New Age Islam
Mon Dec 06 2021, 07:07 PM

Urdu Section ( 26 Jun 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

ISIS and India’s Urdu journalism داعش اورہندوستان کی اردو صحافت

 

عبدالرشید ازہری ، نیو ایج اسلام

دودنوں قبل داعش نے اپنی ’خلافت‘‘ کے دو نوجوان مسلم شہریوں کو صرف اس لئے سزائے موت دے دی کہ انہوں نے  بغیر کسی عذر شرعی کے روزہ توڑدیا تھا یا پھر روزہ نہیں رکھا تھا۔ انہیں سربازار کچھ کھاتے ہوئے پکڑا گیا تھا اور انہیں روزہ توڑنے یا نہ رکھنے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔اسلام میں بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ نہ رکھنے یا توڑدینے کی سزا موت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی جسمانی سزاہے۔ یہ گناہ ہے اور گناہ کی سزا آخرت میں ملے گی۔یہ سزاہی غیر شرعی اور غیر اسلامی تھی اور اس سے داعش کے غیر اسلامی قوانین کا اندازہ ہوتاہے۔داعش کے ماتحت علاقے میں لوگ اسی طرح کی سختیوں کی وجہ سے گھٹ گھٹ کر مررہے ہیں یا پھر جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں وہ ہجرت کرکے دوسرے ممالک میں پناہ لے رہے ہیں۔ آئے دن داعش کے ذریعے بے گناہ لوگوں کو شریعت کے نفاذ کے نام پر قتل کیاجارہاہے اور انتہائی سفاکی کا مظاہر ہ کیاجارہاہے۔ مگر حیرت ہے کہ اردو میڈیا ان کی سفاکی پر خاموش ہے۔ اردو اخبارات میں داعش کی سفاکیوں کی خبریں کبھی کبھی آجاتی ہیں مگر اردو کے کالم نویسوں کے تجزئیے اور تبصرے کہیں نظر نہیں آتے ۔ ہاں گاہے گاہے کچھ باضمیر مسلمان مراسلوں میں داعش کے خلاف اپنے دل کا غبار نکال لیتے ہیں اور ان کی غیر اسلامی اور غیر انسانی حرکات کی مذمت کرتے ہیں ۔ اس لحاظ سے اردو عوام کا ایک بڑا طبقہ داعش کو غیر اسلامی انتہا پسند تنظیم سمجھتاہے جس کا اسلام سے کچھ لینادینا نہیں مگر اردو کے صحافی حضرات جن کی ذمے داری تھی کہ وہ داعش کے سیاہ کارناموں اور ان کے غیر اسلامی نظریات کو بے نقاب کرتے خاموش ہیں اور اس طرح یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ داعش کو اسلام کا اصل علم بردار مانتے ہیں۔

عراق اور شام کے ایک حصے پر قبضے کے بعد داعش نے جب ’’اسلامی خلافت ‘‘ کے قیام کا اعلان کیاتھا تو ہندوستان میں خاص طور سے اردو اخبارات میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھا گیاتھا ۔ کئی اخبارات نے تو خلافت کے قیام کو شہ سرخی بنایاتھا جب کہ صحافیوں نے داعش کی حمایت میں مضامین کے ڈھیر لگادیئے تھے۔ ایک اخبار نے تو خلافت پر ایک خصوصی گوشہ ہی شائع کردیا تھا۔ایک ہفتہ وار نے اسلامی خلافت نمبر شائع کیاتھا۔ ان سب مضامین اور خصوصی گوشوں سے عام مسلمانوں میں بالواسطہ طور پر یہ تاثر پیدا کیاجارہاتھا کہ جس خلافت کے لئے مولانا محمد علی جوہر ، مولانا شوکت علی اور مہاتماگاندھی نے تحریک چلائی تھی وہ یہی ابوبکر البغدادی کی خلافت ہے۔کچھ مسلک پرست صحافی جو بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹتاہوا دیکھنا چاہتے تھے وہ زیادہ خوش تھے کیونکہ انہیں محسوس ہورہاتھا کہ ابوبکر کی صورت میں اللہ نے پھر کوئی صلاح الدین ایوبی بھیج دیاہے۔مسلکی منافرت میں وہ اتنے اندھے ہوچکے تھے کہ وہ ایک غلط کے لئے دوسرے غلط کی حمایت پر آمادہ تھے۔داعش نے جب کیرالا کی نرسوں کو سفارتی اور سیاسی مجبوریوں کے تحت رہا کردیا تو اردو کے ہندوستانی صحافیوں اور کچھ علما ء نے بھی ان کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملانا شروع کردئیے اور دلیلیں دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ داعش کو دہشت گرد تنظیم سمجھنا غلطی ہے۔ایک صحافی نے تو یہاں تک لکھا کہ ’’ماشاء اللہ کیا دہشت گرد ایسے ہوتے ہیں؟‘‘ اب جبکہ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ وہ مسلم اور غیر مسلم عورتوں کو اغوا کرکے ان کا جنسی اتحصال کررہے ہیں اور انہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح فروخت کررہے ہیں ، معصوم عورتوں اور بچوں کو بے دریغ قتل کررہے ہیں تو یہ صحافی اور یہ علما خاموش ہیں۔دونوں معصوم مسلم نوجوانوں کے قتل پران کے قلم کو سانپ سونگھ گیاہے ۔وہ شاید اب بھی اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ بڑے مقاصد حاصل کرنے کے لئے چھوٹی موٹی سختیاں کرنی پڑتی ہیں۔

