادی اور مساوات انسان کا بنیادی کا حق ہے اور دونوں ہی ان کی خلاف ورزی کے مرتکب ہیں ۔ فرانس میں حجاب پر پابندی ہے حالانکہ اگر کوئی خاتون اپنی پسند سےحجاب پہنے تو یہ اس کا حق ہے لیکن اس پر جرمانہ انتہا پسندی  ہی تو ہے اس کے برخلاف مالی  کے انتہا پسند وں نے زبردستی عورتوں کو حجاب پہنا  ناشروع کردیا یہ بھی انتہا پسندی ہی ہے کہ کسی کو اس کی مرضی کے خلاف لباس پر مجبور کیا جائے ۔ ہاں اس کےلیے دونوں فریقین ذہن سازی کر کے رضا کارانہ   طور پر لوگوں  کوآمادہ کرتے تو آزادی  و مساوات کے بنیادی حقوق کی پاسداری  سمجھی جاتی ۔

زمانہ ماضی میں جنگیں شہروں سے باہر کھلے میدان میں لڑی جاتی تھیں جس میں عام  طور پر جنگجو سپاہی ہی مارے  جاتے تھے پھر بعد میں شہروں کا نمبر آتا تھا  لیکن آج کی جنگوں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ شہروں میں لڑی جاتی ہیں جس میں ہر حال میں عوام ہی کا نقصان ہوتا ہے۔ مہلک اسلحوں اورمیزائلوں کی تباہی کا دائرہ بھی وسیع  ہوگیا ہے متحارب  فریقوں میں سےکسی بھی فریق کی چند جانیں  جاتی ہیں لیکن اندھا بم اور میزائل عوام پر بر ستا ہے۔ اس لیے  حکومت کو عوام کی جذبات کا خیال رکھ کر ایسی اصلاحات  کرنی چاہئے جس سے عوام میں شدت پسندوں کی حمایت کم ہوسکے اور حکومت کی عملداری مضمون ہوسکے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ قوانین فرانسیسی  کلچر کو سامنے نہ رکھ کر مالی کی کلچر سامنے رکھ کر بنائے جائیں ۔ اس کے لیے نہ حکومت راضی ہے اور نہ ہی  فرانس اور نہ ہی امریکی بغل بچہ اقوام متحدہ ۔ حالانکہ افریقہ  میں دیگر تنازعات بھی ایسے ہیں  جو مالی کی تنازعہ سے زیادہ  سنگین  ہیں لیکن چونکہ ان تنازعات کا تعلق  ان ممالک سے ہے جہا ں فرانس اور امریکہ  کے ہم مذہب بستے ہیں اس لیے اس پر کارروائی  کئے بغیر صرف مالی پر ہی دھیان مرکوز کیا گیا ہے۔

جنگ  کسی مسئلے کا حل نہیں  ہے بلکہ یہ خودایک مسئلہ ہے۔  مابعد جنگ حالت سے نمٹنا ایک بڑا چیلنج  ہوتا  ہے اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے اندھا دھند کارروائی سے حالات سدھر نے کے بجائے بگڑ سکتے ہیں ، فوجی فتح  تو ہتھیاروں کی بل پر ممکن ہے البتہ اس فوجی کامیابی کو سیاسی کامیابی  میں بد لنا ایک مشکل  امر ہوتا ہے ۔ اور تھوڑی سی غلطی  بھی انسانی المیے کو جنم دیتی ہے جیسا کہ افغان اور عراق جنگ میں تجربہ ہوا ہے ۔ مابعد جنگ افراتفری او ربم دھماکے، صاف و شفاف انتظامیہ  کا فقدان اور کرپشن کی زو د افزونی جیسے مسائل ان ممالک کے مسائل ہیں جس پر نہ ان ممالک کی حکومت کازور ہے اور نہ  امریکہ کا ۔ فی الوقت مالی دنیا کے غریب  ترین پسماندہ ممالک میں سے ایک ہے جہاں ہزاروں بچے  ہر سال بھوک اور ننگ کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں ، قحط سے لاکھوں لوگ متاثر ہیں۔کاش باغی او رحکومت دونوں عوام  کے بنیادی مسائل پر دھیان دے کر مالی کو پھر آزادی اور ترقی کی راہ پر ڈال سکیں۔

14 جنوری، 2013 بشکریہ : روز نامہ جدید خبر ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/abu-tahir-faizi--ابو-طاہر-فیضی/mali---caught-in-the-crossfire-of-clash-of-civilisations--مالی---تہذیبی-تصادم-کے-گھیرے-میں/d/9993

 

Loading..

Loading..