New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 12:10 AM

Urdu Section ( 4 May 2020, NewAgeIslam.Com)

Recieved Lots of Sympathies, Thanks to Corona کورونا سے خوب ہمدردیاں ملیں


ابو اخلاص

بورس جانسن کی ڈائری

26 اپریل 2020

پچھلے دس دنوں سے مجھے حرارت تھی لیکن کام کا دباؤ اتنا تھا کہ  میں نے اس پر توجہ ہی نہیں دی۔ البتہ کل طبیعت غیر ہونے لگی۔ ٹمپریچر اچانک بڑھ گیا اور اتنی کمزوری محسوس ہونے لگی کہ لگا میں آفس نہیں جا پاؤں گا ۔ کیری میری حالت سے واقف تھیں۔ ان کا اصرار تھا کہ میں ڈاکٹر سے رجوع کروں لیکن میں گولیوں سے کام چلاتا رہا۔ وہ ناراض بھی ہوئیں مگر میں نے انہیں ڈاکٹر کو فون کرنے سے روک دیا اور ہمیشہ کی طرح ایک جھوٹ کہہ کر اپنا پیچھا چھڑالیا کہ کل سے دودنوں کی رخصت لے کر گھر میں آرام کروں گا  لیکن رخصت لینے کی ضرورت ہی نہیں پیش آئی کیوں کہ طبیعت  اتنی خراب ہوچکی تھی کہ میرے معالج نے فوراً اسپتال جانے کی صلاح دی۔ او مائی گاڈ، اسپتال ، وہ بھی کورونا وائرس کے زمانے میں ! وہاں تو سب سے پہلے وائرس کی جانچ ہوگی اور خدانخواستہ اس کی علامات نظر آگئیں تو پھر ہفتوں تک کیلئے قید۔ اور بدقسمتی دیکھئے کہ ایسا ہی ہوا۔ پہلے ہی دن شام تک ساری رپورٹیں آگئیں اور ڈاکٹروں نے قرنطینہ میں رہنے کے احکام سنادیئے۔ میرے ایک ساتھی کہنے لگے کہ آپ اس خبر کو دبا دیں ورنہ سارے برطانیہ میں دہشت پھیل جائے گی اور بدنامی الگ ہوگی کہ جو حکومت اپنے وزیراعظم کو کورونا وائرس سے نہیں بچا سکی، وہ عام شہریوں کو کیسے بچائے گی؟ میں نے انہیں مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ مائی ڈیر ، کسی وزیراعظم کو اس سے بہتر پبلسٹی مل ہی نہیں سکتی۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی ساری دنیا بورس جانسن کیلئے دعا کرے گی اوراس اَن دیکھے وائرس کے سبب جو ہمدردیاں  بٹوروں گا ، اسے تو لاکھوں پاؤنڈ خرچ کرکے بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ چند گھنٹوںمیں سینٹ تھامس  اسپتال بھی بیدار ہوگیا۔ اسپتال میں ہرکوئی ملک کے وزیراعظم کو صحت مند دیکھنا چاہتا تھا ۔ ڈاکٹروں میں مقابلہ آرائی شروع ہوگئی کہ میرا علاج کون کرے گا۔ نرسوں میں بھی رسہ کشی جاری تھی کہ وزیراعظم کے قریب  رہنے کا اس سے بہترموقع کب مل سکتا تھا۔ بالآخر میرا علاج شروع ہوا اور رات ہی سے عیادت کرنے والوں کا تانتا بندھ گیالیکن کسی کو میرے وارڈ میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔ میرا فون بھی ہٹا دیا گیا۔ اب میں تھا اور قید تنہائی۔ شیشے کے دروازے سے کیری نظر آئی تھیں مگر نیند کا غلبہ اتنا شدید تھا کہ میں انہیں ٹھیک سے دیکھ بھی نہیں سکا۔ ٹیلی ویژن سامنے تھا مگراس سے پہلے کہ میں آن کرتا، نرس نے آہستگی سے ریموٹ لے لیا اور مسکراتے ہوئے باہر چلی گئیں۔میں سوچنے لگا کہ سیاستدانوں کی نسل بھی کتنی عجیب ہے ۔ موت کے منہ میں گر کر بھی دیکھنا چاہتی ہے کہ ان کی تعزیت کرنے کون کون آیا تھا۔