یہ بات حیرت ناک ہے کہ پاکستان جہاں مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے اورکئی انتہاپسند اسلامی تنظیمیں ، مسلکی گروپ اور دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جن کا مقصد ’’خلافت ‘‘ قائم کرنا ہے وہاں کی اردو میڈیا میں داعش کے تئیں اتنا جوش و خروش نہیں دیکھا گیا۔ کالم نویسوں نے ان کی حمایت میں کالم نہیں لکھے اور نہ خلافت کے قیام کی خبر کو نمایاں طور سے شائع کیاگیا۔شاید پاکستان کے عوام ’’خلافت‘‘کا درد جھیل جھیل کر اکتاچکے ہیں۔ وہاں کی انتہا پسند تنظیموں نے خلافت کے نام پر اتنا خون بہایا ہے کہ داعش کے خلافت کے نعرے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ وہ سمجھ گئے کہ داعش بھی اسی طرح کی ’’خلافت ‘‘ قائم کرینگے جس طرح کی خلافت پاکستان میں انتہاپسند تنظیمیں قائم کرتی رہی ہیں اور اس عمل میں بے قصور عورتوں ، بچوں اور شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارتی رہی  ہیں، مسلک کے نام پر ایک فرقے کا قتل عام کرتی رہی  ہیں۔

ہندوستان میں جب حکومت نے داعش پر پابندی لگادی تو اچانک داعش کی حمایت میں مہینوں سے جاری اردو صحافتی دنیا میں تمام شوروغوغا بند ہوگیا۔ اب وہی صحافی اور اخبارات قسمیں کھاکھاکر کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کبھی داعش کی حمایت میں ایک لفظ نہیں لکھا۔بہت اچھا، نہیں لکھا ہوگا۔تو پھر ان کے خلاف کیوں نہیں لکھتے ؟ کیوں عوام کو ان کے غیر اسلامی اعمال سے آگاہ نہیں کرتے ؟ کیوں مسلم نوجوانوں کو اپنی تحریروں کے ذریعے سے داعش جیسی خطرناک دہشت گرد تنظیم سے باز رہنے کی تلقین نہیں کرتے ؟ کیا عالم دین یا صحافی کی حیثیت سے ان کی یہ ذمے داری نہیں ہے کہ وہ غلط نظریات اور اسلام کے نام پر ظلم و تشدد پھیلانے والی تنظیم سے مسلمانوں کو دور رکھنے کی کوشش کریں؟کیا اردو کے روزناموں اور ہفت روزہ اخبارات کی ذمے داری نہیں ہے کہ جس طرح انہوں نے داعش کو مقبول بنانے کے لئے خصوصی گوشے اور نمبر شائع کئے اسی طرح ان کے سیاہ کارناموں اور غیر شرعی اقدامات پر خصوصی گوشے اور نمبر شائع کریں؟ کیا وہ اس لئے نہیں لکھتے کہ ان کے  دل میں داعش کے لئے ہمدردی اب بھی جاگزیں ہے۔ وہ حکومت کے خوف سے ان کی حمایت میں کچھ نہیں لکھ سکتے تو ان کی محبت میں ان کے خلاف بھی کچھ نہیں لکھ سکتے ؟ہندوستان کی اردو میڈیا میں داعش کے مسئلے پر عمومی مجرمانہ خاموشی کی اصل وجہ یہی ہے ۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/abdur-rashid-azhari,-new-age-islam/isis-and-india’s-urdu-journalism--داعش-اورہندوستان-کی-اردو-صحافت/d/103660

 

Loading..

Loading..