New Age Islam
Thu Oct 29 2020, 03:31 PM

Urdu Section ( 26 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Is Boko Haram Islamic? کیا بوکو حرام اسلامی ہے؟

 

عبد الرشید ابراہیم

26 اگست 2013

(انگریزی سے ترجمہ ،نیو ایج اسلام)

ایک مسلمان کی حیثیت، ایک انسان  ہمیشہ پریشان اور شکستہ دل رہتا ہے جب یہ خبر پھیلتی ہے کہ کسی ظلم کا ارتکاب کیا گیا ہے  ۔ ان مظالم میں اکثر معصوم جان اور مال کی تباہیاں شامل ہیں۔ اس طرح کی  وحشیانہ سر گرمیوں میں تازہ ترین واقعہ(یوب ) Yobe ریاست میں سیکنڈری اسکول کے 29 طلباء اور ان کے اساتذہ کا قتل تھا۔ اس طرح کے ظالمانہ عمل  سے پہلے اس طرح کے احمقانہ  قتل کا ایک تسلسل بوکو  حرام کے ارکان سے منسوب ہے ،جوکہ  ایک ایسی  جماعت ہے جسے اکثر لوگ بدقسمتی سے ایک اسلامی فرقہ سمجھتے ہیں ۔ لوگ  اکثر اس جماعت  کی سرگرمیوں سے  دھو کہ کھا جاتے ہیں  جو دہشت گردی کے عمل کا ارتکاب کرنے سے زیادہ کچھ نہیں جانتی اور خود کو اسلام سے  وابستہ کرتی ہے جو اس قسم کے  پاگل پن کو نا پسندیدہ رکھتا ہے ۔دین اسلام کا مطلب امن اور امن کے لئے کھڑا ہونا ہے ۔ جس کسی مذہبی فرقے کا وجود  جان اور مال کی ہلاکت اور تباہی پر مبنی ہو وہ اپنے بارے میں اسلام کا حصہ ہونے کا دعوی نہیں کر سکتا اس لئے کہ اسلام کو تباہی کے لئے قائم نہیں کیا گیا ہے ۔

بوکوحرام کا فلسفہ اور نظریہ اسلام سے بالکل بیگانہ ہے۔ بوکو حرام کی سرگرمیاں اسلام کی تعلیمات سے کوئی مطابقت نہیں رکھتیں  جو کہ  اسلام کے سب سے بڑے معلم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کے ذریعہ  لائی اور  سکھائی گئی  تھیں ۔ ہم کس طرح بوکو حرام اور اسلام کے نظریات میں موافقت پیدا کر سکتے ہیں جبکہ  وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے ؟ پہلی وحی (سورہ اِقرأ) جو فرشتہ (جبرائیل) کے ذریعے اللہ تعالی کی طرف سے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کو موصول ہوئی  تمام کی تمام  پڑھنے اور سیکھنے کے بارے میں تھی جس کے بارے میں پیغمبر اسلام نے اپنے پیروکاروں کواہمیت دینے کی تعلیم دی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا  خواہ  وہ اسلامی تعلیم ہو یا مغربی تعلیم ہو، تمام مسلمانوں پر فرض کے طور پر جسے انہیں گود سے لیکر قبر تک حاصل کرنا چاہئے ۔