ان دونوں نے میری بڑی خدمت کی

           میں نے جینی سے کہا کہ مجھے ڈائری لکھنے کی عادت ہے، پلیز!  لکھنے کی اجازت دیجئے ۔ جینی نے اپنی ساتھی لوئیس کی طرف دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اس سے مشورہ کرنے لگی۔ لوئیس پرتگال سے ہے اور جینی نیوزی لینڈ سے آئی ہے۔ دونوں چوبیس گھنٹے میری اتنی خدمت کرتی ہیں کہ میں ان کی محنت دیکھ کر حیران ہوجاتا ہوں۔ (پہلی دونوں بیویوں نے اتنی محنت نہیں کی نہ کیری صاحبہ سے اس کی امید ہے) میں نے سوچ رکھا ہے کہ پریس کانفرنس میں ان دونوں کا ذکر ضرور کروں گا۔ اسپتال میں ساری سہولتوں کے باوجود تنہائی کا کوئی علاج نہیں۔ دن بھر بستر پر  پڑا چھت کو تکتا رہتا ہوں۔ کھڑکیوں پر دبیز پردے لگے ہیں جو باہر کی دنیا کو مجھ سے چھپائے رکھتے ہیں ۔ جی چاہتا ہے کہ ان پردوں کو پھاڑ کر پھینک دوں اور باہر کی دنیا کو جی بھر کر دیکھوں۔ آج سیکریٹری نے فون پر بتایا کہ ساری دنیا سے فون آرہے ہیں اور ہر کوئی  میری خیریت پوچھ رہا ہے ۔ کل رات تھوڑی دیر تک ٹیلی ویژن دیکھنے کی اجازت ملی تھی اوریہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ وائرس کا قہر ملک میں بدستور جاری ہے۔ حالانکہ ہمارا نظام صحت دیگر ممالک کے مقابلہ میں کئی گنا بہتر ہے مگر پتہ نہیں کیا وجہ ہے کہ مریضوں میں ابھی تک کمی نہیں ہوئی۔ آج صبح ڈاکٹر صاحبان نے میری رپورٹیں دیکھ کر اطمینان کا اظہار تو کیا تھا مگر میں نے ان سے ایک سوال کیا کہ مجھے گھر جانے کی اجازت کب ملے گی؟ وہ مسکرانے لگے.... اور جواب دیا کہ خدا کا شکرادا کریں کہ اس بہانے آپ کو تھوڑا سا آرام ملا ہے ، ہم تو کئی روز سے اپنے گھر بھی نہیں جاسکے۔ مجھے  اچانک احساس ہوا کہ جیسے اپنے وزیراعظم کی خدمت  میں ان بیچاروں کو اپنے گھر جانے کی اجازت نہ ملی ہو۔ میں انہیں دیکھتا رہا۔ وہ رپورٹ چیک کررہے تھے اور جینی اور لوئیس  سے پوچھ تاچھ کررہے تھے۔ جب وہ جانے لگے تو میں نے کہا کہ کیا دوسرے ڈاکٹرز آپ کی جگہ نہیں لے سکتے؟ یقیناً  لے سکتے ہیں مگر وہ بھی دیگر مریضوں کی دیکھ بھال میں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں وہاں سے ہٹایا نہیں جاسکتا۔ پھر چند لمحے رک کر نوجوان ڈاکٹر نے مجھ سے کہا کہ ’’سر!  آپ کی خدمت ہمارے لئے عزت وشرف کا باعث ہے۔ کسی ڈاکٹر کے کریئر میں ایسے مواقع شاذ ہی آتے ہیں۔‘‘ میں نے دل ہی دل میں اس کی بے لوث خدمت کو سلام کیا اورسوچنے لگا کہ اب اگلا وائرس شاید سو سال  بعد ہی آئے... اورسو سال آپ جیئیں گے نہ میں۔ اس لئے بہتر ہے آپ ابھی ہی ساری عزت وشہرت بٹور لیں۔

 کابینہ کا ہر وزیر مجھ سے ملنے کا خواہاں ہے

          اسپتال سے گھرآکر صرف دو دن آرام کرسکا ہوں۔ کیری کہہ  رہی تھیں، اپنے ڈپٹی کو کام پر لگاؤ۔ آخر ایسے ہی دنوں کیلئے تو نائب کا تقرر ہوتا ہے مگر میں نے ان سے کہا کہ نائب نائب ہی ہوتا ہے۔ اپنے طور پر فیصلہ کرنے سے ہمیشہ ہچکچاتا ہے۔ آپ دیکھ ہی رہی ہیں، گھر میں میرے داخل ہونے سے قبل ہی فائلوں کا انبار داخل ہوچکا تھا۔ اور سیکریٹری کی ڈائری دیکھئے،ایسا لگتا  ہے کابینہ کے ہر وزیر نے اپنے فیصلے میرے لئے مؤخر کررکھے ہیں۔ اور مجھ سے ملاقات کا خواہاں ہے۔ دراصل ان نااہلوں کو یہی خوف رہتا ہے کہ ان کے فیصلوں سے کہیں اونچ نیچ ہوگئی تو کابینہ سے نکال دیئے جائیں گے، اسلئے ہر فیصلے میں مجھے شامل کرتے ہیں۔ خیر میں نے بھی کابینہ کی میٹنگ طلب کرلی ہے اور سارے التواء شدہ  مسائل سے ایک ہی وقت میں نبٹنا چاہتا ہوں۔ سب سے بڑا مسئلہ تو ہماری ملکہ ٔ معظمہ ہیں ۔ پتہ نہیں کس احمق وزیراعظم نے یہ روایت قائم کردی تھی کہ ہر ہفتہ محترمہ سے ملاقات کرکے انہیں پارلیمنٹ  اور کابینہ کے احوال سے آگاہ کیاجائے۔ ویسے اخبارات اور ٹیلی ویژن سے انہیں سارے حالات کا علم  ہوتا ہے، اس کے باوجود وہ چاہتی ہیں کہ وزیراعظم خود ان کے دربار میں حاضری دیں تاکہ وہ جان سکیں کہ جمہوریت کی ساری روایتوں کے باوجود یہ ملک آج بھی تاج برطانیہ کے زیرنگیں ہے۔ بہرحال، کورونا وائرس کے زمانے میں اتنا تو ہوا کہ میں رانی ماں کے محل میں حاضری دینے سے بچ گیا البتہ فون پر انہیں وہ سب کچھ بتانا پڑا جو میں نہیں بتانا چاہتا تھا کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ ہر صاحب اقتدار نے ہر شعبے میں  اپنے وفا دار بٹھا رکھے ہیں جو انہیں پل پل کی خبر دیتے ہیں۔ ہمارے ایسے حقیر وزیراعظم کو تو محترمہ اس لئے سنتی ہیں کہ اپنی اطلاعات سے ہماری رپورٹنگ کا موازنہ کرسکیں۔ اس طرح ۹۳؍ سالہ ملکہ ٔ برطانیہ کے سائے سارا وقت وزیراعظم کا تعاقب کرتے رہتے ہیں۔ یہ ڈراما کب تک چلے گا، کوئی نہیں جانتا؟