ایک دوسرا نظریہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ  یہ  ہے کہ  وہ تمام لوگوں پر دین اسلام کو مجبوراً نافذ کرنے کے لئے کھڑا ہواہے۔ یہ نظریہ یکساں طور پر پیغمبر اسلام اور قرآن (سورہ  2 آیت 256) کی  بنیادی تعلیمات کے برعکس ہے، جس میں یہ واضح طور پریہ  بیان ہے کہ  دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر) گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے۔ اگر بوکو حرام کا فلسفہ تمام لوگوں  پر اسلام کو  مسلط کرنا ہے، تو انہیں یہ سمجھانا چاہئے کہ ان کا مشن کسی اور چیز کے لئے ہے  اسلام کے لئے نہیں ، اس لئے کہ  اسلام عبادت کی آزادی (قرآن سورہ 109) کی اجازت دیتا ہے۔   اسلام کسی کو بھی مجبور کرنے کے لئے نہیں ہے۔ وہ لوگ جو اس کی  تبلیغ کا بیڑہ  اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں ان کے لئے  ضروری ہے کہ وہ  حکمت کے ساتھ بہترین تبلیغ کے ساتھ یہ کارنامہ انجام دیں  اور ان کے کردار  کا مثالی  اور قابل  تقلید ہونا بھی ضروری ہے (سورہ 16 آیت 125) ۔ کیا ان کے کردار  کوجو خود کو  بوکو حرام کہتے ہیں  شفاف اور قابل تقلید  کہا جا سکتا ہے  کہ  جس کی  توقع ایک داعیٔ اسلام سے کی جاتی ہے ؟ جواب نہیں ہے! بوکو حرام کے ارکان کو نہ ہی مسلمان کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی سمجھا جا سکتا ہے اس لئے کہ مسلمان معصوم نوجوان اور بوڑھوں کو قتل کرنے اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی زندگی اور املاک  کو تباہ کرنے کا نظریہ اسلام کے موقف کے خلاف ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ اسلام کے تعلق سے غلط فہمیاں ہیں یہاں تک  کہ جو اپنے آپ  کو مسلمان کہتے ہیں ان کے درمیان بھی ۔ اکثر ایسے لوگوں کے سامنے اسلام کو ایسی شکل میں پیش کر کے  جو مسخ شدہ اسلام کی تحقیق اور تفتیش کرنے کے لئے  تیار نہیں ہیں اسلام صدیوں سے تحریف کے ذریعہ سنگین حملے کی زد میں رہا ہے۔ اکثر مستشرقین خاص طور پر اسلام کے ناقدین اسلام کے اپنے  تجزیہ میں انتہائی  غیر منصفانہ رہے ہیں ہے ا سلئے کہ ان میں سے اکثر لوگوں نے  مسلمانوں کا فیصلہ کرنے کے لئے اسلام کا استعمال کرنے کے بجائے اسلام کے بارے میں فیصلہ  کرنے کے لئے  بعض مسلمانوں کے منفی رویے کا استعمال کیا ہے ۔

ہندو ایک پروفیسر ایس۔ رامکرشن راؤنے ‘‘Muhammad: The Prophet of Islam’’ کے عنوان سے اپنی کتاب میں  پیغمبر اسلام کی تائید ان الفاظ میں کی ہے ‘‘ ان کے دشمنوں کے ساتھ خود ان کا رویہ  ان کے پیروکاروں کے لئے عظیم ترین مثال کی  حیثیت رکھتا تھا ۔ فتح مکہ کے دن  وہ  اپنی طاقت کے بام عروج پر تھے ۔ جس شہر نے انہیں اور ان کے پیروکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس نے انہیں اور ان کے پیروکاروں کو حجرت کرنے پر مجبور کر دیا اور جس نے اس وقت میں بھی ان پر سخت ظلم کیا  اور ان کا بائیکاٹ کیا تھا جب وہ  200 میل سے بھی  زیادہ کی دوری پر پناہ لئے ہوئے تھے  اب وہ شہر ان کے پاؤں میں کے نیچے تھا ۔ جنگ کے قوانین کے ذریعے وہ ان پر اور ان کے پیرو کاروں پر کئے گئے تمام ظلم کا بدلہ لے  سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا دل محبت اور احسان لے لبریز ہو  گیا تھا ا س لئے کہ انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ  آج کے دن تم پر کوئی کوئی ملامت نہیں ہے اور تم سب آزاد ہو ۔ "

ابراہیم ایک وکیل ہیں جو لاگوس میں رہتے ہیں ۔

ماخذ: http://www.tribune.com.ng/news2013/index.php/en/component/k2/item/20050-is-boko-haram-islamic.html

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/islamic-ideology/abdulrasheed-ibrahim/is-boko-haram-islamic?/d/13217

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/abdulrasheed-ibrahim,-tr-new-age-islam/is-boko-haram-islamic?-کیا--بوکو-حرام-اسلامی-ہے؟/d/13228

 

Loading..

Loading..