میرے دادا  حافظ قرآن تھے

          آج ترکی سے میرے کزن نے فون کرکے میری خیریت دریافت کی ہے اوراس وقت سے میں ناسٹلجیا کا شکار ہوگیا ہوں۔ کبھی سوچتا ہوں کہ وقت  کے دھارے لوگوں کو کس طرح یہاں سے وہاں بہا لے جاتے ہیں اورکبھی قسمت پر یقین کرنے کو جو چاہتا ہے جو ترکی کے ایک قدیم گاؤں کے باشندے کی نسل کو برطانیہ ایسے متمدن ملک میں منتقل کردیتی ہے۔ میرے پردادا علی کمال ایک پڑھےلکھے ، پُرعزم  اور کہنہ مشق  صحافی تھے جنہوں نے خلافت عثمانیہ کے زمانے میں اقتدار کی خوب مخالفت کی تھی۔ ایک روایتی گھرانے کی پیداوار جس نے قرآن  کریم  حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی تھی اوراپنے علاقے میں شرافت اور علم دوستی کیلئے مشہور تھے۔ ان دنوں خلافت کی مخالفت میں ’ینگ ترک ‘ کی اصطلاح بڑی عام تھی کیونکہ ترکی کے نوجوان کو اپنی حکومت سے بڑی شکایتیں ہونے لگی تھیں۔ ساتھ ہی یہ نوجوان حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش بھی کررہے تھے۔ بالآخر کمال اتاترک کی قیادت میں خلافت عثمانیہ ختم کردی گئی اور ایک نئی جمہوری اور سیکولر حکومت نے اپنی بساط  بچھائی۔ اس دوران علی کمال کو احساس ہوا کہ نئی حکومت اسلام کی بیخ کنی پر آمادہ ہے اوراسے بھی عوام سے کہیں زیاادہ اپنے اقتدار سے دلچسپی ہے۔ اس حقیقت کو جاننے کے بعد وہ چپ نہیں رہے بلکہ انہوں نے نئی حکومت کے خلاف بھی لکھنا شروع کردیا۔ جب انہیں لگا کہ وہ حکومت کے نشانے پر ہیں تو انہوں نے ترکی چھوڑ کر فرانس کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پناہ لے لی۔  زمانے کی نیرنگی دیکھئے کہ معاشرے کے بدلتے ہی اطوار بھی بدلنے لگے۔ ان کے بیٹے عثمان نے ایک غیر مسلم خاتون سے شادی کرلی۔ عثمان کی اولاد کو دین اسلام سے واقفیت تھی ، نہ وہ خلافت کے عروج وزوال سے واقف تھے کیوں کہ وہ مغرب کی مادہ پرست دنیا سے مرعوب ہوچکے تھے۔ تیسری نسل تک  پہنچتے پہنچتے علی کمال کا خاندان جانسن میں بدل چکا تھا اور برطانیہ میں مقیم تھا۔ اس جانسن کے خاندان کا ایک لڑکا بورس اپنے جدا علیٰ کی طرح لکھنے پڑھنے کا شوقین تھا، اس نے صحافت بھی کی تھی اور فارن سروس کے بعد لندن کا میئر بھی رہ چکا تھا۔ کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر کی حیثیت سے آج وہ وزیراعظم کے منصب پر براجمان ہے۔ اس نے ترکی کے اس گاؤں کو بھی دیکھا ہے جہاں اس کا خاندان آباد تھا اور استنبول کی لائبریری میں علی کمال کی وہ تحریر یں بھی دیکھی  ہیں جن سے آج بھی حق پرستی اور اصول پسندی کی خوشبوئیں آتی ہیں ۔ اس نے آج بھی اپنے پرانے رشتے داروں سے تعلق برقرار رکھا ہے جنہوں نے اس کے وزیراعظم بننے کی خوشی میں سارے گاؤں میں چراغاں کیا اوراس کی بیماری پر دکھ  بھرے فون کرتے ہیں۔ میرے لئے ممکن نہیں کہ دوبارہ اس گاؤں کو آبادکروں، نہ یہ ممکن ہے کہ اپنے مسلمان عزیزوں کو یہاں بلا لوں ۔ افسوس ضرور ہوتا ہے کہ زمانہ اتنا ظالم کیوں ہے کہ لوگوں کو اپنی جڑوں سے اکھاڑ پھینکتا ہے، معاشرے کے بدلتے ہی لوگوں کو بدل دیتا ہے اور دینی بنیادیں ڈھاکر مغرب کی چکا چوندھ سے اندھا کردیتا ہے؟

26 اپریل 2020 بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/abu-akhlas/people-got-lots-of-sympathies,-thanks-to-corona--کورونا-سے-خوب-ہمدردیاں-ملیں/d/121755


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..